مچھروں کے خلاف چین کی سمارٹ جنگ

مچھروں کے خلاف چین کی سمارٹ جنگ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

گرمیوں کا موسم آتے ہی مچھر شہری زندگی کے لیے ایک مستقل پریشانی بن جاتے ہیں۔ پارکوں میں سیر، جھیلوں کے کنارے بیٹھنا یا شام کے وقت کھلی فضا میں کچھ دیر گزارنا مچھروں کی وجہ سے مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن اب چین کے کچھ شہروں میں اس مسئلے کا مقابلہ روایتی اسپرے کے بجائے ایسی جدید ٹیکنالوجی سے کیا جا رہا ہے جو مچھروں کو تلاش بھی کرتی ہے اور ختم بھی، جبکہ ماحول پر اس کے اثرات بھی کم ہیں۔

کچھ بڑے شہری پارکوں میں ایسے ذہین مچھر پکڑنے والے آلات نصب کیے گئے ہیں جو انسانی سانس کی نقل کرتے ہوئے مچھروں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ سیاہ سلنڈر نما یہ آلات مخصوص مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں اور ساتھ خصوصی روشنی استعمال کرتے ہیں، جس سے مچھر انہیں انسان سمجھ کر قریب آتے ہیں۔ اس کے بعد ایک خودکار نظام انہیں اندر کھینچ کر ایک بند حصے میں جمع کر دیتا ہے، جہاں وہ پانی کی کمی کے باعث مر جاتے ہیں۔


ان آلات کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں کیمیائی اسپرے استعمال نہیں ہوتا۔ متعلقہ حکام کے مطابق اس طریقے سے شہد کی مکھیوں، ڈریگن فلائیز اور دیگر مفید حشرات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی کم رہتا ہے۔ بعض آلات پر ایک برقی اسکرین نصب ہے جو حقیقی وقت میں پکڑے جانے والے مچھروں کی تعداد بھی ظاہر کرتی ہے۔

کچھ شہری علاقوں میں جھیلوں، گھنے پودوں اور زیادہ نمی والے مقامات کو مچھروں کی افزائش کے لیے موزوں سمجھتے ہوئے ایسے آلات آزمائشی بنیادوں پر نصب کیے گئے۔ کھیل کے میدانوں اور عوامی سہولت کے مقامات کے قریب بھی انہیں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی نتائج میں ہزاروں مچھروں کو ختم کرنے کے بعد متعلقہ انتظامیہ نے ان تجربات کو مزید بہتر بنانے اور رہائشی علاقوں، گلیوں اور دیگر مقامات تک مچھر کنٹرول کی سرگرمیاں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ صرف ایک شہر تک محدود تجربہ نہیں۔ چین کے مختلف حصوں میں مچھروں کے خلاف جدید ٹیکنالوجی کے متعدد طریقے آزمائے جا رہے ہیں۔ کہیں سانس کی نقل کرنے والے جال استعمال ہو رہے ہیں تو کہیں انتہائی تیز رفتار لیزر سے مچھروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک جدید لیزر آلہ صرف چند ملی سیکنڈ میں مچھر کی موجودگی کا پتا لگا کر اس کے پروں کو نشانہ بنا سکتا ہے اور ایک سیکنڈ میں کئی مرتبہ لیزر فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کچھ گرم اور مرطوب علاقوں میں مصنوعی ذہانت سے لیس مچھر نگرانی کے نظام بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ یہ آلات خودکار طور پر مچھروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے، پکڑنے، ان کی شناخت کرنے اور تعداد شمار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مختلف مقامات سے حاصل ہونے والا ڈیٹا حقیقی وقت میں مچھروں کی کثافت کے نقشے تیار کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے متعلقہ اداروں کو یہ معلوم کرنے میں آسانی ہوتی ہے کہ کن علاقوں میں مچھروں کی تعداد زیادہ ہے اور کہاں فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔

اس تبدیلی کی اہمیت صرف شہری سہولت تک محدود نہیں۔ مچھر کئی متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کا ذریعہ بھی بنتے ہیں، جبکہ ان کی افزائش کا تعلق براہ راست بارش، درجہ حرارت اور نمی سے ہوتا ہے۔ موسمی تبدیلیوں کے باعث گرم موسم جلد شروع ہونے اور بارشوں کے دورانیے میں تبدیلی سے بعض علاقوں میں مچھروں کا موسم طویل ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

چین میں بھی اس حوالے سے عوامی بحث بڑھ رہی ہے اور سماجی رابطوں کے ذرائع پر مچھروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے بارے میں تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث دنیا کے مختلف حصوں میں مچھروں کے پھیلاؤ کے نئے رجحانات بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ایسے مقامات جہاں ماضی میں مچھروں کی موجودگی معمول کی بات نہیں تھی، وہاں بھی ان کی موجودگی ریکارڈ کی گئی ہے۔

چین کا موجودہ تجربہ اس لحاظ سے قابل توجہ ہے کہ مچھر کنٹرول کو محض کیمیائی اسپرے یا روایتی طریقوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، لیزر اور خودکار نگرانی کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مچھروں کی تعداد کم کرنے کے ساتھ ساتھ ماحول پر غیر ضروری کیمیائی اثرات کو محدود کیا جا سکتا ہے۔

مستقبل میں اگر یہ ٹیکنالوجی مزید سستی، مؤثر اور عام استعمال کے قابل بنائی جاتی ہے تو شہری انتظامیہ مچھروں کے خلاف زیادہ ہدفی کارروائی کر سکے گی۔ یوں پورے علاقوں میں اندھا دھند اسپرے کرنے کے بجائے صرف ان مقامات پر کارروائی ممکن ہوگی جہاں خطرہ زیادہ ہو۔


گرمی، بارش اور بدلتے موسم کے ساتھ مچھروں کا مسئلہ دنیا کے کئی معاشروں کے لیے بڑھتا ہوا چیلنج بن سکتا ہے۔ ایسے میں چین کی جانب سے تیار کیے جانے والے یہ سمارٹ اور ماحول دوست طریقے ایک سادہ مگر اہم سبق دیتے ہیں: بعض اوقات ایک بڑے مسئلے کا بہتر حل زیادہ اسپرے نہیں، بلکہ زیادہ ذہین ٹیکنالوجی ہوتی ہے۔
 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1965 Articles with 1147847 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More