"آزادی کا جشن منائیں، مگر اُن قربانیوں کو نہ بھولیں جن سے پاکستان وجود میں آیا"
(Muhammad Arslan Shaikh, Karachi)
تحریر: محمد ارسلان شیخ
14 اگست صرف خوشیاں منانے، پرچم لہرانے اور جشن منانے کا دن نہیں، یہ اُن لاکھوں انسانوں کی قربانیوں کو یاد کرنے کا دن بھی ہے جنہوں نے پاکستان کے حصول کے لیے اپنا گھر، اپنی زمین، اپنا مال، اپنے عزیز و اقارب اور حتیٰ کہ اپنی جانیں تک قربان کر دیں۔
آزادی کی داستان کے صفحات پلٹیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ تقسیمِ ہند کے دوران کتنے ہی خاندان اپنے گھروں سے نکلے، اس امید کے ساتھ کہ پاکستان پہنچ کر ایک نئی زندگی شروع کریں گے، مگر راستے ہی میں موت نے اُن کے قافلوں کو گھیر لیا۔ ٹرینیں مسافروں کو منزل تک پہنچانے کے بجائے شہیدوں کے لاشے لے کر پاکستان پہنچیں۔ کتنی ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے، کتنی بہنوں کے بھائی بچھڑ گئے، کتنی عورتوں نے اپنے سہاگ اور کتنے بچوں نے اپنے والدین ہمیشہ کے لیے کھو دیے۔ یہ وہ قربانیاں ہیں جن کی تکلیف کو چند الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
یہ مہاجرین خالی ہاتھ پاکستان نہیں آئے تھے۔ وہ اپنے ساتھ ایک آزاد وطن کا خواب، اپنے دلوں میں پاکستان کی محبت اور اپنے خون سے لکھی ہوئی قربانیوں کی داستان لے کر آئے تھے۔ انہوں نے اپنے آبائی گھر، جائیدادیں، کاروبار، زمینیں اور برسوں کی جمع پونجی چھوڑ دی۔ بہت سے لوگ اپنے پیاروں کو راستے میں دفن کرکے اس سرزمین تک پہنچے، لیکن پاکستان سے وفاداری اور اس کے مستقبل کی امید کو اپنے دل سے نہیں نکالا۔
پاکستان پہنچنے کے بعد بھی ان کی آزمائش ختم نہیں ہوئی۔ نئے ملک میں وسائل محدود تھے، مسائل بے شمار تھے، مگر ان مہاجرین نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اپنی محنت، علم، تجارت، صنعت، تعلیم، سرکاری اداروں اور مختلف شعبوں میں کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالا۔ جن لوگوں نے اپنا سب کچھ قربان کیا، انہی کی محنتوں نے اس نئی مملکت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
آج جب ہم آزادی کی خوشیاں مناتے ہیں تو ہمیں ایک لمحے کے لیے ضرور سوچنا چاہیے کہ یہ آزادی ہمیں کتنی قیمت ادا کرنے کے بعد ملی؟ کیا ہماری خوشیاں اُن قربانیوں کی یاد کو اپنے اندر جگہ دیے بغیر مکمل ہو سکتی ہیں؟
جشن ضرور منائیں، گھروں پر پرچم ضرور لہرائیں، پاکستان زندہ باد کے نعرے ضرور لگائیں، لیکن اُن شہداء اور مہاجرین کو اپنی خوشیوں میں فراموش نہ کریں جن کی قربانیوں کے نتیجے میں ہمیں یہ دن نصیب ہوا۔ ہماری آزادی کی خوشی اُس وقت زیادہ بامعنی ہوگی جب ہم اپنے شہداء کو یاد کریں گے، ان کے لیے دعا اور ایصالِ ثواب کریں گے اور اپنی آنے والی نسلوں کو بتائیں گے کہ پاکستان صرف ایک ملک کا نام نہیں بلکہ لاکھوں قربانیاں، آنسو، ہجرتیں اور بے شمار خوابوں کی تعبیر ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں کو صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود نہ کریں بلکہ انہیں اپنی قومی سوچ اور کردار کا حصہ بنائیں۔ اُنہوں نے پاکستان ہمارے لیے چھوڑا، اب پاکستان کی حفاظت، ترقی، استحکام اور عزت ہماری ذمہ داری ہے۔
14 اگست ہمیں صرف یہ نہیں بتاتا کہ پاکستان کب آزاد ہوا؛ یہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کے لیے ہمارے بزرگوں نے کیا کچھ کھویا تھا۔
آئیں اس یومِ آزادی پر عہد کریں کہ ہم اپنے شہداء اور مہاجرین کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے، اُن کے لیے دعا کریں گے، ایصالِ ثواب کریں گے اور پاکستان کو مضبوط، خوشحال اور پُرامن بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ |
|