اس تعصب کےاندھیروں سے تو نکلو باہر ............ پھرکبھی دن ، تو کبھی رات پہ تنقید کرو ( آخری حصہ)


ہم میں سے اکثر ہیں جنہوں نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں بدلتے نہیں دیکھا ہم صرف تاریخ کی روشنی سے جانتے ہیں کہ کس طرح متحد ہ پاکستان بنانے والوں کو مغربی پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے ایک طویل عرصے تک اپنے حق حاکمیت سے محروم رکھا۔ تاریخی کتب، پرانی اخبارات اور کچھ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ فوجی اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ ہی نہیں اس دور کے اردو پریس ان میں بیٹھے نسلی تفاخر کے نشے میں مست نیوز ایڈیٹر، رپورٹر ، لکھاری اور مغربی پاکستان کی بااختیار قوموں کی سرپھری اشرافیہ بھی بنگالیوں کو انکی تہذیب، زبان،بود وباش ،سیاسی بصیرت پر لعن تعن کرنے میں پیش پیش تھی

سچ ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے مگر ممالک اور اقوام کی بدقسمتی کہ وہ جانتے بوجھتے اپنی بدقسمت تاریخ کو ہر بار دہراتے ہیں، حادثہ ہوتا ہے ،وقت گزر جاتا ہے اسکے بعد اپنی غلطیوں کا ماتم کرتے ہیں اور دوبارہ بدقسمت قومیں ایک اور المیہ برپا کرنے غلط راہ پر چل نکلتی ہیں. سندھ آج وہیں کھڑا ہے جہاں کل مشرقی پاکستان کھڑا تھا ، آج بھی اسکی سیاسی پسند کو اسی طرح حقارت کی نظر سے دیکھا جارہا ہے جیسے بنگالیوں کو عوامی لیگ کے انتخاب پر دیکھا جاتا تھا کل بنگالیوں کو ہمارے " اکابرین" نے "سوکھا سڑا کالا "کہا آج بھی وزیر اعلی پنجاب جس نام نہاد صحافی دادا کو تھپکی دیتی ہیں وہ سندھیوں کو " بندر " سے تشبیہ دیتے ہیں اور پھر جیسے ڈھاکہ میں رہنے والے بہاری، بنگالیوں کو استہزاء کا نشانہ بناتے تھے آج بھی کراچی میں بسنے والے اردو اور پنجابی بولنے والے صحافی، فنکار ،سیاسی اور لسانی تنظیموں کے ارکان ،مقامی ابادی کی اجرک ،ٹوپی اور زبان پر لطیفے بناتے ہیں، میڈیا پر نشانہ بناتے ہیں اور سوشل میڈیا پر تضحیک کرتےہیں

کراچی سندھ کا شہر ہے جیسے لاہور پنجاب کا شہر ہے کیا کوئی صحیح دماغ سوچ سکتا ہے کہ لاہور میں پنجابیوں کو " غیر مقامی" پکارے؟ یا انکی لاہور میں روزی روٹی، تعلیم اور ریہاش پر تنقید کر سکے؟ کیا موسمیاتی تبدیلیوں نے نیو یارک سٹی، جدہ ،دبئی، ممبئی کو نہیں ڈبو دیا کہ کراچی میں بارشوں اور سندھ میں سیلاب کو منتخب حکومت کی نالائقی قرار دیا جائے کیا کوئی رپورٹر یا افلاطون اینکر قرآن پر یہ قسم کھا سکتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے مئیر سے پہلے نہ کراچی میں بارش ہوئی نہ سیلاب آیا نہ پانی ،بجلی ،ٹوٹی روڈز کا مسئلہ رہا ؟ کیا کراچی میں پہلی بار اسٹیٹ کرائمز ہورہے ہیں کیا پورے پاکستان میں کہیں بچے ،بڑے گٹر میں نہیں گرتے یا پاگل کتے صرف سندھ میں ہی کاٹتے ہیں ؟
سندھ حکومت اور کراچی کی لوکل گورنمنٹ پر مسلسل تنقید اورمتعصبانہ رائے دے کر سوشل میڈیا کا بھرپور منفی استعمال کیا جاتا ہے جس کی کچھ مثالیں پچھلے بلاگ میں پیش کر چکی ہوں ایک دو اور ملاحظہ فرمائیں جن سے امتیازی سلوک اور منفی تنقید چھلک رہی ہے
صحافی صاحب کراچی کے عوام سے مخاطب ہیں " کراچی والو اس بار حافظ نعیم الرحمن صاحب کے شہر کے مئیر کے لیے ، انتخاب پر غور کریں ". یعنی اس بار کراچی کے بلدیاتی انتخاب تو قومی الیکشن ہی بن گیے تھے اینکر صاحبہ مکمل کیمپین کرتی دیکھائی دیں کہ پورے کراچی میں واحد " سنجیدہ قیادت " حافظ نعیم جماعت اسلامی والے ہیں اور یہ کہ وہ کم از کم کراچی کی بلدیاتی حکومت کے حقدار ضرور ہیں ، " کم از کم "؟ ؟ مطلب کوئی پوچھے آپ زیادہ سے زیادہ اپنے پسندیدہ رہنما کو کونسا عھدہ دینا چاہ رہی ہیں ؟ ؟ یہ "صحافی " ہیں؟ جو سیاسی کارکنان کی طرح لوگوں کو اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ دینے کی کیمپین چلا رہے ہیں وہ بھی صرف کراچی کے لیے . نہ یہ لاہور میں بلدیاتی حکومت کی عدم موجودگی پر ٹویٹس کرتے ہیں نہ کویٹہ ، پشاورمیں کسی پارٹی کی حمایت یا مخالفت کرتے ہیں کوئی پوچھے صرف کراچی کیوں ؟ جواب ندارد

ایسی تمام یک طرفہ اور سیاسی وابستگی میں ڈوبی ٹویٹس کے بعد بھی ہمارے نیوز ریڈرز عرف اینکر پرسنز کا خیال ہے کہ ہم انہیں "غیر جانبدار " سمجھیں اورزہریلے تعصب میں بجھے اس میڈیا کو "آزاد " !!!
کچھ عرصے پہلے گل پلازہ کراچی میں آتشزدگی کا سانحہ ہوا جس پر میڈیا اور سوشل میڈیا نے خوب شہرت اور مال کمایا . وزیراعلی سندھ سے استعفی مانگنا توخیر روز روز کا مذاق بن گیا تھا اب مئیر کراچی کی باری تھی . میئر کراچی سے استعفی مانگنے والے نیوزریڈرز ، اینکرز کو نہ بلدیہ فیکٹری میں دوسو زندگیوں کے جلنے پر مصطفی کمال سے استعفی لینے کا خیال آیا نہ ہی حفیظ سینٹر لاہور کے جلنے پر" لاہور کے مئیر کا نام" پوچھنے کا ،استعفی تو دور کی بات ہے ؟ کبھی آپ نے ان دوکان نما چینلز پر بیٹھے میک اپ زدہ تنخواہ داروں کو پشاور میں بیس گھنٹے فیکٹری میں لگی آگ پر میئر پشاور حاجی صاحب سے استعفی مانگتے دیکھا ؟ دو ہفتے پہلے ہی ایک خاندان کے سات افراد پشاور میں آگ لگنے سے ہلاک ہوئے نہ فائیر برگیڈ پہنچی نہ ایمبولینس لیکن جیو نیوز کےملازمین کو نہ تو پشاور کے میئر کا نام پتہ ہوگا نہ کام! کیا یہ امتیازی رویہ نہیں ؟ کیا یہ کسی خاص صوبے کے ایک ہی شہر کو اپنے میڈیائی پلیٹ فارم سے تختہ مشق بنانا نہیں ؟ کراچی ہی کیوں ؟ ؟

ایک صاحب جو پی ٹی وی کی نوکری پر لگے تھے بھول گیے کہ پاکستان فیڈریشن ہے، اپنے صوبوں کے مرہون منت ہے. ان کو پی ٹی وی میں اپنا تعصب نکالنے کا شاید موقع نہیں ملا تو جناب نے اپنے یوٹیوب چینل پر بیٹھ کر بھارت کی لائین لیتے ہوے صوبہ سندھ میں سیلاب آنے کی خوشیاں منا نی شروع کردیں ، لکھتے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری سے مراد علی شاہ تک سب پانی کہاں ہے؟ کہتے رہتے تھے اب بتائیں کہ پانی کافی ہے یا پھر اور بھیجیں ؟ قومی اقدار کی اس سے زیادہ گراوٹ کیا ہوگی کہ آپ اپنے ملک کے ہی ایک حصےکو قدرتی آفت آنے پر طنز اور استہزاء کا نشانہ بنائیں

نفرت اور تقسیم کی یہ بیل آج کل مزید زور شور سے پروان چڑھا ئی جارہی ہے کیونکہ سندھ کے "حصے بخیے " کرنے کا آرڈر جاری ہوگیا ہے اور پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کے نت نئے ناکام منصوبے کون بناتا ہے اور انپر عمل درآمد کے لیے سب سے پہلے کس ادارے کا سہارا لیا جاتا ہے اگر آپکو یہ معلومات نہیں تو کسی مستند صحافی سے جرنیل ضیا اور مجیب الرحمان شامی کی گفتگو کی کہانی سن لیں سب سمجھ آجاۓ گاکہ مملکت پاکستان میں کل کی پریس اورآج کا میڈیا مضبوط جمہوریت کے حقیقی دشمن ہیں

پھرمنفی سوچ پھیلانے کے ساتھ ساتھ جھوٹی خبروں سے بھی خوب کام چلایا جاتا ہے اور حد یہ ہے کہ خبر جھوٹی ثابت ہونے پر نہ ملال ہے نہ افسوس. نامی گرامی صحافی بھی تعصب اور مفاد کے طوفان کی زد میں آکر اپنی مستند صحافت کا بیڑا غرق کر دیتے ہیں کبھی جھوٹی خبریں دے کر یا کبھی خبروں کو توڑ مروڑ کر اپنے بغض اور کینے کے جذبات کو تسکین پہنچاتے ہیں . سو ایک لمبی فہرست ہے کہ اگر سندھ اور حکومت سندھ کے خلاف سوشل میڈیا پر موجود ہرمتعصبانہ فیس بک پوسٹ، حقارت آمیز ٹویٹ اور جلتی پر تیل ڈالتے، جہالت سے لبریز کمنٹس کوکاپی پیسٹ کیاجاۓ تو شاید ایک مکمل کتاب بن جائے ۔
اللہ نہ کرے مگر ہوسکتا ہے کسی "سانحے" کے بعد ایسی کتاب منظر عام پر آجاۓ اور تاریخ کا حصہ بن جائے جس میں ان تمام افراد کو قومی مجرم گردانا جائے جو اپنے تعصب ، مفاد پرستی ،کسی ادارے کے دباؤ، بھاری لفافے یا اپنی بیمار ذہنیت کی وجہ سے پاکستان قائم کرنے والے صوبے سندھ ، اس میں ھزاروں برس سے بسنے والی باشعور، امن پسند ، اپنی تہذیب و تمدن پر پہرہ دینے والی قوم اوراسکے سیاسی انتخاب کو، مسلسل اپنی نکتہ چینی، بدزبانی ،منفی تنقید اور استہزاء کا شکار بنا رہے ہیں ! دو اقساط پر مبنی بلاگ بھی میں نے اسی لیے تحریر کیا ہےکہ یہ تاریخ کا حصہ بن جاۓ اور آنے والی نسلوں کے لیے سند رہے
قارئین !! ہم سب جانتے ہیں کہ تکبر اور جہالت میں لپٹے اذہان نے پاکستان بنانے والے بنگال کو مطعون کر کے علیحدہ کرنے کے بعد بھی کچھ نہیں سیکھا تھا ، اور آج بھی پاکستان بنانے والےدوسرے صوبے سندھ کو یہی بیمار ذہنیت مسلسل اپنے منفی خیالات ، تحقیر و استہزاء کا شکار بنا کر علیحدگی کی بنیاد رکھنے سے باز نہیں آرہی . ایسا محسوس ہوتا ہے کہ متحدہ پاکستان کے خاتمے کے بعد اس بچے کچے ملک پر وار کرنے والے اب بھی اپنا کام کرتے رہیں گے اور دوسری طرف میرے یا آپ جیسے بہت سے یہی کہتے رہیں گے کہ

ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں
میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا





 
aina syeda
About the Author: aina syeda Read More Articles by aina syeda: 50 Articles with 83685 views I am a teacher by profession, a writer by passion, a poet by heart and a volunteer by choice... View More