ادھوری آزادی
(Syed Irfan Hussain, Karachi)
ادھوری آزادی از: سید عرفان حسین تاریخِ اسلام کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک مسلمان خاتون کو رومیوں نے گرفتار کر لیا اور وہ قیدِ تنہائی میں چیخ اٹھی: "یا معتصم!" (اے معتصم!)۔ یہ پکار سن کر عباسی خلیفہ المعتصم باللہ نے اپنی پوری فوج لے کر اس خاتون کی آزادی کے لیے کوچ کیا اور اسے روم کی قید سے رہا کرایا۔آج ۲۰۲۶ء میں ایک اور مسلمان خاتون، ڈاکٹر عافیہ صدیقی، امریکی جیل کی تاریک کوٹھری میں ۲۳ برس سے قید ہیں۔ ان کی آہیں دیواروں میں گونجتی ہیں، مگر کہیں کوئی معتصم نظر نہیں آتا۔ سوال یہ ہے: کیا واقعی مردِ معتصم مر گئے ہیں، یا وہ سو گئے ہیں؟ اور اگر سو گئے ہیں تو کب جاگیں گے؟---ایک ماں، ایک سائنسدان، ایک اسیرڈاکٹر عافیہ کا المیہ کوئی عام واقعہ نہیں۔ وہ نیورو سائنس کی اعلیٰ تعلیم یافتہ، حافظۂ قرآن، اور تین بچوں کی ماں ہیں۔ ۲۰۰۳ء میں کراچی سے اغوا کے بعد انہوں نے بگرام جیل میں تشدد کا سامنا کیا، پھر نیویارک کی عدالت میں ۸۶ سال قید کی سزا سنی گئی — ایک ایسی سزا جو ثبوت کے بجائے مشتبہ شواہد اور جانبدارانہ کارروائی کی بنیاد پر دی گئی۔آج وہ FMC کارسویل جیل میں ہیں، جہاں ان کے چار دانت توڑ دیے گئے، سر پر ضربوں کی وجہ سے سماعت متاثر ہوئی، اور صحت روز بروز بگڑ رہی ہے۔ ان کی والدہ انتقال کر گئیں، بچے بے سہارا ہیں، اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔---نبی کریم ﷺ کا اسوہ: مظلوم اور قیدی کی مدداسلام صرف ایک مذہب نہیں، بلکہ رحمت اور شفقت کا مکمل نظام ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خود اپنے قول و فعل سے مظلوموں اور قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی۔رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: "قیدی کو چھڑایا کرو، بھوکے کو کھلایا کرو، اور بیمار کی عیادت کرو" (بخاری)۔ نیز ارشاد فرمایا: "مظلوم کی مدد کرو، خواہ وہ تمہارا بھائی ہو یا تمہارا دشمن"۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دشمن کی مدد کیسے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے ظلم سے روکو، یہی اس کی مدد ہے"۔یہی وہ روحِ اسلام ہے جس نے تاریخ بدل دی۔---جب ایک عیسائی لڑکی کی آبرو مسلمانوں کے لیے باعثِ جہاد بنی تاریخِ اسلام میں ایسی مثالیں کم نہیں جب مسلمانوں نے کسی مظلوم کی آبرو کی خاطر، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، اپنی جانیں قربان کر دیں۔ اندلس کی فتح کا آغاز دراصل ایک عیسائی لڑکی کی آبرو کا بدلہ لینے کے لیے ہوا تھا۔اندلس کے عیسائی بادشاہ راڈرک نے کاؤنٹ جولین کی بیٹی فلورِنڈا کو بے آبرو کیا۔ اس مظلوم عیسائی لڑکی کی چیخ نے ایک عیسائی باپ کو اموی گورنر موسیٰ بن نصیر کے دربار میں پہنچایا۔ موسیٰ نے فوراً طارق بن زیاد کو سات ہزار کا لشکر دے کر اندلس روانہ کیا۔طارق بن زیاد نے جب ساحل پر قدم رکھا تو اپنے جہازوں کو آگ لگا کر لشکر سے کہا: "تمہارے آگے دشمن ہے اور پیچھے سمندر۔ تمہارے پاس صرف ایک راستہ — شجاعت اور فتح"۔ راڈرک کا لشکر شکست کھا گیا اور اندلس فتح ہوا — ایک مظلوم عیسائی لڑکی کی آبرو کی خاطر۔---سندھ کی فتح — ایک اور مظلوم خاتون کے بدلےبرصغیر میں محمد بن قاسم کی سندھ کی فتح بھی اسی جذبے کا نتیجہ تھی۔ جب راجہ داہر کے اہلکاروں نے عرب تاجروں کی بیواؤں اور یتیموں کو اغوا کر کے ان کی آبرو کو نشانہ بنایا تو حجاج بن یوسف کا خون کھول اٹھا۔ انہوں نے ۱۷ سالہ نوجوان محمد بن قاسم کو لشکر دے کر سندھ روانہ کیا۔محمد بن قاسم نے راجہ داہر کو پیغام بھیجا: "مظلوم خواتین کو رہا کر، ورنہ میں تیری سلطنت کا خاتمہ کر دوں گا"۔ انکار پر اس نے دیبل، روڑ، برہمن آباد کے قلعے فتح کرتے ہوئے راجہ داہر کو شکست دی اور مظلوم خواتین کو آزاد کرایا۔---یہ تھی مسلمانوں کی غیرت — جو کسی مظلوم کے مذہب کی طرف نہیں، بلکہ اس کے انسان ہونے کی طرف دیکھتی تھی۔ چاہے وہ عیسائی ہو، ہندو ہو، یا مسلمان — مسلم حکمران اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر نکل پڑتے تھے۔---معتصم کا کردار کس کا؟تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمان خاتون قید ہوئی تو معتصم نے لشکر نکالا۔ جب عیسائی لڑکی مظلوم ہوئی تو موسیٰ و طارق نے لشکر نکالا۔ جب خواتین مظلوم ہوئیں تو محمد بن قاسم نے لشکر نکالا۔آج مسلم امت کا ایک بڑا حصہ لاکھوں کی تعداد میں موجود ہے، عرب حکومتوں کے پاس تیل کی دولت ہے، پاکستان کے پاس ایٹم بم، ترکی، ایران، ملائیشیا اور دیگر ممالک اپنی افواج رکھتے ہیں — مگر عافیہ صدیقی کے لیے کوئی لشکر نہیں نکلا۔کیا ہم صرف فلسطین اور کشمیر کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، اور اپنی ایک بہن کو بھول جاتے ہیں؟ کیا ان کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے ایک مسلمان خاتون ہونے کی وجہ سے امریکی تشدد کا نشانہ بننے کی جرات کی؟---امت کی خاموشیقرآن میں ارشاد ہے: "اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی ہیں" (التوبہ: ۷۱)۔ نبی کریم ﷺ نے مظلوم کی مدد کو فریضہ قرار دیا۔ مگر عافیہ موومنٹ اور ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی برسوں سے چیخ رہی ہیں، عالمی سطح پر یہ آواز نہ تو مسلم سربراہوں کے کانوں تک پہنچی، اور نہ ہی کسی موثر سفارتی کوشش کی صورت میں نکلی۔امریکہ نے ’وار آن ٹیرر‘ ختم کر دی، افغانستان سے انخلا کر لیا، مگر عافیہ ابھی تک قید ہیں۔ کیا ان کی رہائی کے لیے کوئی جنگ لڑنی ہے؟ کیا انہیں تبادلے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ یہ سوالات ہمارے حکمرانوں کی غیرت کو للکارتے ہیں۔---آواز اٹھائیں، ورنہ تاریخ ہم کو طعنہ دے گی ہمیں آج عہد کرنا ہوگا کہ ہم عافیہ صدیقی کی آواز بنیں گے۔ مساجد، تعلیمی اداروں، سوشل میڈیا، اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان کی رہائی کا مطالبہ کریں گے۔ اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ سفارتی سطح پر اس مسئلے کو اٹھائیں۔یاد رکھیں، آج عافیہ کی اسیری ہے، کل ہم میں سے کوئی بھی اس درد کا شکار ہو سکتا ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے، تو تاریخ ہمیں معتصم کے درجے پر نہیں، بلکہ غافل اور بے حس قوم کے طور پر یاد رکھے گی۔معتصم تم کہاں ہو؟ یا یوں کہیں کہ مردِ معتصم کب جاگیں گے؟ کاش کوئی اٹھے اور اس مظلوم خاتون کے لیے آواز بلند کرے۔ میری ہمارے ہر دلعزیز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے استدعا ہے کہ اللّٰہ نے جو عزت آپکو عطا کی ہے عافیہ کی رہائی کی صورت میں مزید عطا ہوگی اس مظلوم بہن کی رہائی کا بھی بندوبست کریں آزادی اس وقت تک ادھوری ہے جب تک عافیہ قید میں ہے اللہ عافیہ صدیقی کو جلد آزادی عطا فرمائے، آمین |
|