پالف آسٹریلیا اردو اسکول میں جشنِ آزادی کی پروقار تقریب

پالف آسٹریلیا اردو اسکول میں جشنِ آزادی کی پروقار تقریب
ایڈیلیڈ: پاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم (پالف) انکارپوریٹڈ
پالف آسٹریلیا اردو اسکول کے زیرِ اہتمام پاکستان کا یومِ آزادی ملی جوش و جذبے اور شاندار انداز میں منایا گیا۔ تقریب میں طلبہ، اساتذہ، والدین اور پالف کے نکے معزز افراد نے شرکت کی۔ اسکول کے بچوں نے مختلف تقاریر، ملی نغموں اور دیگر پروگراموں کے ذریعے وطنِ عزیز سے اپنی محبت اور وابستگی کا اظہار کیا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی گئی۔ قومی ترانے کے موقع پر بچوں اور حاضرین نے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ شرکت کی۔
تقریب سےپاکستان آسٹریلیا لٹریری فورم کے صدر ڈاکٹر افضل رضوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل ذمہ داری کا نام ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنی آزادی کی قدر کس طرح کرتے ہیں اور اپنے کردار، علم، عمل اور اتحاد کے ذریعے پاکستان کی تعمیر میں کس قدر حصہ ڈالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانی بچوں کو اردو زبان اور قومی تہذیب سے جوڑنا دراصل پاکستان کے مستقبل کو اپنی اگلی نسل تک منتقل کرنے کے مترادف ہے۔
ڈاکٹرافضل رضوی نے علامہ اقبال کے تصورِ خودی اور قائداعظم محمد علی جناح کے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے بچوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنائیں، محنت کو شعار بنائیں اور اپنے کردار سے پاکستان کا نام روشن کریں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں رہتے ہوئے پاکستانی بچے دونوں معاشروں کے درمیان ایک خوب صورت ثقافتی پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر اسکول کی پرنسپل سیدہ ایف گیلانی نے اپنے خطاب میں یومِ آزادی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اپنی نئی نسل کو پاکستان کی تاریخ، زبان، تہذیب اور قومی اقدار سے روشناس کرانا ایک اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا اردو اسکول بچوں میں اردو زبان کے فروغ کے ساتھ ساتھ ان میں اپنی تہذیبی شناخت اور وطن سے محبت کا شعور بھی اجاگر کر رہا ہے۔
اسکول ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر مفضل سید نے کہا کہ بچویاد رکھیے آزادی بہت بڑی نعمت ہے اس لیے اس کا احترام بھی لازم ہے۔
تقریب کا سب سے دلکش حصہ بچوں کی تقاریر تھیں۔ کم عمر طلبہ و طالبات نے پاکستان کی آزادی، قائداعظم، علامہ اقبال، قومی یکجہتی اور وطن سے محبت کے موضوعات پر پُرجوش تقاریر کیں۔ بچوں کے اعتماد، روانی اور حب الوطنی کے جذبات نے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی۔
اس کے بعد طلبہ و طالبات نے مختلف ملی نغمے پیش کیے۔ سبز و سفید لباس میں ملبوس بچوں نے جب قومی نغمے پیش کیے تو تقریب میں موجود حاضرین بھی ان کے ساتھ ہم آواز ہوگئے۔ بچوں کی خوب صورت پیشکش نے تقریب کو یادگار بنا دیا۔
عاشف اقبال نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج 14 اگست ہے یوم آزادی یعنی پاکستان کی آزادی کا دن۔ اس موقع پر پاکستانی بچوں کو پیغانم دینا چاہتا ہوں کہ اچھے انسان بنیں سائنسدان، ڈاکٹرزاور انجینرز بنیں۔
عطوفہ اقبال کا کہنا تھا کہ میں بڑے فخر سے کہہ رہی ہوں کہ میں پالف اردو اسکول کی طالبہ ہوں۔ آج ہم سب مل کر یوم آزادی منارہے ہیں۔ عطوفہ نے کہا کہ یہ دن ہمارے لیے محض آزادی کا دن ہی نہیں بلکہ لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم بیرون ملک رہتے ہوئے بھی پاکستان کی ترقیئ اور خوشحالی کے لیے کوشاں رہیں۔
شکر کر خدا کا تجھ کو یہ چمن ملا
پاک سر زمین ملی اور یہ وطن ملا
ایک اور طالب علم مہدی درانی نے قائد اعظم کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ’’اپنی تعلیم پر توجہ دیں، نظم و ضبط اختیار کریں اور اپنے آپ کو مستقبل کی ذمہ داریوں کے لیے تیار کریں‘‘۔
تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی، خوش حالی اور استحکام کے لیے دعا کی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آسٹریلیا میں رہتے ہوئے پاکستان کی مثبت شناخت، اردو زبان اور پاکستانی ثقافت کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
یومِ آزادی کی یہ تقریب اس پیغام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ پاکستان صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک احساس، ایک تہذیبی شناخت اور ایک مشترکہ خواب ہے، جسے نئی نسل تک منتقل کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
 
Syeda F Gilani
About the Author: Syeda F Gilani Read More Articles by Syeda F Gilani: 68 Articles with 93100 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.