حق بات پر خاموشی کا مشورہ اور یہ کہنا کہ حالات بہت خراب ہیں "حل انتظامی یونٹس"

تحریر: محمد ارسلان شیخ

ہمارے معاشرے میں ایک جملہ اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اب یہ صرف نصیحت نہیں بلکہ اکثر غلط بات کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنے کا ہتھیار بن گیا ہے:

"چپ چاپ وقت گزارو، ملک کے حالات بہت خراب ہیں!"
اگر کوئی ملازم اپنی تنخواہ، حقوق، اضافی کام یا دفتر میں ہونے والی ناانصافی کے خلاف بات کرے تو فوراً کہا جاتا ہے: "بھائی خوش رہو، روزگار مل رہا ہے، باہر بہت بے روزگاری ہے۔
اگر کسی سرکاری ہسپتال میں مریض کو بروقت علاج نہ ملے، عملہ بدتمیزی کرے یا سہولت کا فقدان ہو اور کوئی شہری آواز اٹھائے تو جواب ملتا ہے:خاموش رہو، کم از کم مفت علاج تو ہو رہا ہے، باہر پرائیویٹ ہسپتالوں کے حالات دیکھے ہیں؟
اگر کسی سرکاری اسکول میں اساتذہ کم ہوں، عمارت خستہ حال ہو یا بچوں کو بنیادی سہولتیں نہ مل رہی ہوں تو کہا جاتا ہے:جو مل رہا ہے اس پر شکر کرو، سرکاری اسکول ہے، فری پڑھائی ہو رہی ہے۔
اگر ٹریفک کا نظام خراب ہو تو:یہ پاکستان ہے، یہاں ایسا ہی چلتا ہے۔ اگر کسی محلے میں صفائی نہ ہو، کچرا جمع ہو، نالے بند ہوں یا مچھر اور بیماریاں بڑھ رہی ہوں تو:بھائی پورا شہر ہی ایسا ہے، صرف تمہارا علاقہ تو نہیں۔
یہ جملے بظاہر حقیقت پسندانہ محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ واقعی ہمارے ملک میں وسائل محدود ہیں، آبادی بڑھ رہی ہے، بے روزگاری موجود ہے اور اداروں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ: کیا وسائل کی کمی کا مطلب یہ ہے کہ غلط کو غلط کہنا بھی چھوڑ دیا جائے؟
کیا کسی شہری کو صرف اس لیے خراب علاج برداشت کرنا چاہیے کہ علاج مفت ہے؟کیا ملازم کو صرف اس لیے ناانصافی برداشت کرنی چاہیے کہ باہر بے روزگاری ہے؟کیا ایک علاقے کے لوگوں کو صرف اس لیے گندا پانی، ٹوٹی سڑکیں اور ناقص صفائی قبول کر لینی چاہیے کہ دوسرے علاقے کے حالات ان سے بھی خراب ہیں؟
یہ رویہ دراصل ہمارے معاشرے میں ایک خاموش قسم کی بلیک میلنگ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جو شخص اپنے حق، بہتر نظام یا اصلاح کی بات کرے، اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اگر وہ آواز اٹھائے گا تو شاید اس سے بھی جو کچھ حاصل ہے، وہ بھی چھن جائے گا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم غلط نظام کو درست کرنے کے بجائے اس کے ساتھ سمجھوتہ کرنا سیکھ جاتے ہیں۔
پاکستان جیسے بڑے اور آبادی کے لحاظ سے مسلسل بڑھتے ہوئے ملک میں ہمیں جذبات کے بجائے انتظامی حقیقت کو سمجھنا ہوگا۔ یہ بحث صرف لسانی بنیادوں پر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ جب مسائل کی تقسیم زبان کی بنیاد پر دیکھی جاتی ہے تو اصل مسئلہ پیچھے رہ جاتا ہے اور عوام آپس میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہونا چاہیے:کیا موجودہ انتظامی نظام اتنی بڑی آبادی کے مسائل مؤثر طریقے سے حل کر پا رہا ہے؟
جب آبادی بڑھتی ہے، شہر پھیلتے ہیں اور مسائل زیادہ ہوتے ہیں لیکن فیصلہ سازی، وسائل اور انتظامی اختیار چند محدود مراکز میں جمع رہتا ہے تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ عام شہری کو بنیادی سہولتوں کے لیے بھی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔اسی لیے اگر مستقبل میں نئے انتظامی یونٹس، صوبے، ڈویژن یا بااختیار مقامی حکومتیں بنانے کی بات کی جاتی ہے تو اسے صرف لسانی یا سیاسی سازش سمجھ کر رد کر دینا دانشمندی نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس موضوع کو انتظامی بنیادوں، آبادی، جغرافیہ، وسائل، گورننس اور عوامی سہولت کے زاویے سے دیکھا جائے۔ اگر کسی علاقے کی انتظامی تقسیم اس طرح ہو کہ فیصلے عوام کے قریب ہوں، بجٹ اور اختیارات مقامی سطح تک پہنچیں اور شہری اپنے علاقے کے حکام سے براہِ راست جواب طلب کر سکیں تو فائدہ کسی ایک سیاسی جماعت یا ایک فرد کو نہیں بلکہ وہاں رہنے والے ہر شہری کو ہو سکتا ہے۔
اگر ایک شہری کو اپنے شہر، ضلع یا علاقے کے مسائل کے حل کے لیے سینکڑوں کلومیٹر دور یا کسی طاقتور سیاسی مرکز کی طرف دیکھنا پڑے تو نظام پر سوال اٹھانا اس کا حق ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زیادہ آبادی اور محدود وسائل کے مسئلے کا حل صرف خاموشی نہیں بلکہ بہتر انتظام، منصفانہ تقسیم اور جواب دہی ہے۔پاکستان کو اس سوچ سے نکلنا ہوگا کہ جو کچھ مل رہا ہے، اسی پر خاموش رہو۔کیونکہ شہری کا کام صرف شکر ادا کرنا نہیں، بلکہ اپنے حصے کی ذمہ داری اور اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کرنا بھی ہے۔
یاد رکھیں تنقید کا مطلب دشمنی نہیں۔سوال کرنے کا مطلب بغاوت نہیں۔اصلاح کی بات کرنے کا مطلب ملک دشمنی نہیں۔اور بہتر نظام کا مطالبہ کسی قوم یا صوبے کے خلاف نہیں۔
اصل خطرہ آواز اٹھانے والا شہری نہیں، بلکہ وہ سوچ ہے جو ہر غلطی کے جواب میں کہتی ہے:"خاموش رہو، حالات بہت خراب ہیں!"

 
Muhammad Arslan Shaikh
About the Author: Muhammad Arslan Shaikh Read More Articles by Muhammad Arslan Shaikh: 47 Articles with 12064 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.