روبوٹس نے کارخانوں کا رخ کرلیا
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
روبوٹس نے کارخانوں کا رخ کرلیا تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
ذرا تصور کیجیے کہ ایک گودام میں انسانوں کے بجائے انسان نما روبوٹس کام کر رہے ہوں۔ کوئی بھاری ڈبہ اٹھا رہا ہو، کوئی سامان ترتیب دے رہا ہو اور کوئی اسمبلی لائن پر اشیا کی چھانٹی میں مصروف ہو۔ چند سال پہلے تک یہ منظر کسی سائنس فکشن فلم کا حصہ محسوس ہوتا، لیکن چین میں یہ تصور اب حقیقت کا روپ دھار چکا تھا۔ بیجنگ میں منعقدہ عالمی روبوٹ کانفرنس میں ایسے ہی روبوٹس نے مل کر ایک مکمل ذہین لاجسٹکس نظام کا مظاہرہ کیا، جس میں سامان اٹھانے سے لے کر چھانٹی اور دوبارہ فراہمی تک کے مختلف مراحل روبوٹس نے انجام دیے۔
یہ مظاہرہ اس بڑی تبدیلی کی ایک جھلک تھا جس میں روبوٹس صرف نمائشوں میں حیرت انگیز کرتب دکھانے والی مشینیں نہیں رہے تھے بلکہ حقیقی صنعت، گوداموں اور پیداواری مراکز میں عملی کاموں کا حصہ بننا شروع ہوگئے تھے۔
2026 کی عالمی روبوٹ کانفرنس میں 26 ممالک سے 300 سے زائد نمائش کنندگان شریک ہوئے اور تین ہزار سے زیادہ مصنوعات پیش کی گئیں۔ ان میں 300 سے زائد مصنوعات ایسی تھیں جنہیں پہلی مرتبہ دنیا کے سامنے متعارف کرایا گیا۔ کانفرنس میں خاص طور پر انسان نما روبوٹس اور جسمانی ذہانت سے لیس مشینوں کے عملی استعمال نے توجہ حاصل کی۔
ایک مظاہرے میں گودام کے اندر ایک روبوٹ نے صارف کی جانب سے پانی کی بوتل کا آرڈر موصول ہونے کے بعد خود راستہ تلاش کیا، مطلوبہ سامان اٹھایا اور اسے پیک کرنے کا عمل مکمل کیا۔ یہ پورا کام صرف ایک منٹ سے کچھ زیادہ وقت میں انجام دیا گیا۔ روبوٹ نے ماڈل پر مبنی شناخت کی مدد سے ماحول کو سمجھا اور انسانی مداخلت کے بغیر اپنا کام مکمل کیا۔ اس نوعیت کا نظام پہلے ہی بعض چینی شہروں میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
اس ٹیکنالوجی کا ایک بڑا فائدہ رات کے اوقات میں سامنے آ سکتا ہے۔ گوداموں میں رات کے وقت آرڈرز نسبتاً کم ہونے کے باوجود عملہ موجود رکھنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں روبوٹس کا استعمال انسانی افرادی قوت کی ضرورت کم کرنے اور اخراجات گھٹانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ چین میں انسان نما روبوٹس کی صنعت محدود تجربات سے نکل کر بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال کی جانب بڑھ رہی ہے۔ کئی بڑی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے پیداواری لائنوں پر ایسے روبوٹس کی آزمائش شروع کردی ہے۔ سامان کی منتقلی، گاڑیوں کے پرزے اٹھانے اور مختلف صنعتی کاموں کے علاوہ خطرناک اور محدود جگہوں میں امدادی سرگرمیوں، سیلاب سے نمٹنے اور صنعتی معائنے جیسے کاموں میں بھی جسمانی ذہانت رکھنے والے روبوٹس آزمائے جا رہے ہیں۔
یہ تبدیلی صرف روبوٹ بنانے والی کمپنیوں تک محدود نہیں ہے۔ مختلف صنعتیں بھی ان مشینوں کو اپنے روزمرہ کاموں کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بعض روبوٹس کو کارخانوں اور گاڑیوں کی اسمبلی لائنوں پر آزمایا جا رہا ہے جبکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ان کی عملی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے پر تحقیق جاری ہے۔ اس شعبے کی ترقی کے لیے چین میں ایک وسیع صنعتی ماحول بھی تشکیل دیا جا رہا ہے۔ جون 2026 تک ملک بھر میں مجسم ذہانت پر مبنی روبوٹس کی تربیت کے لیے 70 سے زائد مراکز قائم کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید 46 مراکز زیر تعمیر یا منصوبہ بندی کے مراحل میں ہیں۔ ان مراکز میں روبوٹس کو مختلف حقیقی حالات میں کام کرنے کے لیے تربیت دینے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
عالمی روبوٹ کانفرنس میں مصنوعی ذہانت، تھری ڈی وژن، بیٹری ٹیکنالوجی، روبوٹ سازی اور صنعتی استعمال سے وابستہ اداروں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ صنعت کے مختلف حصوں کے درمیان تعاون بڑھایا جائے، تحقیق اور ترقی کے مراحل کو مختصر کیا جائے اور روبوٹس کو تجربہ گاہوں سے نکال کر حقیقی ماحول میں زیادہ تیزی سے پہنچایا جائے۔
چین کی قومی پالیسیوں نے بھی اس شعبے کی رفتار بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ’’مجسم ذہانت‘‘ کو 2025 کی حکومتی ورک رپورٹ میں پہلی مرتبہ شامل کیا گیا ہے، جبکہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے میں مجسم مصنوعی ذہانت سمیت مستقبل کی صنعتوں کی پیشگی منصوبہ بندی اور نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے لیے سرمایہ کاری اور خطرات کو بانٹنے کے طریقہ کار کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔
تاہم انسان نما روبوٹس کے سفر میں ابھی ایک اہم مرحلہ باقی ہے۔ روبوٹ کا کسی مخصوص ماحول میں پہلے سے طے شدہ کام کرنا ایک بات تھی، لیکن کسی بالکل نئے اور نامعلوم ماحول میں پہنچ کر صرف آواز یا تحریری ہدایت کے ذریعے مختلف کام خود سمجھ کر مکمل کرنا کہیں زیادہ پیچیدہ مرحلہ ہے۔ ماہرین کے مطابق انسان نما روبوٹس کے شعبے کا حقیقی ’’بڑا لمحہ‘‘ اس وقت آئے گا جب ایسی مشینیں غیر مانوس ماحول میں بھی خود فیصلہ کرتے ہوئے زیادہ تر کام انجام دینے کے قابل ہوجائیں گی۔ موجودہ رفتار برقرار رہنے کی صورت میں یہ پیش رفت انتہائی پرامید اندازے کے مطابق دو سے تین برس، جبکہ محتاط اندازے کے مطابق پانچ سے دس برس میں سامنے آ سکتی ہے۔
یوں چین میں روبوٹکس کا سفر صرف شاندار نمائشوں اور حیرت انگیز مظاہروں تک محدود نہیں رہا۔ روبوٹس اب گوداموں، کارخانوں اور خطرناک مقامات تک پہنچ چکے تھے۔ اصل کہانی اب شروع ہوتی ہے، جہاں مستقبل کے روبوٹس کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ صرف انسانوں کی طرح دکھائی دینے کے قابل نہیں بلکہ انسانوں کے ساتھ مل کر حقیقی دنیا کے مشکل کام بھی مؤثر، محفوظ اور قابلِ اعتماد انداز میں انجام دے سکتے ہیں۔ |
|