چین، بدلتا ہوا تاثر

چین، بدلتا ہوا تاثر
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

کبھی کسی ملک کے بارے میں تصور دور بیٹھ کر دیکھی گئی تصویروں، خبروں یا سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر گردش کرتی ویڈیوز سے بنتا ہے، لیکن جب یہی مناظر آنکھوں کے سامنے حقیقت بن جائیں تو تجربہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ چین کا سفر کرنے والے بہت سے غیر ملکی سیاح آج اسی احساس سے گزر رہے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر دیکھی گئی مصنوعی ذہانت، انسان نما روبوٹس، جدید نقل و حمل اور روزمرہ زندگی کی سہولتوں کو اب براہِ راست دیکھ رہے ہیں۔ اس تجربے کے ساتھ چین کے بارے میں پرانے تصورات بھی تیزی سے بدل رہے ہیں۔

کچھ سیاحوں نے بتایا کہ انہوں نے ان روبوٹس کی رقص کرتی ویڈیوز پہلے انٹرنیٹ پر دیکھی تھیں، لیکن انہیں حقیقی دنیا میں اپنے سامنے دیکھنا کہیں زیادہ دلچسپ تجربہ تھا۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت کے ذریعے چائے بنانے والے انسان نما روبوٹ جیسے مناظر بھی لوگوں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ ایسی مثالیں اس تبدیلی کو نمایاں کرتی ہیں جس میں نئی ٹیکنالوجی تجربہ گاہوں اور صنعتی مراکز سے نکل کر عام لوگوں کے روزمرہ تجربات کا حصہ بن رہی ہے۔

چین میں روبوٹکس اور مجسم مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے ہونے والی ترقی کی ایک جھلک حال ہی میں منعقد ہونے والی عالمی روبوٹ کانفرنس میں بھی دیکھی گئی۔ کانفرنس میں 26 ممالک اور خطوں سے 300 سے زیادہ نمائش کنندگان شریک ہوئے اور تین ہزار سے زائد جدید ٹیکنالوجی مصنوعات پیش کی گئیں۔ اس بڑے اجتماع نے دنیا کو چین کے تیزی سے ترقی کرتے روبوٹکس شعبے اور نئی صنعتی ٹیکنالوجی کو قریب سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔

مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس اب صرف تجرباتی مرحلے تک محدود نہیں رہے بلکہ بڑے پیمانے پر تجارتی استعمال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی تک چین میں 400 سے زیادہ مکمل انسان نما روبوٹ مصنوعات تیار کی جا چکی تھیں، جو دنیا بھر کی مجموعی تعداد کے نصف سے زیادہ ہیں۔ 2026 کی پہلی ششماہی میں چین سے 40 ہزار سے زیادہ انسان نما روبوٹس کی ترسیل بھی ہوئی، جو عالمی ترسیل کا تقریباً 97 فیصد بنتی ہے۔

ٹیکنالوجی کے اس سفر نے دنیا میں چین کی تکنیکی صلاحیتوں کے بارے میں سوچ کو بھی تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب چین کے ٹیکنالوجی شعبے کے عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنے کی پیش گوئی کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا، لیکن آج صورت حال مختلف ہے۔ انسان نما روبوٹس، برقی گاڑیوں، خودکار باغبانی کے آلات اور اسمارٹ گھریلو مصنوعات سمیت چین میں تیار ہونے والی مختلف ٹیکنالوجی مصنوعات عالمی منڈیوں میں تیزی سے جگہ بنا رہی ہیں۔

چین کے بارے میں عالمی تصور میں یہ تبدیلی صرف مصنوعات تک محدود نہیں۔ اب چین کو مستقبل کی ٹیکنالوجی اور جدت کے ایک اہم مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کئی عالمی صارفین کے لیے چینی کمپنیوں کی مصنوعات نہ صرف جدید اور بہتر معیار کی محسوس ہوتی ہیں بلکہ نسبتاً مناسب قیمت پر بھی دستیاب ہوتی ہیں۔ اس وسیع تنوع نے چین کی تکنیکی ترقی کو عالمی سطح پر زیادہ نمایاں بنا دیا ہے۔

تاہم چین کی عالمی کشش کی کہانی صرف ٹیکنالوجی سے مکمل نہیں ہوتی۔ چینی ثقافت اور روزمرہ طرزِ زندگی بھی خاص طور پر نوجوان نسل کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ کے مختلف حصوں میں نوجوان سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز کے ذریعے چینی طرز زندگی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ صحت مند عادات، سادہ گھریلو معمولات اور روزمرہ زندگی کے بعض چینی طریقے آن لائن تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

یہ دلچسپی کھانے پینے یا صحت کی عادات تک بھی محدود نہیں۔ تیز رفتار ریل کا وسیع نظام، آسان آن لائن خریداری، تیز تر خوراک کی ترسیل، جدید شہری سہولتیں، مقبول ٹی وی ڈرامے اور منفرد کھیل بھی عالمی نوجوانوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔ چین کی جدید زندگی میں ٹیکنالوجی اور سہولت کا امتزاج بیرون ملک نوجوانوں کے لیے ایک ایسا تجربہ بن رہا ہے جسے وہ سوشل میڈیا کے ذریعے مزید لوگوں تک پہنچا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر چین کے بارے میں بننے والے مواد نے اس تبدیلی کو مزید رفتار دی ہے۔ مختلف ممالک کے مواد تخلیق کرنے والے اور چینی سوشل میڈیا صارفین چین کی روزمرہ زندگی کے ایسے مناظر دنیا کے سامنے لا رہے ہیں جو رسمی تشہیری مواد سے مختلف ہوتے ہیں۔ مصروف شہروں، پرسکون قصبوں، جدید سہولتوں اور عام لوگوں کی روزمرہ سرگرمیوں کی یہ تصاویر چین کا ایک زیادہ متنوع اور حقیقی منظرنامہ پیش کرتی ہیں۔

چین کی حالیہ ویزا فری پالیسیوں نے بھی زیادہ غیر ملکیوں کے لیے ملک کا براہِ راست سفر آسان بنایا ہے۔ 2026 کی پہلی ششماہی میں چین میں غیر ملکیوں کی آمد 22.9 ملین ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20.4 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ زیادہ لوگ چین کو براہِ راست دیکھنے اور اپنے تجربے کی بنیاد پر اس کے بارے میں رائے قائم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

عالمی سطح پر چین کے بارے میں بدلتے ہوئے رویوں کے دیگر اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک بین الاقوامی سروے میں 36 میں سے 25 ممالک کے لوگوں نے چین کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا۔ اسی طرح 2026 کے عالمی سافٹ پاور اشاریے میں چین دوسرے نمبر پر رہا اور اس کا اسکور پہلے نمبر پر موجود ملک سے صرف 1.4 پوائنٹس کم تھا۔ یہ نتائج چین کی بڑھتی ہوئی ثقافتی کشش اور عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

چین کی بدلتی ہوئی عالمی تصویر میں ٹیکنالوجی، ثقافت اور روزمرہ زندگی تینوں پہلو ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ انسان نما روبوٹس سے لے کر تیز رفتار ریل، اسمارٹ مصنوعات اور عام زندگی کی سہولتوں تک، چین کے تجربے نے بہت سے غیر ملکی مسافروں اور عالمی ناظرین کے لیے ایک نیا منظرنامہ پیش کیا ہے۔ براہِ راست سفر، سوشل میڈیا اور جدید مصنوعات کے ذریعے بننے والا یہ نیا تاثر اس بات کی علامت ہے کہ چین کو سمجھنے کا طریقہ بھی بدل رہا ہے۔ اب چین صرف دور سے دیکھی جانے والی ایک بڑی معیشت نہیں بلکہ ایک ایسا ملک بنتا جا رہا ہے جسے دنیا کے لوگ خود دیکھ، محسوس اور اپنے تجربے سے جاننا چاہتے ہیں۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 2021 Articles with 1185941 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More