پہاڑوں میں آسان ہوئی اسکول کی راہ

پہاڑوں میں آسان ہوئی اسکول کی راہ
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

بچوں کے لیے اسکول جانا عام طور پر روزمرہ زندگی کا ایک معمولی حصہ ہوتا ہے، لیکن پہاڑوں اور گہری وادیوں میں بسنے والے بچوں کے لیے یہی سفر کبھی کئی گھنٹوں کی دشوار مسافت بن جاتا ہے۔ صبح گھر سے نکلنے کے بعد دشوار پہاڑی راستوں سے گزر کر اسکول پہنچنا اور پھر واپسی کا سفر مکمل کرنا ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھا۔ اب ایک بلند پہاڑی لفٹ اور کیبل کار کے نظام نے اس مشکل کو بڑی حد تک آسان بنا دیا ہے۔ جو راستہ کبھی تھکا دینے والا اور خطرناک سمجھا جاتا تھا، وہ اب مختصر، محفوظ اور نسبتاً خوشگوار سفر میں تبدیل ہو چکا ہے۔

چین کے صوبہ یون نان میں واقع ایک گہری وادی کے نچلے حصے میں آباد ایک دیہی بستی کے بچے اس تبدیلی کے سب سے نمایاں فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ بستی وادی کی تہہ میں واقع ہے جبکہ ان کا پرائمری اسکول کئی سو میٹر بلندی پر پہاڑوں میں قائم ہے۔ اس جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے اسکول تک پہنچنا ہمیشہ ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔


ماضی میں بچوں کو اسکول پہنچنے کے لیے ایک طویل اور دشوار پہاڑی راستہ اختیار کرنا پڑتا تھا۔ بعض بچوں کے لیے یک طرفہ سفر ہی ساڑھے تین گھنٹے تک جاری رہتا تھا۔ اس طویل مسافت کا اثر نہ صرف ان کی روزمرہ زندگی پر پڑتا بلکہ اسکول پہنچنے تک تھکن بھی محسوس ہوتی تھی۔ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہر روز اتنا مشکل سفر کرنا ان بچوں کے لیے معمول ضرور بن گیا تھا، لیکن آسان نہیں تھا۔

صورت حال میں نمایاں تبدیلی 2022 میں آئی، جب وادی کو سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دینے کے منصوبے کے تحت جدید سفری سہولتیں قائم کی گئیں۔ ان میں پہاڑوں کے درمیان چلنے والی کیبل کار اور چٹان کے ساتھ نصب 268 میٹر بلند لفٹ بھی شامل تھی۔ بلند چٹان کے ساتھ کھڑی یہ لفٹ نہ صرف سیاحوں کے لیے ایک منفرد تجربہ بن گئی بلکہ مقامی آبادی کے روزمرہ سفر میں بھی اہم سہولت ثابت ہوئی۔

یہ سہولتیں بنیادی طور پر سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بنائی گئی تھیں، لیکن مقامی لوگوں اور طلبہ کو بھی ان سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی گئی اور ان کا سفر مفت رکھا گیا۔ یوں سیاحت کے لیے بنایا گیا بنیادی ڈھانچہ مقامی آبادی کی زندگی آسان بنانے کا ذریعہ بھی بن گیا۔

اب بچوں کے اسکول جانے کے سفر میں مختلف سفری سہولتیں ایک دوسرے سے جڑ گئی ہیں۔ سیاحتی شٹل گاڑیاں، پہاڑی لفٹ اور کیبل کار مل کر ایسا راستہ فراہم کرتی ہیں جس نے بچوں کی کئی گھنٹوں کی مشکل مسافت کو مختصر کر دیا ہے۔ جہاں پہلے اسکول پہنچنے میں ساڑھے تین گھنٹے لگتے تھے، اب یہی سفر تقریباً نصف گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے۔

بچوں کی حفاظت کے لیے اس راستے پر خصوصی انتظام بھی کیا گیا ہے۔ طلبہ کے لیے الگ گزرگاہ بنائی گئی ہے، جبکہ پولیس اہلکار اور متعلقہ عملہ راستے کے مختلف حصوں میں تعینات رہتا ہے تاکہ بچے اسکول جاتے اور واپس آتے ہوئے محفوظ رہیں۔ اس انتظام نے والدین کے لیے بھی اطمینان پیدا کیا ہے اور بچوں کے روزانہ سفر کو زیادہ محفوظ بنایا ہے۔

سفری سہولت میں آنے والی یہ تبدیلی صرف طلبہ تک محدود نہیں رہی۔ اسکول میں تدریسی عملے کی کمی دور کرنے میں بھی اس نے مدد کی ہے۔ ماضی میں دشوار راستوں اور دور دراز محل وقوع کی وجہ سے اس علاقے میں اساتذہ کے لیے ملازمت اختیار کرنا آسان نہیں تھا۔ طویل پہاڑی سفر اور محدود سفری سہولتیں نوجوان اساتذہ کو یہاں آنے سے روکتی تھیں، لیکن بہتر آمدورفت نے یہ صورت حال بدلنا شروع کر دی ہے۔

اب زیادہ اساتذہ اس علاقے میں آنے اور تدریس سے وابستہ ہونے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ بہتر سفری سہولت نے نہ صرف ان کے لیے روزمرہ آمدورفت آسان بنائی ہے بلکہ اسکول کو نسبتاً دور افتادہ اور الگ تھلگ ادارے کے بجائے ایسے تعلیمی مرکز میں تبدیل کرنے میں مدد دی ہے جہاں تدریسی عملہ اپنی ذمہ داریاں زیادہ آسانی سے انجام دے سکتا ہے۔

اس تبدیلی کے اثرات وادی کی پوری آبادی میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ بہتر آمدورفت نے علاقے کو بیرونی دنیا سے زیادہ آسانی سے جوڑ دیا ہے اور سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ جہاں پہلے دور دراز پہاڑی بستی کی سرگرمیاں زیادہ تر مقامی ضروریات تک محدود تھیں، اب وہاں آنے والے سیاح مقامی معیشت کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔

سیاحوں کی آمد کے ساتھ رہائش اور خوراک کی سہولتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ مقامی سطح پر مہمان خانوں اور چھوٹے ریستورانوں کا قیام عمل میں آ رہا ہے، جبکہ دیہاتی اپنی زرعی مصنوعات بھی باہر کی منڈیوں تک پہنچانے کے قابل ہو رہے ہیں۔ اس سے مقامی لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کو نئی زندگی ملی ہے۔

اس پوری تبدیلی میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ جس بنیادی ڈھانچے کو ابتدا میں سیاحت کے فروغ کے لیے بنایا گیا تھا، اس نے مقامی آبادی کی زندگی کے کئی پہلو بدل دیے۔ ایک طرف سیاحوں کے لیے پہاڑی علاقے تک پہنچنا آسان ہوا تو دوسری جانب بچوں کے لیے اسکول کا راستہ مختصر ہو گیا، اساتذہ کے لیے سفر سہل ہوا اور مقامی کاروبار کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے۔

یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ دور دراز علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے اثرات صرف سڑکوں اور سفری وقت تک محدود نہیں رہتے۔ بہتر رابطہ تعلیم، روزگار، کاروبار اور مقامی آمدنی سمیت زندگی کے کئی شعبوں میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ خاص طور پر بچوں کے لیے اسکول تک آسان رسائی ایک ایسی سہولت ہے جو آنے والی نسلوں کے مستقبل پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

پہاڑوں کے درمیان بلند ہوتی لفٹ اور کیبل کار اب محض سیاحوں کے لیے ایک منفرد سواری نہیں رہیں۔ ان کے ذریعے ایک دشوار روزمرہ معمول آسانی میں بدل گیا ہے۔ بچوں کے لیے اسکول کا راستہ مختصر ہوا، اساتذہ کے لیے علاقے تک پہنچنا سہل ہوا اور مقامی لوگوں کے لیے بیرونی دنیا سے رابطے کے نئے دروازے کھلے۔ یوں ایک پہاڑی وادی میں سفری سہولت کی تبدیلی نے تعلیم سے لے کر معیشت تک پوری مقامی زندگی کو نئی رفتار دینے کا راستہ ہموار کر دیا ہے۔

 

Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 2021 Articles with 1185890 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More