بین الاقوامی تعلقات و سفارت کاری سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں




تحریر : ڈاکٹر سید محبوب
سینیئر ریسرچ ایڈیٹر
دی نیوز لارک کراچی (انگریزی اخبار)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت تک انے والے تمام انسانوں، اقوام اور ادوار کے لیے نبی اور ہادی کامل بنا کر بھیجا گیا
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ ( سورہ احزاب آیت 28)
ترجمہ" تم لوگوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( ذات) میں ایک عمدہ نمونہ موجود ہے"
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس نے انسانی تاریخ پر سب سے زیادہ گہرے، پائیدار اور دور رس اثرات مرتب کیے ہیں اور اس بات کا اقرار مائیکل ایچ ہارٹ نے اپنی کتاب دی 100 میں یوں کیا ہے
My choice of Muhammad to lead the list of the world's most influential person may surprise some readers and may be questioned, by others but he has the only man, in history who was supremely successful on both the religion and contemporary fronts , Mohammad founded and promulgated one of the world's great religions and become increasingly effective political leader, 13 centuries after his death his influence is powerful and pervasive ( Michael H. Heart " The Hundred)
" دنیا کی سب سے زیادہ بااثر شخصیات میں سے محمد کا میرا سر فہرست انتخاب ممکن ہے ،کچھ قارئین کو حیران کر دے اور ممکن ہے بعض حلقوں کی طرف سے اس پر اعتراض کیا جائے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی تاریخ کی واحد شخصیت ہیں جنہوں نے اعلی ترین کامیابی حاصل کی۔ دینی اور دنیاوی دونوں سطح پر ۔ایک انتہائی متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والے محمد نے نہ صرف دنیا کے ایک عظیم مذہب کی بنیاد رکھی بلکہ اس کی اشاعت بھی کی ۔وہ انتہائی موثر رہنما بن گئے۔ ان کی وفات کے 1300 سال بعد بھی ان کا سیاسی اثر اج بھی پائیدار، غالب اور جاری و ساری ہے"
جدید دنیا عالمی دہہات(global village )کا رخ اختیار کر چکی ہے اور تمام ممالک بین الاقوامی معاہدوں، تجارتی اور دفاعی بلاکس میں باہم منسلک ہیں۔ صرف چین کا بی ار ائی منصوبہ 150 مالک کو باہم منسلک کر چکا ہے۔ دنیا کے ممالک (سوائے دو تین بالا دست ممالک کے ) بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے پابند ہیں ۔اس لیے اج کے دور میں عالم اسلام کے لیے بین الاقوامی حالات و واقعات، منصوبوں اور قوانین سے واقفیت ،عالمی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی میں ان کی بھرپور شرکت ،عالمی امن اور مسلم قوم کی بقا، تحفظ اور ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے ۔مسلمانوں کی یہ خوش نصیبی ہے کہ انہیں بین الاقوامی امور و معاملات میں بھی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بنیادی رہنمائی ملتی ہے ۔ڈاکٹر حمید اللہ صاحب" صلح حدیبیہ کی فتح یا عہد نبوی کی سیاست خارجہ کا شاہکار" کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں
'اس میں ذرا بھی شبہ نہیں رہتا کہ مسلمانوں نے سخت ترین نازک زمانے میں حدیبیہ میں قریش کا اس صلح پر امادہ ہو جانا اسلامی ریاست خارجہ کی ایک واقعی "فتح مبین" اور" نصر عزیز "تھی جس کے باعث ان کے ہاتھ کھل گئے اور فوری خطرات سے نجات ملنے پر انہوں نے ازادی کے ساتھ تین ہی سالوں میں پرامن ذرائع سے اپنی مملکت کو 10 گنا پھیلا کر پورے جزیرہ عرب نما کو اپنا مطیع بنا لیا اور وہاں سے رومی، ایرانی اثرات بالکل خارج کر کے ایک ایسی مستحکم حکومت قائم کر دی جو ائندہ سالوں میں تین براعظموں تک پھیل گئی اور جو اس سے ٹکرایا پاش پاش ہو کر رہ گیا اور جس نے سر تسلیم خم کیا وہ اسلام کی رنگ و زبان سے بالا قومیت میں برابری کے ساتھ شریک ہو گیا ۔یہی وہ صلح حدیبیہ ہے جسے عہد نبوی کی سیاست خارجہ کا شاہکار کہنا چاہیے"
(رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی ص 86)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں عام انسانوں کے لیے نمونہ ہیں وہیں اپ کی ذات مبارکہ حکمرانوں فرما رواؤں، فاتحین ،جرنیلوں اور سربراہان مملکت کے لیے بھی نمونہ ہے۔ اس لیے اللہ تعالی نے اپ کی ذات گرامی میں نبوت اور حکمرانی دونوں کی صفات جمع فرما دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تبدیلی فرمائی وہ انسانی تاریخ کی اتنی ہمہ گیر تبدیلی ہے جس کی مثال دنیا کی مدون تاریخ میں نہیں ملتی اور زندگی کا کوئی ایسا پہلو بھی نہیں جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی تربیت سے اصلاح پذیر نہ ہو اور اس کے اثرات و ثمرات اور اس کے اثار و براہن اس نے قبول نہ کیے ہوں
۔اس ساری تبدیلی کے تحفظ کے لیے اسلام کے تمدن کی بقا کو یقینی بنانے اور اسلامی تہذیب کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ریاست ایک ناگزیر ضرورت ہے اس لیے اللہ تعالی نے اپ کے ذریعے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھوائی۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں جو ریاست مدینہ قائم فرمائی وہ ہمیشہ کے لیے تمام ریاستوں کے لیے اسی طرح نمونہ رہے گی جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہر انسان کے لیے نمونہ ہے ۔اس ریاست نے جو قوانین نافذ کیے وہ تمام قوانین کا سر چشمہ ہیں اور تمام قوانین کے لیے معیار اور مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے ایک بڑا اہم میدان بین الاقوامی قانون ہے اسلام کے بین الاقوامی قانون کی محافظ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔بین الاقوامی قانون برائے انسانی حقوق
(International humanitarian law)
کا مقصد یہ ہے کہ جنگ سے متاثر ہونے والے زخمی ,پناہ گزین ,قیدی اور اس طرح غیر محارب لوگوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اسی کی بنیاد پر جنگی جرائم کا تعین ہوا اور بین الاقوامی عدالت جرائم (International criminal Court)کا قیام عمل میں ایا۔تاریخ میں پہلی مرتبہ بین الاقوامی قانون کی ایسی ہدایات جن میں بین الاقوامی قانون برائے انسانی حقوق کے بنیادی احکام دیے گئے ہوں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے دی گئیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صحابہ کرام پر مشتمل دستہ بھیجتے یا خود قیادت فرماتے تو تین چار چیزوں کی ہدایت اور تاکید کا بہت اہتمام فرماتے تھے کہ وہ جو چیزیں تھیں جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کے چار بڑے معاہدات میں مرتب کی گئیں ائی ایچ ایل کے کنونشن نمبر ایک دو اور تین ان معاہدات کو ہدایات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح کہا جا سکتا ہے۔ اپ فرماتے ہیں کہ اگر میدان جنگ میں دشمن کا فوجی زخمی ہو جائے تو اس کو قتل نہ کیا جائے زخمی ہونے والے کو اٹھا لیا جائے ان کا علاج کیا جائے۔ کوئی اگر فرار ہو جائے تو اس کا پیچھا کر کے اسے مارنے کی کوشش نہ کی جائے کوئی جنگی قیدی ہو جائے تو اسے قتل نہ کیا جائے اور اگر کوئی اپنے گھر کا دروازہ بند کر کے بیٹھ جائے تو اس کو امان دے دی جائے ( فتوح البلدان 49/1)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی اچھے حاکم کو اچھے وزیر عطا فرماتا ہے اور برے حاکم کو برے وزیر عطا فرماتا ہے جب کوئی حاکم اچھے کام کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالی اچھے لوگوں کو اس کی ٹیم میں شامل کر دیتا ہے اس لیے بیرونی سفارت کاری کے لیے نہایت قابل، مخلص، دیانت دار اور فرش شناس لوگوں کا انتخاب کرنا چاہیے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سراغ رسانی کا شعبہ بھی قائم فرمایا ڈاکٹر حمید اللہ نے اس پر پورا مضمون military intelligence during the lifetime of the prophet of Islam لکھا ہے جو پاکستان ہسٹوریکل سوسائٹی کے جنرل میں چھپا ہے۔اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متبادل سراغ رسانی (counter intelligence) کا شعبہ بھی قائم کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ اندرونی اور بیرونی جاریت اور دشمنوں سے بچاؤ کے لیے انٹیلیجنس کا ادارہ نہایت اہم ہے
اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں رہنے والے غیر مسلموں کے ساتھ معاہدہ کیا ،ان کی جان مال عزت و ابرو کے تحفظ کو یقینی بنایا۔ اس کے علاوہ غیر مسلموں کی ابادیاں مدینے کے باہر بھی تھیں۔ جو قبائل اسلام میں داخل نہیں ہوئے ان کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض خصوصی مراعات عطا فرمائیی۔ بعض قبیلوں کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھ کر دیا جو شخص یہودیت یا نصرانیت پر قائم رہنا چاہے اس کو کسی ازمائش میں مبتلا نہیں کیا جائے گا اس پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی ۔اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کے عیسائیوں کو ایک چارٹر عطا فرمایا تھا۔ اس میں یہ کہا گیا کہ ان کو تمام حقوق اور مراعات دی جائیں گی ۔ان کے پادریوں اور گرجوں کو نہیں چھیڑا جائے گا۔ وہ اپنے عہدوں پر قائم رہیں گے ۔لیکن انہیں اسلامی شریعت کی بالادستی کو قبول کرنا ہوگا ۔وہ مسلمانوں کو ٹیکس دیں گے کیونکہ غیر مسلموں سے زکوۃ وصول نہیں کی جاتی اور سود کا کاروبار نہیں کریں گے۔
اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستون عہد و پیمان کا احترام، امانت داری ،میرٹ اور صلاحیت کی بنیاد پر سفیروں کی تقرری ،راست بازی، دیانتداری ،عدل و انصاف کا فروغ، امن عالم کا قیام اور صلح جوئی ہیں
بین الاقوامی دعوت توحید بھی اسلامی ریاست کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے ۔مسلم حکمران اور سفارت کار محتاط حکمت عملی حسن تدبیر اور بہترین ابلاغی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے دعوت کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے کے لیے اپنی صلاحیتیں بروے کار لانے کے پابند ہیں۔
تالیف قلب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ ریاست مدینہ کا اہم شعبہ تھا۔ تالیف قلب کے طور پر بہت سے اقدامات کیے گئے مثال کے طور پر ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں قحط کا سامنا کرنا پڑا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے بڑی تعداد میں کھجوریں اور جو کی کمیت بھیجی اور کہلا بھیجا کہ ہماری طرف سے مکہ کے ضرورت مندوں میں انہیں تقسیم کر دیا جائے ۔ اس طرح کے اقدامات وقتا فوقتا کیے گئے۔ یہ صیغہ خارجہ تھا جس میں بنیادی ذمہ داری حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی تھی ان کا قبیلہ مکہ مکرمہ میں بھی شہری ریاست امور خارجہ اور سفارت کاری کا ذمہ دار تھا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرائے کرام میں جو نام ملتے ہیں ان میں حضرت وحیہ بن خلیفہ کلبی ،عمر ابن امیہ کے نام نمایاں ہیں
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شعبہ خارجہ میں ایک ضمنی شعبہ مراسلات و وثائق کا بھی تھا۔ شعبہ مراسلات اور وثائق کا کام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خط و کتابت اور دوسرے سردار اور حکمرانوں سے مراسلات کا ریکارڈ رکھنا تھا۔
اس وقت دنیا کی ابادی۔5 8 ارب ہے جن میں مسلمانوں کی تعداد دو ارب ہے جو دنیا کی ابادی کا 24 فیصد ہیں یعنی دنیا کا ہر چوتھا شخص مسلمان ہے .اقوام متحدہ کے 193 ممالک اراکین ہیں جن میں سے 57 ممالک مسلمان ہیں .عالمی سطح پر اسرائیل ایک چھوٹا سا ملک ہے جس کا رقبہ صرف 02 ہزار 720کلومیٹر ہے ابادی صرف ایک کروڑ جبکہ دنیا بھر میں یہودیوں کی ابادی دو کروڑ ہے جو دنیا کی ابادی کا صرف 0.23 فیصد ہے. دنیا میں مسلمانوں اور یہودیوں کی ابادی کا تناسب 100:1 ہے یعنی ایک یہودی کے مقابلے میں سو
مسلمان ہیں 57 اسلامی ممالک کا مجموعی رقبہ تین کروڑ 16 لاکھ ساٹھ ہزار مربع کلومیٹر ہے جبکہ اسرائیل کا رقبہ 20،770 مربع کلومیٹر ہے۔ یہودی امریکہ کی ابادی کا صرف دو فیصد جبکہ وزارتوں میں ان کا حصہ 35 فیصد ہے امریکہ نے اقوام متحدہ کے قیام سے اب تک 80 مرتبہ ویٹو پاور کا استعمال کیا ہے جس میں سے 51 مرتبہ اس کا استعمال اسرائیل کے حق میں اور اس کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی کو رکوانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے

حالیہ غزہ کی جنگ میں اسرائیل نے انسانی تاریخ کی سب سے بدترین بربریت اور نسل کشی کا مظاہرہ کیا۔ دنیا کے تمام بین الاقوامی اداروں بشمول اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کمیشن، بین الاقوامی عدالت انصاف، بین الاقوامی عدالت جرائم او ائی سی سمیت تمام اداروں نے اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو اور اس کی فوج کو جنگی مجرم اور فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب قرار دیا۔لیکن امریکہ کی پشت پناہی اور حمایت کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا سکی اور اس کے ظلم و بربریت کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ جبکہ دوسری جانب بھارت میں مودی سرکار کی قیادت میں ہندوتوا کی پالیسی پر عمل درامد کا سلسلہ بھی زور و شور سے جاری ہے۔ مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ قدیم ترین مساجد کو گرایا جا رہا ہے ۔مسلمانوں کی شہریت ختم کی جا رہی ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان ممالک، ان کے پالیسی ساز ،دانشور اور نوجوان عالمی سیاسی ،معاشی حالات کا شعور حاصل کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں اور وسائل کو مسلمانوں کے اتحاد یکجہتی اور مشترکہ دفاعی و معاشی قوت کے فروغ کے لیے استعمال کریں ،سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت، باہم تجارت کو فروغ دیں۔ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی اتحاد خوش ائند ہے۔ اسی طرح کا اتحاد تمام 57 مسلم ممالک کو کرنا چاہیے انشاءاللہ اسلام اور مسلمانوں کا مستقبل شاندار ہے 
Dr Mehboob Syed
About the Author: Dr Mehboob Syed Read More Articles by Dr Mehboob Syed: 307 Articles with 159990 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.