چلاس سے بابوسر ٹاپ روڈ حکومتی توجہ کا منتظر
(محمد قاسم وقار, فیصل آباد)
| یہ تحریر کسی فرد،قبیلہ،علاقہ کے خلاف نہیں۔ یہ چند لوگوں کی طرف سے آنے والی تکلیف اور اس کے تدارک کے حوالہ سے ایک مہمان کی رائے ہے۔ قارئین کو اختلاف رائے کا مکمل حق حاصل ہے۔ لیکن پہلے کھلے دل سے تحریر پڑھ لیں مقصد کسی کی توہین نہیں پاکستان کے خوبصورت چہرہ کو دھندلا ہونے سے بچانا ہے |
|
|
بابوسرٹاپ سے چلاس کی طرف کا نظارہ |
|
چلاس سے بابو سر ٹاپ کی طرف جاتے ہوئے مسلسل چڑھائی ہے۔ 125 سی سی موٹرسائیکل ہانپنے لگتی ہے۔ بسا اوقات کچھوے کی چال پر آجاتی ہے۔ بہت دل کرتا ہے کہ بندہ رُک رُک کے جائے، تاکہ موٹرسائیکل کا انجن ٹھنڈا ہوتا رہے اور سفر بھی ہوجائے۔ لیکن اس سیکشن میں ایک بہت ہی غیر اخلاقی سرگرمی روز بروز پروان چڑھ رہی ہے۔ یہاں پہاڑی لوگوں کے کچھ گھر آباد ہیں جو مقامی ہیں یا شاید خانہ بدوش ہیں (واللہ اعلم)۔ درجنوں کی تعداد میں بچے موجود ہوتے ہیں جن کے لیے بلندی سے نیچے آنا یا نیچے سے بھاگ کر اوپر پہنچنا کوئی دشوار نہیں۔ جیسے ہی آپ نے موٹرسائیکل، کار کی بریک لگائی آن کی آن میں یہ ارد گرد منڈلانا شروع کر دیتے ہیں۔ بس ایک ہی مطالبہ ہوتا ہے ۔ پیسے دو۔ شروع میں یہ بچے بھی محتاط رہتے ہیں اور ہم مسافر بھی، بچوں کو سمجھانے، پیار سے ٹالنے، بات کو ادھر ادھر کرنے میں کچھ پل لگاتے ہیں لیکن ان کی طرف سے ایک ہی مطالبہ ہوتا ہے ۔۔ پیسے دو۔ اگر آپ نے خدا ترسی کرلی اور جیب سے دس بیس روپے نکال کے کسی ایک بچے کو دے دیے تو بس اب چند لمحوں میں بچوں کی فوج ظفر موج آپ کے سر پر ہوگی۔ جب تک سب کو پیسے نہیں دیں گے جان نہیں چھوٹنے والی۔ یہ مت سوچیں کہ بس پانچ دس بچے ہیں ان کو دے کے گلو خلاصی کروا لیتے ہیں ان کے بعد بڑے بھی آ پہنچتے ہیں۔ اگر آپ کہیں کہ پیسے نہیں ہیں تو یہ آپ کے سامان کی خود سے ہی تلاشی شروع کر دیں گے، بیگ کی زپ کھولیں گے، کوئی موٹرسائیکل کی چابی کے ساتھ چھیڑ خانی کرے گا، کوئی لائٹس اور ہارن کے بٹن دبانے شروع کرے گا۔ آپ جھلا کر دل ہی دل میں سوچیں گے کہ چل نکل یہاں سے۔ لیکن کیا روانہ ہونے سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ اب یہ باقاعدہ پیچھے دوڑ بھی لگائیں گے، آپ کو بددعائیں بھی دیں گے، ماں باپ کو بھی برا بھلا کہیں گے اور باقاعدہ آپ کے روڈ ایکسیڈنٹ بارے خبردار کریں گے۔ مان لیتے ہیں کہ بچوں کو نہیں معلوم کہ بد دعا کیا ہوتی ہے، والدین کی اہمیت کیا ہوتی ہے کیونکہ ان کو اپنے ماں باپ کی طرف سے یہی محرومیاں ورثے میں ملی ہیں۔ شاید وہ خود بھی ایسے ہی ماحول میں بڑے ہوئے ہوں جہاں کسی کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی۔ ان بچوں کے بڑے دور بیٹھ کے ہنس رہے ہوتے ہیں یا لا تعلق رہتے ہیں۔ جیسے ہی آپ نے بائیک یا کار چلانا شروع کی یہ ارد گرد سے پتھر اٹھا کے پہلے للکاریں گے کہ روکو گاڑی اور پیسے دو اگر آپ نے توجہ نہ دی تو پھر یہ باقاعدہ سنگ باری شروع کر دیتے ہیں۔ یہ مسئلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ مقامی حکومت اور بالخصوص حکومت گلگت بلتستان سے گزارش ہے کہ بابو سرٹاپ سے چلاس تک کے ایریا میں سکول بنائیں۔ تمام مقامی آبادی کی مردم شماری کرواکے بچوں کی کل تعداد معلوم کریں اور سب کو سکول میں بھرتی کریں جہاں صبح سے شام تک یہ بچے زیر تعلیم و تربیت رہیں۔ اگر کوئی ماں باپ بچے کو سکول بھیجنے پر راضی نہ ہو تو ان کی قانون کے مطابق سرزنش کی جائے۔یہ اقدام فوری طور پر شروع ہونا چاہیے ۔ کل کو یہی بچے بڑے ہوگئے تو یہ عظیم الشان سیاحتی روٹ سیاحوں کے لُٹنے کا باعث بنے گا۔ مقصد کوئی لسانی یا علاقائی تعصب نہیں ہے ہم میدانی علاقوں کے لوگ ان علاقوں میں مہمان ہوتے ہیں اور پہاڑی لوگوں کی مہمان نوازی کی دنیا معترف ہے ، یہ کچھ گھر ہیں جو اس مہمان نوازی کی اچھائی کو اپنی حرکتوں کی بدولت خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں بائیکرز کے ساتھ ہاتھا پائی کی ویڈیو بھی چلاس کی ہی وائرل ہوئی تھی۔ بات صرف بچوں تک ہی نہیں خدانخواستہ گاڑی یا موٹرسائیکل کو کوئی ایشو بن جائے تو مقامی لوگ بھی کوئی مدد نہیں کرتے اس علاقہ میں۔ میری تمام بائیکرز کلب اور ٹورازم سے وابستہ افراد اور متعلق محکمہ کے آفیسرز سے گزارش ہے کہ اس معاملہ کو سنجیدہ لیا جائے اور بہتر حل نکالا جائے۔ |
|