چلتے پہیے، رکتی زندگی

کہانی بہت معمولی سی ہے، مگر اس معمولی سی کہانی میں ہمارے عہد کی پوری معاشی تصویر چھپی ہوئی ہے۔ ایک آدمی صبح گھر سے نکلا، موٹر سائیکل اسٹارٹ کی، جیب پر ہاتھ رکھا اور پٹرول پمپ کی طرف چل پڑا۔ راستے میں اس نے سوچا کہ آج ٹینکی کچھ زیادہ بھروا لیتا ہوں؛ آخر روز روز چند سو روپے کا پٹرول ڈلوا کر کب تک سفر جاری رکھا جا سکتا ہے؟ پمپ پر پہنچا، موٹر سائیکل رکی، نلکی ٹینکی میں لگی اور میٹر چلنے لگا۔ چند لمحوں بعد اس نے گھبرا کر کہا: ’’بس، بس!‘‘ پمپ والے نے حیرت سے پوچھا: ’’اتنی جلدی؟‘‘ اس نے جیب میں بچے ہوئے نوٹ دیکھے اور بولا: ’’بھائی! پٹرول نہیں، میری استطاعت ختم ہوگئی ہے۔‘‘

یہ مختصر سا مکالمہ شاید ہمارے موجودہ معاشی منظرنامے کی سب سے جامع تشریح ہے۔ پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو صرف ایک عدد نہیں بڑھتا، زندگی کے بے شمار اخراجات اپنی اپنی جگہ سے سرکنے لگتے ہیں۔ دفتر جانے والا ملازم، اسکول جانے والا طالب علم، رکشے والا مسافر، سبزی منڈی جانے والا دکاندار، کھیت سے منڈی تک فصل پہنچانے والا کسان اور شہر سے گاؤں تک سامان لے جانے والا ٹرانسپورٹر—سب کی جیب میں پٹرول کی قیمت اپنا حصہ مانگنے لگتی ہے۔

پاکستان میں مہنگائی پر سرکاری اعدادوشمار بھی اس دباؤ کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق اگست 2026 میں قومی صارف قیمت اشاریہ، یعنی CPI، سالانہ بنیاد پر 11.1 فیصد بڑھا، جبکہ دیہی مہنگائی 12.2 فیصد اور شہری مہنگائی 10.4 فیصد رہی۔ اسی مہینے تھوک قیمتوں کا اشاریہ 11.8 فیصد بڑھا۔ یہ اعداد محض شماریاتی جدولوں کے خانے نہیں؛ ان کے پیچھے گھر کے بجٹ، کاروبار کے اخراجات اور عام آدمی کی قوتِ خرید کا مسئلہ موجود ہے۔

ستمبر کے دوسرے نصف میں بھی قیمتوں کا دباؤ ختم نہیں ہوا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق 17 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں Sensitive Price Indicator میں 0.49 فیصد اضافہ ہوا۔ یعنی یہ کہنا مشکل ہے کہ قیمتوں کا بحران محض کسی ایک شے یا ایک ہفتے کا مسئلہ ہے۔ مسئلہ زیادہ وسیع ہے: آمدن کی رفتار اور اخراجات کی رفتار میں پیدا ہونے والا وہ فاصلہ جو رفتہ رفتہ متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں کی معاشی گنجائش کو محدود کرتا ہے۔

پٹرول اس پورے منظرنامے میں اس لیے زیادہ اہم ہے کہ یہ معیشت کے تقریباً ہر متحرک پہلو سے جڑا ہوا ہے۔ گاڑی چلانے کے لیے پٹرول چاہیے، مگر گاڑی صرف انسان نہیں لے جاتی؛ وہ خوراک، دوا، کپڑا، خام مال اور صنعتی پیداوار بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہے۔ چنانچہ ایندھن کی قیمت میں اضافہ بالواسطہ طور پر نقل و حمل اور پیداوار کے اخراجات پر اثر ڈال سکتا ہے، اور یہی اثر مختلف اشیا اور خدمات کی قیمتوں تک منتقل ہو سکتا ہے۔

یہاں حکومت کے سامنے ایک مشکل سوال کھڑا ہوتا ہے۔ پٹرول کی قیمت کو عالمی منڈی، درآمدی لاگت، شرحِ مبادلہ، ٹیکسوں اور دیگر قیمت سازی کے عوامل سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا؛ لیکن عام شہری کے لیے یہ تمام معاشی اصطلاحات آخرکار ایک ہی سوال میں تبدیل ہوجاتی ہیں: ’’میرے گھر کا بجٹ کیوں نہیں چل رہا؟‘‘

ریاستی پالیسی کی اصل آزمائش شاید یہی ہے کہ وہ اس سوال کا جواب صرف وضاحت سے دیتی ہے یا عملی تحفظ بھی فراہم کرتی ہے۔

حکومت نے پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے کے لیے کم آمدنی والے طبقات کے لیے ایک ہدفی فیول ریلیف اسکیم کی منظوری دی، جس میں دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے ہفتہ وار 500 روپے اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے مخصوص مدت میں 1000 روپے تک ریلیف شامل ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق اس نظام کو ڈیجیٹل فیول پاس کے ذریعے مستحق صارفین تک پہنچانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

یہ اقدام اپنی جگہ ایک پالیسی جواب ہے، مگر معاشی پالیسی کا اصل امتحان اعلان نہیں بلکہ اس کا عملی اثر ہوتا ہے۔ اگر کسی خاندان کو ایک طرف چند سو روپے کا ریلیف ملے اور دوسری طرف خوراک، سفر، تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے تو شہری کی نظر میں سوال پھر وہیں آکر کھڑا ہوجاتا ہے: مجموعی بوجھ کتنا کم ہوا؟

یہی وہ مقام ہے جہاں ’’مہنگائی پر کنٹرول‘‘ کے سرکاری بیانیے اور عوامی تجربے کے درمیان فاصلہ پیدا ہوتا ہے۔ مہنگائی کی شرح کم ہونا اور قیمتوں کا کم ہونا ایک ہی بات نہیں۔ اگر کسی شے کی قیمت پہلے ہی بلند سطح پر پہنچ چکی ہو اور اس کے بعد قیمت میں اضافے کی رفتار کچھ کم ہوجائے تو شماریاتی اعتبار سے inflation کم ہوسکتی ہے، مگر شہری کو وہ شے سستی محسوس نہیں ہوتی۔ یہی فرق معاشی گفتگو میں اکثر نظرانداز ہوجاتا ہے۔

عام آدمی شرحِ مہنگائی نہیں خریدتا، وہ آٹا، دودھ، سبزی، دوا، بجلی، گیس اور پٹرول خریدتا ہے۔

اس لیے جب اسے بتایا جاتا ہے کہ مہنگائی قابو میں ہے تو وہ اپنے بجٹ کی طرف دیکھتا ہے۔ اگر ماہانہ آمدن وہی ہو اور بنیادی اخراجات بڑھ چکے ہوں تو ’’مہنگائی قابو میں ہے‘‘ کا جملہ اس کے لیے معاشی اطمینان کے بجائے ایک عجیب سا طنز بن جاتا ہے۔

مسئلہ صرف یہ بھی نہیں کہ حکومت قیمتیں کیوں نہیں روک پاتی۔ سوال یہ بھی ہے کہ قیمتوں کے بڑھنے کی بنیادی وجوہات کیا ہیں اور ان کے مستقل حل کے لیے کیا کیا جارہا ہے۔ پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار رکھنے والے ملک میں عالمی تیل کی قیمت، روپے کی قدر، درآمدی بل، ٹیکسوں اور توانائی کے انتظام کا اثر پٹرول کی قیمت پر پڑتا ہے۔ اگر ہر بحران کا جواب صرف قیمت بڑھانا اور پھر عارضی ریلیف دینا ہو تو معیشت ایک ایسے چکر میں پھنس سکتی ہے جہاں شہری پہلے قیمت ادا کرتا ہے، پھر ریلیف کا انتظار کرتا ہے، پھر اگلے اضافے کے لیے تیار رہتا ہے۔

یہی ’’لولی پاپ کی معیشت‘‘ ہے۔

لولی پاپ میٹھا ہوتا ہے، وقتی تسلی دیتا ہے اور کچھ دیر کے لیے بچے کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹا دیتا ہے۔ معاشی زندگی میں لولی پاپ کبھی سبسڈی بن جاتا ہے، کبھی پیکیج، کبھی وقتی ریلیف، کبھی مستقبل کی خوش حالی کا وعدہ۔ لیکن اگر بنیادی مسئلہ جوں کا توں رہے تو وقتی ریلیف علاج نہیں بنتا، صرف انتظار کی مدت بڑھاتا ہے۔

عوام کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ پٹرول کی قیمت میں عالمی منڈی کا کتنا حصہ ہے، مقامی ٹیکسوں اور لیویز کا کیا کردار ہے، روپے کی قدر میں تبدیلی کس حد تک اثرانداز ہوتی ہے، درآمدی لاگت کیا ہے اور کم آمدنی والے طبقات کو قیمتوں کے جھٹکے سے محفوظ رکھنے کے لیے مستقل نظام کیا ہے۔ معاشی شفافیت کا مطلب صرف اعدادوشمار جاری کرنا نہیں بلکہ ان اعدادوشمار کو شہری کی زندگی سے جوڑ کر سمجھانا بھی ہے۔

ورنہ ایک عجیب صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ حکومت معیشت کے استحکام کے اعداد پیش کرتی ہے، ماہرین عالمی منڈی کی مثالیں دیتے ہیں، ادارے مہنگائی کی شرح بتاتے ہیں اور عوام بازار سے واپس آکر کہتے ہیں: ’’ہم نے تو کچھ اور دیکھا ہے۔‘‘

دونوں باتیں بیک وقت درست ہوسکتی ہیں۔ معیشت کے بعض بڑے اشاریے بہتر ہوسکتے ہیں، مگر گھر کا بجٹ پھر بھی دباؤ میں ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی کامیابی کو صرف چند بڑے اشاریوں سے نہیں، بلکہ قوتِ خرید، روزگار، حقیقی آمدن اور بنیادی ضروریات تک رسائی کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔

پٹرول کی قیمت دراصل اسی وسیع تر مسئلے کی علامت ہے۔ ایک طرف ریاست کو عالمی قیمتوں، مالیاتی ضروریات اور توانائی کے شعبے کی حقیقتوں کا سامنا ہے؛ دوسری طرف شہری کی آمدن محدود ہے۔ اگر دونوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا رہے تو معاشی استحکام کے اعداد بھی عوامی اطمینان میں لازماً تبدیل نہیں ہوتے۔

یہاں حکومت سے سوال کرنا سیاسی مخالفت نہیں بلکہ معاشی احتساب کا حصہ ہے: کیا قیمت بڑھنے کے ساتھ آمدن بڑھانے کی حکمت عملی بھی موجود ہے؟ کیا پبلک ٹرانسپورٹ کو اس سطح تک بہتر بنایا جارہا ہے کہ عام شہری ذاتی گاڑی کے ایندھن پر کم انحصار کرے؟ کیا توانائی کے متبادل ذرائع کو عملی معاشی منصوبہ بنایا جارہا ہے؟ کیا ٹیکس کا بوجھ منصفانہ انداز میں تقسیم ہورہا ہے؟ کیا کم آمدنی والے طبقے کے لیے ہدفی تحفظ مستقل بنیادوں پر موجود ہے؟

کیونکہ پٹرول سستا یا مہنگا ہونا صرف پٹرول پمپ کا مسئلہ نہیں۔ یہ پورے معاشی ڈھانچے کی صحت کا ایک آئینہ ہے۔

اور اس آئینے میں اگر عوام کا چہرہ مسلسل تھکا ہوا دکھائی دے تو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ عالمی حالات مشکل ہیں۔

عالمی حالات واقعی مشکل ہوسکتے ہیں۔ مگر ریاستی پالیسی کا سوال یہ ہے کہ ان مشکل حالات کا بوجھ کس تناسب سے کس طبقے پر منتقل کیا جائے۔ مضبوط معاشی نظام وہ نہیں جس میں ہر بحران کا بوجھ یکساں طور پر عوام پر ڈال دیا جائے؛ بلکہ وہ ہے جو کمزور طبقے کو بڑے معاشی جھٹکوں سے نسبتاً محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر ادارہ جاتی انتظام پیدا کرے۔

پٹرول پمپ پر کھڑا وہ آدمی آخرکار چند لیٹر پٹرول ڈلواتا ہے۔ میٹر رک جاتا ہے، نلکی واپس اپنی جگہ چلی جاتی ہے اور موٹر سائیکل دوبارہ سڑک پر آجاتی ہے۔ مگر اس کے ذہن میں ایک سوال چلتا رہتا ہے:

’’اگر پٹرول کی قیمت بڑھنے کے ساتھ میری آمدن نہیں بڑھتی، تو آخر میرے سفر کی منزل کہاں ہے؟‘‘

شاید یہی ہمارے موجودہ معاشی عہد کا اصل سوال ہے۔ پٹرول کی قیمت صرف ٹینکی نہیں بھرتی؛ وہ پورے معاشی نظام کی لاگت سامنے لے آتی ہے۔ اور جب حکومت مہنگائی کو قابو کرنے کا دعویٰ کرے تو عوام کا حق ہے کہ وہ پوچھیں: شرحِ مہنگائی کم ہوئی ہے یا واقعی زندگی سستی ہوئی ہے؟

کیونکہ اعدادوشمار کاغذ پر نیچے آسکتے ہیں، مگر اگر بازار کی قیمتیں جیب سے اوپر چلی جائیں تو شہری کے لیے بحران ختم نہیں ہوتا۔

اور پھر پمپ والا حسبِ معمول پوچھتا ہے:

’’کتنے کا ڈالوں؟‘‘

آدمی جیب ٹٹولتا ہے، چند لمحے خاموش رہتا ہے اور کہتا ہے:

’’اتنے کا کہ آج کا سفر بھی ہوجائے اور کل کی امید بھی باقی رہے۔‘‘

میٹر پھر چل پڑتا ہے۔

صرف فرق اتنا ہے کہ اس بار پٹرول کے ساتھ امید بھی ناپی جا رہی ہوتی ہے۔

 

Dr Saif Wallahray
About the Author: Dr Saif Wallahray Read More Articles by Dr Saif Wallahray: 72 Articles with 26184 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.