چین میں آئس کریم کا بدلتا ذائقہ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں آئس کریم کا بدلتا ذائقہ تحریر: شاہد افراز خان، بیجنگ
گاجر، بینگن اور یہاں تک کہ تلی ہوئی مرغی بھی اگر دیکھنے میں بالکل اصلی لگیں تو شاید کوئی انہیں آئس کریم تصور نہ کرے۔ لیکن چین میں آئس کریم بنانے والے اب ذائقے کے ساتھ شکل و صورت میں بھی ایسے تجربات کر رہے ہیں کہ عام سی نظر کو دھوکا ہو جائے۔ یہی تخلیقی انداز اس صنعت میں تیزی سے ابھرتی ہوئی ایک نئی سمت کی عکاسی کرتا ہے۔
چین کی آئس کریم مارکیٹ حالیہ برسوں میں مسلسل وسیع ہوئی ہے اور صارفین کی بدلتی پسند نے کمپنیوں کو روایتی ذائقوں سے آگے بڑھنے پر مجبور کیا ہے۔ اب صرف چاکلیٹ، ونیلا یا پھلوں کے ذائقے کافی نہیں سمجھے جاتے بلکہ ایسی مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں جو دیکھنے میں منفرد ہوں، نئے ذائقوں کا تجربہ دیں اور صارفین میں حیرت و دلچسپی بھی پیدا کریں۔
اسی رجحان کی جھلک چین میں آئس کریم اور منجمد خوراک سے جڑی صنعتی نمائشوں میں بھی دیکھنے میں آتی ہے، جہاں مختلف کمپنیاں نت نئے ڈیزائن، ذائقے اور پیداواری ٹیکنالوجیز پیش کرتی ہیں۔ بعض مصنوعات کو سبزیوں اور روزمرہ خوراک کی شکل دی گئی ہے، لیکن قریب سے دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ دراصل آئس کریم ہیں۔
اس طرح کی تخلیقی مصنوعات صارفین کے لیے صرف ایک میٹھی چیز نہیں رہتیں بلکہ تفریح اور تجربے کا حصہ بن جاتی ہیں۔ آئس کریم کی شکل، رنگ اور پیشکش اب خریداری کے فیصلے میں ذائقے کے ساتھ اہم کردار ادا کرنے لگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چینی کمپنیاں مصنوعات میں تخلیقی ڈیزائن اور جذباتی کشش کو بھی اہمیت دے رہی ہیں۔
اس تبدیلی کا اثر چین سے باہر بھی محسوس ہو رہا ہے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ بازاروں میں روایتی آئس کریم مصنوعات کی ایک مضبوط بنیاد پہلے ہی موجود ہے، اس لیے نئی منڈیوں میں منفرد اور مختلف مصنوعات کے لیے جگہ پیدا ہو رہی ہے۔ چینی کمپنیاں اپنی تحقیق، تیاری اور برانڈ سازی کی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک صارفین تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ چین کی آئس کریم صنعت کی توسیع صرف تیار مصنوعات تک محدود نہیں۔ اس کے پیچھے اجزا اور خام مال سے لے کر پیداواری مشینری، پیکیجنگ اور مکمل پیداواری لائنوں تک ایک وسیع صنعتی کڑی موجود ہے۔ یہی مکمل نظام چینی کمپنیوں کو عالمی مارکیٹ میں صرف آئس کریم فروخت کرنے کے بجائے پیداوار کے لیے ضروری ٹیکنالوجی اور آلات فراہم کرنے کے قابل بھی بنا رہا ہے۔
غیر ملکی خریدار چینی ساختہ آئس کریم اور خوراک کی پیکیجنگ مشینری میں بھی بڑھتی ہوئی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ یورپ سمیت کئی بازاروں میں پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث کاروباری ادارے متبادل سپلائرز تلاش کر رہے ہیں۔ چینی مشینری کی قیمت، ٹیکنالوجی اور معیار اسے عالمی خریداروں کے لیے ایک قابل توجہ انتخاب بنا رہے ہیں۔
یوں چین کی آئس کریم صنعت میں ایک دلچسپ دو طرفہ تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ ایک جانب چینی کمپنیاں اپنی مصنوعات اور پیداواری ٹیکنالوجی کو بیرون ملک لے جا رہی ہیں، تو دوسری جانب عالمی آئس کریم برانڈز چین کی وسیع مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت بڑھا رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین صرف آئس کریم تیار کرنے والی صنعت کے لیے نہیں بلکہ عالمی برانڈز کے لیے بھی ایک اہم صارف منڈی بن چکا ہے۔ نوجوان نسل کی بدلتی پسند نے بھی اس شعبے کو نئی رفتار دی ہے۔ آئس کریم، جیلٹو اور دودھ سے بنی میٹھی مصنوعات اب صرف بچوں کی پسند تک محدود نہیں رہیں بلکہ نوجوان صارفین میں بھی ان کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ ذائقے، بناوٹ، شکل اور تجربے میں تنوع اس مارکیٹ کو مزید متحرک کر رہا ہے۔
آئس کریم بظاہر ایک سادہ سی میٹھی چیز ہے، لیکن اس کے پیچھے آج خوراک، ٹیکنالوجی، ڈیزائن، مشینری، پیکیجنگ اور عالمی تجارت کا ایک وسیع نظام کام کر رہا ہے۔ چین میں اس صنعت کی بدلتی شکل یہی بتاتی ہے کہ صارفین کی پسند جیسے جیسے متنوع ہوتی جائے گی، تخلیقی صلاحیت بھی کاروباری کامیابی کا اہم ذریعہ بنتی جائے گی۔ شاید اسی لیے آنے والے برسوں میں چین کی آئس کریم مارکیٹ میں صرف نئے ذائقے ہی نہیں بلکہ ایسے نئے تجربات بھی سامنے آئیں گے جنہیں دیکھ کر یہ پہچاننا مشکل ہوگا کہ سامنے رکھی چیز واقعی خوراک ہے یا فن کا ایک مزیدار نمونہ۔ |
|