چاٹی میں مکھن


چاٹی میں مکھن
بچپن میں میں اپنی والدہ کو چاٹی میں دودھ بلوتے دیکھا کرتا تھا۔ بلونے کے بعد جب وہ ڈھیم اٹھاتیں تو دودھ کی سطح پر مکھن کی ایک تہہ تیرتی دکھائی دیتی۔ پہلی نظر میں یوں محسوس ہوتا جیسے پوری چاٹی مکھن سے بھری ہوئی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہوتی کہ مکھن کے مقابلے میں اس میں لسی کہیں زیادہ ہوتی تھی۔

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے ہمارا معاشرہ بھی ایک ایسی ہی چاٹی ہے۔ ہماری نظریں مکھن پر ٹھہر گئی ہیں اور ہم پوری چاٹی کو دیکھنا بھول گئے ہیں۔

ایک قتل ہوتا ہے، زیادتی کی خبر آتی ہے، فراڈ سامنے آتا ہے، بدعنوانی کا واقعہ منظرِ عام پر آتا ہے یا کسی ظلم کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل جاتی ہے۔ خبر چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچتی ہے، تبصرے شروع ہوتے ہیں، غصہ ابھرتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک واقعہ پورے معاشرے کی شناخت بن جاتا ہے۔ جیسے کروڑوں انسانوں کی اجتماعی زندگی میں اس ایک برائی کے سوا کچھ موجود ہی نہ ہو۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ جرم معمولی ہے یا ظلم کو نظرانداز کر دیا جائے۔ جرم کو جرم کہنا، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا اور قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرنا ضروری ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ہم معاشرے میں موجود برائی کو پورا معاشرہ سمجھ لیتے ہیں۔

مجھے اس حقیقت کا احساس تقریباً پندرہ برس پہلے ایک سڑک حادثے میں ہوا۔ میری اہلیہ اور بیٹی زخمی ہوئیں تو ایک اجنبی نے اپنی گاڑی روک دی اور ہمیں ہسپتال پہنچایا۔ اس کی نئی گاڑی کی نشستیں ہمارے خون سے آلودہ ہوگئیں۔ ہسپتال پہنچنے پر ڈاکٹر اور سرجن فوری طور پر ہماری مدد میں مصروف ہوگئے۔ دو اور گاڑیوں میں موجود اجنبی بھی ہمارے ساتھ ہسپتال پہنچے۔ کسی نے پانی دیا، کسی نے جوس، کوئی صرف اس لیے وہاں کھڑا رہا کہ شاید اس کی ضرورت پڑ جائے۔

وہ ہمیں جانتے تک نہیں تھے۔

اس واقعے کے بعد میں نے حادثات کے مواقع پر لوگوں کے رویے کو زیادہ غور سے دیکھنا شروع کیا۔ بارہا دیکھا کہ اجنبی زخمیوں کو اپنی گاڑیوں میں ہسپتال پہنچاتے ہیں، خون دیتے ہیں، مدد کے لیے رک جاتے ہیں اور کبھی کسی نامعلوم انسان کو بچانے کے لیے اپنی جان تک خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔

یہ بھی ہمارا معاشرہ ہے۔

یہی معاشرہ اس وقت بھی ہمارے سامنے ہوتا ہے جب کوئی ڈاکٹر رات گئے تک مریض کے ساتھ موجود رہتا ہے، کوئی استاد غریب بچے کی فیس ادا کرتا ہے، کوئی دکاندار زائد وصول کی ہوئی رقم واپس کرتا ہے، کوئی شخص سڑک پر گری ہوئی رقم اس کے مالک تک پہنچاتا ہے، کوئی نوجوان کسی بوڑھے کو سڑک پار کراتا ہے، کوئی پڑوسی مشکل وقت میں خاموشی سے راشن پہنچا دیتا ہے اور کوئی صاحبِ استطاعت شخص کسی ضرورت مند کا علاج کرا کے اپنا نام ظاہر نہیں ہونے دیتا۔

یہ سب کچھ روز ہوتا ہے، مگر اس میں خبر کم ہے۔

برائی کی ایک فطرت یہ ہے کہ وہ شور پیدا کرتی ہے؛ نیکی اکثر خاموش رہتی ہے۔ ایک جرم کی ویڈیو چند منٹ میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ ایک اجنبی کی مدد شاید چند لوگوں تک ہی محدود رہ جائے۔ سوشل میڈیا نے اس فرق کو اور نمایاں کر دیا ہے۔ وہاں زندگی کا مکمل عکس نہیں ملتا؛ زیادہ تر وہ چیز نمایاں ہوتی ہے جو حیران کرے، خوف پیدا کرے، غصہ دلائے یا بحث چھیڑ دے۔

چنانچہ مکھن بار بار ہماری آنکھوں کے سامنے آتا ہے اور لسی نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری اجتماعی خود شناسی متاثر ہوتی ہے۔ ہم اپنے معاشرے کو اس کے شور سے پہچاننے لگتے ہیں، اس کی خاموش زندگی سے نہیں۔ ایک مجرم نمایاں ہوتا ہے، مگر ہزاروں لوگ جو دیانت داری سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہوتے ہیں، خبر نہیں بنتے۔ ایک ظالم کی تصویر گردش کرتی ہے، مگر وہ بے شمار لوگ دکھائی نہیں دیتے جو روز کسی نہ کسی شکل میں دوسرے انسان کے کام آ رہے ہوتے ہیں۔

شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نیکی ہماری بنیادی توقع ہے۔ کسی زخمی کی مدد کرنا ہمیں غیر معمولی واقعہ نہیں لگتا، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ انسان کو یہی کرنا چاہیے۔ لیکن جب کوئی اسی زخمی کو لوٹ لے تو ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ یوں اچھائی معمول بن کر پس منظر میں چلی جاتی ہے اور برائی غیر معمولی واقعہ بن کر سامنے آ جاتی ہے۔

لیکن اس حقیقت کو سمجھنے کا مطلب برائی سے آنکھیں بند کرنا نہیں۔ معاشرے میں موجود جرم، ظلم، بدعنوانی اور ناانصافی کی نشاندہی ضروری ہے۔ ان کے خلاف آواز اٹھانا بھی ضروری ہے اور قانون کے ذریعے ان کا سدباب بھی۔ اگر چاٹی میں مکھن ہے تو اسے نکالنا ہوگا، کیونکہ ایک محدود مقدار بھی پورے ذائقے کو متاثر کر سکتی ہے۔

مگر مکھن کو پوری چاٹی سمجھ لینا بھی حقیقت سے دوری ہے۔

ایک معاشرے کا اخلاقی چہرہ صرف اس کے مجرموں سے نہیں بنتا۔ اسے ان لوگوں سے بھی سمجھنا پڑتا ہے جو ہر روز بغیر کسی تشہیر، انعام یا صلے کے درست کام کرتے ہیں۔ معاشرہ صرف عدالتوں میں موجود مقدمات، تھانوں میں درج ایف آئی آرز، سوشل میڈیا کی وائرل ویڈیوز اور اخبارات کی سرخیوں کا نام نہیں۔ معاشرہ ان خاموش رویوں کا مجموعہ بھی ہے جو ہر روز انسان کو انسان کے کام آنے پر آمادہ کرتے ہیں۔

اس لیے ہمیں اپنے معاشرے کو نہ اندھی خوش فہمی سے دیکھنا چاہیے اور نہ مستقل بدگمانی سے۔ دونوں انتہائیں حقیقت کو ادھورا کر دیتی ہیں۔ ہمیں وہ ہاتھ بھی دیکھنے ہوں گے جو کسی کا حق چھینتے ہیں اور وہ ہاتھ بھی جو گرتے ہوئے انسان کو اٹھاتے ہیں؛ وہ شخص بھی جو رشوت لیتا ہے اور وہ بھی جو امانت واپس کرتا ہے؛ وہ بھی جو ظلم کرتا ہے اور وہ بھی جو ظلم کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔

آخر مسئلہ یہ نہیں کہ ہماری چاٹی میں مکھن ہے یا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم چاٹی دیکھ رہے ہیں یا صرف مکھن؟

مکھن کو مکھن کہنا ضروری ہے، کیونکہ برائی کا علاج کیے بغیر معاشرہ بہتر نہیں ہوسکتا۔ لیکن پوری چاٹی کو مکھن سمجھ لینا بھی اتنی ہی بڑی فکری غلطی ہے۔

ہماری چاٹی میں مکھن ضرور ہے، مگر پوری چاٹی مکھن نہیں۔

معاشرے کو سمجھنے کی شاید پہلی شرط یہی ہے کہ ہم مکھن کو مکھن، لسی کو لسی اور پوری چاٹی کو پوری چاٹی دیکھنا سیکھیں۔

 

Dilpazir Ahmed
About the Author: Dilpazir Ahmed Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 280 Articles with 259774 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.