عالمی جامعاتی سربراہ کانفرنس

اسلامی سربراہ کانفرنس کے بعد… اب عالمی جامعاتی سربراہ کانفرنس
الدكتور ولي خان المظفر
مستشار رئيس جامعة الرشيد بكراتشي

مسلم دنیا کو صرف حکمرانوں کی نہیں، علم کے سربراہوں کی مجلس بھی چاہیے

کب تک عالمِ اسلام صرف جنگ، سیاست، سرحد، قرارداد اور
مذمت کے لیے جمع ہوتا رہے گا؟

کبھی سربراہانِ مملکت کا اجلاس، کبھی وزرائے خارجہ کی کانفرنس، کبھی فلسطین پر ہنگامی نشست، کبھی اقتصادی تعاون کی اپیل۔ قافلے آتے ہیں، سرخ قالین بچھتے ہیں، تقاریر ہوتی ہیں، تصویریں بنتی ہیں، اعلامیے جاری ہوتے ہیں اور دنیا پھر اپنی رفتار سے چل پڑتی ہے۔

مگر ایک سوال شاید ہم نے اپنے آپ سے پوری شدت سے کبھی پوچھا ہی نہیں:

مسلم دنیا کے ذہن کا سربراہی اجلاس کب ہوگا؟

اس کے نوجوانوں، جامعات، اساتذہ، محققین، سائنس دانوں، مفکرین اور آنے والی نسلوں کے مستقبل پر فیصلہ کرنے والے کب ایک میز پر بیٹھیں گے؟

11 اور 12 اکتوبر 2026ء کو کراچی میں ہونے والی عالمی جامعاتی سربراہی کانفرنس اسی سوال کا ایک بڑا جواب بن سکتی ہے۔

جامعۃ الرشید اور جامعۃ الغزالی، رابطۃ الجامعات الاسلامیہ کے تعاون و تنسيق سے، دنیا کی جامعاتی قیادت کو کراچی میں جمع کرنے جا رہے ہیں۔

اگر اس اجتماع کو صرف ایک اور ’’کانفرنس‘‘ سمجھا گیا تو شاید ہم اس کے حقیقی قد کو چھوٹا کر دیں گے۔

یہ دراصل علم کا سربراہی اجلاس ہے۔

حکمران آج سنوارتے ہیں، جامعات کل بناتی ہیں

ملک کا صدر یا وزیراعظم پانچ یا دس سال کے فیصلے کرتا ہے، لیکن یونیورسٹی پچاس سال بعد کی قوم تیار کرتی ہے۔

پارلیمنٹ قوانین بناتی ہے، مگر انہی قوانین کو سمجھنے، بنانے اور چلانے والے دماغ یونیورسٹیاں پیدا کرتی ہیں۔

حکومت معیشت چلاتی ہے، لیکن معیشت دان یونیورسٹی بناتی ہے۔

عدالت فیصلے دیتی ہے، قانون دان یونیورسٹی تیار کرتی ہے۔

ہسپتال مریض بچاتا ہے، ڈاکٹر یونیورسٹی پیدا کرتی ہے۔

ریاست کو سفیر، انجینئر، استاد، محقق، سائنس دان، منتظم اور پالیسی ساز چاہییں — اور ان سب کے پیچھے ایک دانش گاہ کھڑی ہوتی ہے۔

پھر سربراہِ جامعہ کا اجتماع ایک معمولی تقریب کیسے ہوسکتا ہے؟

سربراہانِ مملکت ملک چلاتے ہیں،
سربراہانِ جامعات نسلیں تیار کرتے ہیں۔

یہی کراچی کانفرنس کی اصل عظمت ہے۔

مسلم دنیا کی خاموش کمزوری

ہم مسلمانوں کے وسائل کی بات بہت کرتے ہیں۔

تیل ہمارے پاس۔

گیس ہمارے پاس۔

سمندر ہمارے۔

نوجوان آبادی ہماری۔

تاریخ ہماری۔

تہذیب ہماری۔

لیکن سوال یہ ہے: علمی نیٹ ورک کہاں ہے؟

کیا پاکستان کی جامعات مراکش، مصر، سعودی عرب، ترکی، انڈونیشیا، ملائیشیا، افریقہ اور وسطی ایشیا کی جامعات کے ساتھ اسی درجے پر مربوط ہیں جس درجے پر مغربی دنیا کی جامعات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں؟

ہمارے کتنے طالب علم اسلامی دنیا کے دوسرے ملکوں میں ایک یا دو سمسٹر پڑھتے ہیں؟

ہمارے کتنے پروفیسر باقاعدہ تبادلے کے پروگراموں کے ذریعے دوسری مسلم جامعات میں تدریس کرتے ہیں؟

مشترکہ تحقیقی لیبارٹریاں کہاں ہیں؟

مشترکہ جرائد کہاں ہیں؟

مشترکہ ڈگریاں کتنی ہیں؟

اسکالرشپ کا جامع بین الاقوامی نظام کہاں ہے؟

ہم سیاسی وحدت کے خواب تو دیکھتے ہیں، لیکن علمی وحدت کے بنیادی ڈھانچے پر ہماری توجہ ابھی اس درجے کی نہیں جس کی ضرورت ہے۔

یہی خلا کراچی پُر کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔

پہلے تعارف، پھر اتحاد

اس کانفرنس کا فلسفہ نہایت سادہ مگر گہرا ہے:

تعارف → تواصل → تعاون → شراکت → تکامل۔

پہلے جامعات ایک دوسرے کو پہچانیں۔

پھر قیادتیں رابطے میں آئیں۔

پھر طلبہ اور اساتذہ کا تبادلہ شروع ہو۔

اس کے بعد مشترکہ تحقیق، اسکالرشپس اور تعلیمی پروگرام وجود میں آئیں۔

اور آخرکار ایک ایسا عالمی جامعاتی نیٹ ورک بنے جس میں جغرافیہ رکاوٹ نہ رہے۔

کراچی میں بیٹھا طالب علم ریاض کے استاد سے پڑھ سکے۔

لاہور کا محقق قاہرہ، استنبول اور کوالالمپور کے محققین کے ساتھ منصوبہ بنائے۔

افریقہ کا طالب علم پاکستان آئے۔

پاکستانی طالب علم عرب دنیا کی جامعات میں جائے۔

علم حرکت کرے، استاد حرکت کرے، طالب علم حرکت کرے، تحقیق حرکت کرے۔

تب جاکر امت حرکت کرے گی۔

مکہ سے کراچی… ایک معنی خیز سفر

اس کانفرنس کے پس منظر میں رابطۃ الجامعات الاسلامیہ کا وجود خاص اہمیت رکھتا ہے۔

مکہ مکرمہ محض ایک شہر نہیں؛ مسلمانوں کے روحانی مرکز کی علامت ہے۔

اور کراچی محض ایک بندرگاہ نہیں؛ جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے مسلم علمی، معاشی اور انسانی مراکز میں سے ایک ہے۔

اگر مکہ سے جڑا جامعاتی رابطہ کراچی میں عرب، اسلامی اور پاکستانی جامعات کو ایک میز پر جمع کرتا ہے تو منظر معمولی نہیں رہتا۔

یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک نیا علمی راستہ کھل رہا ہے:

مکہ سے کراچی،
کراچی سے جنوبی ایشیا،
اور جنوبی ایشیا سے پوری دنیا۔

پاکستان اور عرب دنیا کے درمیان تعلق ہمیشہ سیاست، دفاع اور معیشت تک محدود نہیں رہا؛ اس کی سب سے گہری جڑ علم، دین اور عربی زبان میں ہے۔

اب اس قدیم رشتے کو جدید جامعاتی شراکت میں تبدیل کرنے کا وقت ہے۔

پاکستان کے لیے شاید ایک تاریخی موقع

پاکستان کے پاس دنیا کو دکھانے کے لیے بہت کچھ ہے، لیکن ہم اپنے علمی سرمائے کی عالمی مارکیٹنگ شاید وہ نہیں کرسکے جس کے وہ مستحق ہے۔

ہمارے مدارس کی صدیوں پر محیط علمی روایت ہے۔

ہماری جامعات میں لاکھوں نوجوان زیرِ تعلیم ہیں۔

طب، انجینئرنگ، آئی ٹی، اسلامیات، عربی، سماجی علوم اور دیگر میدانوں میں بڑی انسانی قوت موجود ہے۔

کراچی کانفرنس موقع فراہم کرتی ہے کہ پاکستان خود کو دنیا کے سامنے صرف ایک سیاسی یا جغرافیائی ریاست کے طور پر نہیں بلکہ ایک علمی قوت کے طور پر پیش کرے۔

آنے والے غیرملکی مہمانوں کو صرف کراچی کی سڑکیں اور عمارتیں نہ دکھائی جائیں؛ انہیں پاکستان کا علمی دماغ دکھایا جائے۔

انہیں بتایا جائے کہ اس ملک میں مدارس بھی ہیں اور جدید یونیورسٹیاں بھی؛ حفظ و حدیث بھی ہے اور مصنوعی ذہانت بھی؛ فقہ بھی ہے اور فنانس بھی؛ عربی بھی ہے اور کمپیوٹر سائنس بھی۔

اگر یہ تصویر صحیح انداز میں سامنے آگئی تو کانفرنس سے پاکستان کا ایک نیا عالمی تعارف جنم لے سکتا ہے۔

جامعۃ الرشید اور جامعۃ الغزالی کے سامنے بڑا امتحان

میزبانی اعزاز ہے، مگر تاریخ میں نام صرف میزبان بننے سے نہیں لکھا جاتا۔

اصل امتحان 12 اکتوبر کی شام کے بعد شروع ہوگا۔

دیکھنا یہ ہوگا کہ کانفرنس کے بعد:

کتنے معاہدے حقیقت بنے؟

کتنے طلبہ سرحد پار جامعات میں گئے؟

کتنے اساتذہ کا تبادلہ ہوا؟

کتنے مشترکہ تحقیقی منصوبے شروع ہوئے؟

کتنے اسکالرشپ پروگرام وجود میں آئے؟

کتنے مشترکہ علمی مراکز قائم ہوئے؟

اور کتنے صدورِ جامعات کانفرنس کے بعد بھی ایک دوسرے سے مربوط رہے؟

اگر جواب صرف ’’تصاویر اور اعلامیہ‘‘ ہوا تو یہ ایک خوب صورت تقریب ہوگی۔

اور اگر جواب ’’ادارے، منصوبے اور مستقل تعاون‘‘ ہوا تو یہ ایک تحریک بن جائے گی۔

عربی کو واپس مرکز میں لائیے

اس سربراہی کانفرنس کا ایک نہایت اہم ثمر عربی زبان بھی ہوسکتی ہے۔

عربی کسی ایک ملک یا قوم کی زبان نہیں؛ اسلامی تہذیب کی سب سے بڑی مشترک علمی زبان ہے۔

صدیوں تک بخارا، دہلی، لاہور، پشاور، کراچی، قاہرہ، دمشق، بغداد، مدینہ اور مکہ کے اہلِ علم اسی زبان کے ذریعے ایک دوسرے سے ہم کلام رہے۔

آج مسلم جامعات کو پھر ایک ایسی مشترک علمی زبان کی ضرورت ہے جو مغرب و مشرق کے درمیان براہِ راست رابطہ پیدا کرسکے۔

پاکستان کے لیے عرب دنیا کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کا مؤثر ترین علمی راستہ عربی زبان ہے۔

اس لیے کراچی اجلاس سے ایک واضح پیغام نکلنا چاہیے:

عربی صرف پڑھائی جانے والی زبان نہیں؛
یہ عالمِ اسلام کو جوڑنے والی زبان بھی بن سکتی ہے۔

ہمیں اعلامیہ نہیں، نظام چاہیے!

بس یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنی پرانی عادت بدلنا ہوگی۔

کانفرنس ہوئی۔

اعلامیہ جاری ہوا۔

گروپ فوٹو بنی۔

خبر چھپی۔

مہمان رخصت ہوئے۔

فائل بند!

نہیں!

اس مرتبہ فائل بند نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ایک نیا باب کھلنا چاہیے۔

رؤسائے جامعات کا مستقل عالمی فورم قائم ہو۔

ڈیجیٹل سیکریٹریٹ ہو۔

ہر شریک یونیورسٹی کا رابطہ مرکز ہو۔

طلبہ تبادلے کا پورٹل ہو۔

اساتذہ تبادلہ پروگرام ہو۔

سالانہ اسکالرشپ لسٹ ہو۔

مشترکہ ریسرچ فنڈ ہو۔

عربی زبان کے لیے عالمی جامعاتی پروگرام ہو۔

اور ہر سال یہ پوچھا جائے: پچھلے اجلاس کے فیصلوں میں سے کتنے زمین پر اترے؟

اسی کا نام ادارہ سازی ہے۔

مسلم دنیا کا اگلا میدان: علم

اکیسویں صدی کی جنگ صرف توپ اور ٹینک کی نہیں۔

یہ ڈیٹا کی جنگ ہے۔

تحقیق کی جنگ ہے۔

مصنوعی ذہانت کی جنگ ہے۔

یونیورسٹیوں کی جنگ ہے۔

پیٹنٹ، ٹیکنالوجی، تحقیق، زبان اور علمی اثر و رسوخ کی جنگ ہے۔

جو قومیں یونیورسٹیوں میں پیچھے رہ جائیں گی، وہ دنیا کی مذاکراتی میز پر بھی کمزور رہیں گی۔

اسی لیے کراچی کی یہ کانفرنس اپنے اندر ایک بہت بڑا سوال لیے ہوئے ہے:

کیا عالمِ اسلام صرف اپنے بحرانوں کا اجلاس منعقد کرے گا، یا اپنے مستقبل کا بھی؟

11 اور 12 اکتوبر کو شاید جواب کراچی سے آئے۔

دنیا نے اسلامی سربراہی کانفرنسیں بہت دیکھی ہیں۔

اب اسے عالمی جامعاتی سربراہی کانفرنس بھی دیکھنی چاہیے۔

کیونکہ قوموں کا سیاسی مستقبل ایوانوں میں طے ہوتا ہے، مگر ان کا تہذیبی مستقبل درس گاہوں میں جنم لیتا ہے۔

اور تاریخ کا سبق بڑا واضح ہے:

جس قوم کے پاس مضبوط حکومت ہو مگر کمزور علم، اس کی طاقت عارضی ہوتی ہے؛
اور جس قوم کی دانش گاہیں زندہ ہوں، اسے زوال کے بعد بھی دوبارہ اٹھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

لہٰذا کراچی میں صرف رؤسائے جامعات کو جمع نہ کیجیے۔

عالمِ اسلام کے بکھرے ہوئے علمی مستقبل کو جمع کیجیے!

صرف دو دن کی کانفرنس نہ کیجیے۔

ایک سو سال کے علمی سفر کا پہلا قدم اٹھائیے!

اور کراچی سے دنیا کو یہ اعلان سنائیے:

سیاست کے بعد اب علم کی سربراہی کا وقت آگیا ہے۔
Dr shaikh wali khan almuzaffar
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 458 Articles with 991289 views نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More