Intaarnational summit of Universities chancellors

*ایک خواب جو عالمی تعلیمی سربراہی کانفرنس بن گیا!*

*جامعۃ الغزالی اور رابطۃ الجامعات الاسلامیہ کی تاریخی رفاقت کی داستان*

بقلم: ڈاکٹر ولی خان المظفر

قوموں کی تاریخ میں بعض واقعات محض واقعات نہیں ہوتے، بلکہ وہ نئے عہد کا پیش خیمہ، نئی منزل کا سنگِ میل اور آنے والی نسلوں کے لیے امکانات کے نئے دروازے ثابت ہوتے ہیں۔ بعض خواب ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی ایک شخص کے دل میں جنم لیتے ہیں، پھر ایک صاحبِ بصیرت قیادت کی سرپرستی، مخلص رفقاء کی محنت اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے دیکھتے ہی دیکھتے ایک عظیم اجتماعی حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔

کراچی میں ۱۱ اور ۱۲ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو منعقد ہونے والی تاریخ ساز پہلی عالمی سربراہی کانفرنس برائے رؤسائے جامعات (القمة العالمية الأولى لرؤساء الجامعات) بھی میرے نزدیک اسی نوعیت کا ایک تاریخی واقعہ ہے۔

اس کی داستان محض دو دن کی سرگرمیوں، علمی نشستوں، استقبالی تقریبات اور بین الاقوامی شخصیات کی آمدورفت تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے کئی برسوں کے خواب، مسلسل روابط، انتظامی جدوجہد، علمی تمنائیں اور ایک ایسی قیادت کا عزم کارفرما ہے جو خاموشی سے بڑے بڑے کام انجام دینے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

رابطۃ الجامعات الاسلامیہ عالمِ اسلام کی جامعات کی ایک عظیم اور مؤثر بین الاقوامی تنظیم ہے، جس سے تقریباً ڈھائی سو ممتاز جامعات وابستہ ہیں۔ یہ محض جامعات کے ناموں کی فہرست نہیں، بلکہ اعلیٰ تعلیم کی ترقی، علمی و تحقیقی تعاون، مشترکہ تعلیمی پروگراموں، جامعات کے باہمی روابط، تدریسی تجربات کے تبادلے اور عالمی تعلیمی معیار کو بلند کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔

میری دیرینہ آرزو تھی کہ پاکستان کی دینی جامعات، بالخصوص جامعۃ الرشید اور جامعۃ الغزالی، عالمِ اسلام کے اس عظیم علمی کارواں میں محض شریک ہی نہ ہوں، بلکہ اس کے فعال، مؤثر اور قائدانہ کردار کی حامل بنیں۔

چنانچہ جب ہمیں جامعۃ الغزالی میں اپنے نہایت محترم و مکرم حضرت استاذ صاحب، سماحۃ المفتی ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی خدمت میں کام کرنے اور تعلیمی منصوبوں پر غور و فکر کا موقع ملا تو ابتدا ہی سے ہماری کوشش تھی کہ ان دونوں جامعات کو رابطۃ الجامعات الاسلامیہ کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔

ہم چاہتے تھے کہ کراچی سے اٹھنے والی علمی آواز قاہرہ، مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض، استنبول، دمشق، کوالالمپور اور عالمِ اسلام کے دوسرے علمی مراکز تک پہنچے، اور ان مراکز کی علمی روشنی ہماری جامعات اور ہمارے طلبہ تک منتقل ہو۔

اسی دوران ایک مبارک اتفاق پیش آیا۔

ہم عمرے کے سفر پر مکہ مکرمہ میں تھے کہ رابطۃ العالم الاسلامی کے سیکریٹری جنرل اور رابطۃ الجامعات الاسلامیہ کے صدر، معالی الشیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے حضرت استادِ محترم کو مکہ مکرمہ میں منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

وہاں رابطۃ الجامعات الاسلامیہ کے سیکریٹری جنرل، معالی الوزیر ڈاکٹر سامی الشریف بھی تشریف فرما تھے۔

اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر دونوں معزز شخصیات سے ملاقات کا موقع عطا فرمایا۔ ہم نے ان کے سامنے اپنی خواہش رکھی کہ جامعۃ الرشید اور جامعۃ الغزالی کو رابطے کی رکنیت عطا کی جائے، تاکہ دونوں ادارے بین الاقوامی علمی تعاون میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

ہماری درخواست پہلے ہی آن لائن متعلقہ ادارے تک پہنچ چکی تھی۔ ان حضرات نے اسے توجہ اور محبت سے سنا، حوصلہ افزائی فرمائی اور اس سلسلے میں مثبت پیش رفت کی راہ ہموار ہوئی۔

یہ ملاقات ہمارے لیے محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھی، بلکہ ایک بڑے علمی سفر کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئی۔

مکہ مکرمہ سے واپسی کے بعد کاغذی کارروائی، مطلوبہ دستاویزات، ادارہ جاتی معلومات، باقاعدہ مراسلت اور دیگر انتظامی مراحل کا سلسلہ شروع ہوا۔ تقریباً ایک سال تک یہ جدوجہد جاری رہی، یہاں تک کہ دونوں جامعات کی رابطے سے وابستگی کی راہ ہموار ہوگئی۔

اس مرحلے کے بعد ہم نے رابطۃ الجامعات الاسلامیہ کی قیادت سے ایک نیا سوال کیا:

اب ہماری عملی سرگرمی کیا ہونی چاہیے؟ ہم اس عظیم علمی تنظیم کے لیے کیا خدمات انجام دے سکتے ہیں، اور آپ ہم سے کیا توقع رکھتے ہیں؟

جواب میں ہمیں ایک علمی سیمینار منعقد کرنے کی تجویز دی گئی، جس میں رابطے کی قیادت بھی شرکت کرے گی۔

یہیں سے اس داستان کا دوسرا اور نہایت دلچسپ باب شروع ہوتا ہے۔

جب اس منصوبے کو حضرت استادِ محترم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اپنی مخصوص دوراندیشی، غیرمعمولی انتظامی صلاحیت اور بلند حوصلگی کے ساتھ اسے قبول فرمایا۔

جامعۃ الرشید اور جامعۃ الغزالی کے اساتذہ، منتظمین اور مختلف شعبوں کے ذمہ داران کو متحرک کیا گیا، اور بالخصوص حضرت استاد کے معتمد، ذاتی سیکریٹری اور دونوں جامعات کے اہم انتظامی ذمہ دار ڈاکٹر عثمان یوسف کو اس عظیم منصوبے کی عملی پیش رفت میں مرکزی ذمہ داری سونپی گئی۔

پھر ایک عجیب منظر سامنے آیا!

ہم نے جس سیمینار کی تیاری شروع کی تھی، اس کا دائرہ مسلسل وسیع ہونے لگا۔

علمی شخصیات سے روابط بڑھے، مختلف ممالک کی جامعات سے گفتگو ہوئی، دعوت نامے تیار ہوئے، موضوعات میں وسعت پیدا ہوئی اور شرکا کی متوقع تعداد بڑھتی چلی گئی۔

رابطۃ الجامعات الاسلامیہ کی قیادت نے اس پیش رفت کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ محض سیمینار نہیں رہا، اسے سمپوزیم قرار دینا چاہیے۔

ہماری محنت جاری رہی۔

کچھ عرصے بعد انتظامات اور علمی پروگرام کی وسعت کو دیکھتے ہوئے کہا گیا کہ یہ سمپوزیم سے بھی آگے بڑھ چکا ہے، اب یہ باقاعدہ بین الاقوامی کانفرنس ہے۔

لیکن قصہ یہاں بھی ختم نہ ہوا!

حضرت استادِ محترم کی سرپرستی میں روابط کا دائرہ مزید پھیلا، جامعات کے سربراہان کو دعوتیں ارسال ہوئیں، بین الاقوامی شخصیات کی شرکت کے امکانات روشن ہوئے اور پروگرام کا معیار مسلسل بلند ہوتا گیا۔

بالآخر رابطے کی قیادت نے اس اجتماع کو ایک نئی اور بلند ترین شناخت عطا کی:

القمة العالمية لرؤساء الجامعات — عالمی سربراہی کانفرنس برائے رؤسائے جامعات!

یوں ایک چھوٹا سا علمی سیمینار ترقی کرتے کرتے بین الاقوامی سربراہی کانفرنس کی صورت اختیار کر گیا۔

میرے نزدیک اس ارتقائی سفر میں ایک عظیم سبق پوشیدہ ہے:

کام کا آغاز چھوٹا ہونا کوئی عیب نہیں؛ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ارادے کتنے بڑے، قیادت کتنی بصیرت افروز اور محنت کتنی مسلسل ہے۔

کانفرنس کی تاریخ ۱۱ اور ۱۲ اکتوبر ۲۰۲۶ء مقرر ہوئی تو جامعۃ الغزالی اور جامعۃ الرشید میں تیاریوں کا ایک غیرمعمولی سلسلہ شروع ہو گیا۔

متعدد کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ دعوت و استقبال، مہمانوں کی آمدورفت، ویزوں، ٹکٹوں، رہائش، ضیافت، سیکیورٹی، علمی نشستوں، ترجمے، میڈیا، تشہیر اور دوسرے شعبوں کی ذمہ داریاں متعین ہوئیں۔

میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ حضرت استادِ محترم اس سارے عمل کی کس باریک بینی سے نگرانی فرماتے تھے۔

آپ محض عمومی ہدایات دینے والے سربراہ نہیں تھے، بلکہ کمیٹیوں کی رپورٹیں خود ملاحظہ کرتے، تفصیلات پڑھتے، ضروری اصلاحات فرماتے اور بسا اوقات ایک ایک لفظ تک کی رہنمائی کرتے۔

یہ وہ طرزِ قیادت ہے جس میں وسعتِ نظر بھی ہے اور جزئیات پر گرفت بھی، اعلیٰ مقاصد بھی ہیں اور عملی انتظامات کا مکمل احساس بھی۔

اس پورے مرحلے میں ڈاکٹر عثمان یوسف کی خدمات خصوصی تحسین کی مستحق ہیں۔

مہمانوں کے ویزوں سے لے کر سفری دستاویزات تک، ٹکٹوں سے لے کر ہوٹلوں تک، دعوت ناموں سے لے کر سرکاری و غیرسرکاری رابطوں تک، بے شمار معاملات ان کی مسلسل محنت، مستعدی اور انتظامی نگرانی سے انجام پاتے رہے۔

اسی طرح دونوں جامعات کے اساتذہ، طلبہ، انتظامی کارکنوں، رضاکاروں اور مختلف کمیٹیوں کے ذمہ داران نے دن رات محنت کرکے ثابت کیا کہ اجتماعی عزم اور منظم جدوجہد بڑے سے بڑے منصوبے کو حقیقت میں بدل سکتی ہے۔

بالآخر وہ تاریخی لمحات بھی آگئے جن کا مدت سے انتظار تھا۔

۱۱ اور ۱۲ اکتوبر کو کراچی نے عالمِ اسلام کی اعلیٰ تعلیم کے ایک عظیم بین الاقوامی اجتماع کی میزبانی کی۔

تقریباً چالیس ممالک سے ستر کے قریب چانسلرز، وائس چانسلرز، رؤسائے جامعات اور ممتاز علمی شخصیات اس تاریخی اجتماع میں شریک ہوئیں۔

دو دنوں میں چھ اہم علمی نشستیں منعقد ہوئیں؛ تین پہلے دن اور تین دوسرے دن۔

ان نشستوں میں اعلیٰ تعلیم کے مستقبل، نصاب کی ترقی، علمی و تحقیقی تعاون، جامعات کے باہمی روابط، عصری تقاضوں، ٹیکنالوجی اور دیگر اہم تعلیمی موضوعات پر تبادلۂ خیال ہوا۔

لیکن اس کانفرنس کی اصل خوب صورتی صرف علمی مقالات اور خطابات میں نہیں تھی۔

اس کا ایک نہایت روشن پہلو ہمارے اداروں کے طلبہ، اساتذہ، منتظمین اور کارکنوں کا کردار بھی تھا۔

مجھے یہ دیکھ کر بے حد مسرت ہوئی کہ بیرونِ ملک سے آنے والے معزز مہمان ہمارے طلبہ کے اخلاق، اساتذہ کی علمی استعداد، اداروں کے نظم و ضبط، رضاکاروں کی مستعدی، ترجمے کے انتظامات اور مجموعی مہمان نوازی سے غیرمعمولی طور پر متاثر ہوئے۔

خصوصاً حضرت استادِ محترم کی شفقت، حسنِ استقبال، حسنِ ضیافت اور مہمانوں کے ساتھ محبت و احترام کے رویے نے آنے والوں کے دلوں میں گہرے نقوش چھوڑے۔

یہاں مجھے ایک حقیقت کا مزید یقین ہوا:

جامعات کی عظمت صرف ان کی عمارتوں، بجٹ اور ڈگریوں سے نہیں ناپی جاتی؛ ان کی اصل پہچان علمی وقار، تنظیمی صلاحیت، اخلاقی تربیت اور انسانی احترام سے ہوتی ہے۔

تاہم اس تاریخی سربراہی کانفرنس کی سب سے بڑی کامیابی محض مہمانوں کی کثرت یا پروگرام کی حسنِ ترتیب نہیں تھی۔

اصل کامیابی وہ ادارہ جاتی پیش رفت تھی جس نے مستقبل کے لیے تعاون کے نئے امکانات پیدا کیے۔

کانفرنس کے موقع پر رابطۃ الجامعات الاسلامیہ کے علاقائی دفتر (المكتب الإقليمي) کے افتتاح کا اعلان ہوا، جو پاکستان اور خطے کی جامعات کو بین الاقوامی تعلیمی روابط سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اسی طرح مجلس القضاء والتحكيم، کرسی السیرۃ النبویۃ اور کرسی الإعجاز العلمي في القرآن والسنة جیسے اہم علمی و ادارہ جاتی منصوبے بھی سامنے آئے۔

یہ محض نام اور عنوان نہیں، بلکہ ایسے علمی امکانات ہیں جنہیں سنجیدگی سے فروغ دیا جائے تو تحقیق، تدریس، علمی رہنمائی اور بین الجامعاتی تعاون کے مستقل مراکز قائم ہو سکتے ہیں۔

میرے خیال میں اب اصل امتحان شروع ہوا ہے۔

سربراہی کانفرنس منعقد کرنا یقیناً ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن اس کے فیصلوں کو عملی شکل دینا، قائم ہونے والے روابط کو مستحکم کرنا، مشترکہ تحقیقی منصوبے شروع کرنا، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلے کی راہیں کھولنا اور نئی علمی سرگرمیوں کو مسلسل جاری رکھنا اس سے بھی بڑا کام ہے۔

کانفرنس کی کامیابی کا اعلان اس کے اختتامی اجلاس میں نہیں ہوتا، بلکہ اس کے بعد پیدا ہونے والے علمی نتائج اس کی حقیقی کامیابی کا فیصلہ کرتے ہیں۔

اس موقع پر ایک اور اہم بات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔

باقاعدہ کانفرنس کے چھ اجلاسوں کے علاوہ جامعۃ الغزالی میں مختلف اوقات، بالخصوص شام اور رات کے خصوصی اجتماعات میں بھی ممتاز مہمانوں نے نہایت قیمتی علمی خطابات اور فکری گفتگو فرمائی۔

یہ خطابات، گفتگوئیں، علمی مشاہدات اور تجربات ہماری جامعات کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں، جنہیں محفوظ کرنا اور آئندہ نسلوں تک پہنچانا نہایت ضروری ہے۔

میری دلی خواہش ہے کہ حضرت مولانا سفیان صاحب اس سلسلے میں خصوصی توجہ فرمائیں، تمام خطابات، تقاریر، اجلاسوں کی روداد، اہم تصاویر، دستاویزات اور علمی نتائج کو باریک بینی سے جمع کرکے ایک جامع تاریخی دستاویز کی صورت میں مرتب کریں۔

یہ نہ صرف امتِ مسلمہ کی علمی خدمت ہوگی، بلکہ حضرت استادِ محترم کی اس عظیم جدوجہد کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کرنے کا ایک قابلِ قدر ذریعہ بھی بنے گی۔

مجھے امید ہے کہ وہ یہ خدمت انجام دے کر حضرت استادِ محترم کی مسرت اور دعاؤں کے مستحق بنیں گے۔

آج جب میں اس پورے سفر کو ابتدا سے انتہا تک دیکھتا ہوں تو دل بے اختیار اللہ تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر بجا لانے کو چاہتا ہے۔

مکہ مکرمہ میں ہونے والی ایک ملاقات، رکنیت کے لیے ایک درخواست، پھر ایک سال کی مسلسل جدوجہد، ایک سیمینار کی تجویز، اس کا سمپوزیم بننا، پھر بین الاقوامی کانفرنس کا روپ دھارنا، اور بالآخر عالمی سربراہی کانفرنس کے درجے تک پہنچ جانا!

یہ سب کچھ محض اتفاقات کا سلسلہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی توفیق، اخلاصِ نیت، حسنِ تدبیر اور اجتماعی محنت کا ثمر ہے۔

میں اس موقع پر رابطۃ العالم الاسلامی اور رابطۃ الجامعات الاسلامیہ کی قیادت، بالخصوص معالی الشیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ، معالی الوزیر ڈاکٹر سامی الشریف،سعادة الدكتور وليد عبد المنعم شتا، رابطے کے دیگر معزز ذمہ داران اور تمام شریک جامعات کے سربراہان کا تہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اسی طرح دونوں جامعات کی انتظامیہ، اساتذہ، طلبہ، رضاکاروں،ڈاکٹر زاہد عبد الشاہد، ڈاکٹر رشید احمد خورشید اور ان تمام گمنام کارکنوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جن کی خاموش محنت اس کامیابی کی بنیاد بنی۔

لیکن اس داستان کا سب سے روشن اور مرکزی کردار بلاشبہ ہمارے حضرت استادِ محترم، سماحۃ المفتی ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی ذاتِ گرامی ہے۔

آپ نے جس اعتماد کے ساتھ اس منصوبے کو قبول کیا، جس فراخ دلی سے وسائل فراہم کیے، جس محبت سے مہمانوں کا استقبال فرمایا، جس باریک بینی سے انتظامات کی نگرانی کی اور جس استقلال سے تمام کارکنوں کی رہنمائی فرمائی، وہ ایک عظیم تعلیمی منتظم اور صاحبِ بصیرت قائد کی روشن مثال ہے۔

میں نے اس پورے سفر میں ایک اہم حقیقت کو بہت قریب سے دیکھا:

عظیم ادارے صرف عظیم منصوبوں سے نہیں بنتے، بلکہ ان کے پیچھے ایسی عظیم شخصیات ہوتی ہیں جو دوسروں کے خوابوں کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھ کر حقیقت میں بدل دیتی ہیں۔

اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کامیابی کو ایک وقتی جشن نہ بننے دیں۔

جامعۃ الرشید اور جامعۃ الغزالی کو علمی تحقیق، بین الاقوامی تعاون، عربی زبان کے فروغ، تعلیمی جدت، فکری مکالمے اور ادارہ جاتی ترقی کے ایسے مراکز بنائیں جن کی افادیت پاکستان سے نکل کر پورے عالمِ اسلام تک پہنچے۔

ہمیں محض اس بات پر فخر نہیں کرنا چاہیے کہ دنیا کی ممتاز جامعات کے سربراہان ہمارے مہمان بنے؛ ہمیں اس منزل تک پہنچنا ہے کہ ہماری جامعات کا علمی کام بھی دنیا کی ممتاز جامعات کے لیے قابلِ استفادہ بن جائے۔

کیونکہ تاریخ میں اصل کامیابی یہ نہیں کہ آپ نے کتنے بڑے لوگوں کو اپنے ہاں جمع کیا، بلکہ یہ ہے کہ اس اجتماع سے انسانیت، علم اور آنے والی نسلوں کو کیا فائدہ پہنچا۔

اور آخری بات!

سیاست دان قوموں کے حال کا انتظام کرتے ہیں، لیکن جامعات ان کے مستقبل کی تعمیر کرتی ہیں۔

ہماری خواہش ہے کہ کراچی کی یہ پہلی عالمی تعلیمی سربراہی کانفرنس محض ایک یادگار واقعہ نہ رہے، بلکہ ایک ایسی علمی تحریک کا آغاز ثابت ہو جو عالمِ اسلام کی جامعات کو تعارف سے تعاون، تعاون سے تکامل، تکامل سے اتحاد اور اتحاد سے علمی و تہذیبی قیادت کی منزل تک پہنچا دے۔

ہم نے ایک سیمینار کا خواب دیکھا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے عالمی سربراہی کانفرنس بنا دیا۔

اب ہمارا خواب ایک عالمی علمی تحریک ہے!

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس خواب کی تعبیر دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے، حضرت استادِ محترم کو صحت، عافیت، عزت اور طویل عمر عطا فرمائے، اور ان کی سرپرستی میں ہماری جامعات کو علم و حکمت کی ایسی شمعیں بنائے جن کی روشنی پوری امتِ مسلمہ کو منور کرے۔

آمین یا رب العالمین!

---

ڈاکٹر ابو لبید ولی خان المظفر
مستشار رئیس جامعۃ الغزالی
کراچی، پاکستان
۱۷ اکتوبر ۲۰۲۶ء
Dr shaikh wali khan almuzaffar
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 459 Articles with 997619 views نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More