ارضِ حرمین: تزویراتی عزم اور عصری چیلنجز
(Ahmad Hussain Itthadi, Abdul Hakim)
| 23 ستمبر مملکت سعودی عرب کا قومی دن پورے تزک و احتشام سے منایا جا رہا ہے۔ پاکستانی عوام اور حکومت پاکستان اس موقع پر اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ مکمل اظہار یک جہتی کرتی ہے اور سعودی عرب کے قومی دن پر ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ زیر نظر کالم پاکستان کے معروف کالم نگار حکیم احمدحسین اتحادی (شہر عبدالحکیم ، ضلع خانیوال) نے تحریر کیا ہے۔ جنہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات پر بہترین تحاریر قلمبند کی ہیں۔ مزید معلومات اور رابطہ کے لئے ان کا وٹس اپ نمبر 03007305499 ہے۔ (ادارہ) |
|
تحریر: حکیم احمد حسین اتحادی رکن المجلس الاسلامی پاکستان
عالمی تزویراتی اور سیاسی تقویم میں 23 ستمبر کی حیثیت محض ایک رسمی قومی دن کی نہیں، بلکہ یہ خطہِ عرب میں حق و صداقت کی نصرت، داخلی خلفشار کے خاتمے اور امتِ مسلمہ کے لیے ایک مستحکم، محفوظ اور باوقار نظریاتی مرکزِ ثقل کے ظہور کی نویدِ جاں ہے۔ آج سے چورانوے برس قبل، 1932ء میں جب یہ خطہ قبائلی نزاعات، شدید جغرافیائی بکھراؤ اور بیرونی ریشہ دوانیوں کی زد میں تھا، تب ایک مصلح اور دور اندیش تاریخ ساز رہنما شاہ عبدالعزیز آل سعود (رحمہ اللہ) نے اپنے غیر متزلزل عزم اور غیر معمولی سیاسی تدبر سے صحرائے عرب کے بکھرے ہوئے قبائل کو ایک مشترکہ پرچم تلے متحد کیا۔ نجد و حجاز کی اس تاریخی یکجائی سے دنیا کے جیو پولیٹیکل نقشے پر "مملکتِ سعودی عرب" کی صورت میں ایک ایسی مقتدر ریاست کا قیام عمل میں آیا، جس کا خمیر توحیدِ الٰہی کی پاسداری، سنتِ نبوی کے احیاء اور شریعتِ محمدی کے نفاذ سے اٹھا تھا۔ تاریخ کا غیر جانبدارانہ تجزیہ گواہی دیتا ہے کہ بانیِ مملکت کے متعین کردہ ان پاکیزہ اہداف کی لو آج بھی اتنی ہی فروزاں ہے جتنی نو دہائیوں قبل تھی۔ عصرِ حاضر میں سعودی عرب روایتی قدامت پسندی اور صرف تیل پر انحصار کرنے والی معیشت (Rentier State) کے خول سے نکل کر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے "وژن 2030" کے زیرِ سایہ ایک متحرک، کثیر الجہتی اقتصادی اور تکنیکی عالمی قوت بن چکا ہے۔ ایک طرف جہاں یومِ وطنی کے موقع پر پورا ملک سبز اور سفید برقی قمقموں سے جگمگا اٹھتا ہے، فضائیہ کے طیارے فضا میں فتح کے رنگ بکھیرتے ہیں اور روایتی تلواروں کا رقص "العرضہ السعودیہ" اسلاف کی شجاعت کی یاد تازہ کرتا ہے، وہیں دوسری طرف "نیوم" (NEOM) اور "دی لائن" جیسے مستقبل کے عظیم سائنسی و تعمیراتی منصوبے دنیا کی آنکھیں چندھیا رہے ہیں۔ رواں برس کا باضابطہ سلوگن "عزّنا بطبعنا" اس حقیقت کا عکاس ہے کہ یہ معاشرہ مادی ترقی کی انتہا کو چھوتے ہوئے بھی اپنی تہذیبی جڑوں، اسلامی اقدار اور مہمان نوازی کی زریں روایات سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے سائے میں حرمینِ شریفین کے بے مثال توسیعی منصوبے، "رابطہ عالمِ اسلامی" کا فکری پلیٹ فارم، "شاہ فہد قرآن کمپلیکس" کے تحت کلامِ الٰہی کی بلا معاوضہ عالمی تقسیم، اور "کنگ سلمان ریلیف سینٹر" کی صورت میں بلا تفریقِ رنگ و نسل عالمی انسانی خدمات، مملکت کے اسی تزویراتی و دینی تشخص کو جلا بخشتی ہیں۔ تاہم، موجودہ جیو پولیٹیکل منظرنامے میں جب "ابراہم اکارڈ" کی آڑ میں مسلم دنیا کو اسرائیل کے سامنے سرنگوں کرنے اور مظلوم فلسطینیوں کے دیرینہ اصولی موقف کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کی بین الاقوامی کوششیں تیز ہوئیں، تو ارضِ مقدس کے غیرت مند حکمرانوں نے تمام تر عالمی دباؤ کو یکسر مسترد کر دیا۔ سعودی قیادت نے جرات مندانہ اور اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ قدس شریف کے دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل کی تسلیم بلاشبہ نامکن ہے۔ مغرب اور صیہونی لابی کی آنکھوں میں کھٹکنے والے اسی تاریخی انکار کے ردِعمل میں آج سعودی عرب کو علاقائی طور پر غیر مستحکم کرنے کی سازشیں عروج پر ہیں۔ یمن کے حوثی باغیوں کو مہلک اسلحے، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے لیس کر کے سعودی عرب کی شہری آبادیوں اور تیل کی معاشی تنصیبات پر بزدلانہ حملے کروانا اسی انتقامی لہر کا حصہ ہے، تاکہ مملکت کو بلیک میل کر کے امتِ مسلمہ کے مفادات سے دستبردار کروایا جا سکے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ حق کی یہ پاسبان قیادت کسی نام نہاد دباؤ کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائے گی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین قائم رشتہ مروجہ سفارتی تکلفات یا معاشی مصلحتوں سے کہیں بالا تر، عقیدت اور لازوال قلبی محبت کی مضبوط ڈور سے بندھا ہوا ہے۔ آزمائش کی ہر گھڑی، قدرتی آفات اور معاشی بحران میں ریاض نے ہمیشہ اسلام آباد کا ہاتھ تھاما ہے۔ دوسری جانب، ارضِ حرمین کی جغرافیائی حدود، سیکیورٹی اور حرمتِ پاک کے تحفظ کے لیے پاکستانی عوام اور افواج کا عزم غیر متزلزل ہے۔ حال ہی میں پاک فوج کی اعلیٰ قیادت (ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری) کی طرف سے ارضِ مقدس کے تحفظ کے حوالے سے سامنے آنے والا دوٹوک بیاں دراصل 25 کروڑ پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن اور اجتماعی آواز ہے۔ استعماری طاقتیں اور شرپسند عناصر یہ جان لیں کہ سعودی عرب کا امن ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے عقیدے کا حصہ ہے۔ اس پاک سرزمین کی طرف اٹھنے والی ہر بدنیتی پر مبنی آنکھ کو امت کا جلال خاکستر کر دے گا، اور کسی بھی کٹھن وقت میں پاکستان کا ہر بچہ اور جوان اپنے سعودی بھائیوں کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑا رہے گا۔ ان شاء اللہ |