ڈھول کا پول
(محمد قاسم وقار, ٖفیصل آباد)
| پنجاب کی ثقافت کا اہم جزو ڈھول۔ زمانہ قدیم سے جدید رجحانات کی طرف جاری سفر۔ ایک آلہ موسیقی ہی نہیں کسی دور میں یہ پیغام رسانی کا اہم ذریعہ ہوتا تھا۔ میلوں ٹھیلوں کی رونق ڈھول کے پش منظر میں حسین یادوں سے جڑی تحریر |
|
|
دو فنکار موٹرسائیکل پر ڈھول لیکر جا رہے ہیں |
|
تم نے دیکھی نہیں وجد میں قلندر کی دھمال پاؤں پتھر پہ بھی مارے تو دھول اُڑتی ہے
پنجاب کی ثقافت کا حصہ ڈھول۔ لکڑی کے برے تنے کو سخت محنت اور مسلسل جدوجہد کے بعد ڈھول کی شکل میں ڈھالنے کے بعد اس کے دونوں سروں پر کھال منڈھ (چڑھا) کے پھر کئی ماہ مسلسل اس کو پیٹ بجانے کے بعد اس کو سُر میں کیا جاتا ہے۔ (اب تو خیر پلاسٹک چڑھا کے ڈنگ ڈپاؤ پالیسی جاری ہے) ہمارے گاؤں کے شیخ (ڈھول بجانے والے) ڈھول بجا کے نہر کے اس پار رہنے والے اپنے رشتہ داروں کو ضروری پیغام بھی دے دیا کرتے اور وہ آگے سے ڈھول بجا کے اس کا جواب دے دیتے اس مظاہرے کے عینی شاہد بہت سارے لوگ ابھی بھی موجود ہیں۔ خاندانی ورثہ کو اگلی نسل میں منتقل کیا جاتا تھا اسی لیے ہر روز علی الصبح گاؤں میں ڈھول کی آواز سنائی دیتی پوچھنے پر معلوم ہوتا کہ شیخ بچے کو ریاضت کروا رہے ہیں گاؤں میں لگنے والے میلہ کے موقع پر جب دور دراز سے ڈھول بجانے والے جمع ہوتے تو ایک سماں باندھ دیتے۔ چمڑے پر گھائیں مار کے سر کے مطابق زیادہ اونچی آواز والے کو کہتے کہ یہ اصل خاندانی ہے۔ ڈھول کی تھاپ پر نوجوانوں کا بھنگڑا، جھومر، لڈی اور ملنگوں کی دھمال کا الگ ہی نظارہ ہوتا۔ چند دنوں کا فیسٹیول ہوتا جس میں بزرگوں کو سننے کے لیے ہیر وارث شاہ، کافی شاہ حسین و بابا بلھے شاہ، سیف الملوک، کلام باہو اور دوہڑے، ماہیے، ٹپے مل جاتے تھے، نوجوانوں کو تن آزمائی کے لیے کلائی پکڑنا، وزن اٹھانا، دوڑ، کبڈی، کشتی جیسے کھیل کھیلنے کے مواقع دستیاب ہوتے، میلے ٹھیلے کے شوقین لوگوں کو موت کا کنواں، موت کا گولا، سرکس جب کہ تماش بین لوگوں کو قناتیں لگے تھیٹر دیکھنے کا موقع مل جاتا تھا۔ گلوکار کئی کئی گھنٹے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے، ان میلوں میں سب لوگوں کا پسندیدہ پتلی تماشا بھی شامل ہوتا تھا۔ اسی دوران بچوں کو جھولے، منی چڑیا گھر، خوفناک شکلوں والے عجائب گھر،کھانے پینے کے لیے جلیبی، پتاشے، کھنڈ بارے، قتلمہ، اندرسے، پتیسہ، قلفی، کون آئس کریم اور کھیلنے کے لیے نت نئے انداز کے کھلونے بھی مل جاتے تھے۔ بچیوں کو رنگ برنگی چوڑیاں، پرس، ہیرکیچر، پونیاں، پراندے، گڑیا مل جاتی۔ گھروں میں بچے سارا سال چار آنے، آٹھ آنے جمع کرتے رہتے کہ میلہ پر کھلونے خریدیں گے۔ گویا میلہ کے موقع دور دراز سے مہمان بھی آتے اور یادوں کا ایک جہان چھوڑ کر میلہ رُخصت ہوجاتا۔ کہتے ہیں ناں میلہ میلیاں دا یاراں بیلیاں دا۔ آپ نے استاد نصرت فتح علی خاں کی مشہور زمانہ قوالی دکھ رج رج داتا نوں سنائیے میلے نے وچھڑ جانا تو سنی ہوگی۔ اب جو میلہ دیکھنے ہی نہیں گیا اس کی جانے بلا کہ یہ قوالی جب داتا علی ہجویری کے عرس کی آخری رات کو رنگ سے پہلے سنائی جاتی ہے تو سارا مجمع دھاڑیں مار کے کیوں روتا ہے۔ بات کسی اور طرف زیادہ دور نہ نکل جائے ہم واپس ڈھول کی طرف آتے ہیں۔ شادی کی تقریب میں آج کل جتنی توجہ میرج ہال بکنگ، کار کی سجاوٹ اور پارلر بکنگ پر دی جاتی ہے گاؤں میں اس سے کہیں زیادہ توجہ ڈھول کی بکنگ پر دی جاتی تھی۔ ویاہ دا سدا (شادی کی دعوت) دینے کے لیے بھی اسی شیخ برادری کے افراد کا انتخاب ہوتا تھا جو چھوہارے یا پتاسے لیکر گھر گھر جاتے، شادی کی دعوت دیتے ، لنگر پانی کھاتے پیتے اور واپسی پر زاد راہ بھی وصول کرتے جاتے۔ ان کو تمام لوگوں کے رشتہ داروں، ان کے گھروں تک کا علم ہوتا تھا۔ کسی نے ڈھول کی آواز کو کرخت کہا، کسی نے سریلی کہا، کسی نے بے ڈھنگی کہا اور کسی نے ڈھول کی آواز سنتے ہی دھمال ڈالنا شروع کر دی۔ جیسے عرب میں دف مقامی آلہ موسیقی سمجھا جاتا تھا اسی طرح ڈھول پنجاب کی ثقافت کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واہگہ بارڈر ہو یا جے سی پی ہیڈ سلیمانکی ڈھول کی تھاپ پرچم اتارنے کی تقریب کی رونق بن چکی ہے۔ پرانے وقتوں میں یہی ڈھول پیٹ کر منادی بازاروں میں اہم اعلان کیا کرتے تھے، کسی زمانہ میں اسی کی ایک قسم نوبت مساجد کے احاطوں یا چوباروں پر نصب ہوتی تھی جسے بجا کے سحری و افطاری کا اعلان کیا جاتا تھا۔ قدیم زمانہ میں جنگ کا طبل بھی ڈھول سے ہی مشابہ تھا جسے بجا کے جنگ کا آغاز کیا جاتا تھا، بادشاہ سلامت کی آمد کے وقت بھی ڈھول پیٹ کر خبردار کیا جاتا تھا کہ بادشاہ سلامت رونق افروز ہورہے ہیں۔ ڈھول بجانا مردوں کا کام سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس کی بڑی جسامت، پھر اس پر لگی کھال کو مسلسل بجا بجا کے اس کے مزاج کے مطابق کئی ماہ کی محنت کے بعد ڈھالنا کوئی آسان کام نہیں تھا سنا۔ ہے مائیں اپنی اولادوں کو دیسی گھی، مکھن اور گوشت انڈے وغیرہ شوق سے کھلاتیں کہ کئی کئی گھنٹے بجا کے بھی میرا لعل تھکے نہ۔ زمانہ تبدیل ہوا ڈھول کا پول کھلنے لگا اور وہ سخت محنت والا چمڑا غائب ہوا اس کی جگہ پلاسٹک کی پرتوں نے لے لی، مزید تن آسانی کے کے لیے اوپر پلیٹیں باندھ لیں، ساتھ چنکنے رکھ لیے، آٹھ دس گانے والے شامل کرلیے، بھنگڑے والے بھی ہمراہ لے لیے۔ یوں سوشل میڈیا کی چکا چوند نے مردوں والا کام عورتوں تک پہنچا دیا اور اب پاکستان و ہندوستان ہی نہیں دنیا کے دیگر ممالک میں خواتین بھی ڈھول بجاتی نظر آتی ہیں۔ یورپ میں آج بھنگڑا ایک باقاعدہ فن کا درجہ اختیار کر چکا ہے جو ڈھول یا ڈھول جیسی دھن کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک عالم صاحب کے پاس لوگ جمع ہوئے کہ مسئلہ پوچھیں کہ یہ ڈھول بجانا جائز ہے یا نہیں۔ مجلس میں حاضر ہوئے تو مختلف دینی عناوین زیر گفتگو تھے، جب ان کی باری آئی تو سوال پوچھا کہ حضرت ڈھول کے بارے آپ کیا کہتے ہیں، ابھی سوال پوچھا ہی تھا کہ ان کا خادم بھاگتا آیا اور کہا کہ حضرت ڈھول آگیا ہے۔ بس یہ لفظ سننے تھے کہ وجد کی سی کیفیت طاری ہوگئی آنکھیں نم تھیں اور فرط جذبات سے بول اٹھے " ساڈے گھر ڈھول آگیا!" مبارک ہووے ڈھول آپ چل کے ساڈے ول آگیا۔ ۔۔۔۔۔ بات تو کیفیت کی ہے کسی نے ڈھول کو اپنا محبوب سمجھ لیا اور کوئی اسے شور شرابا سمجھ کے لاحول ولاقوۃ پڑھ کرثواب لے رہا ہے۔
|
|