حقوقِ نسواں

دنیا تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ نت نئی ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی انسانی زندگی کو آسان بنا رہی ہیں، لیکن ان تمام ترقیوں کے باوجود ہمارا معاشرہ آج بھی بعض تنگ نظریوں سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکا۔ آج بھی عورت کو وہ مقام اور حقوق حاصل نہیں جو درحقیقت اس کا حق ہیں۔ وہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود اسے مختلف سماجی پابندیوں، امتیازی رویوں اور غیر ضروری توقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقوقِ نسواں آج بھی ہمارے معاشرے کا ایک اہم اور قابلِ غور مسئلہ ہے۔

ہمارے معاشرے میں جب ایک لڑکی بڑی ہونے لگتی ہے تو گویا اس کے پاؤں میں زنجیریں ڈال کر باقاعدہ اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اب وہ بچی نہیں رہی۔ بچپن ہی سے اسے گڑیا اور برتن جیسے کھلونے دے کر گھر سنبھالنے اور ذمہ داریاں اٹھانے کی تربیت دی جانے لگتی ہے۔ اس کے کانوں میں بار بار یہ بات ڈالی جاتی ہے کہ اسے ایک دن گھر ہی سنبھالنا ہے، والدین کی عزت کا خیال رکھنا ہے اور اپنی خواہشات کو دوسروں کی خاطر قربان کرنا ہے۔ یوں کئی لڑکیوں کا بچپن وقت سے پہلے ہی ختم ہو جاتا ہے۔

پھر جب وہ شادی کے بعد ایک نئے گھر میں قدم رکھتی ہے تو اکثر توقعات کا انداز بدل جاتا ہے، مگر دباؤ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اب اسے نئے گھر کے اصولوں اور دوسروں کی خواہشات کے مطابق زندگی گزارنی ہوگی۔ یوں ایک لڑکی، جو زندگی کے ہر مرحلے پر کسی نہ کسی کی توقعات پوری کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے، کئی بار اپنی ذات، اپنی خواہشات اور اپنی شناخت کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عورت کا زندگی بھر دوسروں کی توقعات کے مطابق جینا ہی اس کا مقدر ہے؟

تعلیم کی بات کی جائے تو یہاں بھی کئی لڑکیوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ کبھی اسے یہ کہہ کر تعلیم سے دور رکھا جاتا ہے کہ زیادہ پڑھ لکھ کر وہ بے حیائی کی طرف مائل ہو جائے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا تعلیم صرف عورت کو ہی بے راہ روی کی طرف لے جاتی ہے؟ اگر تعلیم مرد کے لیے شعور، ترقی اور کامیابی کا ذریعہ ہے تو عورت کے لیے یہ رکاوٹ کیوں بن جاتی ہے؟ آخر یہ دوہرا معیار صرف عورت کے لیے ہی کیوں؟ تعلیم انسان کو اپنے حقوق و فرائض سمجھنے، بہتر فیصلے کرنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے، اس لیے کسی بھی انسان کو محض جنس کی بنیاد پر تعلیم سے محروم کرنا اس کی صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔

اسلام نے عورت کو عزت و وقار عطا کیا اور اسے متعدد بنیادی حقوق دیے۔ عورت کو علم حاصل کرنے، ملکیت رکھنے، وراثت پانے اور اپنی رائے رکھنے جیسے حقوق حاصل ہیں۔ اسلام نے عورت کو محض کسی رشتے کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک باعزت اور ذمہ دار انسان کے طور پر تسلیم کیا۔ پھر وہ کون سی سوچ ہے جو عورت کو کمزور سمجھنے اور اسے اس کے جائز حقوق سے محروم رکھنے پر تُلی ہوئی ہے؟ مسئلہ عورت کی صلاحیت کا نہیں، بلکہ ان معاشرتی رویوں کا ہے جو اس کی صلاحیتوں کے راستے میں دیوار بن جاتے ہیں۔

جب عورت کے حقوق کی بات آتی ہے تو اسلام کا نام بڑے فخر سے لیا جاتا ہے، لیکن جب اسی اسلام کے دیے ہوئے حق، یعنی وراثت میں عورت کے حصے کی بات آتی ہے، تو نہ جانے کیوں بہت سے لوگوں کے کان بند اور زبانیں خاموش ہو جاتی ہیں۔ قرآنِ مجید نے عورت کے لیے وراثت میں حق مقرر کیا، لیکن بعض معاشرتی رویوں کی وجہ سے آج بھی کئی خواتین اپنے جائز حق سے محروم رہتی ہیں۔ آخر یہ کیسا دوہرا معیار ہے کہ عورت کے حقوق کا ذکر تو بڑے فخر سے کیا جائے، لیکن جب ان حقوق کو عملی طور پر تسلیم کرنے کا وقت آئے تو سب خاموش ہو جائیں؟

عورت کے حقوق صرف تعلیم اور وراثت تک محدود نہیں۔ اسے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے، اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے اور اپنی زندگی سے متعلق جائز فیصلوں میں اپنی رائے دینے کا حق بھی حاصل ہونا چاہیے۔ اگر ایک عورت تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے، ملازمت کرنا چاہتی ہے یا اپنے ہنر کے ذریعے معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے محض عورت ہونے کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ کسی انسان کی صلاحیت کو اس کی جنس کے بجائے اس کی قابلیت، محنت اور کردار کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عورت کے بارے میں اپنی سوچ اور رویوں پر نظرِ ثانی کریں۔ بیٹیوں کی پرورش اس انداز میں کی جائے کہ انہیں صرف دوسروں کی خواہشات پوری کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک بااعتماد، باصلاحیت اور ذمہ دار انسان کے طور پر پروان چڑھنے کا موقع ملے۔ انہیں تعلیم، اپنی رائے کے اظہار اور اپنے جائز حقوق کے استعمال کا شعور دیا جائے۔ اسی طرح بیٹوں کی تربیت بھی اس انداز میں ہونی چاہیے کہ وہ عورت کو کمزور نہیں بلکہ عزت اور بنیادی حقوق رکھنے والا انسان سمجھیں۔ معاشرتی تبدیلی صرف قوانین بنانے سے نہیں بلکہ گھروں، تعلیمی اداروں اور ہماری روزمرہ سوچ میں تبدیلی سے ممکن ہے۔

آخرکار ایک ترقی یافتہ معاشرہ وہ نہیں جہاں صرف عمارتیں بلند ہوں اور ٹیکنالوجی جدید ہو، بلکہ وہ ہے جہاں ہر انسان کو عزت، انصاف اور اپنے بنیادی حقوق حاصل ہوں۔ عورت کو اس کا حق دینا کسی پر احسان نہیں بلکہ انصاف کا تقاضا ہے۔ ہمیں ایسی سوچ کو فروغ دینا ہوگا جہاں بیٹی کو بوجھ نہیں بلکہ ایک باصلاحیت انسان سمجھا جائے، جہاں اس کی آواز کو سنا جائے اور اس کی صلاحیتوں کو مواقع دیے جائیں۔ کیونکہ جب عورت آگے بڑھتی ہے تو صرف ایک فرد ترقی نہیں کرتا، بلکہ ایک خاندان، ایک نسل اور بالآخر پورا معاشرہ ترقی کرتا ہے۔

 

Ghafaria Shahzad
About the Author: Ghafaria Shahzad Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.