چین میں کچرے سے صاف توانائی تک کم کاربن کا سفر
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں کچرے سے صاف توانائی تک کم کاربن کا سفر تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
کچرے کے ایک بڑے ڈھیر سے بھری جگہ بظاہر آلودگی اور مسائل کی علامت دکھائی دیتی ہے، لیکن چین کے صوبہ ہائی نان میں یہی کچرا بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ ایک بڑے پنجے نما آلے کے ذریعے ایک وقت میں پانچ ٹن سے زیادہ کچرا اٹھا کر بھٹی میں ڈالا جاتا ہے، جہاں 850 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر اسے جلا کر توانائی پیدا کی جاتی ہے۔ یوں روزمرہ زندگی سے نکلنے والا فضلہ دوبارہ بجلی کی صورت میں استعمال ہونے لگتا ہے۔
ہائی نان میں قائم ایسے پلانٹس روزانہ ہزاروں ٹن گھریلو کچرے کو توانائی میں تبدیل کر رہے ہیں۔ صوبے میں اس وقت متعدد ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس کام کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں بغیر پروسیسنگ کے گھریلو کچرے کو لینڈ فلز میں دفن کرنے کا عمل ختم ہو چکا ہے۔ اس سے نہ صرف زمین کے قیمتی وسائل محفوظ ہو رہے ہیں بلکہ لینڈ فلز سے خارج ہونے والی میتھین جیسی طاقتور گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں بھی کمی آ رہی ہے۔ تاہم کم کاربن معیشت کا سفر صرف کچرے کو بہتر طریقے سے ٹھکانے لگانے تک محدود نہیں۔ ہائی نان میں کوشش یہ بھی ہے کہ کچرا پیدا ہی کم ہو، خصوصاً ایسے پلاسٹک کا استعمال کم کیا جائے جو ماحول میں آسانی سے تحلیل نہیں ہوتا۔
صوبائی دارالحکومت ہائیکو کی ایک سبزی منڈی میں اس کوشش کی عملی تصویر دیکھی جا سکتی ہے۔ وہاں سینکڑوں دکانوں میں استعمال ہونے والے شاپنگ بیگز کا ڈیجیٹل ریکارڈ رکھا جاتا ہے اور روزانہ ایک نظام یہ جانچتا ہے کہ استعمال ہونے والے تھیلے ماحولیاتی معیار پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔ ڈیجیٹل نظام متعارف ہونے کے بعد مکمل طور پر بائیوڈی گریڈیبل بیگز کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
شروع میں بعض دکانداروں نے اس تبدیلی کو اضافی اخراجات سے جوڑا، لیکن عملی تجربے نے کئی خدشات دور کر دیے۔ بعض دکانداروں نے محسوس کیا کہ مقامی طور پر دستیاب ماحول دوست تھیلے نہ صرف نسبتاً سستے ہیں بلکہ عام تھیلوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بھی ہیں۔
یہ کوشش کسی ایک منڈی تک محدود نہیں۔ ہائی نان چین کا پہلا صوبہ ہے جہاں قانون کے ذریعے نان بائیوڈی گریڈیبل سنگل یوز پلاسٹک مصنوعات پر صوبائی سطح پر پابندی عائد کی گئی۔ اس کے نتیجے میں اسکولوں، اسپتالوں، سپر مارکیٹوں اور مارکیٹوں سمیت اہم مقامات پر ممنوعہ پلاسٹک مصنوعات کے متبادل کا استعمال نمایاں حد تک بڑھ چکا ہے۔
اس تصور کے تحت ’’زیرو ویسٹ جزیرہ‘‘ کا مطلب صرف کچرے کو ٹھکانے لگانا نہیں بلکہ شہر کے پورے نظام میں ماحول دوست تبدیلی لانا ہے۔ توانائی، صنعت، نقل و حمل، عمارتوں اور روزمرہ استعمال کی اشیا تک، ہر شعبے میں وسائل کے بہتر استعمال اور اخراج میں کمی پر توجہ دی جا رہی ہے۔
ہائی نان کے ایک اور علاقے بوآو میں قائم زیرو کاربن ڈیمونسٹریشن زون اس کوشش کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔ اسے کسی نئے شہر کی تعمیر کے بجائے پہلے سے موجود شہری علاقے کو ماحول دوست انداز میں تبدیل کرکے تیار کیا گیا ہے۔ ہوٹلوں اور دیگر عمارتوں میں توانائی کے استعمال کے طریقے بدلے گئے، جبکہ نقل و حمل کے لیے نیو انرجی گاڑیوں اور کشتیوں کو فروغ دیا گیا۔
یہاں تک کہ ہوٹلوں کے کچن بھی مکمل طور پر بجلی پر منتقل کیے گئے ہیں۔ اس تبدیلی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں نمایاں کمی لانے کے ساتھ کھانوں کے کاربن فٹ پرنٹ کو بھی ڈیجیٹل طریقے سے ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ صارفین کو معلوم ہو سکے کہ ان کے کھانے کی تیاری ماحول پر کس قدر اثر ڈالتی ہے۔
اس پورے شہری منصوبے میں گرین عمارات، قابل تجدید توانائی اور ماحول دوست نقل و حمل سمیت متعدد شعبوں کو شامل کیا گیا۔ گرم اور مرطوب موسم اور اکثر آنے والے سمندری طوفانوں کے باعث اس علاقے میں زیرو کاربن تبدیلی آسان نہیں تھی، تاہم منصوبے کے نتائج نمایاں ہیں۔ اب یہ علاقہ اپنی کھپت سے زیادہ گرین بجلی پیدا کر رہا ہے، جبکہ عمارتوں اور شہری بنیادی ڈھانچے سے متعلق توانائی کے کاربن اخراج میں گزشتہ چند برسوں کے دوران تقریباً مکمل کمی لائی گئی ہے۔
ہائی نان اب ان تجربات کو مزید وسیع پیمانے پر آگے بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ 2026 سے 2030 تک کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران صوبہ توانائی، صنعت، نقل و حمل اور عمارتوں سمیت مختلف شعبوں میں کم کاربن تبدیلی کو تیز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ طویل مدتی منصوبے کے تحت جزیرے کو کم کاربن خطے میں تبدیل کرنے اور کاربن اخراج میں نمایاں کمی لانے کے ساتھ قدرتی کاربن سنکس کو بھی مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ قدرتی ماحول اس منصوبے میں خود ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ساحلی علاقوں میں مینگرووز کے جنگلات نہ صرف سمندری لہروں سے آبادیوں کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ کاربن جذب کرکے معاشی فائدہ بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ ایک دیہی علاقے میں موجود مینگرووز کے جنگل سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ کئی برسوں کے دوران ہزاروں ٹن کاربن جذب کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں کاربن کریڈٹس کے ذریعے مقامی اجتماعی آمدنی میں بھی اضافہ ممکن ہے۔
یوں ہائی نان میں کم کاربن ترقی کا تصور صرف کچرے سے بجلی پیدا کرنے یا پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنے تک محدود نہیں رہا۔ کچرے کو توانائی میں تبدیل کرنے سے لے کر بائیوڈیگریڈیبل مصنوعات، زیرو کاربن عمارتوں، نیو انرجی ٹرانسپورٹ اور مینگرووز کے تحفظ تک، مختلف اقدامات ایک ہی مقصد سے جڑ رہے ہیں۔
یہ تجربات اس بات کی مثال ہیں کہ ماحول دوست ترقی صرف اخراج کم کرنے کا نام نہیں بلکہ شہری زندگی، معیشت اور قدرتی وسائل کے استعمال کے پورے نظام کو زیادہ پائیدار بنانے کا عمل ہے۔ ہائی نان میں جاری یہ کوشش اسی وسیع تر تصور کی طرف ایک عملی قدم ہے، جہاں کچرے کو بوجھ کے بجائے وسائل، اور قدرتی ماحول کو محض تحفظ کی چیز کے بجائے پائیدار ترقی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ |
|