زمین کی پوشیدہ تاریخ کا ایک زندہ قدرتی خزانہ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
زمین کی پوشیدہ تاریخ کا ایک زندہ قدرتی خزانہ تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
زمین کے نیچے پھیلی دنیا بظاہر تاریک اور خاموش دکھائی دیتی ہے، مگر اس خاموشی میں کروڑوں سال پرانی کہانیاں محفوظ ہیں۔ چین کے صوبہ گیوئی چو میں واقع شوانگ حہ غار بھی ایسی ہی ایک حیرت انگیز دنیا ہے، جہاں ہر نئی مہم قدرتی تاریخ، قدیم آب و ہوا اور ارضیاتی تبدیلیوں کے بارے میں نئی معلومات سامنے لاتی ہے۔
فرانس کے غاروں کے محقق ژاں بوتاتزی گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے اس غار کی تلاش میں شریک ہیں۔ چین اور فرانس کی مشترکہ غار مہم کا آغاز 2001 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد 25 برس کی مسلسل تحقیق نے شوانگ حہ کو دنیا کے تیسرے طویل ترین اور ایشیا کے سب سے طویل غار نظام کے طور پر نمایاں کر دیا ہے۔
ابتدا میں یہاں صرف چند درجن کلومیٹر راستے معلوم تھے، لیکن مسلسل تلاش کے نتیجے میں نقشہ شدہ زیرِ زمین راستوں کی مجموعی لمبائی اب 481.5 کلومیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ حالیہ بین الاقوامی مہم کے دوران مزید 41.8 کلومیٹر راستے دریافت کیے گئے۔ غار کی عمودی گہرائی 912 میٹر ہے اور اس کے 124 باہم منسلک داخلی راستے موجود ہیں۔
تاہم شوانگ حہ کی اصل اہمیت اس کی طوالت سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ایک قدرتی محفوظ دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں چٹانوں، فوسلز اور معدنی ذخائر میں قدیم حیاتیاتی، موسمیاتی اور ارضیاتی حالات کے شواہد محفوظ ہیں۔
حالیہ مہم کے دوران یہاں دیو قامت پانڈا کے مزید نو انفرادی فوسلز دریافت ہوئے، جس کے بعد غار میں ملنے والے ایسے فوسلز کی مجموعی تعداد 61 ہو گئی۔ دو مقامات پر پانڈا کے پنجوں کے واضح نشانات بھی ملے۔ غار کی ساخت اور ان نشانات سے اندازہ لگایا گیا کہ بعض جانور غار کے اندر کافی دور تک جانے کے بعد عمودی گڑھوں میں گرے اور باہر نکلنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن بالآخر گہری جگہوں میں پھنس گئے۔
محققین کو پانڈا کے علاوہ قدیم جانوروں کے فوسلز بھی ملے، جن میں دیو قامت ٹیپر اور کلاؤڈڈ لیپرڈ کے فوسلز شامل ہیں۔ یہ دریافتیں اس خطے میں ماضی کے حیاتیاتی تنوع کو سمجھنے میں مدد دے رہی ہیں۔ غار کی تلاش کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ہر مہم کا نتیجہ ہمیشہ طے شدہ منصوبے کے مطابق نہیں نکلتا۔ ایک حالیہ مہم میں محققین کا مقصد غار کے شمالی حصے میں مختلف غاروں کو آپس میں ملانا تھا، لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ تلاش جاری رکھتے ہوئے انہیں اچانک جپسم کرسٹلز سے بنی ایک شاندار دیوار دکھائی دی۔ یہ غیر متوقع منظر ایک نئی تحقیقی سمت کا سبب بن گیا۔
غار کے محققین کے لیے یہی حیرت اور غیر یقینی اس کام کی اصل کشش ہے۔ زیرِ زمین راستے کسی بھول بھلیاں کی طرح ہیں؛ ایک موڑ کے بعد کیا سامنے آئے گا، اس کا اندازہ پہلے سے نہیں لگایا جا سکتا۔ بعض اوقات ناکامی ہی ایسی دریافت تک لے جاتی ہے جس کا منصوبہ بھی نہیں بنایا گیا ہوتا۔
شوانگ حہ غار قدیم آب و ہوا کے مطالعے کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے اندر موجود کیل سائٹ کے ذخائر مختلف ادوار میں تشکیل پاتے رہے ہیں۔ ان نمونوں کی عمر اور آئسوٹوپ تجزیے کے ذریعے موجودہ دور سے لاکھوں سال پہلے کے موسمی حالات کا ریکارڈ تیار کیا جا سکتا ہے۔ حالیہ تحقیق میں یورینیم۔لیڈ آئسوٹوپ ڈیٹنگ کی جدید تکنیک سے غار کے بعض ثانوی کاربونیٹ ذخائر کی عمر پانچ ملین سال سے بھی زیادہ مقرر کی گئی۔ اس دریافت نے شوانگ حہ اور جنوب مغربی چین کے دیگر بڑے کارسٹ غار نظاموں کی ارضیاتی تاریخ کو سمجھنے کے لیے تحقیق کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔
شوانگ حہ غار بین الاقوامی سائنسی تعاون کی ایک نمایاں مثال بھی بن چکا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران چینی اور غیر ملکی محققین نے مل کر غار کی نقشہ سازی اور سائنسی تحقیق آگے بڑھائی ہے، جبکہ حاصل ہونے والے ڈیٹا اور نقشے باہمی طور پر شیئر کیے جاتے ہیں۔ اس تعاون کا بنیادی مقصد کسی ایک ملک یا ادارے کے بجائے سائنسی علم میں اضافہ ہے۔
اس مسلسل جستجو نے غیر ملکی محققین کو بھی اس علاقے سے گہرا تعلق پیدا کرنے پر مجبور کیا ہے۔ ژاں بوتاتزی نے حالیہ برسوں میں غار کے قریب ایک گاؤں میں سکونت اختیار کر لی، جہاں مقامی لوگ انہیں محبت سے ’’لاؤ رانگ‘‘ یعنی ’’اولڈ ژاں‘‘ کہتے ہیں۔
شوانگ حہ کی زیرِ زمین دنیا میں کہیں زیرِ زمین دریا بہتے ہیں، کہیں آبشاروں سے سجے وسیع کمرے ہیں اور کہیں خشک راستوں میں قدیم فوسلز محفوظ ہیں۔ یہاں ہر راستہ ایک نئی سمت اختیار کر سکتا ہے اور ہر مہم کسی نئے راز سے پردہ اٹھا سکتی ہے۔ یہی غیر یقینی اور دریافت کی امید شوانگ حہ غار کو صرف ایک طویل غار نہیں بلکہ زمین کی پوشیدہ تاریخ کا ایک زندہ قدرتی خزانہ بناتی ہے۔ |
|