کراچی میں چند روز کے دوران خودکشیوں کے دو واقعات — فلاحی اداروں کی کارکردگی اور حکومتی نظامِ کفالت پر سوالات!

*از قلم : محمد ارسلان شیخ*

شہرِ قائد کراچی میں محض 25 روز کے دوران مبینہ اجتماعی خودکشیوں کے دو افسوسناک واقعات میں پانچ معصوم بچوں سمیت 10 افراد کی ہلاکت نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعات محض چند خاندانوں کا ذاتی سانحہ نہیں، بلکہ معاشی بدحالی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشرتی بے حسی جیسے سنگین مسائل کی جانب توجہ مبذول کراتے ہیں۔ جب زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنا عام شہری کے لیے دشوار ہو جائے اور ایک خاندان شدید معاشی دباؤ میں گھِر جائے تو یہ صورتِ حال ریاست، معاشرے اور فلاحی نظام کی ذمہ داریوں پر سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتی ہے۔
ایک جانب شہر میں بیت المال، زکوٰۃ و خیرات، راشن کی تقسیم، مفت کھانے کے دسترخوانوں اور مستحق خاندانوں کی کفالت کے نام پر مختلف فلاحی سرگرمیاں جاری ہیں، تو دوسری جانب ایسے افسوسناک واقعات یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا امداد واقعی ان لوگوں تک بروقت پہنچ رہی ہے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؟ اگر معاشرے میں فلاحی وسائل موجود ہیں، مخیر حضرات عطیات دیتے ہیں اور مختلف ادارے خدمتِ خلق کے دعوے کرتے ہیں، تو پھر ایسے خاندان شدید معاشی بے بسی کا شکار کیوں ہو رہے ہیں کہ ان کے مسائل کسی بڑے سانحے کی صورت میں سامنے آتے ہیں؟
فلاحی تنظیموں اور مخیر حضرات کو اپنی امدادی سرگرمیوں کی ترجیحات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اکثر فلاحی سرگرمیوں میں معیاری اور پوش علاقوں میں دسترخوان سجانے، مہنگے کھانے تقسیم کرنے اور ایسی تقریبات منعقد کرنے پر توجہ دی جاتی ہے جنہیں میڈیا اور سوشل میڈیا پر نمایاں کیا جا سکے۔ بلاشبہ بھوکوں کو کھانا کھلانا ایک نیکی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری فلاحی ترجیحات اُن لوگوں کی بنیادی ضروریات کے مطابق ہیں جو دو وقت کی روٹی، بچوں کی فیس، علاج اور گھر کا کرایہ ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں؟
فلاحی کاموں کی کامیابی کا معیار اخبارات میں شائع ہونے والی تصاویر، سوشل میڈیا پر ملنے والی تشہیر یا کسی تقریب میں تقسیم کیے گئے کھانوں کی تعداد نہیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کتنے مستحق خاندانوں کے گھروں میں چولہا جل سکا، کتنے بچوں کی تعلیم جاری رہ سکی، کتنے بے روزگار افراد کو روزگار ملا اور کتنے خاندان معاشی مشکلات سے نکلنے کے قابل ہوئے۔ فلاحی اداروں کو چاہیے کہ وہ امداد کی تقسیم میں مستحقین کی عزتِ نفس کا تحفظ کریں اور خدمتِ خلق کو تشہیر کے بجائے انسانی ہمدردی، شفافیت اور حقیقی ضرورت کی بنیاد پر استوار کریں۔
حکومتِ سندھ، ضلعی انتظامیہ، محکمۂ زکوٰۃ، بیت المال، سماجی بہبود کے اداروں، مخیر حضرات اور فلاحی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ باہمی تعاون کے ذریعے ایک ایسا مؤثر نظام قائم کریں جس کے تحت مستحق خاندانوں کو بروقت امداد، مستقل کفالت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شدید معاشی دباؤ میں مبتلا افراد کے لیے آسان اور قابلِ رسائی نفسیاتی مشاورت اور ہنگامی مدد کا نظام بھی ضروری ہے، تاکہ مایوسی کی کیفیت میں مبتلا افراد اور خاندانوں کو بروقت سہارا مل سکے۔
کراچی میں پیش آنے والے یہ افسوسناک سانحات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ غربت صرف خالی پیٹ سونے کا نام نہیں؛ بعض اوقات یہ انسان کو شدید ذہنی دباؤ، بے بسی اور تنہائی میں بھی مبتلا کر دیتی ہے۔ ایسے حالات میں معاشرے کا فرض ہے کہ وہ متاثرہ افراد کو تنقید یا الزام دینے کے بجائے ان کی مشکلات کو سمجھے، ان تک مدد پہنچائے اور انہیں یہ احساس دلائے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔
یہ وقت ایک دوسرے پر الزام تراشی کا نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری قبول کرنے، امدادی نظام کو مؤثر بنانے اور مستحق خاندانوں تک حقیقی مدد پہنچانے کا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایسے سانحات کی روک تھام ہو تو ہمیں فلاحی سرگرمیوں کو محض وقتی امداد کے بجائے مستقل کفالت، معاشی خودمختاری اور انسانی وقار کی بحالی سے جوڑنا ہوگا۔
یاد رکھیے، اصل خدمت یہ نہیں کہ کسی خوش حال علاقے میں دسترخوان سجا کر اپنی فلاحی سرگرمیوں کو نمایاں کیا جائے، بلکہ اصل خدمت یہ ہے کہ اُس گھر تک راشن پہنچایا جائے جہاں غربت کے باعث چولہا جلانا مشکل ہو، اور اُس بے روزگار کے ہاتھ کو روزگار دیا جائے جو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے پریشان ہو۔

 

Muhammad Arslan Shaikh
About the Author: Muhammad Arslan Shaikh Read More Articles by Muhammad Arslan Shaikh: 48 Articles with 13871 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.