چین میں صحت مند معاشرے کی تعمیر پر توجہ
(SHAHID AFRAZ KHAN, Beijing)
|
چین میں صحت مند معاشرے کی تعمیر پر توجہ تحریر : شاہد افراز خان ، بیجنگ
کسی بھی ملک کی ترقی کا ایک اہم پیمانہ اس کے عوام کی صحت اور انہیں دستیاب طبی سہولتیں ہیں۔ چین نے اسی مقصد کے تحت صحت عامہ کے نظام کو مزید بہتر بنانے اور علاج معالجے کی سہولتیں ہر شہری تک پہنچانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ آئندہ پانچ سال کے دوران بیماریوں کی روک تھام، طبی خدمات کے معیار، روایتی چینی طب اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
چین کے صدر مملکت شی جن پھنگ نے بیجنگ میں قومی صحت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو صحت کے شعبے میں چینی خصوصیات کے حامل ترقیاتی راستے پر ثابت قدم رہنا چاہیے تاکہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026 تا 2030) کے دوران صحت مند چین اقدام کے تحت نمایاں پیش رفت حاصل کی جا سکے۔ ان کے مطابق عوام کی صحت کسی ملک کی خوشحالی اور طاقت کا اہم پیمانہ ہے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ 2012 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 18ویں قومی کانگریس کے بعد صحت مند چین اقدام کے ذریعے طبی خدمات، روایتی چینی طب، بیماریوں کی روک تھام اور طبی بیمہ کے وسیع نظاموں کی ترقی کو فروغ دیا گیا۔ ان کوششوں کے نتیجے میں صحت کے شعبے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ 2025 میں چین میں اوسط متوقع عمر 79.25 سال تک پہنچ گئی، جبکہ صحت کے اہم اشاریے بڑی آبادی اور درمیانی سے بلند آمدنی والے ممالک میں نمایاں مقام پر رہے۔
چین کا ہدف ایسا صحت کا نظام تشکیل دینا ہے جس میں طبی سہولتیں متوازن، سب کے لیے قابلِ رسائی، معیاری اور مؤثر ہوں۔ اس مقصد کے لیے صحت عامہ کو صرف اسپتالوں اور علاج معالجے تک محدود رکھنے کے بجائے حکومتی پالیسیوں اور روزمرہ انتظامی امور کا حصہ بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
بیماریوں کی روک تھام اس حکمت عملی کا بنیادی جزو ہے۔ ابتدائی مرحلے میں بیماریوں کے خطرات کی شناخت، صحت سے متعلق آگاہی اور عوام کو اپنی صحت کی ذمہ داری لینے کی ترغیب دینے سے علاج کے اخراجات کم کرنے اور بہتر نتائج حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی لیے بیماریوں کی نگرانی اور بڑے پیمانے پر وباؤں سے نمٹنے کے لیے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے۔ طبی سہولتوں کی مقامی سطح پر فراہمی بھی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ چین میں علاقائی طبی مراکز کی ترقی کے ذریعے ان علاقوں میں معیاری علاج کی سہولتیں پہنچائی جا رہی ہیں جہاں جدید طبی وسائل نسبتاً محدود ہیں۔ اس مقصد کے لیے 125 علاقائی طبی مراکز کی ترقی میں معاونت کی گئی ہے۔ ملک کی 90 فیصد سے زیادہ آبادی 15 منٹ کے اندر قریبی طبی سہولت تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ بنیادی سطح کے طبی اداروں میں ملک بھر کے نصف سے زیادہ طبی معائنے اور علاج کیے جاتے ہیں۔
اس نظام کے ذریعے کوشش کی جا رہی ہے کہ عام بیماریوں کا علاج مقامی طبی مراکز میں ہو، جبکہ پیچیدہ امراض کے مریضوں کو ضرورت کے مطابق بڑے اسپتالوں تک رسائی حاصل ہو۔ اس سے طبی وسائل پر دباؤ کم کرنے اور مریضوں کو بروقت علاج فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
روایتی چینی طب کی حفاظت اور جدید تقاضوں کے مطابق ترقی بھی صحت کے شعبے کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ بنیادی سائنسی تحقیق، نئی طبی ٹیکنالوجیز اور اصل نوعیت کی جدت کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے تاکہ علاج کے طریقوں میں بہتری آئے اور مریضوں کو زیادہ مؤثر خدمات فراہم کی جا سکیں۔ طبی نظام میں اصلاحات کے لیے علاج معالجے، طبی بیمہ اور ادویات کے شعبوں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنے کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ ان شعبوں کی پالیسیوں میں ہم آہنگی سے طبی خدمات کے معیار، اخراجات کے انتظام اور مریضوں کے تجربے کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے معیاری طبی عملے کی تیاری اور صحت کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
چین نے عالمی صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔ مختلف ممالک کے ساتھ مل کر بڑے طبی چیلنجوں سے نمٹنے، بیماریوں کی روک تھام اور دنیا بھر میں لوگوں کی صحت و فلاح بہتر بنانے کے لیے تعاون جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔
چینی وزیر اعظم لی چھیانگ نے اختتامی خطاب میں صحت عامہ کی بہتری کو معاشی اور سماجی ترقی کے ساتھ مربوط کرنے، طبی نظام میں اصلاحات گہری کرنے اور سائنس و ٹیکنالوجی کے استعمال کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بڑی بیماریوں کی روک تھام، مختلف سطحوں پر علاج کے نظام کی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کو بھی اہم قرار دیا۔ چین کی آئندہ صحت پالیسی میں بنیادی توجہ اس بات پر ہوگی کہ معیاری طبی خدمات لوگوں کے قریب ہوں، بیماریوں سے بچاؤ کو ترجیح دی جائے اور جدید تحقیق سے عام شہریوں کو فائدہ پہنچے۔ صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لیے یہ اقدامات نہ صرف عوامی فلاح بلکہ پائیدار معاشی و سماجی ترقی کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
|
|