چودہ ہاکی آسٹرو ٹرفز، کروڑوں کے اخراجات اور کھلاڑی سہولیات سے محروم!
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پی ٹی آئی دورِ حکومت کے منصوبوں میں مبینہ ناقص تعمیر، پانی غائب، فوارے خراب، ٹرف جگہ جگہ سے اکھڑ گئے، گورنر خیبر پختونخوا نوٹس لیں!
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی دورِ حکومت کے دوران کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے گئے۔ ان میں ہاکی کے 14 آسٹرو ٹرف اسٹیڈیمز بھی شامل ہیں۔ دعوے جدید سہولیات کی فراہمی کے تھے، لیکن سامنے آنے والی تفصیلات ان منصوبوں کے معیار، نگرانی، ادائیگیوں اور دیکھ بھال کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہیں۔کہیں ٹرف کے ٹکڑے جوڑ کر بچھانے کی شکایت ہے، کہیں ٹرف جگہ جگہ سے اکھڑ رہا ہے، کہیں پانی فراہم کرنے والی مشینیں خراب ہیں اور کہیں فوارے، گول پوسٹ اور دیگر بنیادی سہولیات مسائل کا شکار ہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ اگر منصوبوں پر ادائیگیاں ہو چکی تھیں تو پھر کھلاڑیوں کو معیاری اور قابلِ استعمال ٹرف کیوں نہیں ملے؟
پاڑا چنار کے ہاکی ٹرف کا معاملہ خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ٹرف آٹھ مختلف حصوں میں لگایا گیا، جبکہ اس کے معیار اور پی سی ون میں بیان کردہ خصوصیات کے حوالے سے بھی اعتراضات سامنے آئے۔دستیاب معلومات کے مطابق ایک انکوائری رپورٹ میں ٹرف کو ٹکڑوں کی شکل میں بچھانے اور مقررہ معیار سے متعلق مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹرف کا معیار وہ نہیں تھا جس کا منصوبے میں ذکر کیا گیا تھا، اور اسے چینی معیار کا قرار دیا گیا۔اگر انکوائری رپورٹ واقعی ان خامیوں کی تصدیق کرتی ہے تو متعلقہ حکام کو واضح کرنا ہوگا کہ منصوبے کو کس بنیاد پر منظور کیا گیا، کام کی نگرانی کس نے کی اور خامیوں کے باوجود ٹھیکیدار کو ادائیگیاں کیسے کی گئیں۔
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ٹرف پر فوارے بھی نصب نہیں کیے گئے، جبکہ ٹھیکیدار کو تقریباً تمام ادائیگیاں کی جا چکی ہیں اور صرف دس لاکھ روپے بقایا ہیں۔یہاں چند بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں اگر منصوبے میں فوارے شامل تھے تو وہ نصب کیوں نہیں کیے گئے؟ اگر تعمیراتی معیار مقررہ شرائط کے مطابق نہیں تھا تو تکمیل اور ادائیگیوں کی منظوری کس نے دی؟ کیا انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ٹھیکیدار یا متعلقہ افسران کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی؟ باقی دس لاکھ روپے کی ادائیگی سے پہلے خامیوں کو دور کرنے کی شرط عائد کی گئی یا نہیں؟
یہ معاملہ مزید اہم اس لیے بھی ہے کہ تاشفین حیدر، جو سابق ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس اور موجودہ سیکرٹری ایڈمنسٹریشن بتائے جاتے ہیں، کا تعلق پاڑا چنار سے ہے اور یہ ان کا آبائی علاقہ بتایا جاتا ہے۔ تاہم محض اس تعلق کی بنیاد پر انہیں ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان کے متعلقہ دور میں ان خامیوں کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے گئے اور سرکاری ریکارڈ اس بارے میں کیا بتاتا ہے؟اسلامیہ کالج پشاور: پانی کے بغیر آسٹرو ٹرف کیسے چلے گا؟اسلامیہ کالج پشاور کے ہاکی ٹرف کی حالت بھی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق ٹرف مختلف مقامات سے اکھڑ چکا ہے اور وہاں پانی کی فراہمی کا مسئلہ موجود ہے۔
ہاکی کے آسٹرو ٹرف کی قسم اور مینوفیکچرر کی ہدایات کے مطابق پانی کی فراہمی، صفائی اور دیکھ بھال کے انتظامات اہم ہوتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال جائز ہے کہ کھیلوں کے ایک ہزار منصوبوں کے تحت اس مقام پر ٹرف نصب کرنے کی منظوری دیتے وقت پانی کی دستیابی اور مستقل فراہمی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا تھا یا نہیں۔اگر پانی کی فراہمی کا مستقل انتظام موجود نہیں تھا تو منصوبے کی منصوبہ بندی اور منظوری کس بنیاد پر دی گئی؟ محکمہ اسپورٹس اور اسلامیہ کالج انتظامیہ کو واضح کرنا چاہیے کہ پانی کی فراہمی کی ذمہ داری کس ادارے کی ہے؟ٹرف اکھڑنے کی وجوہات کیا ہیں؟اس کی مرمت یا بحالی کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے؟ تعمیراتی وارنٹی یا ٹھیکیدار کی ذمہ داری کے تحت ان خامیوں کو دور کروایا جا سکتا ہے یا نہیں؟یہ محض پانی کی عدم دستیابی کا مسئلہ نہیں، بلکہ منصوبہ بندی، تکنیکی جانچ اور بعد از تعمیر نگرانی کا معاملہ بھی ہے۔
صوابی: پھٹے ہوئے ٹرف کی نشاندہی ہوئی، کارروائی کہاں ہے؟ صوابی کے ہاکی ٹرف کے بارے میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق پھٹے ہوئے ٹرف کی نشاندہی بھی کی گئی، لیکن اس کے باوجود مسئلے کے حل اور ذمہ داروں کے تعین سے متعلق سوالات برقرار ہیں۔اگر ٹرف واقعی ناقص حالت میں نصب کیا گیا تھا یا مقررہ مدت میں خراب ہوا تو اس کی تکنیکی جانچ ضروری ہے۔ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ خرابی کی وجہ ناقص میٹریل، غلط تنصیب، غیر مناسب دیکھ بھال یا کسی اور تکنیکی مسئلے سے متعلق ہے۔ محکمہ اسپورٹس بتائے کہ شکایت کب موصول ہوئی، معائنہ کس نے کیا اور خرابی دور کرنے کے لیے کیا کارروائی کی گئی۔
لالہ ایوب ہاکی اسٹیڈیم پشاور: دو سال میں فوارے خراب، ٹرف بیٹھ گیاپشاور کے لالہ ایوب ہاکی اسٹیڈیم کے حوالے سے فراہم کردہ تفصیلات بھی تشویش ناک ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فوارے دو سال کے اندر خراب ہو گئے، ٹرف کا ایک حصہ بیٹھ گیا، گول پوسٹ کی حالت خراب ہو گئی اور پانی فراہم کرنے والی مشینیں بھی درست طریقے سے کام نہیں کر رہیں۔اگر یہ خرابیاں تعمیر یا مرمت کے فوراً بعد سامنے آئی ہیں تو سوال بنتا ہے کہ منصوبے کی تکمیل کے وقت معیار کی جانچ کس نے کی تھی۔ اگر یہ مسائل بعد میں پیدا ہوئے تو دیکھ بھال کے ذمہ دار ادارے نے انہیں بروقت حل کیوں نہیں کیا؟محکمہ اسپورٹس کو ٹرف، فواروں، پانی کی مشینوں اور گول پوسٹ کی موجودہ حالت کی مشترکہ تکنیکی رپورٹ جاری کرنی چاہیے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوگا کہ خرابیوں کی ذمہ داری ٹھیکیدار پر عائد ہوتی ہے یا بعد از تعمیر دیکھ بھال کے نظام پر۔
کوہاٹ کے ہاکی ٹرف کے بارے میں بھی پانی کی فراہمی میں مشکلات کی اطلاعات ہیں، جن کی وجہ پانی فراہم کرنے والی مشینوں کی خرابی بتائی جا رہی ہے۔ چارسدہ سمیت دیگر مقامات پر بھی اسی نوعیت کے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اگر ٹرف کو پانی فراہم کرنے کا نظام خراب ہے تو صرف مشین نصب کر دینا کافی نہیں۔ اس کے فعال رہنے، مرمت، بجلی اور پانی کی دستیابی اور دیکھ بھال کے لیے واضح انتظام ہونا چاہیے۔ محکمہ یہ بتائے کہ کتنے ٹرفز پر پانی کی مشینیں مکمل طور پر فعال ہیں، کتنی خراب ہیں اور ان کی مرمت کے لیے کتنی رقم مختص یا خرچ کی گئی ہے۔گورنر خیبر پختونخوا سے مطالبہ: کاغذی رپورٹ نہیں، عملی انکوائری کروائیں
گورنر خیبر پختونخوا سے مطالبہ ہے کہ پی ٹی آئی دورِ حکومت میں تعمیر ہونے والے تمام 14 ہاکی آسٹرو ٹرفز کا غیر جانب دارانہ تکنیکی معائنہ کروایا جائے۔ انکوائری میں صرف تعمیراتی کام نہیں، بلکہ پی سی ون، ٹینڈر دستاویزات، میٹریل کی وضاحتیں، تکمیل کے سرٹیفکیٹس، ادائیگیوں، وارنٹی اور بعد از تعمیر دیکھ بھال کا بھی جائزہ لیا جائے۔ تحقیقات میں درج ذیل امور لازماً شامل ہونے چاہییں: تمام 14 منصوبوں کی منظور شدہ لاگت اور اصل اخراجات کی تفصیل۔ ہر منصوبے کے ٹھیکیدار، تکمیل کی تاریخ اور ادائیگیوں کا ریکارڈ۔ پی سی ون میں درج معیار اور موقع پر نصب شدہ ٹرف کے معیار کا تکنیکی موازنہ۔ پاڑا چنار کے ٹرف اور فواروں سے متعلق انکوائری رپورٹ اور اس پر ہونے والی کارروائی۔ اسلامیہ کالج پشاور میں پانی کی فراہمی اور ٹرف کی مرمت کے اقدامات۔صوابی، لالہ ایوب اسٹیڈیم، کوہاٹ اور چارسدہ میں خرابیوں کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین۔ جہاں ناقص تعمیر، غفلت یا معاہدے کی خلاف ورزی ثابت ہو، وہاں قانون اور متعلقہ معاہدے کے مطابق کارروائی کی جائے
کھیلوں کے منصوبوں کی کامیابی صرف اس بات سے ثابت نہیں ہوتی کہ ٹرف بچھا دیا گیا یا افتتاحی تقریب منعقد ہو گئی۔ اصل معیار یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو کتنے عرصے تک محفوظ، معیاری اور قابلِ استعمال سہولیات فراہم کی گئیں۔گورنر خیبر پختونخوا نوٹس لیں: عوامی پیسوں سے بننے والے ہاکی ٹرفز کی حالت، ادائیگیوں اور ذمہ داروں کا حساب سامنے آنا چاہیے۔اگر منصوبے معیار کے مطابق مکمل ہوئے تھے تو محکمہ اسپورٹس دستاویزی ثبوت پیش کرے۔ اگر خامیاں ثابت ہیں تو ان کی اصلاح اور ذمہ داروں کے تعین میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔یہ معاملہ کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت کا نہیں، بلکہ عوامی وسائل، کھیلوں کے مستقبل اور سرکاری جوابدہی کا ہے۔
#KhyberPakhtunkhwa #GovernorKP #PTI #Hockey #AstroTurf #Parachinar #IslamiaCollegePeshawar #Swabi #LalaAyubHockeyStadium #Kohat #Charsadda #SportsDirectorate #SportsInfrastructure #PublicFunds #SportsAudit #Accountability #InvestigativeJournalism
|