کھیلوں کا فنڈ، کھیل کہاں ہیں؟ خیبرپختونخوا میں طالب علم بھی کھلاڑی، جیب بھی میدان!
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
قلم سے کھیلنے کی اجازت ہے، بس فنڈ کا حساب نہ پوچھیں!
خیبرپختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں ایک عجیب کھیل جاری ہے۔ اس کھیل میں نہ بلّا چاہیے، نہ گیند، نہ گراؤنڈ اور نہ ہی کوچ۔ بس ایک طالب علم، ایک فیس شیڈول اور سپورٹس فنڈ کا نام کافی ہے!پانچویں جماعت کا بچہ ابھی اپنی پنسل سیدھی پکڑنا سیکھ رہا ہوتا ہے کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کھیلوں کے فنڈ میں اس کا بھی حصہ ہے۔ آٹھویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے اسے شاید کرکٹ کے قوانین یاد نہ ہوں، لیکن فیس کے قوانین ضرور یاد ہو جاتے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پانچویں جماعت کے لیے سپورٹس فیس 3 روپے سے بڑھا کر 10 روپے، آٹھویں کے لیے 30 سے 50 روپے، نویں اور دسویں کے لیے 40 سے 60 روپے اور گیارہویں و بارہویں کے لیے 60 سے 80 روپے بتائی گئی ہے۔اب طالب علم سوچتا ہے کہ جناب، کھیل تو ہم نے میدان میں کھیلنا تھا، یہ فیس کا میچ ہماری جیب میں کیوں کھیلا جا رہا ہے؟
ہمارے ہاں کھیلوں کی ترقی کا ایک دلچسپ فارمولا ہے۔ پہلے طالب علم سے فنڈ لیا جائے، پھر فنڈ کا ریکارڈ بنایا جائے، پھر ریکارڈ کی فائل بنائی جائے، پھر فائل کی حفاظت کے لیے الماری خریدی جائے۔ اب یہ الگ تحقیق کا موضوع ہے کہ کھیلوں کے لیے کیا خریدا گیا اور الماری میں آخر رکھا کیا گیا!ممکن ہے کسی اسکول میں واقعی اچھا کھیلوں کا سامان خریدا گیا ہو، مقابلے ہوئے ہوں اور بچوں کو بہترین سہولیات ملی ہوں۔ لیکن اگر ایسا ہے تو اس کی رسیدیں، تصاویر، اخراجات اور نتائج بھی سامنے آنے چاہییں۔ کیونکہ حساب مانگنا کھیل دشمنی نہیں، عوامی پیسے کی نگرانی ہے۔
فراہم کردہ اندراج کے اعداد و شمار کے مطابق نویں اور دسویں جماعت میں 475,144 جبکہ گیارہویں اور بارہویں میں 131,480 طلبہ ہیں۔اگر تمام متعلقہ طلبہ سے نظرثانی شدہ شرح کے مطابق ایک مرتبہ فیس وصول کی جائے تو ان چار جماعتوں سے ممکنہ رقم تقریباً 3 کروڑ 90 لاکھ روپے بنتی ہے۔یہ اصل وصولی نہیں بلکہ حسابی تخمینہ ہے۔ اس میں چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جماعت کی وصولی شامل نہیں، حالانکہ ان جماعتوں سے فنڈ وصول کیے جانے کے دستاویزی ثبوت بھی موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اب محکمہ تعلیم سے ایک معصوم سا سوال ہے: جناب، فنڈ کی فائل تو مکمل ہوگی، ذرا یہ بھی بتا دیں کہ کتنے پیسوں سے گیند خریدی، کتنے سے بیٹ آیا اور کتنے سے بچوں نے حقیقت میں کھیل کھیلا؟بورڈ کا الگ میچ؟پشاور بورڈ کے فراہم کردہ انرولمنٹ شیڈول میں نویں جماعت کے لیے ایک ہزار روپے انرولمنٹ فیس کے ساتھ 300 روپے سپورٹس فیس بھی درج ہے۔اب والدین کے ذہن میں سوال اٹھنا فطری ہے کہ اسکول کا سپورٹس فنڈ الگ ہے یا بورڈ کا سپورٹس فنڈ الگ؟ اگر دونوں الگ ہیں تو ان کے قواعد، اکاؤنٹس اور اخراجات بھی الگ دکھائے جائیں۔ اگر معاملہ کچھ اور ہے تو وہ بھی واضح کیا جائے۔بغیر ثبوت کے دو فیسوں کو ایک ہی مد میں شمار کرنا درست نہیں، لیکن ان کے تعلق کی وضاحت مانگنا بالکل جائز ہے۔
اس پورے معاملے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ کھیلوں کے نام پر فیس کی شرحیں تو لکھی جا سکتی ہیں، لیکن اصل سوال کا جواب بھی اتنی ہی وضاحت سے ملنا چاہیے: کل کتنی رقم جمع ہوئی، کتنی خرچ ہوئی اور کتنی باقی ہے؟حکومت کو چاہیے کہ جماعت وار وصولی، اسکول وار اخراجات، کھیلوں کے سامان کی خریداری، مقابلوں کے ریکارڈ اور آڈٹ رپورٹس عوام کے سامنے رکھے۔کیونکہ اگر طالب علم سے کھیلوں کے نام پر رقم لی جاتی ہے تو اسے کھیلنے کا موقع بھی ملنا چاہیے، صرف فیس کی رسید نہیں۔اور اگر کوئی پوچھے کہ اس کھیل کا نتیجہ کیا نکلا تو جواب اتنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کہ امپائر بھی فائلیں اٹھا کر پویلین واپس چلا جائے!یاد رکھیے: سپورٹس فنڈ کا مقصد کھیلوں کو آگے بڑھانا ہے، حساب کو بینچ پر بٹھانا نہیں۔
#KhyberPakhtunkhwa #KP #SportsFund #InvestigativeJournalism #Education #StudentFees #PublicAccountability #GovernmentSchools #SportsInPakistan #KPNews
|