فکرِاقبال اور پائیدار معاشی ترقی: خودی، خود انحصاری،معاشی عدل اور انسانی بہبودکے تناظر میںپائیدار ترقیاتی اہداف کا حصول کلیدی خطبہ: ڈاکٹرآر۔ایم۔ افضل رضوی - آسٹریلیا

فکرِاقبال اور پائیدار معاشی ترقی: خودی، خود انحصاری،معاشی عدل اور انسانی بہبودکے تناظر میںپائیدار ترقیاتی اہداف کا حصول
کلیدی خطبہ: ڈاکٹرآر۔ایم۔ افضل رضوی - آسٹریلیا
محترم صدرِ مجلس جناب مجیب الرحمن شامی صاحب، معزز محققین اور سامعین کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آج مجھے آپ کے سامنے ایک ایسے موضوع پر اظہارِ خیال کا موقع ملاہے جو علامہ محمد اقبال کی فکری میراث، اقتصادی خود مختاری، انسانی ترقی، سماجی انصاف اور ماحولیاتی پائیداری کے باہمی تعلق سے متعلق ہے۔
خواتین و حضرات!
میں اپنی گفتگو کا آغاز ایک بنیادی سوال سے کرنا چاہتا ہوں:
کیا کسی قوم کو اس وقت ترقی یافتہ قرار دیا جا سکتا ہے جب اس کی دولت میں اضافہ ہو رہا ہو، لیکن اس کے معاشرے میں غربت، بے روزگاری، معاشی ناہمواری اور ماحولیاتی مسائل بھی برقرار ہوں؟
اورکیا ترقی کا مطلب صرف بلند عمارتیں، بڑی صنعتیں، جدید ٹیکنالوجی اور بڑھتی ہوئی مجموعی قومی پیداوار ہے؟ یا ترقی کا اصل مقصد انسان کی صلاحیتوں کو بیدار کرنا، اسے باعزت زندگی کے مواقع فراہم کرنا، معاشرتی انصاف کو فروغ دینا اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل محفوظ کرنا بھی ہے؟
اگر علامہ اقبالؒ کے افکار کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اگرچہ انہوں نے جدیداصطلاحات میں پائیدار ترقی کا مکمل اقتصادی ماڈل مرتب نہیں کیا تھا، لیکن ان کا فلسفہ خودی، ان کی ابتدائی اقتصادی تصنیف علم الاقتصاد، ان کے خطبات
The Reconstruction of Religious Thought in Islam اور ان کے دیگرفلسفیانہ افکار ہمیں انسانی ترقی کے مقاصد پر ازسرِنو غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
چنانچہ علامہ اقبال کے فلسفہ خودی کو محض خود اعتمادی یا ذاتی کامیابی تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا تعلق شخصیت کی تعمیر، ارادے کی قوت، اخلاقی ذمہ داری اور بامقصد عمل سے منسلک ہے۔
آج میں اسی تصور کو اقتصادی ترقی، خود انحصاری، اخلاقی معیشت اور ماحولیاتی ذمہ داری کے تناظر میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
آج کی دنیا میں اقتصادی کامیابی کا اندازہ عموماً پیداوار، سرمایہ کاری، تجارت اور قومی آمدنی جیسے پیمانوں سے لگایا جاتا ہے۔یہ پیمانے اہم ہیں، لیکن ان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اقتصادی ترقی کے فوائد معاشرے کے کتنے حصے تک پہنچے ہیں، کتنے لوگوں کو باعزت روزگار ملا ہے، تعلیم اور صحت کی سہولتوں تک رسائی کس حد تک بڑھی ہے، اور قدرتی ماحول کو کیا نقصان یا فائدہ پہنچا ہے۔
علامہ اقبال کی فکر میں انسان ایک فعال، تخلیقی اور ذمہ دار ہستی ہے۔ اس کے اندر اپنی زندگی کو بہتر بنانے اور اجتماعی حالات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ لیکن یہ صلاحیت اس وقت نتیجہ خیز بنتی ہے جب اسے تعلیم، تربیت، مناسب مواقع اور سازگار سماجی حالات میسر آئیں۔علامہ اقبال کے الفاظ کہ
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
یقنیا ہماری توجہ اس طرف مبذول کراتے ہیں کہ کسی معاشرے کا مستقبل صرف اس کے قدرتی وسائل یا تاریخی حالات سے طے نہیں ہوتا؛ اس کا انحصار انفرادی کردار، اجتماعی فیصلوں، اور عملی جدوجہد پر بھی ہوتا ہے۔
اگر ہم تعلیم کو ترجیح دیں، تحقیق میں سرمایہ کاری کریں، روزگار کے مواقع پیدا کریں، وسائل کو ذمہ داری سے استعمال کریں اور اجتماعی فلاح کو اہمیت دیں تو ترقی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
علامہ اقبال کی علمی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کی ابتدائی اقتصادی تصنیف علم الاقتصاد ہے۔یہ تصنیف اقبال کی اقتصادی دلچسپیوں اور ان کے ابتدائی علمی سفر کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ البتہ یہ واضح رہنا چاہیے کہ علامہ اقبال کی علم الاقتصاد اورThe Reconstruction of Religious Thought in Islam الگ تاریخی اور علمی سیاق میں لکھی گئی تصانیف ہیں۔ ان کے درمیان تعلق قائم کرنے کے لیے دونوں کے اصل متون کا تقابلی مطالعہ ضروری ہے۔اسی لیے میری ہمیشہ یہ خواہش بھی رہی ہے اور فوکس بھی کہ علامہ اقبال کو صرف شاعر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسے مفکر کے طور پر پڑھا جانا چاہئے جن کی علمی دلچسپیاں انسانی زندگی، معاشرتی تنظیم اور فکری تجدید کے مختلف پہلوؤں تک پھیلی ہوئی تھیں۔
اگر ہم علامہ اقبال کے فلسفے کے مرکزی تصور، یعنی فلسفہ خودی، کی طرف آئیں تو معلوم ہو گاکہ خودی کا مطلب خود غرضی نہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان اپنی ذات کو معاشرے سے برتر سمجھنے لگے۔ علامہ اقبال کی فکر میں خودی کو شخصیت کی تعمیر، ارادے کی مضبوطی، نظم و ضبط، خود آگہی اور بامقصد عمل کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔ ان کے ہاں خودی کا تصور انسان کو جمود سے نکال کر عمل کی طرف متوجہ کرتا ہے۔چنانچہ جب وہ کہتے ہیں کہ
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
تو وہ انسان کو محدود امکانات پر قناعت کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو مزید ترقی دینے کی دعوت دیتے ہیں۔ اقتصادی تناظر میں اس پیغام کی اہمیت واضح ہے۔
لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ انفرادی کوشش ضروری ہے، مگر انفرادی کوشش کے لیے منصفانہ مواقع بھی ضروری ہیں۔
اگر کسی نوجوان کو معیاری تعلیم میسر نہ ہو، کسی ہنرمند کو مالی وسائل تک رسائی حاصل نہ ہو، یا کسی باصلاحیت فرد کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑے تو اس کی صلاحیتیں پوری طرح بروئے کار نہیں آ سکتیں۔
علامہ اقبال کی انگریزی تصنیفThe Reconstruction of Religious Thought in Islam ان کے فلسفیانہ افکار کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی مآخذ ہے۔
اس کتاب کے دیباچے میں علامہ اقبال لکھتے ہیں:
The Qur’an is a book which emphasizes ‘deed’ rather than idea
یعنی قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو محض خیال کے بجائے عمل پر زور دیتی ہے۔
علامہ اقبال کے نزدیک فکر اسی وقت بامعنی بنتی ہے جب وہ عمل اور اجتماعی زندگی میں اثرانداز ہو۔ معاشی ترقی کے لیے بھی محض تعلیم، روزگار اور ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت تسلیم کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کے لیے مؤثر پالیسیاں اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔
لہذا علامہ کے تصورِ تشکیلِ نو کا تقاضا ہے کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، موسمیاتی تبدیلی اور عالمی معاشی ناہمواری جیسے جدید مسائل کا سامنا فلسفیانہ بصیرت، سائنسی علم، جدید تحقیق اور عملی حکمتِ عملی کے ساتھ کیا جائے۔
حکیم الامت کی فکر ہمیں انسانی آزادی، ذمہ داری اور اجتماعی فلاح پر غور کی دعوت دیتی ہے۔ ان کا خطبہ
THE HUMAN EGO–HIS FREEDOM AND IMMORTALITY
خودی، انسانی اختیار اور انفرادیت کو سمجھنے میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔معاشی تناظر میں اس فلسفے کا تقاضا ہے کہ انسان کو بے اختیار حالات کا شکار سمجھنے کے بجائے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے اور بامعنی فیصلے کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ تاہم حقیقی آزادی اسی وقت ممکن ہے جب معاشرتی و اقتصادی رکاوٹیں کم ہوں۔ یوں خودی، انسانی اختیار اور سماجی انصاف ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
عالی جاہ!
آج کی دنیا میں تجارت، سائنسی تعاون، ٹیکنالوجی اور علم کا بین الاقوامی تبادلہ اقتصادی ترقی کے اہم ذرائع ہیں۔اس لیے خود انحصاری کا مطلب دنیا سے الگ ہو جانا نہیں، بلکہ اپنی پیداواری صلاحیتوں، علمی وسائل اور اقتصادی فیصلوں میں مؤثر اختیار پیدا کرنا ہے۔علامہ
اقبال کی شاعری میں اپنی صلاحیتوں پر اعتماد اور بیرونی سہاروں پر غیر ضروری انحصار سے بچنے کا پیغام نمایاں ہے۔ مثلاً
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے، ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی
اور پھر پکار اٹھتے ہیں کہ:
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
اور پھر کہتے ہیں:
اے طائرِ لاہوتی! اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
جہاں تک خود انحصاری کا تعلق ہے تو اس کے تین پہلو اہم ہیں۔
اوّل: علم اور تعلیم۔
دوم: پیداواری صلاحیت۔
سوم: بین الاقوامی تعاون۔
اپنی صلاحیتیں مضبوط کرنے والے معاشرے عالمی تجارت اور علمی تعاون سے زیادہ مؤثر انداز میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔گویاخود انحصاری کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ معاشرہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے، اپنے مفادات کا تحفظ کرنے اور عالمی تعاون میں باوقار کردار ادا کرنے کی صلاحیت پیدا کرے۔حکیم الامت کے افکار اسی درس کے ترجمان ہیں۔
علامہ اقبال کی فکر کا ایک اہم پہلو اس مادہ پرستی پر تنقید ہے جو انسانی زندگی کے تمام مقاصد کو مادی حصول اور ظاہری کامیابی تک محدود کر دیتی ہے۔اس تنقید کو درست طور پر سمجھنا ضروری ہے۔مادی وسائل انسانی زندگی کے لیے ناگزیر ہیں۔ خوراک، رہائش، صحت، تعلیم اور توانائی کے بغیر انسانی فلاح ممکن نہیں۔مسئلہ مادی وسائل کی اہمیت نہیں، بلکہ انہیں زندگی کا واحد مقصد بنا دینا ہے۔جب معاشرے میں کامیابی کا معیار صرف دولت، صارفیت اور ظاہری مرتبہ بن جائے تو انسانی تعلقات، اخلاقی ذمہ داری اور اجتماعی فلاح نظر انداز ہو جاتے ہیں۔
اسی طرح غیر ضروری صارفیت قدرتی وسائل پر دباؤ بڑھا تی ہے اور ماحولیاتی نقصان کا باعث بنتی ہے
اب میں اپنی گفتگو کے ایک ایسے پہلو کی طرف آنا چاہتا ہوں جس سے میری علمی تحقیق کا بھی گہرا تعلق ہے۔یہ پہلوعلامہ اقبال کے شعری تخیل میں فطرت، نباتات کی معنوی اہمیت سے متعلق ہے۔
میں نے اپنی کتاب در برگِ لالہ و گل کی تین جلدوں میںعلامہ کے کلام میں نباتاتی عناصر کے مطالعے پر توجہ دی ہے۔
علامہ اقبال کے شعری تخیل میں قدرتی مظاہر کو محض منظر نگاری تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کا مطالعہ ہمیں یہ جاننے میں مدد دیتا ہے کہ فطرت کے مختلف عناصر شاعری میں زندگی، نشوونما، جدوجہد اور تبدیلی کے معانی کیسے پیدا کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی ناامید نہ ہوئے ۔
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
ویران کھیت میں بھی زرخیزی کا امکان موجود ہو سکتا ہے، لیکن اس امکان کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے مناسب حالات درکار ہوتے ہیں۔پس!انسانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے فرد کی محنت کے ساتھ تعلیم، تحقیق، تربیت اور روزگار کے سازگار مواقع بھی ضروری ہیں۔ اسی طرح پائیدار معاشی ترقی قدرتی وسائل کے تحفظ، ذمہ دارانہ پیداوار اور آنے والی نسلوں کے حقوق کو ملحوظ رکھے۔ یہی اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کا بنیادی تقاضا بھی ہے۔
اس تناظر میں میری نباتاتی تحقیق ایک ادبی و تفسیری زاویہ فراہم کرتی ہے: علامہ کے کلام میں فطرت کے عناصر کامزیدمنظم مطالعہ انسان اور قدرت کے تعلق پر غور کرنے کے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔لیکن ان کے شعری تخیل، فلسفیانہ فکر اور معاصر ماحولیاتی سائنس کو باہم مربوط کرنے کے لیے متنی تحقیق اور بین الشعبہ جاتی مطالعہ ضروری ہے۔
اب تک کی گفتگو کی روشنی میں میں پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے پانچ باہم مربوط جہتیں پیش کرنا چاہتا ہوں۔
یہ خاکہ علامہ اقبال کے منتخب تصورات سے متاثر ایک معاصر فکری تشکیل ہے
پہلی جہت: خودی اور انفرادی نشوونما
انسان کو تعلیم، علم، تربیت، تخلیقی صلاحیت اور اخلاقی شعور کے ذریعے اپنی استعداد بڑھانے کے مواقع ملنے چاہییں۔
دوسری جہت: پیداواری خود انحصاری
معاشروں کو تحقیق، کاروبار، زراعت، صنعت اور ٹیکنالوجی میں ایسی صلاحیتیں پیدا کرنی چاہییں جو انہیں اقتصادی طور پر زیادہ مؤثر اور مستحکم بنائیں۔
تیسری جہت: اخلاقی اقتصادی ادارے
اقتصادی اداروں کو شفافیت، جواب دہی، انصاف اور انسانی وقار کے تحفظ کو اہمیت دینی چاہیے۔
چوتھی جہت: جامع سماجی فلاح
تعلیم، صحت، باعزت روزگار اور سماجی تحفظ تک رسائی کو وسیع کرنا ضروری ہے تاکہ ترقی کے مواقع معاشرے کے وسیع تر حصے تک پہنچ سکیں۔
پانچویں جہت: ماحولیاتی نگہداشت
قدرتی وسائل کا ذمہ دارانہ استعمال، پانی کا تحفظ، پائیدار زراعت اور حیاتیاتی تنوع کی حفاظت اقتصادی منصوبہ بندی کا حصہ ہونا چاہیے۔
یہ پانچوں جہتیں ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔
خودی انسانی صلاحیتوں کو بیدار کرتی ہے۔
خود انحصاری ان صلاحیتوں کو پیداواری عمل میں تبدیل کرنے میں مدد دیتی ہے۔
اخلاقی ادارے اس عمل کو انصاف اور ذمہ داری کے ساتھ مربوط کرتے ہیں۔
جامع سماجی پالیسیاں ترقی کے فوائد کو وسیع تر معاشرے تک پہنچاتی ہیں۔
اور ماحولیاتی نگہداشت مستقبل کی نسلوں کے امکانات کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
یوں پائیدار ترقی کو صرف دولت کی پیداوار نہیں، بلکہ انسانی صلاحیت، سماجی انصاف، اخلاقی ذمہ داری اور قدرتی ماحول کے درمیان ایک متوازن تعلق کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
علامہ اقبال کی فکر کو عملی شکل دینے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیم کو سائنسی شعور اور تخلیقی فکر سے جوڑا جائے، نوجوانوں کو تحقیق، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں، معاشی پالیسیوں میں انسانی فلاح و سماجی انصاف کو ترجیح دی جائے، کاروباری اداروں میں شفافیت اور ماحولیاتی ذمہ داری کو فروغ دیا جائے اور مختلف علمی شعبوں کے درمیان مکالمہ قائم کیا جائے۔
علامہ اقبال کو سمجھنے کا اصل تقاضا یہی ہے کہ ان کی فکر کو جدید تحقیق اور عملی زندگی سے مربوط کیا جائے۔
ہماری گفتگو کا بنیادی سوال تھا:
کیا اقتصادی نمو بذاتِ خود ترقی کی ضمانت ہے؟
یقیناً نہیں! حقیقی ترقی معاشی خوش حالی کے ساتھ انسانی وقار، سماجی انصاف، اخلاقی ذمہ داری اور ماحولیاتی تحفظ کا نام ہے۔
علامہ اقبال کی علم الاقتصاد، تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ، شاعری اور میری تحقیق در برگِ لالہ و گل کے مختلف فکری پہلو ہمیں ایک مشترکہ حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں:
خودی- ذمہ داری، خود انحصاری -پیداواری قوت، معاشی ترقی- انسانی وقار اور علم- اجتماعی فلاح کا ذریعہ بننا چاہیے۔
اسی امید اور عزم کے ساتھ کہ
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
آئیے، ایسی تعلیم، معیشت اور اداروں کی تعمیر کا عزم کریں جو انسانی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں، انصاف کو فروغ دیں اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔
کیونکہ قوموں کی حقیقی ترقی دولت کی فراوانی سے نہیں، بلکہ علم، وسائل اور انسانی صلاحیتوں کے بامقصد استعمال سے متعین ہوتی ہے۔
یہی علامہ اقبال کی فکر کا معاصر پیغام اور خودی سے پائیدار مستقبل تک ہماری فکری و عملی منزل ہے۔
آپ سب کی توجہ اور علمی رفاقت کا تہِ دل سے شکریہ۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
Dr Afzal Razvi
About the Author: Dr Afzal Razvi Read More Articles by Dr Afzal Razvi: 187 Articles with 269381 views Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allamah
.. View More