لبید خان المظفر۔ ایک خواب ایک خیال

لَبِید خان المُظَفَّر

شہنشاہِ نور، فاتحِ دل، معمارِ عالمِ عربیت

ایک حافظِ قرآن نوجوان کی حیرت انگیز داستان، جس نے دولت کو علم کا خادم بنایا، مصنوعی ذہانت کو قرآن کی خدمت میں لگایا اور اپنے باپ کے خواب کو دنیا کی سب سے بڑی تعلیمی تحریک میں بدل دیا!

ایک باپ کا خواب، ایک ماں کا قرآن، ایک دادی کی دعا، ایک خاندان کی محبت اور ایک بیٹے کی ناقابلِ شکست جدوجہد!

یہ ایک تخیلاتی مستقبل نامہ اور ادبی ناول ہے۔ اس میں بیان کردہ مستقبل کے واقعات، ملاقاتیں، مکالمے، کامیابیاں اور اعداد و شمار افسانوی ہیں۔

---

پہلا باب

رات کے دو بج کر سترہ منٹ!

جب ایک فیصلے نے اربوں ڈالر کی سلطنت ہلا دی!

کراچی کی رات گہری ہو چکی تھی۔

بحیرۂ عرب سے اٹھنے والی سرد ہوائیں بلند عمارتوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ شہر کی بیشتر روشنیاں مدھم پڑ چکی تھیں، لیکن ایک عظیم الشان عمارت کی آخری منزل ابھی تک جاگ رہی تھی۔

اس منزل پر دنیا کے ممتاز ترین سائنس دان، سافٹ ویئر انجینئر، ماہرینِ معاشیات، قرآنی علوم کے متخصصین اور کاروباری مشیر جمع تھے۔

اور ان سب کے درمیان بیٹھا تھا ایک پاکستانی نوجوان۔

ڈاکٹر لبید خان المظفر!

وہ نوجوان جس کے بارے میں عالمی اقتصادی رسائل لکھتے تھے کہ اس نے تعلیم، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کو یکجا کر کے ایک نئی دنیا آباد کر دی ہے۔

جس کی کمپنیوں کی مالیت اربوں ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔

جس کے دوستوں میں علما بھی تھے، فوجی افسران بھی، عالمی کاروباری شخصیات بھی اور مختلف ممالک کی ممتاز علمی و سماجی قیادت بھی۔

اور جس کا سب سے بڑا خواب یہ تھا کہ اس کے والد کی قائم کردہ جامعۃ اللغۃ العربیۃ المفتوحۃ بپاکستان دنیا کے ہر گھر تک پہنچ جائے۔

صرف بہتر گھنٹے بعد ایک ایسا عالمی تعلیمی منصوبہ شروع ہونے والا تھا جس کے لیے کئی براعظموں میں تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔

لاکھوں نہیں، کروڑوں انسان اس افتتاح کے منتظر تھے۔

اچانک مرکزی اسکرین سرخ ہو گئی!

خطرے کی گھنٹی بجنے لگی۔

اور اسکرین پر ایک لرزہ خیز پیغام نمودار ہوا:

WARNING!

قرآنی مواد کی علمی جانچ کے مرکزی نظام میں سنگین خرابی!

نئے تعلیمی مواد کی صحت کی مکمل ضمانت ممکن نہیں!

چند لمحوں کے لیے کمرے میں موت کی سی خاموشی چھا گئی۔

پھر ایک انجینئر چیخ اٹھا:

”سر! سسٹم کریش کر گیا ہے!“

دوسرا بولا:

”اگر ہم نے افتتاح مؤخر کیا تو اربوں ڈالر کے معاہدے خطرے میں پڑ جائیں گے!“

مالیاتی مشیر نے گھبراتے ہوئے کہا:

”ڈاکٹر لبید! عالمی سرمایہ کار انتظار کر رہے ہیں۔ اگر آج ہم پیچھے ہٹے تو مارکیٹ میں ہماری ساکھ تباہ ہو سکتی ہے!“

ایک اور شخص نے مشورہ دیا:

”سر! سسٹم کے باقی حصے درست ہیں۔ افتتاح کر دیتے ہیں، خرابی بعد میں ٹھیک ہو جائے گی۔“

لبید اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔

اس کی پیشانی پر فکر کی لکیریں تھیں۔

آنکھوں میں مسلسل بیداری کی سرخی تھی۔

لیکن چہرے پر عجیب وقار تھا۔

اس نے میز کی دراز کھولی۔

ایک چھوٹا سا مصحف نکالا۔

چند لمحے اسے دیکھا۔

پھر بہت آہستہ بولا:

”تم سب کو اربوں ڈالر کی فکر ہے۔۔۔“

سب خاموش ہو گئے۔

”اور مجھے اس ایک بچے کی فکر ہے جو ہم پر اعتماد کر کے قرآن کا کوئی لفظ، کوئی آیت، کوئی معنی سیکھے گا۔“

پھر اس کی آواز بلند ہوئی:

”میں اپنی دولت گنوا سکتا ہوں، اپنی کمپنیوں کو ڈوبتا دیکھ سکتا ہوں، اپنی شہرت خاک میں ملا سکتا ہوں، لیکن ایک بچے کو بھی غیرمستند قرآنی تعلیم دینے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا!“

اس نے حکم دیا:

”افتتاح روک دو!“

کمرے میں سنسنی پھیل گئی۔

”سر! یہ فیصلہ ہمیں تباہ کر دے گا!“

لبید نے جواب دیا:

”تو پھر تباہی منظور ہے، خیانت منظور نہیں!“

اس رات دنیا کے بڑے کاروباری اداروں کو خبر دی گئی کہ عظیم الشان افتتاح ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اگلی صبح عالمی ذرائع ابلاغ میں ایک ہی خبر گردش کر رہی تھی:

”پاکستانی ارب پتی لبید المظفر کا تاریخی منصوبہ بحران کا شکار!“

لیکن کسی کو معلوم نہ تھا کہ جس رات دنیا اس نوجوان کے زوال کی پیش گوئی کر رہی تھی، عین اسی رات اس کے حقیقی عروج کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔

یہ نوجوان کون تھا؟

اس نے اتنی دولت کیسے کمائی؟

اور آخر وہ کون سی طاقت تھی جس نے اسے اربوں ڈالر کے مقابلے میں ایک قرآنی امانت کو ترجیح دینے پر مجبور کر دیا؟

اس راز کو جاننے کے لیے ہمیں کئی برس پیچھے جانا ہوگا۔

کراچی کے ایک ایسے گھر میں، جہاں رات کی خاموشیوں کو ماں کی تلاوت اور دادی کی دعائیں روشن کرتی تھیں۔

---

دوسرا باب

وہ بچہ جس کا نام ایک امام نے رکھا تھا

لبید بن ربیعہ کی نسبت اور امام سلیم اللہ خان کی یادگار

کراچی کے ایک علمی اور دینی گھرانے میں ایک بچے نے آنکھ کھولی۔

گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

اس کے والد، عربی زبان کے عاشق، علومِ اسلامیہ کے خادم اور مستقبل کے ایک عظیم تعلیمی منصوبے کے بانی، ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر تھے۔

بچے کے نام کا معاملہ سامنے آیا تو ایک عظیم شخصیت نے اس کا نام تجویز فرمایا۔

یہ تھے برصغیر کے ممتاز محدث، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے عظیم قائد اور جامعہ فاروقیہ کراچی کے سربراہ:

سماحۃ الامام المحدث الشیخ سلیم اللہ خان رحمہ اللہ۔

انہوں نے بچے کا نام رکھا:

لَبِید!

یہ محض ایک خوب صورت نام نہیں تھا۔

یہ عربی ادب کی ایک عظیم تاریخی نسبت بھی اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔

لبید بن ربیعہ رضی اللہ عنہ!

وہ بلند پایہ عرب شاعر، جس نے زمانۂ جاہلیت کی فصاحت بھی دیکھی اور اسلام کے نور سے بھی فیض پایا۔

وہ شاعر جس کے کلام کو عربی ادب میں غیرمعمولی مقام حاصل ہے۔

یوں اس بچے کے نام میں ایک امام کی محبت، ایک صحابی شاعر کی ادبی عظمت اور ایک باپ کے عربی خواب کی خوشبو جمع ہو گئی۔

ڈاکٹر ولی خان المظفر اکثر اپنے بیٹے سے کہتے:

”بیٹا! تمہارا نام میرے عظیم استاد امام سلیم اللہ خان نے رکھا تھا۔ تم اس نام کی لاج رکھنا۔“

پھر مسکرا کر کہتے:

”لبید! صرف نام سے لبید بن ربیعہ کی عظمت نہیں ملتی۔ اس کے لیے علم، ادب، ایمان اور کردار کی بلندی چاہیے۔“

لیکن اس بچے کی تربیت میں صرف باپ کا حصہ نہ تھا۔

اس کے گھر میں ایک اور عظیم ہستی موجود تھی۔

وہ تھی اس کی ماں!

وہ ماں جس کے سینے میں قرآن محفوظ تھا

لبید کی والدہ نے کراچی کے مشہور علمی مرکز جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں قرآن کریم حفظ کیا تھا۔

وہ حافظۂ قرآن تھیں۔

ان کے لیے قرآن محض پڑھنے کی کتاب نہیں، زندگی کی سانسوں میں رچا بسا نور تھا۔

رات کے آخری پہر، جب دنیا خوابِ غفلت میں ڈوبی ہوتی، اس گھر کے ایک کمرے سے تلاوت کی مدھم آواز ابھرتی۔

کبھی سورۂ رحمٰن۔

کبھی سورۂ یٰسین۔

کبھی سورۂ مریم۔

اور کبھی قرآن کی وہ آیات جن میں رحمت، مغفرت اور آخرت کی یاد دہانی ہے۔

ننھا لبید کئی مرتبہ نیند سے بیدار ہو کر اپنی ماں کے پاس آ بیٹھتا۔

ایک صبح اس نے پوچھا:

”امی جان! آپ روزانہ قرآن پڑھتی ہیں۔ کیا کبھی آپ کا دل نہیں بھرتا؟“

ماں نے بیٹے کو اپنے قریب کیا۔

اس کی پیشانی چومی۔

اور کہا:

”بیٹا! کیا کبھی پیاسے کا دل پانی سے بھرتا ہے؟ قرآن تو روح کی غذا ہے۔ جتنا پڑھو، اتنی پیاس بڑھتی ہے۔“

پھر ماں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور ایک ایسی بات کہی جو زندگی بھر لبید کے دل میں گونجتی رہی:

”میرے بیٹے! میری ایک خواہش ہے۔ میں نے قرآن اپنے سینے میں محفوظ کیا ہے، تم کوئی ایسا کام کرنا کہ دنیا کے لاکھوں، کروڑوں بچوں کے سینے قرآن کے نور سے روشن ہو جائیں۔“

لبید نے حیرت سے پوچھا:

”امی! اتنے سارے بچے؟“

ماں مسکرائیں:

”ہاں، بیٹا! اللہ چاہے تو کیا ناممکن ہے؟“

یہ ایک ماں کا خواب تھا۔

اور ابھی کسی کو معلوم نہ تھا کہ آنے والے زمانے میں یہی خواب ایک عالمی تحریک کی صورت اختیار کرے گا۔

بہنوں کی محبت اور تربیت

لبید کی بہنیں بھی اس کی علمی زندگی کا اہم حصہ تھیں۔

کبھی وہ اس سے قرآن کی منزل سنتیں۔

کبھی عربی الفاظ کے معنی پوچھتیں۔

کبھی اس کی انگریزی گفتگو کا امتحان لیتیں۔

اور کبھی شرارت سے کوئی ایسا سوال کر دیتیں جس کا فوری جواب دینا آسان نہ ہوتا۔

ایک مرتبہ لبید نے عربی کا ایک مشکل جملہ بڑے اعتماد سے پڑھا۔

اس کی ایک بہن نے فوراً غلطی پکڑ لی۔

”بھائی جان! ذرا دوبارہ پڑھیے!“

لبید نے حیران ہو کر کہا:

”کیوں؟“

بہن بولی:

”کیونکہ فصاحت کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کبھی غلطی نہ کریں، بلکہ یہ ہے کہ غلطی مان کر درست بھی کر لیں!“

سب ہنس پڑے۔

لبید بھی ہنس دیا۔

اسے کیا معلوم تھا کہ آنے والے زمانے میں اس کی یہی بہنیں عالمی تعلیمی منصوبے کے معیار، بچوں کی نفسیات اور خاندانی تعلیم کے میدان میں اس کی بہترین مشیر بنیں گی۔

دادی کی دعاؤں کا خزانہ

لیکن اس گھر میں ایک ہستی ایسی بھی تھی جس کے پاس نہ کمپیوٹر تھا، نہ کاروباری سرمایہ، نہ مصنوعی ذہانت کے راز۔

اس کے پاس صرف دو ہاتھ تھے۔

اور وہ ہاتھ جب اٹھتے تو آسمان کی طرف اٹھتے۔

یہ لبید کی دادی تھیں۔

وہ ہر روز اپنے پوتے کو دعائیں دیتیں:

”اے اللہ! میرے لبید کو علم دے، حکمت دے، رزقِ حلال دے، نیک نامی دے، اور اس کے ذریعے قرآن کی خدمت لے!“

لبید کبھی ہنستے ہوئے کہتا:

”دادی جان! آپ تو ایسے دعائیں دیتی ہیں جیسے میں کوئی بہت بڑا بادشاہ بننے والا ہوں!“

دادی اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر کہتیں:

”میرے بچے! مجھے تمہیں تختوں کا بادشاہ نہیں بنانا۔ میں چاہتی ہوں کہ تم اپنے اخلاق اور خدمت سے دلوں کے بادشاہ بنو!“

لبید مسکرا دیتا۔

لیکن یہ الفاظ اس کے دل میں اترتے چلے گئے۔

---

تیسرا باب

حافظِ قرآن، عربی کا ادیب، انگریزی کا ماہر اور مصنوعی ذہانت کا شہسوار

وقت گزرتا گیا۔

ننھا لبید جوان ہونے لگا۔

اس نے قرآن کریم حفظ کیا، قراءت و تجوید میں مہارت حاصل کی، دینی علوم کا مطالعہ کیا اور عربی زبان کو اپنی علمی زندگی کا خاص حصہ بنایا۔

وہ عربی میں گفتگو کرتا تو سننے والوں کو اس کے لہجے میں اعتماد محسوس ہوتا۔

انگریزی بولتا تو نئے علمی اور کاروباری افق اس کے سامنے کھلتے۔

لیکن اس کی نگاہ صرف روایتی علوم تک محدود نہ رہی۔

وہ ایک نئے زمانے کی آہٹ سن رہا تھا۔

مصنوعی ذہانت!

ڈیجیٹل معیشت!

بین الاقوامی سرمایہ کاری!

جدید مالیاتی نظام!

ڈیجیٹل کرنسیاں!

اور دنیا بھر کے مالیاتی اداروں میں رائج محاسباتی مہارتیں!

اس نے ACCA کی تعلیم اختیار کی اور مالیات و حسابات میں مہارت حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کی۔

اس کے دوست حیران ہوتے۔

”لبید! آخر تم بننا کیا چاہتے ہو؟ عالم؟ قاری؟ اکاؤنٹنٹ؟ سرمایہ کار؟ یا کمپیوٹر انجینئر؟“

لبید ہنس کر کہتا:

”ان سب علوم کو ایک مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہوں۔“

”اور وہ مقصد؟“

”ایسی معاشی اور علمی قوت بنانا جو قرآن اور عربی کی خدمت کو کسی ایک امیر، ایک حکومت یا ایک چندے کی محتاج نہ رہنے دے!“

یہ جواب سن کر بعض لوگ خوش ہوتے۔

بعض حیران رہ جاتے۔

اور بعض اس کے خواب کو نوجوانی کا جوش سمجھ کر نظرانداز کر دیتے۔

لیکن لبید اپنی راہ پر چلتا رہا۔

اس کی علمی تربیت اور شخصیت سازی میں کئی اساتذہ اور بزرگوں کی محبت شامل رہی۔

خصوصاً ڈاکٹر ابو جریر یوسف القمر اور سعادت مآب شیخ منظور یوسف، رئیس جامعہ علی رض، اس کی حوصلہ افزائی کرتے، اسے علم کے ساتھ تدبر، نظم و ضبط اور اخلاقی ذمہ داری کی تلقین کرتے۔

اس کے علمی حلقے میں ڈاکٹر کلیم راجی، ڈاکٹر نور الحق، ڈاکٹر کریم راجی اور ڈاکٹر احتشام خان جیسے اساتذہ کی علمی رہنمائی اور دعاؤں کو بھی عزت و احترام سے یاد کیا جاتا تھا۔

ایک دن اس کے ایک استاد نے پوچھا:

”لبید! تم اتنے مختلف علوم میں بیک وقت کیوں محنت کر رہے ہو؟ کیا تمہیں اندیشہ نہیں کہ کہیں تمہاری توجہ منتشر نہ ہو جائے؟“

لبید نے جواب دیا:

”استاد محترم! میں ان علوم کو الگ الگ منزلیں نہیں سمجھتا۔“

”تو پھر؟“

لبید نے کہا:

”میں چاہتا ہوں کہ دولت ٹیکنالوجی کی خدمت کرے، ٹیکنالوجی تعلیم کی خدمت کرے، تعلیم قرآن و عربی کی خدمت کرے، اور قرآن کی ہدایت انسان کو اپنے رب سے جوڑ دے!“

استاد کچھ دیر اسے دیکھتے رہے۔

پھر فرمایا:

”لبید! اگر تم نے اپنے اس خواب کو امانت، دیانت اور صبر کے ساتھ حقیقت بنا دیا تو تمہاری زندگی غیرمعمولی ہو سکتی ہے۔“

لبید نے ادب سے سر جھکا دیا۔

لیکن ابھی اس کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ باقی تھا۔

---

چوتھا باب

باپ کی وہ وصیت جس نے بیٹے کی تقدیر بدل دی

جامعۃ اللغۃ العربیۃ المفتوحۃ کا عالمی خواب

ایک شام لبید اپنے والد ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر کے کمرے میں داخل ہوا۔

میز پر عربی زبان کی کتابیں، جامعات کے منصوبے، تعلیمی نصاب اور مختلف ممالک کے نقشے بکھرے ہوئے تھے۔

باپ ایک قدیم خواب کے نئے خاکے پر کام کر رہا تھا۔

جامعۃ اللغۃ العربیۃ المفتوحۃ بپاکستان۔

یہ وہ جامعہ تھی جس کے ذریعے ڈاکٹر ولی خان المظفر چاہتے تھے کہ پاکستان ہی نہیں، دنیا بھر میں عربی زبان کی تعلیم عام ہو۔

وہ چاہتے تھے کہ قرآن سمجھنے کی بنیادی استعداد مسلمانوں کے عام گھروں تک پہنچے۔

وہ چاہتے تھے کہ عربی صرف چند مدارس اور جامعات کی چار دیواری تک محدود نہ رہے۔

بلکہ ایک عام مزدور، دکاندار، کسان، طالب علم، ڈاکٹر اور انجینئر بھی اس زبان کے دروازے پر دستک دے سکے۔

لبید نے کاغذات دیکھے۔

پھر پوچھا:

”ابو جان! آپ یہ جامعہ کتنے طلبہ کے لیے بنانا چاہتے ہیں؟“

باپ نے کہا:

”جتنے زیادہ انسانوں تک پہنچ سکے، اتنا بہتر ہے۔“

لبید نے پوچھا:

”اگر ہم دس لاکھ تک پہنچ جائیں؟“

باپ مسکرایا۔

”بڑی کامیابی ہوگی۔“

”اور ایک کروڑ؟“

”بہت عظیم کامیابی!“

لبید نے اچانک پوچھا:

”اور اگر ہم دس کروڑ انسانوں تک پہنچ جائیں؟“

باپ نے اس کی طرف دیکھا۔

”بیٹا! تم جانتے ہو، اس کے لیے کتنے وسائل درکار ہوں گے؟“

لبید نے کہا:

”میں جاننا چاہتا ہوں۔“

باپ نے سمجھایا:

”بہترین اساتذہ، عالمی معیار کے نصاب، بین الاقوامی نظامِ امتحانات، ٹیکنالوجی، زبانوں کے ماہرین، افرادی قوت، مالی وسائل اور مسلسل علمی نگرانی!“

لبید نے پوچھا:

”اگر میں یہ سب مہیا کر دوں تو؟“

باپ کچھ دیر خاموش رہا۔

”پھر تم کیا کرو گے؟“

لبید نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا اعلان کیا:

”ابو جان! میں آپ کی جامعہ کو دنیا کی سب سے بڑی عالمی الیکٹرانک جامعہ بناؤں گا!“

پھر اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔

”ابو جان! میں چاہتا ہوں کہ افریقہ کا بچہ، جاپان کا انجینئر، یورپ کا ڈاکٹر، انڈونیشیا کا کسان اور امریکہ کا طالب علم ایک ہی علمی نظام سے عربی سیکھیں۔“

”میں چاہتا ہوں کہ یہ جامعہ رات کو بند نہ ہو، اس کے دروازوں پر سرحدوں کے پہرے نہ ہوں، غربت اس کے داخلے کی رکاوٹ نہ بنے۔“

باپ نے سنجیدگی سے کہا:

”لبید! اس کے لیے اربوں ڈالر چاہییں۔“

”میں کماؤں گا، ابو جان!“

”اس کے لیے ہزاروں اساتذہ چاہییں۔“

”میں انہیں جمع کروں گا!“

”اس کے لیے عالمی تعلقات چاہییں۔“

”میں انہیں قائم کروں گا!“

باپ نے آخری سوال کیا:

”اور بیٹا، اس کے لیے قرآن اور علم کی امانت کی پاسداری چاہیے۔ اگر کبھی دولت اور امانت آمنے سامنے آ کھڑی ہوئیں تو؟“

لبید خاموش ہو گیا۔

اس نے باپ کے ہاتھ چومے۔

اور کہا:

”ابو جان! آپ مجھے وہ دن دیکھنے نہ دیجیے جب میں دولت کے لیے قرآن کی امانت پر سمجھوتہ کروں۔“

باپ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

اس نے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا۔

اور کہا:

”بیٹا! دولت کماؤ، لیکن دولت کے غلام نہ بننا۔ دنیا فتح کرو، لیکن اپنے دل کو اللہ کی بندگی سے آزاد نہ ہونے دینا۔ قرآن کی خدمت کرنا، لیکن قرآن کو محض تجارت نہ بنا دینا!“

یہ وصیت لبید کی زندگی کا منشور بن گئی۔

اور آگے چل کر یہی وصیت اسے ایک ہولناک بحران میں بچانے والی تھی۔

---

پانچواں باب

تین چچازاد بھائی اور دنیا بدل دینے کا منصوبہ

لبید جانتا تھا کہ عظیم خواب تنہا انسان نہیں اٹھا سکتا۔

ایک دن اس نے اپنے دو چچازاد بھائیوں کو بلایا:

ڈاکٹر ابو تمیم محمد المظفر

اور

ڈاکٹر موسیٰ المظفر۔

تینوں ایک کمرے میں بیٹھے۔

سامنے دنیا کا نقشہ آویزاں تھا۔

لبید نے مارکر اٹھایا۔

کراچی پر ایک دائرہ بنایا۔

اور کہا:

”یہاں سے آغاز ہوگا۔“

ڈاکٹر ابو تمیم نے پوچھا:

”اور منزل کہاں ہے؟“

لبید نے مسکرا کر کہا:

”جہاں تک انسان بستے ہیں!“

ڈاکٹر موسیٰ ہنس پڑے۔

”لبید! کہیں تم پوری دنیا فتح کرنے کا ارادہ تو نہیں رکھتے؟“

لبید نے جواب دیا:

”میں زمینوں کی فتح نہیں چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ عربی سیکھنے والے انسان کے لیے علم کے دروازے کھل جائیں!“

پھر اس نے اپنا منصوبہ پیش کیا۔

ایک عظیم ڈیجیٹل تعلیمی نظام۔

دنیا کی ممتاز جامعات کے ساتھ تعاون۔

نور عالمی، NorAI، جیسے قرآنی و لسانی منصوبوں کی تکنیکی استعداد سے استفادہ۔

مصنوعی ذہانت کی مدد سے انفرادی تعلیم۔

اساتذہ کی براہِ راست نگرانی۔

قرآنی مواد کی مستند علمی جانچ۔

اور ایک ایسا عالمی وقف جو تعلیم کو مستقل مالی بنیاد فراہم کرے۔

تینوں بھائیوں نے ذمہ داریاں تقسیم کیں۔

لبید نے مالیاتی نظام، عالمی سرمایہ کاری، مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی تعلقات کو سنبھالا۔

ڈاکٹر ابو تمیم نے علمی منصوبہ بندی، نصاب اور جامعات کے ساتھ تعاون میں اپنا کردار ادا کیا۔

ڈاکٹر موسیٰ نے ادارہ جاتی تنظیم، تعلیمی مراکز اور خدمتِ خلق کے منصوبوں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

لیکن خواب کا اعلان کرنا آسان تھا۔

اسے حقیقت بنانا نہیں!

چند ماہ بعد پہلی مشکل سامنے آ گئی۔

ابتدائی سرمایہ کم پڑ گیا۔

پھر ایک اہم سرمایہ کار الگ ہو گیا۔

اس کے بعد تکنیکی نظام میں ایسی خامیاں سامنے آئیں جنہوں نے پورے منصوبے کو خطرے میں ڈال دیا۔

ایک دن ڈاکٹر موسیٰ نے تھکے ہوئے لہجے میں پوچھا:

”لبید! کہیں ہم نے اپنی استطاعت سے بڑا خواب تو نہیں دیکھ لیا؟“

ڈاکٹر ابو تمیم نے کہا:

”سرمایہ ختم ہو رہا ہے۔ اب کیا کریں؟“

لبید نے دونوں بھائیوں کو دیکھا۔

اور کہا:

”ہم نے خواب بڑا دیکھا ہے تو اپنی محنت بھی بڑی کرنی ہوگی۔ ہم دوسروں کے سہارے ہمیشہ نہیں چل سکتے۔ میں ایسی کمپنیاں قائم کروں گا جن کی آمدنی اس جامعہ کو چلائے گی!“

ڈاکٹر موسیٰ نے پوچھا:

”اگر تم ناکام ہو گئے؟“

لبید نے جواب دیا:

”تو دوبارہ اٹھیں گے!“

”اور پھر ناکام ہوئے؟“

”تو پھر اٹھیں گے!“

”اور اگر ساری دنیا راستہ روک دے؟“

لبید نے کہا:

”تو ہم اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے نیا راستہ تلاش کریں گے!“

---

چھٹا باب

اربوں ڈالر کا کھیل اور وہ فون کال جس نے لبید کو رُلا دیا

اب لبید زندگی کے ایک نئے میدان میں داخل ہو چکا تھا۔

یہ تھا عالمی معاشیات کا میدان۔

اس نے مصنوعی ذہانت، تعلیمی سافٹ ویئر، ڈیجیٹل مالیاتی خدمات، تجارت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے شعبوں میں قدم رکھا۔

اپنی ACCA کی تعلیم سے حاصل ہونے والی مالیاتی بصیرت کو اس نے عملی تجارت سے جوڑا۔

کاروباری ادارے قائم کیے۔

بہترین ماہرین کی خدمات حاصل کیں۔

انگریزی اور عربی پر عبور نے عالمی کاروباری تعلقات میں اس کی مدد کی۔

پہلی کمپنی کامیاب ہوئی۔

پھر دوسری۔

پھر تیسری۔

تعلیمی ٹیکنالوجی کا اس کا ایک نظام دنیا کی کئی بڑی جامعات نے اختیار کیا۔

آمدنی بڑھتی گئی۔

سرمایہ کاری پھیلتی گئی۔

اور لبید کا نام عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ابھرنے لگا۔

لیکن کامیابی کا سورج ہمیشہ ایک ہی طرح روشن نہیں رہتا۔

ایک دن عالمی ڈیجیٹل مالیاتی منڈی شدید بحران کا شکار ہو گئی۔

کچھ ایسے اثاثوں کی قیمتیں تیزی سے گر گئیں جن میں لبید کی سرمایہ کاری تھی۔

چند گھنٹوں میں ناقابلِ تصور نقصان ہو گیا۔

اسکرینوں پر سرخ ہندسے بڑھتے جا رہے تھے۔

ملازمین پریشان تھے۔

مالیاتی مشیر سکتے میں تھے۔

عالمی ذرائع ابلاغ چیخ رہے تھے:

”لبید المظفر کی مالیاتی سلطنت لرز اٹھی!“

اس کے ایک دوست نے فون کیا۔

”لبید! تم نے اربوں ڈالر کھو دیے!“

لبید نے گہری سانس لی۔

اور جواب دیا:

”ہاں، نقصان بہت بڑا ہے۔“

”تمہیں ڈر نہیں لگ رہا؟“

لبید نے کہا:

”ڈر ضرور ہے، لیکن ابھی میرے پاس میرا ایمان ہے، میرا علم ہے، میرے ہاتھ کام کرنے کے قابل ہیں، میرے والدین اور خاندان کی محبت باقی ہے۔“

فون بند ہوا۔

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

لبید نے اپنی ماں کا نمبر ملایا۔

”السلام علیکم، امی جان!“

”وعلیکم السلام، میرے بچے! کیسے ہو؟“

لبید کی آواز بھرا گئی۔

”امی! آج بہت بڑا نقصان ہو گیا۔“

ماں نے پوچھا:

”کتنا؟“

لبید نے رقم بتائی۔

ماں چند لمحے خاموش رہیں۔

پھر پوچھا:

”لبید! تم نے اپنا ایمان تو نہیں کھویا؟“

”نہیں، امی جان!“

”تم نے کسی کی امانت میں خیانت تو نہیں کی؟“

”نہیں!“

”تمہاری صحت اور محنت کرنے کی صلاحیت باقی ہے؟“

”جی امی!“

”تمہارے پاس دوبارہ شروع کرنے کا حوصلہ ہے؟“

لبید نے رندھی ہوئی آواز میں کہا:

”کوشش کروں گا، امی!“

ماں نے کہا:

”تو پھر میرے بچے! تم برباد نہیں ہوئے۔ پیسہ واپس آ سکتا ہے، لیکن ایمان، کردار اور امانت چلی جائے تو انسان حقیقی معنوں میں غریب ہو جاتا ہے!“

لبید کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اس نے کہا:

”امی! مجھے دعا دیجیے۔“

ماں نے جواب دیا:

”میری دعائیں تو تمہارے ساتھ ہیں، بیٹا! لیکن ایک بات یاد رکھنا، دولت کم ہو جائے تو دل چھوٹا نہ کرنا، اور زیادہ ہو جائے تو دل میں غرور نہ آنے دینا۔“

اس رات لبید بہت دیر تک جاگتا رہا۔

اس نے کمپنیوں کے کھاتے دوبارہ کھولے۔

مخاطر کا جائزہ لیا۔

سرمایہ کاری کا نظام تبدیل کیا۔

اپنے تجارتی اثاثوں کو تعلیمی وقف کے اثاثوں سے واضح طور پر الگ کیا۔

اور دوبارہ محنت شروع کر دی۔

کئی برس گزرے۔

کمپنیاں پھر کامیاب ہوئیں۔

پھر غیرمعمولی ترقی ہوئی۔

اور اس افسانوی مستقبل میں لبید کی دولت بڑھتے بڑھتے سو ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی۔

دنیا نے اسے ارب پتی کہا۔

کچھ نے اسے ڈیجیٹل معیشت کا شہنشاہ کہا۔

کچھ نے مصنوعی ذہانت کی دنیا کا نیا معمار کہا۔

لیکن لبید نے ایک دن سب کو حیران کر دیا۔

اس نے اعلان کیا:

الوقف المظفری العالمی للقرآن واللغۃ العربیۃ

”میں اپنی دولت کا ایک عظیم حصہ ایسے عالمی تعلیمی وقف میں منتقل کر رہا ہوں جس کی آمدنی قرآن کریم، عربی زبان اور مستحق طلبہ کی تعلیم پر خرچ ہوگی!“

یہ اعلان عالمی اقتصادی حلقوں میں ایک بڑی خبر بن گیا۔

لیکن لبید کے دل میں ایک اور خواہش تھی۔

وہ اپنے والد کو بتانا چاہتا تھا:

”ابو جان! آپ کی جامعہ اب مالی وسائل کی محتاج نہیں رہے گی۔“

---

ساتواں باب

وہ دشمن جو نظر نہیں آتا تھا

جب دولت، شہرت اور قرآنی امانت آمنے سامنے آ گئیں!

اب ہم دوبارہ اس رات کی طرف لوٹتے ہیں جس سے یہ داستان شروع ہوئی تھی۔

رات کے دو بج کر سترہ منٹ۔

مرکزی نظام میں خرابی۔

افتتاح سے صرف بہتر گھنٹے پہلے عالمی منصوبہ بحران کا شکار۔

لبید کے حکم سے افتتاح ملتوی ہو چکا تھا۔

اگلی صبح مالیاتی منڈیوں میں بے چینی پھیل گئی۔

کاروباری اداروں نے سوالات اٹھائے۔

بعض اخبارات نے لکھا کہ لبید کا خواب شاید اپنی ہی عظمت کے بوجھ سے ٹوٹ گیا ہے۔

ایک بڑے تجارتی ادارے نے فوری رابطہ کیا۔

اس کی پیشکش حیرت انگیز تھی۔

”ہم آپ کو مالی تحفظ فراہم کریں گے، نقصان پورا کرنے میں مدد دیں گے، عالمی مارکیٹنگ سنبھال لیں گے، اور منصوبے کو دوبارہ کامیاب بنا دیں گے۔“

لبید نے پوچھا:

”بدلے میں کیا چاہتے ہیں؟“

جواب آیا:

”تعلیمی مواد کے تجارتی حقوق میں وسیع حصہ اور صارفین کے ڈیٹا سے متعلق خصوصی اختیارات!“

لبید نے معاہدہ پڑھا۔

دوبارہ پڑھا۔

پھر فائل بند کر دی۔

”مجھے افسوس ہے۔“

سامنے بیٹھے نمائندے نے حیران ہو کر کہا:

”ڈاکٹر لبید! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اتنی بڑی پیشکش ٹھکرا سکتے ہیں؟“

لبید نے جواب دیا:

”میں بچوں کو قرآن پڑھانے کے نام پر ان کی ذاتی معلومات کسی تجارتی ادارے کے حوالے نہیں کر سکتا!“

”لیکن آپ کو بھاری نقصان ہوگا!“

لبید نے کہا:

”نقصان قبول ہے، لیکن اعتماد کا سودا قبول نہیں!“

ادھر تکنیکی بحران بڑھتا جا رہا تھا۔

دن رات انجینئر کام کر رہے تھے۔

علمی جانچ کا عمل نئے سرے سے جاری تھا۔

ڈاکٹر سمیع اللہ درانی سے رابطہ کیا گیا۔

متعلقہ قرآنی ماہرین، لسانی متخصصین اور تکنیکی ٹیموں کو جمع کیا گیا۔

ڈاکٹر ابو تمیم اور ڈاکٹر موسیٰ مسلسل مصروف تھے۔

لبید کی بہنیں بھی میدان میں آ گئیں۔

انہوں نے بچوں اور عام صارفین کے نقطۂ نظر سے پروگراموں کی جانچ کی۔

سبق کی زبان، وضاحت، تلفظ، آسانی، ترتیب اور تدریسی طریقے پر تفصیلی ملاحظات پیش کیے۔

گھر کا ہر فرد اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کر رہا تھا۔

لیکن لبید کی حالت بگڑ رہی تھی۔

مسلسل بیداری۔

ذہنی دباؤ۔

کمپنیوں کے نقصانات۔

بین الاقوامی تنقید۔

اور سب سے بڑھ کر قرآن کے علمی مواد کی صحت کی فکر!

ایک رات وہ دفتر میں اکیلا بیٹھا تھا۔

میز پر کھلا ہوا مصحف رکھا تھا۔

آنکھیں سرخ تھیں۔

دروازہ آہستہ سے کھلا۔

اس کی ماں اندر آئیں۔

”لبید!“

وہ فوراً کھڑا ہو گیا۔

”امی جان! آپ یہاں؟“

ماں نے بیٹے کا چہرہ دیکھا۔

پھر محبت سے پوچھا:

”میرے بچے! کب سے نہیں سوئے؟“

لبید نے نظریں جھکا لیں۔

”امی! ابھی کام باقی ہے۔“

”کب ختم ہوگا؟“

”جب مجھے اطمینان ہو جائے کہ ہم نے اپنی پوری استطاعت کے مطابق غلطیوں کی روک تھام کا انتظام کر لیا ہے۔“

ماں کی آنکھیں بھر آئیں۔

انہوں نے کہا:

”بیٹا! میں نے قرآن اس لیے یاد کیا تھا کہ اسے اپنے دل میں محفوظ رکھوں۔ تم نے اس کی تعلیم دنیا تک پہنچانے کا ارادہ کیا ہے۔ اللہ تمہیں اخلاص اور امانت کی توفیق دے۔“

پھر ماں نے قرآن کی آیت پڑھی:

﴿وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا﴾

”اور کہیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔“

لبید نے ماں کے ہاتھ چومے۔

”امی! دعا کیجیے کہ یہ آزمائش ہمارے لیے خیر بن جائے۔“

ماں نے دونوں ہاتھ اٹھائے۔

اور دعا دی۔

چند دن کی غیرمعمولی جدوجہد کے بعد تکنیکی خرابی دور کر دی گئی۔

علمی مواد کی دوبارہ جانچ ہوئی۔

غلطیوں کی نشاندہی اور اصلاح کے لیے مزید سخت نظام قائم کیے گئے۔

اور پھر دنیا کے سامنے لبید خان المظفر نمودار ہوا۔

بین الاقوامی پریس کانفرنس میں صحافی سوالات کی بوچھاڑ کر رہے تھے۔

”آپ نے اتنا بڑا نقصان کیوں قبول کیا؟“

”کیا آپ نے اپنے انجینئروں پر اعتماد کھو دیا؟“

”کیا آپ کے منصوبے میں مستقبل میں بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں؟“

لبید نے مائیک سنبھالا۔

کہا:

”ہاں، غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ انسانوں کی بنائی ہوئی ٹیکنالوجی معصوم نہیں ہوتی۔“

پھر اس نے تاریخی جملہ کہا:

”قرآن کریم اللہ کا کلام ہے، لیکن قرآن پڑھانے والے ہمارے سافٹ ویئر انسانوں کی بنائی ہوئی مصنوعات ہیں۔ ہم ان کے لیے عصمت کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ ہمارا فرض یہ ہے کہ ان کی علمی نگرانی، مسلسل تصحیح اور ذمہ دارانہ استعمال کا بہترین ممکنہ انتظام کریں!“

ایک صحافی نے پوچھا:

”اور آپ کے اربوں ڈالر؟“

لبید نے جواب دیا:

”اگر مال کی حفاظت کے لیے امانت قربان کرنی پڑے تو میں مال کی حفاظت کو کامیابی نہیں سمجھتا۔“

پریس کانفرنس ختم ہوئی۔

دنیا حیران تھی۔

جس نوجوان کو لوگ کاروباری شکست کا شکار سمجھ رہے تھے، وہ اپنے اصول پر قائم رہ کر عالمی اعتماد حاصل کر رہا تھا۔

اس رات لبید نے اپنے باپ کو فون کیا۔

”ابو جان!“

”جی میرے بیٹے!“

”آپ کی ایک نصیحت نے مجھے آج اربوں ڈالر کے مقابلے میں ایک صحیح فیصلہ کرنے کی طاقت دی۔“

باپ نے پوچھا:

”کون سی نصیحت؟“

لبید نے رندھی ہوئی آواز میں کہا:

”قرآن کو محض تجارت نہ بنا دینا!“

دوسری طرف کچھ دیر خاموشی رہی۔

پھر باپ نے کہا:

”الحمد للہ، بیٹا! تم نے میری بات یاد رکھی۔“

---

آٹھواں باب

کنگز، صدور، علما اور دنیا کے بڑے ایوان

وہ نوجوان جس کی دوستی کا سرمایہ محبت تھی

دنیا نے لبید کی زندگی کا ایک نیا دور دیکھا۔

اس کی کمپنیاں اب زیادہ منظم تھیں۔

اس کا تعلیمی منصوبہ مضبوط بنیادوں پر قائم ہو چکا تھا۔

اور عالمی علمی حلقوں میں اس کی شخصیت کو سنجیدگی سے لیا جانے لگا۔

اس نے سفر شروع کیے۔

ریاض!

مکہ مکرمہ!

قاہرہ!

دمشق!

کوالالمپور!

لندن!

نیویارک!

واشنگٹن!

اور دنیا کے مختلف علمی و کاروباری مراکز۔

اس تخیلاتی داستان کے مستقبل میں اس کی ملاقاتوں کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔

عبدول سید، احمد الشرع اور شہزادہ محمد بن سلمان جیسی ممتاز شخصیات سے ہونے والی فرضی ملاقاتوں میں بھی اس کی گفتگو کا مرکز ایک ہی رہتا:

”دنیا کی بڑی طاقتیں تجارت، صنعت، دفاع اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ لگاتی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ قرآن، عربی زبان اور تعلیم بھی عالمی ترقی کے منصوبوں میں نمایاں مقام حاصل کریں!“

علمی میدان میں ڈاکٹر محمود صدیق، ڈاکٹر محمد القرنی ابو عمر، ڈاکٹر حبیب عبدالرزاق اور مفتی حبیب حسین جیسے اہلِ علم سے اس کے علمی روابط اور مفید مکالمے اس داستان کا حصہ بنے۔

پاکستان میں ڈاکٹر سمیع اللہ درانی کے ساتھ اس کی علمی و تکنیکی رفاقت نے نور عالمی NorAI اور دیگر تعلیمی منصوبوں کے لیے تعاون کی نئی راہیں کھولیں۔

امریکہ میں جامعہ پاسن العالمية کے نائب صدر ڈاکٹر علی فؤاد مخیمر کے ساتھ اس کی تخیلاتی ملاقاتوں میں تعلیمی اشتراک، تحقیق اور عالمی جامعات کے تعاون پر تبادلۂ خیال ہوا۔

کراچی میں سماحۃ المفتی ڈاکٹر عبدالرحیم شاہ، رئیس جامعہ الغزالی، اور مختلف علمی و دینی اداروں سے اس کا تعلق احترام اور محبت پر قائم رہا۔

ڈاکٹر ابو جریر یوسف القمر اور شیخ منظور یوسف اس کی ترقی کو دیکھ کر مسرور ہوتے۔

اور لبید جہاں بھی جاتا، اپنے اساتذہ کا ذکر احترام سے کرتا۔

اس کے دوستوں میں کراچی اور پاکستان کے عسکری و شہری حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔

عالمِ عرب کے مختلف علمی و سماجی حلقوں میں بھی اس کے تعلقات وسیع ہوتے گئے۔

لیکن اس کی شخصیت کی ایک بات سب کو حیران کرتی۔

وہ کسی بڑے ایوان میں داخل ہوتا تو پہلے دروازے پر کھڑے کارکن کو سلام کرتا۔

کسی بادشاہ یا صدر سے ملاقات ہوتی تو وقار سے بات کرتا۔

کسی غریب طالب علم سے ملتا تو محبت سے اس کے برابر بیٹھ جاتا۔

ایک مرتبہ کسی نے پوچھا:

”لبید صاحب! آپ اتنے بڑے بڑے لوگوں سے ملتے ہیں۔ کیا کبھی خود کو بھی ان جیسا بڑا محسوس نہیں کرتے؟“

لبید نے کہا:

”بڑے لوگوں سے ملنا خود بڑے ہونے کی دلیل نہیں۔“

پھر مسکرا کر بولا:

”دولت محلوں کے دروازے کھول سکتی ہے، لیکن دلوں کے دروازے صرف اخلاق کھولتے ہیں!“

یہی وجہ تھی کہ اس کے بہت سے دوست اس کی دولت سے زیادہ اس کی وفاداری کے معترف تھے۔

اور وہ اپنے پرانے دوستوں کو کبھی نہیں بھولتا تھا۔

---

نواں باب

کراچی سے پانچ براعظموں تک

جب باپ کا چھوٹا سا خواب عالمی جامعہ بن گیا

برس گزرتے گئے۔

جامعۃ اللغۃ العربیۃ المفتوحۃ بپاکستان کی شہرت پھیلتی گئی۔

اس نے عربی زبان کو جدید تعلیم کے ساتھ جوڑا۔

قرآن کی تلاوت، تجوید، بنیادی فہمِ قرآن، عربی مکالمہ، ادب، لسانیات، ترجمہ، تحقیق اور تدریس کے متنوع پروگرام شروع ہوئے۔

دنیا کی مختلف زبانوں میں عربی سیکھنے کے تعارفی ذرائع تیار کیے گئے۔

غریب اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کے لیے مفت تعلیم کے مواقع بڑھائے گئے۔

مصنوعی ذہانت کو معاون استاد کے طور پر استعمال کیا گیا، جبکہ اصل علمی نگرانی اہلِ علم اور تربیت یافتہ اساتذہ کے ہاتھ میں رہی۔

ہر ملک میں مقامی ضرورتوں کو سامنے رکھا گیا۔

کہیں آف لائن تعلیم کا انتظام ہوا۔

کہیں کمزور انٹرنیٹ کے لیے خصوصی پروگرام بنے۔

کہیں مقامی اساتذہ کو تربیت دی گئی۔

اور کہیں معذور افراد کے لیے قابلِ رسائی تعلیمی نظام تیار کیے گئے۔

پہلے دس لاکھ طلبہ نے استفادہ کیا۔

پھر تعداد ایک کروڑ تک پہنچی۔

پھر پانچ کروڑ۔

پھر دس کروڑ۔

اور اس خیالی مستقبل میں ایک دن ایسا بھی آیا جب عالمی تعلیمی نیٹ ورک سے استفادہ کرنے والوں کی مجموعی تعداد پچاس کروڑ تک پہنچ گئی۔

ایک رات لبید کے سامنے رپورٹ پیش کی گئی۔

اس کے پہلے صفحے پر لکھا تھا:

500,000,000

پچاس کروڑ مستفیدین!

لبید نے عدد دیکھا۔

پھر دوبارہ دیکھا۔

کچھ دیر بول نہ سکا۔

اس کی نگاہوں کے سامنے برسوں پرانی تصویریں گردش کرنے لگیں۔

وہ کمرہ جہاں اس کا باپ تعلیمی منصوبے بنایا کرتا تھا۔

وہ میز جس پر عربی کتابیں بکھری ہوتی تھیں۔

وہ شام جب اس نے کہا تھا:

”ابو جان! میں آپ کی جامعہ دنیا کے ہر گھر تک پہنچاؤں گا!“

وہ چھوٹا دفتر جہاں اس نے اپنے چچازاد بھائیوں کے ساتھ دنیا کا نقشہ بنایا تھا۔

وہ دن جب سرمایہ ختم ہو گیا تھا۔

وہ رات جب کمپنیوں کا نقصان ناقابلِ برداشت ہو گیا تھا۔

اور وہ لمحہ جب اسے اربوں ڈالر یا قرآنی امانت میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑا تھا۔

اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

لیکن اس نے کوئی جشن منانے کا حکم نہیں دیا۔

اس نے اپنے مدیر سے پوچھا:

”پچاس کروڑ مستفیدین کی بات تو آپ نے بتا دی۔“

”جی سر!“

”یہ بتائیے کہ ان میں سے کتنے طلبہ نے واقعی اپنے تعلیمی اہداف حاصل کیے؟“

مدیر خاموش رہا۔

لبید نے دوسرا سوال کیا:

”کتنے اساتذہ تربیت یافتہ ہوئے؟“

پھر پوچھا:

”کتنے غریب بچوں کو مستقل تعلیم ملی؟“

اور آخر میں کہا:

”اعداد و شمار سے ہماری کامیابی کا حجم معلوم ہو سکتا ہے، لیکن کامیابی کی حقیقت تعلیم کے معیار اور انسان کی زندگی میں آنے والی تبدیلی سے ظاہر ہوتی ہے!“

اس رات ایک نئی تحقیق شروع ہوئی۔

دنیا کو صرف تعداد نہیں، تعلیمی نتائج بھی دکھانے تھے۔

---

دسواں باب

وہ دن جب حافظہ ماں رو پڑی

اور ایک ارب پتی نوجوان دنیا کے سامنے اپنے والدین کے قدموں میں جھک گیا

کراچی میں ایک عظیم عالمی تعلیمی کانفرنس منعقد ہوئی۔

دنیا کے ممتاز علما، جامعات کے سربراہان، اقتصادی ماہرین، ٹیکنالوجی کے قائدین اور بین الاقوامی تعلیمی شخصیات موجود تھیں۔

شاندار ہال کے مرکزی پردے پر جلی حروف میں لکھا تھا:

من كراتشي إلى العالم

العربية تجمع القلوب

کراچی سے دنیا تک — عربی دلوں کو جوڑتی ہے!

پہلی صف میں ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر تشریف فرما تھے۔

ان کے قریب لبید کی والدہ، حافظۂ قرآن، بیٹھی تھیں۔

خاندان کے دیگر افراد، لبید کی بہنیں، چچازاد بھائی، اساتذہ، دوست اور رفقا بھی موجود تھے۔

لبید کی دادی بھی اپنے پوتے کی عظیم کامیابی دیکھنے کے لیے آئی تھیں۔

پروگرام شروع ہوا۔

مرکزی پردہ روشن ہوا۔

پہلا منظر افریقہ کے ایک دور افتادہ گاؤں کا تھا۔

ایک چھوٹا بچہ قرآن پڑھ رہا تھا۔

اس کے سامنے ایک سادہ سا تعلیمی آلہ رکھا تھا۔

پھر انڈونیشیا کی ایک طالبہ دکھائی گئی۔

وہ رواں عربی میں تقریر کر رہی تھی۔

اس کے بعد جاپان کا ایک نوجوان عربی ادب کا سبق پڑھ رہا تھا۔

پھر یورپ کا ایک طالب علم قرآن کی عربی سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس کے بعد پاکستان کے ایک پہاڑی علاقے میں قائم چھوٹا سا تعلیمی مرکز دکھایا گیا۔

بچے زمین پر بیٹھے تھے۔

سامنے استاد تھا۔

اور اس کے ہاتھ میں جامعہ کا تعلیمی آلہ۔

اچانک اسکرین پر ایک ننھا بچہ نمودار ہوا۔

اس نے بڑے معصوم لہجے میں عربی زبان میں کہا:

”میں ایک ایسے گاؤں سے ہوں جہاں عربی پڑھانے والا کوئی استاد نہیں تھا۔ پھر ہمیں آپ کی جامعہ کے ذریعے تعلیم ملی۔ اب میں قرآن پڑھ سکتا ہوں۔ جب بڑا ہوں گا تو بچوں کو قرآن پڑھاؤں گا۔“

یہ کہتے ہوئے بچہ مسکرا دیا۔

اس کے چہرے پر وہ مسکراہٹ تھی جسے کسی دولت سے خریدا نہیں جا سکتا۔

لبید اپنی نشست پر بیٹھا تھا۔

اس نے اپنا چہرہ جھکا لیا۔

اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

پروگرام کے منتظم نے اعلان کیا:

”اب ہم دعوت دیتے ہیں اس عظیم تعلیمی تحریک کے عالمی معمار، ڈاکٹر لبید خان المظفر کو!“

ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔

لبید اسٹیج پر آیا۔

سامنے دنیا کی ممتاز شخصیات موجود تھیں۔

وہ کچھ دیر مائیک کے سامنے خاموش کھڑا رہا۔

پھر بولا:

”خواتین و حضرات!

آج آپ ایک ایسی جامعہ کی کامیابی کا جشن منانے آئے ہیں جس سے کروڑوں انسان استفادہ کر رہے ہیں۔

آپ نے اس منصوبے کی لاگت دیکھی۔

آپ نے اربوں ڈالر کے اعداد و شمار سنے۔

آپ نے عالمی جامعات کی شراکتوں کے بارے میں جانا۔

لیکن میں آج آپ کو ایک ایسی حقیقت بتانا چاہتا ہوں جس کا ذکر اقتصادی رسائل میں کم ہوتا ہے۔“

ہال خاموش ہو گیا۔

لبید نے کہا:

”میں اس کامیابی کا تنہا معمار نہیں ہوں!“

پھر اس نے پہلی صف کی طرف دیکھا۔

”یہاں میرے والد بیٹھے ہیں۔

ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر!

وہ شخص جس نے عربی زبان کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔

جس نے ایک وقت میں محدود وسائل کے ساتھ عالمی عربی جامعہ کا خواب دیکھا۔

جس نے مجھے بتایا کہ زبانیں قوموں کے درمیان دیوار نہیں، پل بن سکتی ہیں۔“

باپ کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔

لبید کی آواز بھرائی:

”یہاں میری والدہ بیٹھی ہیں۔

وہ ماں جس نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن میں قرآن حفظ کیا۔

جس کی تلاوت سے ہمارے گھر کی صبحیں روشن ہوتی تھیں۔

جس نے مجھے بچپن میں کہا تھا کہ دنیا کے لاکھوں بچوں تک قرآن پہنچانا۔“

اب اس کی آواز کانپنے لگی۔

”امی جان!“

اس نے براہِ راست اپنی ماں کو مخاطب کیا۔

”آپ کو وہ صبح یاد ہے جب میں نے پوچھا تھا کہ آپ روز قرآن پڑھ کر تھکتی کیوں نہیں؟“

ماں کے ہونٹ کانپنے لگے۔

لبید بولا:

”امی جان! آپ نے فرمایا تھا کہ قرآن روح کی غذا ہے۔ آپ نے کہا تھا کہ میرا بیٹا لاکھوں بچوں کے دلوں میں قرآن کی محبت پیدا کرے۔“

وہ چند لمحے خاموش رہا۔

پھر بولا:

”امی! آج اس داستان کی دنیا میں لاکھوں نہیں، کروڑوں بچے قرآن اور عربی سیکھ رہے ہیں۔ آپ کی وہ دعا۔۔۔ آپ کا وہ خواب۔۔۔ آج ایک عالمگیر تحریک بن گیا ہے!“

ماں اپنے آنسو نہ روک سکیں۔

انہوں نے چہرے پر ہاتھ رکھ لیے۔

ہال میں بیٹھے بہت سے لوگ بھی رو پڑے۔

لبید نے کہا:

”یہاں میری دادی بیٹھی ہیں۔

وہ دادی جو میرے لیے دعا کرتی تھیں کہ اللہ مجھے دلوں کا بادشاہ بنائے۔“

دادی کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے۔

”یہاں میری بہنیں ہیں، جنہوں نے مجھے بچپن میں غلطیاں درست کرنا سکھایا اور بعد میں ہمارے منصوبوں کی اصلاح میں حصہ لیا۔“

”یہاں میرے چچازاد بھائی ڈاکٹر ابو تمیم محمد المظفر اور ڈاکٹر موسیٰ المظفر موجود ہیں۔ وہ میرے ساتھی ہیں، میری جدوجہد کے شریک ہیں۔“

”میرے اساتذہ، میرے دوست، میرے علمی رفقا، ہمارے انجینئر، معلمین، محققین اور کارکنان۔۔۔ سب اس کامیابی میں شریک ہیں۔“

پھر لبید نے ایک ایسا جملہ کہا جس نے پوری مجلس کو متاثر کیا:

”لوگ کہتے ہیں کہ لبید نے ایک عظیم جامعہ بنائی۔ میں کہتا ہوں کہ ایک عظیم خاندان، نیک دعاؤں اور بے شمار مخلص انسانوں نے مل کر لبید کو بنایا!“

پھر وہ اسٹیج سے نیچے اترا۔

سب حیران تھے۔

وہ سیدھا اپنی ماں کے پاس گیا۔

اس نے ان کے ہاتھ چومے۔

ماں نے بیٹے کو سینے سے لگا لیا۔

لبید بچے کی طرح رو رہا تھا۔

پھر وہ اپنے باپ کے پاس آیا۔

ان کے سر کو بوسہ دیا۔

اور کہا:

”ابو جان! آپ نے کراچی میں ایک جامعہ کا چراغ روشن کیا تھا۔ اللہ کے فضل سے آج اس کی روشنی دنیا کے مختلف گوشوں تک پہنچ رہی ہے۔ یہ کامیابی آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں!“

باپ نے اسے گلے لگا لیا۔

اور کہا:

”بیٹا! مجھے تمہاری دولت سے خوشی نہیں، تمہارے کردار سے خوشی ہے۔“

پھر فرمایا:

”مجھے آج اس بات پر فخر ہے کہ میرا بیٹا ارب پتی ہو کر بھی اپنی ماں کے ہاتھ چومنا نہیں بھولا، اپنے استاد کو عزت دینا نہیں بھولا، اور قرآن کی امانت کو دولت پر ترجیح دینا نہیں بھولا!“

ہال میں پھر تالیاں گونجنے لگیں۔

لیکن لبید اب اپنی دادی کی طرف بڑھ رہا تھا۔

وہ ان کے قدموں کے قریب بیٹھ گیا۔

دادی نے اس کے چہرے کو دیکھا۔

اور مسکرا کر کہا:

”لبید! میں نے تم سے کیا کہا تھا؟“

لبید نے آنسو پونچھے۔

”دادی جان! آپ نے کہا تھا کہ مجھے تختوں کا نہیں، دلوں کا بادشاہ بننا ہے۔“

دادی نے کہا:

”پھر آج کیا بنے؟“

لبید نے کہا:

”دادی! اگر اللہ نے لوگوں کے دلوں میں محبت دی ہے تو یہ آپ کی دعاؤں اور سب کی محبت کا ثمر ہے۔“

دادی نے ہاتھ اٹھائے۔

”یا اللہ! میرے بچے کو دنیا کی دولت کے ساتھ آخرت کی کامیابی بھی عطا فرما!“

وہ لمحہ اتنا مؤثر تھا کہ بہت سے حاضرین اپنی نشستوں پر خاموش بیٹھے آنسو صاف کر رہے تھے۔

دنیا جس نوجوان کو شہنشاہِ دولت کہتی تھی، وہ اپنی کامیابی کو والدین کی تربیت اور دعاؤں کا قرض سمجھ رہا تھا۔

---

گیارھواں باب

ارب پتی کا آخری امتحان

جب ایک غریب بچے نے دنیا کے امیر ترین نوجوان کو بے چین کر دیا!

کانفرنس کے چند ماہ بعد لبید کے دفتر میں ایک رپورٹ پہنچی۔

اس میں بتایا گیا تھا کہ دنیا کے کئی غریب علاقوں میں آج بھی لاکھوں بچے بنیادی تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں۔

کسی کے پاس کمپیوٹر نہیں۔

کسی کے گاؤں میں انٹرنیٹ نہیں۔

کسی کے پاس بجلی نہیں۔

کسی علاقے میں اچھے اساتذہ دستیاب نہیں۔

لبید رپورٹ پڑھتا گیا۔

اس کے چہرے کی مسکراہٹ ماند پڑتی گئی۔

اس نے اپنے منتظم کو بلایا۔

پوچھا:

”یہ علاقے ہمارے تعلیمی نظام سے کیوں باہر ہیں؟“

منتظم نے جواب دیا:

”سر! وہاں تکنیکی اور مالی مسائل بہت زیادہ ہیں۔“

”تو کیا انہیں چھوڑ دیں؟“

”سر! ہم پہلے ہی کروڑوں لوگوں تک پہنچ چکے ہیں۔ پوری دنیا کے مسائل تو حل نہیں کر سکتے۔“

لبید نے آہستہ سے کہا:

”یہ بات درست ہے کہ ہم سب مسائل حل نہیں کر سکتے۔ لیکن جو کچھ کر سکتے ہیں، وہ کیوں نہ کریں؟“

پھر وہ کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔

اسے اچانک اپنے والد کی زندگی کے ابتدائی حالات یاد آئے۔

وہ پہاڑی علاقے۔

وہ دشوار گزار راستے۔

وہ بستیاں جہاں کبھی بجلی اور جدید سہولتیں میسر نہ تھیں۔

اس نے سوچا:

”اگر میرے والد بھی تعلیم سے محروم رہ جاتے تو؟ اگر انہیں علم کے مراکز تک پہنچنے کا موقع نہ ملتا تو؟“

یہ خیال اس کے دل میں تیر کی طرح اترا۔

اس نے اسی دن عالمی تعلیمی کونسل کا اجلاس بلایا۔

اور اعلان کیا:

ایک ملین تعلیمی مراکز!

”ہم دنیا کے پسماندہ علاقوں میں دس لاکھ چھوٹے تعلیمی مراکز قائم کرنے کا ایک مرحلہ وار منصوبہ شروع کریں گے!“

کمرے میں حیرت پھیل گئی۔

”دس لاکھ؟“

”جی ہاں!“

”اس کے لیے تو بے پناہ سرمایہ چاہیے!“

لبید نے کہا:

”ہم اسے مرحلہ وار چلائیں گے۔ وقف کی آمدنی، عالمی تعاون، مقامی اداروں اور جدید سستی ٹیکنالوجی کو استعمال کریں گے۔“

”اور اگر پورا منصوبہ مکمل نہ ہو سکا؟“

لبید نے کہا:

”تو جتنے مراکز بنیں گے، اتنے ہی بچوں کی زندگیوں میں روشنی آئے گی۔ کسی اچھے کام کو صرف اس لیے چھوڑ نہیں دینا چاہیے کہ ہم ایک ہی دن پوری دنیا نہیں بدل سکتے!“

اس نے منصوبے کی تفصیل پیش کی۔

شمسی توانائی سے چلنے والے تعلیمی آلات۔

بغیر مستقل انٹرنیٹ کے استعمال ہونے والے عربی و قرآنی اسباق۔

مقامی معلمین کی تربیت۔

مستحق طلبہ کے لیے مفت سہولتیں۔

خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کے لیے موزوں نظام۔

اور تعلیم کے معیار کی باقاعدہ نگرانی۔

اس منصوبے کے لیے مستقبل کے اس افسانوی منظرنامے میں کئی مرحلوں پر اربوں ڈالر مختص کیے گئے۔

لیکن لبید نے ایک شرط رکھی:

”کوئی بچہ محض غربت کی وجہ سے علم کے دروازے سے واپس نہ لوٹے!“

اب اس کی دولت کا ایک نیا سفر شروع ہو چکا تھا۔

وہ دولت جسے لوگ بینکوں کے اعداد و شمار سے پہچانتے تھے، اب کتابوں، اساتذہ، تعلیمی مراکز اور بچوں کی مسکراہٹوں میں ڈھل رہی تھی۔

---

بارھواں باب

وہ کمرہ جہاں اربوں ڈالر سے بڑی دولت محفوظ تھی

باپ کا خواب، ماں کا مصحف اور ایک نئی نسل کی وصیت

زندگی کے کئی برس گزر چکے تھے۔

لبید خان المظفر اب عالمی شہرت یافتہ شخصیت تھا۔

اس کے ادارے دنیا کے مختلف ملکوں میں کام کر رہے تھے۔

اس کی دولت کے قصے عالمی اخبارات میں شائع ہوتے تھے۔

اس کے تعلیمی منصوبوں سے بے شمار انسان استفادہ کر رہے تھے۔

لیکن ایک شام، کراچی میں سمندر کے کنارے واقع اپنے دفتر کی بلند کھڑکی کے سامنے کھڑے ہوئے، اس نے زندگی کی ایک عجیب حقیقت محسوس کی۔

سمندر پرسکون تھا۔

شہر کی روشنیاں دور تک پھیلی ہوئی تھیں۔

میز پر دنیا بھر کے کاروباری اداروں کی رپورٹیں رکھی تھیں۔

ایک طرف بین الاقوامی مالیاتی منصوبے تھے۔

دوسری طرف علمی جامعات کی دستاویزات۔

اسی وقت مستقبل کی اس داستان میں اس کا ننھا بیٹا کمرے میں داخل ہوا۔

”ابو جان!“

لبید نے مسکرا کر اسے گود میں اٹھا لیا۔

”جی میرے شہزادے!“

بچے نے معصومیت سے پوچھا:

”ابو! کیا آپ واقعی دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ہیں؟“

لبید ہنس دیا۔

”لوگ تو ایسا کہتے ہیں۔“

”کیا آپ کے پاس بادشاہوں سے بھی زیادہ دولت ہے؟“

لبید نے کہا:

”بیٹا! دولت کا حساب بہت بدلتا رہتا ہے۔“

بچے نے پھر پوچھا:

”ابو! کیا آپ بہت بڑے آدمی ہیں؟“

لبید کچھ دیر خاموش ہو گیا۔

پھر اس نے بچے کا ہاتھ پکڑا۔

”آؤ، میں تمہیں ایک چیز دکھاتا ہوں۔“

وہ اسے گھر کے ایک چھوٹے سے کمرے میں لے گیا۔

یہ کمرہ نہایت سادہ تھا۔

نہ وہاں سونے کے دروازے تھے۔

نہ قیمتی فانوس۔

نہ دنیا کی مہنگی تصویریں۔

لیکن اس کمرے میں لبید کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ محفوظ تھا۔

دیوار پر امام المحدثین شیخ سلیم اللہ خان رحمہ اللہ کی تصویر تھی۔

اس کے قریب ڈاکٹر شیخ ولی خان المظفر کی تصویر۔

ایک جانب اس کے علمی و روحانی محسنین کی یادگاریں تھیں، جن میں شیخ ڈاکٹر سمیع عزیز، امام سعید عالم، ڈاکٹر ضیاء الاسلام اور اس کے علمی رفقا کے تذکرے محفوظ تھے۔

اسے حمزہ درانی جیسے نوجوان ساتھیوں اور اگلی نسل کے ان باصلاحیت افراد کی رفاقت بھی یاد آئی جو قرآن و عربی کی خدمت کے نئے خواب دیکھ رہے تھے۔

ایک الماری میں ایک پرانا مصحف رکھا تھا۔

وہ مصحف جو اس کی والدہ کے ایامِ حفظِ قرآن کی یادگار تھا۔

اور میز کی دراز میں ایک چھوٹی سی ڈائری۔

لبید نے ڈائری نکالی۔

اس کے صفحات زرد پڑ چکے تھے۔

اس نے پہلا صفحہ کھولا۔

وہاں اس کے جوانی کے زمانے کی تحریر موجود تھی:

”میں اپنے والد کی جامعۃ اللغۃ العربیۃ المفتوحۃ کو دنیا کی عظیم ترین تعلیمی جامعات میں شامل کرنے کی جدوجہد کروں گا!“

لبید نے ڈائری اپنے بیٹے کو دکھائی۔

”بیٹا! یہ دیکھو۔“

”ابو! یہ کیا ہے؟“

لبید نے کہا:

”یہ میری دولت سے بھی پرانا سرمایہ ہے۔“

”یہ تو صرف ایک کاغذ ہے!“

لبید مسکرایا۔

”ہاں، بیٹا! لیکن بعض اوقات ایک کاغذ پر لکھا ہوا سچا خواب اربوں ڈالر سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔“

پھر اس نے امام سلیم اللہ خان کی تصویر کی طرف اشارہ کیا۔

”یہ میرے دادا جی کے عظیم استاد تھے۔ انہوں نے میرا نام لبید رکھا تھا۔“

پھر اپنے والد کی تصویر دکھائی۔

”یہ میرے ابو جان ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ عربی زبان صرف پڑھنے کا مضمون نہیں، ایک عظیم علمی اور تہذیبی امانت ہے۔“

پھر اس نے مصحف کی طرف اشارہ کیا۔

”اور یہ میری امی جان کے قرآن کی یادگار ہے۔ انہوں نے مجھے سکھایا کہ قرآن سے محبت کیسے کی جاتی ہے۔“

بچے نے پوچھا:

”اور دادی جان؟“

لبید کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

”میری دادی جان میرے لیے دعائیں کرتی تھیں۔ کہتی تھیں کہ میں تختوں کا نہیں، دلوں کا بادشاہ بنوں۔“

”اور آپ کی بہنیں؟“

”وہ میری ابتدائی زندگی کی ساتھی تھیں۔ انہوں نے مجھے سکھایا کہ انسان کتنا ہی بڑا ہو جائے، اسے اپنی غلطی ماننے اور سیکھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔“

”اور آپ کے دوست؟“

لبید نے کہا:

”بیٹا! دوست زندگی کا بڑا سرمایہ ہوتے ہیں۔ میرے مخلص ساتھیوں نے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا۔ سلمان خان زر محمد اور معاذ بابو بھائی جیسے دوستوں کی محبت، وفاداری اور رفاقت بھی میرے لیے قیمتی رہی۔“

”اور چچا جان؟“

”میرے چچازاد بھائی ڈاکٹر ابو تمیم اور ڈاکٹر موسیٰ میری جدوجہد کے ساتھی تھے۔ ہم نے مل کر خواب دیکھا اور مل کر اس کے لیے محنت کی۔“

پھر بچہ کچھ دیر سوچتا رہا۔

اس نے معصوم لہجے میں پوچھا:

”ابو جان! جب یہ سب لوگ اتنے اچھے تھے، تو پھر آپ نے کیا کیا؟“

لبید نے بچے کو سینے سے لگا لیا۔

اور کہا:

”میں نے کوشش کی، بیٹا، کہ ان سب کی محبت، تربیت، علم اور دعاؤں کا حق ادا کر سکوں۔“

بچے نے آخری سوال کیا:

”ابو! آپ چاہتے ہیں کہ میں بڑا ہو کر کیا بنوں؟“

لبید نے مسکرا کر پوچھا:

”تم کیا بننا چاہتے ہو؟“

بچے نے کہا:

”میں آپ کی طرح ارب پتی بنوں گا!“

لبید ہنس دیا۔

پھر سنجیدہ ہو کر بولا:

”بیٹا! اگر اللہ تمہیں بہت دولت دے تو اچھی بات ہے، لیکن میں تمہارے لیے دولت سے بڑی چیز چاہتا ہوں۔“

”وہ کیا؟“

لبید نے کہا:

”میں چاہتا ہوں کہ تم اچھے انسان بنو۔ علم حاصل کرو، رزقِ حلال کماؤ، کسی کی امانت میں خیانت نہ کرو، کسی غریب کو حقیر نہ سمجھو، اپنے والدین کی عزت کرو، قرآن سے محبت کرو اور اپنی صلاحیتوں سے انسانوں کو فائدہ پہنچاؤ!“

پھر اس نے مصحف کھولا۔

اور قرآن کریم کی آیت پڑھی:

﴿وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ﴾

”اور تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے، وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔“

بچہ خاموشی سے سن رہا تھا۔

لبید نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔

اور کہا:

”میرے بچے! یاد رکھنا، دولت وہ نہیں جو تم اپنے بعد بینکوں میں چھوڑ جاؤ؛ اصل نعمت وہ نفع بخش علم، نیک عمل اور خدمت ہے جس کا فائدہ تمہارے بعد بھی انسانوں کو پہنچتا رہے!“

یہ کہہ کر اس نے پرانی ڈائری بند کر دی۔

اور اسے واپس الماری میں رکھ دیا۔

باہر کراچی کی روشنیاں جھلملا رہی تھیں۔

سمندر کی موجیں ساحل سے ٹکرا رہی تھیں۔

اور اس چھوٹے سے کمرے میں ایک نئی نسل اپنی تاریخ کا سب سے بڑا سبق حاصل کر رہی تھی۔

---

آخری باب

شہنشاہِ نور کا اصل تاج

جب باپ کا خواب، ماں کا قرآن اور دادی کی دعا ایک عالمی روشنی بن گئے

یہ محض ایک نوجوان کے ارب پتی بننے کی داستان نہیں تھی۔

یہ ایک ایسے خاندان کی کہانی تھی جس میں ہر فرد نے اپنی صلاحیت کے مطابق ایک عظیم خواب کی تعبیر میں حصہ لیا۔

ایک باپ تھا۔

جس نے عمر بھر عربی زبان کی سربلندی کا خواب دیکھا۔

جس نے چاہا کہ پاکستان کی سرزمین سے ایسی علمی تحریک اٹھے جو قرآن کی زبان کو دنیا کے گوشے گوشے میں محبوب بنا دے۔

ایک ماں تھی۔

جس نے بنوری ٹاؤن کی علمی فضاؤں میں قرآن کریم حفظ کیا۔

جس کی تلاوت سے گھر کے سناٹے روشن ہوتے تھے۔

جس نے اپنے بیٹے کے دل میں یہ آرزو پیدا کی کہ وہ قرآن کی تعلیم دوسروں تک پہنچائے۔

ایک دادی تھی۔

جس کے پاس اربوں کی دولت نہ تھی۔

لیکن دعاؤں کا خزانہ تھا۔

جو ہر روز اپنے پوتے کے لیے ہاتھ اٹھاتی اور اسے علم، حکمت، رزقِ حلال اور اخلاق کی بلندی کی دعا دیتی۔

کچھ بہنیں تھیں۔

جنہوں نے اپنے بھائی کی تربیت، علمی ترقی اور کامیابی میں محبت، مشورے، اصلاح اور حوصلہ افزائی سے حصہ لیا۔

کچھ اساتذہ تھے۔

جنہوں نے اسے سکھایا کہ ذہانت کے ساتھ تواضع، علم کے ساتھ حکمت اور کامیابی کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے۔

دو چچازاد بھائی تھے۔

ڈاکٹر ابو تمیم محمد المظفر اور ڈاکٹر موسیٰ المظفر۔

جو اس کے خواب کی تعبیر کے سفر میں شریکِ کار بنے۔

کچھ مخلص دوست تھے۔

جنہوں نے اس کی کامیابی میں خوشی محسوس کی اور مشکل وقت میں اس کا حوصلہ بڑھایا۔

اور پھر ایک نوجوان تھا۔

لبید خان المظفر!

جس نے قرآن حفظ کیا۔

عربی زبان سیکھی۔

انگریزی پر عبور حاصل کیا۔

مالیات پڑھی۔

مصنوعی ذہانت کے اسرار سمجھے۔

ڈیجیٹل معیشت کے میدان میں قدم رکھا۔

سرمایہ کاری کی۔

نقصان اٹھایا۔

دوبارہ اٹھا۔

مشکلات سے لڑا۔

دنیا کے بڑے لوگوں سے تعلقات قائم کیے۔

اربوں ڈالر کمائے۔

اور پھر ایک دن دنیا کے سامنے اعلان کیا:

”میری دولت کا سب سے بڑا مقصد علم کو انسانوں تک پہنچانا ہے!“

اس افسانوی مستقبل میں جامعۃ اللغۃ العربیۃ المفتوحۃ بپاکستان دنیا کی عظیم ترین تعلیمی تحریکوں میں شامل ہو گئی۔

قرآن اور عربی کے تعلیمی پروگرام کئی براعظموں تک پہنچے۔

لاکھوں اساتذہ اور کروڑوں طلبہ اس عظیم سفر کا حصہ بنے۔

دنیا کی مختلف زبانیں بولنے والے انسانوں نے عربی سیکھنا شروع کی۔

اور قرآن کریم کو سمجھنے کی جستجو نے ان کے لیے علم کے نئے دروازے کھولے۔

لیکن لبید کی حقیقی عظمت یہ نہیں تھی کہ اس کے پاس اربوں ڈالر تھے۔

اس کی عظمت یہ تھی کہ اس نے اربوں ڈالر کو اپنے ضمیر کا مالک نہیں بننے دیا۔

اس کا کمال یہ نہیں تھا کہ وہ بڑے ایوانوں میں داخل ہوا۔

اس کا کمال یہ تھا کہ وہ غریب بچوں کے گھروں تک تعلیم پہنچانے کے لیے کوشاں رہا۔

اس کی کامیابی یہ نہیں تھی کہ ساری دنیا صرف عربی بولنے لگی۔

بلکہ یہ تھی کہ عربی زبان اپنی علمی عظمت، تہذیبی خوب صورتی اور قرآنی نسبت کے ساتھ دنیا کے مختلف معاشروں میں ایک محبوب عالمی زبان بننے لگی۔

اس کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی کمپنیاں نہیں تھیں۔

اس کا سرمایہ تھا:

باپ کی تربیت!

ماں کا قرآن!

دادی کی دعائیں!

بہنوں کی محبت!

اساتذہ کی رہنمائی!

رشتہ داروں کی رفاقت!

دوستوں کی وفاداری!

اور ان سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم!

---

اختتامی منظر

ایک ماں کی دعا کا جواب

تصور کیجیے!

کراچی کی ایک خاموش رات ہے۔

ایک حافظۂ قرآن ماں اپنے کمرے میں بیٹھی تلاوت کر رہی ہے۔

اس کے بالوں میں سفیدی اتر آئی ہے۔

اس کی آنکھوں کے گرد عمر کی لکیریں نمودار ہو چکی ہیں۔

لیکن تلاوت میں آج بھی وہی مٹھاس ہے۔

وہ مصحف بند کرتی ہے۔

اور اپنے بیٹے کے لیے ہاتھ اٹھاتی ہے۔

اسی وقت دروازہ کھلتا ہے۔

لبید اندر آتا ہے۔

وہ دنیا کا مشہور ارب پتی ہے۔

بڑی بڑی جامعات اور اداروں کا قائد ہے۔

عالمی علمی و اقتصادی مجالس میں اس کی عزت کی جاتی ہے۔

لیکن اس کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ پھر وہی ننھا لبید بن جاتا ہے جو کبھی ماں کی تلاوت سننے کے لیے اس کے قریب بیٹھ جایا کرتا تھا۔

وہ ماں کے پاس بیٹھ جاتا ہے۔

ماں پوچھتی ہے:

”بیٹا! آج پھر اتنی دیر سے آئے؟“

لبید مسکراتا ہے۔

”امی جان! کام کچھ زیادہ تھا۔“

”کھانا کھایا؟“

”جی امی!“

”نماز پڑھی؟“

”جی!“

”قرآن پڑھا؟“

لبید مسکرا کر سر جھکا دیتا ہے۔

”امی جان! ابھی آپ کے ساتھ پڑھتا ہوں۔“

ماں اپنے بیٹے کو دیکھتی ہے۔

پھر پوچھتی ہے:

”لبید! تم خوش ہو؟“

لبید کچھ دیر خاموش رہتا ہے۔

پھر کہتا ہے:

”امی جان! اللہ نے بہت کچھ عطا فرمایا۔“

ماں دوبارہ پوچھتی ہے:

”لیکن دل مطمئن ہے؟“

لبید کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

”امی! جب کوئی بچہ قرآن سیکھتا ہے، جب کوئی غریب طالب علم تعلیم حاصل کرتا ہے، جب کوئی غیرعرب عربی میں اللہ کا کلام سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔“

ماں مسکرا دیتی ہے۔

”تو پھر میرے بیٹے! یہی دولت سنبھال کر رکھنا۔“

لبید اپنی ماں کے ہاتھ چومتا ہے۔

اور کہتا ہے:

”امی جان! دنیا مجھے شہنشاہِ نور کہتی ہے، لیکن میں جانتا ہوں کہ اس نور کا پہلا چراغ میرے گھر میں آپ کی تلاوت سے روشن ہوا تھا!“

ماں کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑتے ہیں۔

وہ اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھتی ہے۔

اور آہستہ سے کہتی ہے:

”اللہ تمہیں قبول فرمائے، میرے بچے!“

لبید کی آواز بھر آتی ہے۔

”آمین، امی جان!“

پھر ماں مصحف کھولتی ہے۔

بیٹا ان کے پاس بیٹھ جاتا ہے۔

اور دونوں تلاوت میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

باہر دنیا کی عظیم مالیاتی سلطنتوں کا شور ہے۔

انسانی کامیابیوں کی داستانیں ہیں۔

کمپیوٹروں کی تیز رفتاری ہے۔

مصنوعی ذہانت کے حیرت انگیز مظاہر ہیں۔

لیکن اس چھوٹے سے کمرے میں ایک اور ہی عظمت جلوہ گر ہے۔

ایک حافظۂ قرآن ماں۔۔۔

اور اس کا حافظِ قرآن بیٹا۔۔۔

دنیا کی نگاہ میں بیٹا بہت بڑا آدمی ہے۔

لیکن ماں کی نگاہ میں وہ آج بھی اس کی دعاؤں کا محتاج بچہ ہے۔

اور شاید اسی میں اس کی عظمت کا سب سے خوب صورت راز پوشیدہ ہے!

---

حرفِ آخر

وہ خواب جو نسلوں کی امانت بن گیا

تاریخ میں بعض لوگ مال کماتے ہیں۔

بعض لوگ نام کماتے ہیں۔

بعض لوگ اقتدار حاصل کرتے ہیں۔

اور بعض لوگ اپنے بعد بڑی عمارتیں چھوڑ جاتے ہیں۔

لیکن خوش نصیب وہ ہیں جو علم، خیر اور خدمت کا ایسا سلسلہ شروع کرتے ہیں جس سے آئندہ نسلیں بھی فائدہ اٹھاتی رہیں۔

اس تخیلاتی داستان کا لبید خان المظفر اسی آرزو کی علامت ہے۔

اس نے دولت کو مقصد نہیں، وسیلہ بنایا۔

اس نے ٹیکنالوجی کو معبود نہیں، خدمت کا آلہ سمجھا۔

اس نے علم کو شہرت کا زینہ نہیں، انسانیت کی امانت جانا۔

اور اس نے اپنے باپ کے خواب کو اس امید کے ساتھ آگے بڑھایا کہ قرآن اور عربی کی تعلیم ہر خواہش مند انسان تک پہنچ سکے۔

اور یوں اس داستان کی آخری سطریں تاریخ نہیں، دعا بن جاتی ہیں:

الٰہی!

ہمارے گھروں کو قرآن کے نور سے روشن فرما۔

ہماری اولاد کو علم، ایمان، اخلاق اور عملِ صالح کی دولت عطا فرما۔

ہمارے نوجوانوں کو ایسا بلند حوصلہ عطا فرما کہ وہ دنیا کے علوم میں مہارت حاصل کریں، لیکن اپنی دینی و اخلاقی ذمہ داریوں کو فراموش نہ کریں۔

انہیں حلال دولت عطا فرما، مگر دولت کا غلام نہ بنا۔

انہیں عزت عطا فرما، مگر تکبر سے محفوظ رکھ۔

انہیں شہرت عطا فرما، مگر اخلاص کی دولت سے محروم نہ کر۔

انہیں دنیا کی ترقی میں حصہ عطا فرما، مگر آخرت کی کامیابی ان کے پیشِ نظر رہے۔

اور انہیں ایسی زندگی نصیب فرما جس کے آثار ان کے دنیا سے جانے کے بعد بھی انسانوں کو نفع پہنچاتے رہیں۔

آمین یا رب العالمین!

---

لبید خان المظفر

ایک نام، ایک خواب، ایک عہد، ایک داستان!

جس کا نام امام سلیم اللہ خان نے رکھا۔۔۔

جس کے باپ نے عربی کا خواب دیکھا۔۔۔

جس کی ماں نے قرآن سینے میں محفوظ کیا۔۔۔

جس کی دادی نے دعاؤں سے اس کی راہ روشن کی۔۔۔

جس کی بہنوں نے محبت سے اس کی تربیت میں حصہ لیا۔۔۔

جس کے اساتذہ نے علم و حکمت کے دروازے کھولے۔۔۔

جس کے بھائیوں اور دوستوں نے اس کی جدوجہد میں ساتھ دیا۔۔۔

اور جس نے اپنی دولت، علم اور صلاحیت کو قرآن و عربی کی خدمت کے لیے وقف کرنے کا خواب دیکھا!

وہ دولت مند تھا، مگر دولت اس کی پہچان نہ تھی۔

وہ صاحبِ علم تھا، مگر علم پر مغرور نہ تھا۔

وہ صاحبِ اثر تھا، مگر انسانوں کے دل فتح کرنے کے لیے محبت کو ترجیح دیتا تھا۔

اس نے دنیا کو ایک سبق دیا:

«”سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ تمہارے پاس دنیا کی کتنی دولت جمع ہو گئی، بلکہ یہ ہے کہ تمہارے وجود سے دنیا میں کتنا علم پھیلا، کتنے دل روشن ہوئے اور کتنے انسانوں کو فائدہ پہنچا!“»

یہ لبید خان المظفر کی داستان تھی۔

ایک باپ کے خواب سے شروع ہونے والی داستان۔

ایک ماں کی تلاوت سے مہکنے والی داستان۔

ایک دادی کی دعاؤں سے سنورنے والی داستان۔

اور قرآن و عربی کی محبت سے دنیا کے افق پر پھیل جانے والی داستان۔

داستان ختم ہوئی، مگر خواب ابھی زندہ ہے!

کیونکہ چراغ سے چراغ جلتا ہے، نسل سے نسل اٹھتی ہے، اور علم و خیر کی روشنی آگے بڑھتی رہتی ہے۔

تمّت الحكاية بحمد اللہ تعالیٰ
Dr shaikh wali khan almuzaffar
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 474 Articles with 1008252 views نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More