میں نے پو چھا ۔۔۔درد دل کیا ہے؟



اس نے کہا۔۔۔ درد زندگی کا وہ متاع ہے جو دل پر ایسے اترتا ہے جیسے کسی اداس صبح کی ہریالی پر چشمِ نم سے گرتی شبنم کی پھوار ہو۔ یعنی حساس دل سے اٹھنے والی ٹھیسیں آنکھ سے درد بن کر ٹپکتی ہیں، جس کے اثر سے دل کی کیفیت بدلنے لگتی ہے۔ اور دل کی تھکن آنسو بن کر آنکھ سے بہنے لگتی ہے۔ پھر یہ آنسو گرنے سے دل کا درد ہلکا ہو جاتا ہے۔

پھر اس نے کہا۔۔۔ کیا تم نے دل میں خراشیں ابھرتی دیکھی ہیں؟ دنیائے درد کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اذیت سے معمور یہ خراشیں درد سے پیدا ہوتی ہیں۔

کیا تم نے شیشہ ٹوٹتے دیکھا ہے؟ جب درد حد سے گزر جاتا ہے تو وہ نازک دل کے شیشے پر ایسی ضرب لگاتا ہے کہ دل کا نازک آبگینہ ٹوٹ کر کانچ کی مانند چور چور ہو جاتا ہے، اور پھر اسے سمیٹنا ناممکن سا ہو جاتا ہے۔

اور پھر اس نے کہا۔۔۔ کیا تم نے بے رنگ شامیں دیکھی ہیں؟ جہاں محبوب کی دوری انسان کو بے دلی کی ایک ایسی کیفیت میں مبتلا رکھتی ہے، جس کے بعد اپنے حصے میں آنے والی خوشیوں میں بھی درد کی جھلک محسوس ہونے لگتی ہے۔

ارے! کیا تم نے اس دنیا میں ہلچل دیکھی ہے؟ یہ سب اس درد کی بدولت ہے کہ لوگ اپنے درد کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے حرارت میں رہتے ہیں، کیونکہ۔۔۔

؎ سکون محال ہے قدرت کے کارخانے میں
؎ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

کیا تم نے ہاتھوں کی کپکپاہٹ دیکھی ہے؟ یعنی جب انسان دردِ دل کی کیفیت میں ہوتا ہے تو اپنے محبوب سے جڑی ہر آہٹ پر اپنے ہاتھوں میں ایک ایسی کپکپاہٹ سی محسوس کرتا ہے، جس میں محبوب کی محبت کی نمی نمایاں دیکھی جا سکتی ہے۔

اس نے کہا۔۔۔

کیا تم نے جسم کی تھرتھراہٹ دیکھی ہے؟ یعنی دردِ دل انسان کے دل و دماغ کو ہی نہیں بلکہ جسم کے اعضا کو بھی متاثر کرتا ہے۔ جب انسان سے اس کی سب سے پیاری چیز چھن جاتی ہے تو اس کے جسم کی حالت ایک ایسی تڑپ میں مبتلا ہو جاتی ہے جو مسلسل جاری رہتی ہے۔

کیا تم نے عقل کی کنجی دیکھی ہے؟ یعنی دردِ دل عقل کی وہ کنجی ہے جسے اگر اذیت کا زنگ لگنے کے بجائے خاموش صلاحیتوں سے معمور کر دیا جائے تو یہی درد عقل پر لگے تالے کھول دیتا ہے۔۔۔

کیا تم نے آنسو بہتے دیکھے ہیں؟ یعنی دردِ دل آنکھوں کی کیفیت کو بدل دیتا ہے۔ ان دو نینوں سے رواں ہونے والے انمول درد کے آنسو ہی انسان کی وہ متاع ہوتے ہیں، جس کے بعد ہر قسم کے مال و متاع سے انسان بے نیاز سا ہو جاتا ہے۔ دردِ دل اصل میں آنکھوں کو سیراب رکھنے پر معمور ہوتا ہے، اور یہ اللہ کی عطا ہے، جسے چاہے عطا کرے۔

کیا تم نے رازِ دل کو پڑھا ہے؟ شاید کہ دردِ دل ہی رازِ دل ہوتا ہے۔ دل کا درد انسان کو ان گنت رازوں کو دل میں رکھنا سکھا دیتا ہے، اور پھر بے شمار راز دل کی اتھاہ گہرائیوں میں دفن ہوتے رہتے ہیں، مگر کبھی فاش نہیں ہوتے۔

کیا تم نے میرے دردِ دل کی وسعت دیکھی ہے؟۔۔۔

میرے دردِ دل کی وسعت فلک کی مانند وسیع۔۔۔ پہاڑوں کی مانند بلند۔۔۔ سمندر کی مانند گہری۔۔۔ دھرتی کی مانند مضبوط۔۔۔ اور ہلالی چاند کی مانند پُرنور۔۔۔ آفتاب کی مانند حرارت سے معمور۔۔۔ یعنی میرے دل کا درد میری ایک ایسی قوت ہے جسے میں کسی قیمت پر بھی کھونا نہیں چاہتی۔

naila rani riasat ali
About the Author: naila rani riasat ali Read More Articles by naila rani riasat ali: 128 Articles with 201370 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.