تلاش جس کی ہے وہ زندگی ملتی نہیں

(Qadir Khan, Mianwali)
اسلاف پرستی کے طلسم نے جس طرح مسلمانوں جیسی یکسر برق تپاں قوم کو جمودوتعطل کے بیکار مجسمے کی طرح مقام عبرت بنا کر رکھ دیا آج اس کی تشریح کسی کی محتاج نہیں۔جن کے ہاتھوں میں اقوام عالم کی تقدیریں ہوا کرتی تھیں وہ کشکول اٹھائے نظریں جھکائیں دیارِ اغیار میں ہاتھ باندھے نظر آتی ہیں۔اپنے عزم و مراحل پر تکیہ کرنے کے بجائے اس منزل کی تلاش میں ہیں جہاں صرف بٹن دبانا پڑے اور باقی سب کچھ غیر معلوم آفاقی قوتیں ان کےلئے خود بخود کریں۔اسی اسلاف پرستی کی ایک شاخ سیاست پرستی میں اتباع مورثی نقش غلامی ہے جیسے سب کچھ جاننے کے باوجود محروم طبقہ اپنی گردن سے طوق نکالنے سے گریزاں نظر آتا ہے۔ شخصیت پرستی نے اذہان اجتہاد کو جمود کا اس قدر شکار کردیا ہے کہ وہ دنیا عمل و حقیقت سے فرار کی راہ تو اختیار کرلیتا ہے لیکن ایسی کوئی کرامات کی روح اپنے وجود میں
پنہاں نہیں کرنا چاہتا کہ جس سے انسانیت میں ایک نئی زندگی کی لہر دوڑ جائے۔

کراچی کی عوام مملکت خدادداد پاکستان کی سب سے مظلوم عوام ہیں ۔ جنھیں ہر واقعے پر تختہ مشق بنا کر ملک کے ہر سانحے کا انتساب بنا دیا جاتا ہے۔معاشی شہ رگ پر تیغ زنی کےلئے کراچی کی عوام کا انتخاب تمام منفی قوتوں کےلئے ایک سہل میدان ہے جہاں مذموم مقاصد کے بے لگام گھوڑے دوڑانے میں پس و پیش سے کام نہیں لیا جاتا ۔"رضیہ" اگر غنڈوں میں گھِر جاتی ہے تو ذمے دار کراچی بن جاتا ہے۔سانحہ کہیں اور ہوتا ہے توصرف کراچی میں عصبیت ، لسانیت اور فرقہ واریت کے شعلوں کو بھڑکا کرآتش نمرود کا شکار معصوم محنت کشوں کو بنا دیا جاتا ہے۔

بجلی کے بحران پر گرمی کے ایندھن میں پکنے والے فلیٹوں ، کچی آبادیوں اور متوسط طبقے کے رہائشی اگر احتجاج کرتے ہیں تو ارباب و اختیار کی توپوں کا رخ بلکتے سسکتے ، دہائیاں دیتے عوام کیجانب تو ہوجاتا ہے لیکن لیاری کے "رام گڑھ"ہاﺅس میں ڈرل کرتی لاشوں اور بوریوں کی شکل میں پھینکے والے معصوم نہتے انسانوں کے بے رحمانہ قتال کے ذمے داروں کےخلاف انگشت تک اٹھانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ایک روپیہ ڈیزل پر بڑھتا نہیں کہ پانچ روپے کرایہ جبری ٹیکس کی مانند عوام پر مسلط کردیا جاتا ہے۔ لیکن جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو ایک پائی بھی کم نہیں کی جاتی بلکہ کسی سود خور کی طرح اصل اپنی جگہ اور سود پر سود کا فارمولا عوام پر مسلط کیا جاتا ہے۔مقام افسوس یہ ہے کہ اگر اس پر احتجاج کیا جائے تو لسانی سیاست کے مینڈک پدک کر اپنی کرخت نوائی سے تمام ماحول کی سکون پذیری کو تہہ و بالا کرنے میں لمحے بھر کی ہکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔اپنے کسب و ہنرسے رزق حاصل کرنے والوں سے بھتہ ایسا وصول کیا جاتا ہے جیسے کاروبار کےلئے سرمایہ بھتہ خورنے فراہم کیا ہو اور کسی بنک کے قرضے کی طرح نفع و نقصان سے قطع نظر باقاعدہ مخصوص رقم کا وصول کرنا ان کا ویسا ہی حق ہے جیسے کسی سرکاری ادارے کے بااختیار نوکر شاہی کا ستائی ہوئی عوام سے رشوت وصول کرنا ان کا بنیادی فریضہ ۔۔

کچھ قصور عوام کا بھی ہے کہ وہ ان نمائندوں کو منتخب کرتے ہیں جنھوں نے کبھی گرمی کا مزہ نہیں چکھا ، تو انھیں کیا معلوم کہ ائیر کنڈیشن نہ چلنے پر جہنم کی تپش کوسمجھنا مشکل نہیں ہوتا۔تھوڑ ا قصور ہماری برادریوں کا بھی ہے کہ اس جاگیر دار، سرمایہ دار، وڈیروں اور خوانین کے سامنے فرش نوا بن جاتے ہیں جنھوں نے کبھی قالین ، سے اتر کر ان گلیوں میں قدم نہیں رکھا جہاں جا کر اب بھی یقین نہیں ہوتا کہ ہم نے اکیسویں صدی میں داخل بھی ہوسکیں گے۔

تعلیم سے بے بہرہ اور اس گوہر نایاب سے محروم عوام اسمبلیوں میں جانے والے ان انگریزی تقاریر کو کیا سمجھے گا جو خود بھی نہیں جانتا کہ اس کا مطلب کیا ہے ؟ ۔ اب وہ محمدعلی جناح تو ہے نہیں کہ کسی ان پڑھ سے پوچھیں کہ بابا کیا آپ کو انگریزی میں تقریر سمجھ میں آرہی ہے تو وہ پر اعتماد ہو کر کہے کہ نہیں سمجھ میں تو نہیں آرہی لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ سوٹ بوٹ والا جو کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے۔دیہات میں رہنے والا کیا سمجھے کہ اس کے گاﺅں میں بننے والی عمارت ان کے بچوں کے مستقبل کے لئے نہیں بلکہ اسکول کے نام پر جاگیر دار ،وڈیرے کے اوطاق بن رہی ہے۔

قصور صرف عوام کا ہے کہ وہ خود ایسے لوگوں کو منتخب کرتے ہیں جو رات اندھیرے میں نہیں بلکہ چوبیس گھنٹے ڈریکولا بن کر ان کا خون چوس رہے ہیں۔اگر تبدیلی اور بلند باعزت معیار زندگی کو تلاش کرکے اپنانا چاہتے ہیں تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ نگاہوں کے سامنے واضح مقصد ، دل میں اس مقصد کی صداقت کا یقین اور اس کے حصول کی تڑپ ، پاﺅں میں استقامت ، بازوﺅں میں قوت، بڑھتی ہوئی ہمتیں اور اٹھتے ہوئے قدم ۔۔
"جہاد زندگی میں ہیں یہی مردوں کی شمشیریں ۔ "
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 379 Articles with 151229 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Jul, 2012 Views: 382

Comments

آپ کی رائے
درست فرمایا ہے۔

بس اگر کوئی تعلیم عام کر دے پھر دیکھیں کیسی کیسی تبدیلیاں آ جائیں گیں، رب تعالٰی انشالله بہت بہتر کرے گا-
By: azeem, rwp on Jul, 13 2012
Reply Reply
0 Like