جہاندیدہ وجہاں گرد‘ شجرطہرانی

(Yousuf Alamgarian, Rawalpindi)
شہر اقبال ہمیشہ سے علم و ادب کا مسکن رہا ہے۔ اقبال مفکرِ پاکستان اور شاعرِ مشرق کے طور پر اُبھرے لیکن ان کی ذہنی و فکری تربیت کے لئے ان کے اُستاد شمس العلماءمولوی میر حسن جیسی ذی وقار شخصیات سیالکوٹ میں موجود تھیں۔ جنہوں نے اقبال ایسے ننھے منھے پودے کی آبیاری کرکے اسے ایک ایسے تنا ور درخت میں تبدیل کیا جس کی چھاﺅں میں رہتی دنیا تک شعرو ادب کے متوالوں کا جمگھٹا لگا رہے گا۔ شہر ِ اقبال میں ادبی میدان میں جو بہت سے نامور اور بڑے بڑے نام سامنے آئے ہیں ان میں سے ایک نام حکیم عبدالنبی شجر طہرانی کا بھی ہے۔ وہ 1868 میں پیدا ہوئے اور پوری سوسال عمرپانے کے بعد1968 میں فوت ہوئے۔ گویا حکیم عبدالنبی شجر طہرانی صاحب علامہ اقبال سے11 برس پہلے پیدا ہوئے اور 30 سال بعد رحلت فرمائی۔ جناب شجر طہرانی کا اردو کے ممتاز شاعر داغ دہلوی کے ساتھ شاگردی کا رشتہ رہا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”جہاں گرد“ کے نام سے 1963میں اس وقت شائع ہوا جب وہ لگ بھگ پچانوے برس کے تھے۔ 2012میں شائع ہونے والا دوسرا ایڈیشن ان کی رحلت 44 سال بعد شائع ہوا ہے جو اس امر کی ضمانت ہے کہ کام میں طاقت ہو تو وہ زندہ رہتا ہے۔ حکیم شجر طہرانی کے قطعات واقعتاً تمام شعری اور ادبی رنگوں سے مالا مال ہیں اور پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری میں ہمیشہ صابرو شاکر رہنے کا درس دیتے ہیں ان کا ایک قطعہ:
دیکھ رنگِ چشمِ ساقی دیکھ پھر کیفِ نظر
دیکھ وجود و لطف کو بس جام و بادہ کو نہ دیکھ
ظرفِ بادہ نوش پر موقوف ہے فیضِ سرور
تو شریکِ بزم تو ہے‘ کم زیادہ کو نہ دیکھ
 


جناب شجر طہرانی ”جہاں گرد“ کے پہلے ایڈیشن کی بدولت بعض لوگوں کے دلوں میں زندہ تو تھے ہی لیکن حال ہی میں دوسرا ایڈیشن شائع ہونے اور ادبی محفلوں میں تذکروں کی بدولت ان کی شاعری اب نوجوان نسل تک بھی پہنچے گی۔ اس حوالے سے بزم افکار سیالکوٹ کے جناب ارشد طہرانی اور حکیم محمد اسلم ثمر، جو شجر طہرانی مرحوم کے پوتے ہیں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اس حوالے سے انہیں ایک سیالکوٹ کی جانی پہچانی شخصیت اور معروف صحافی اور کالم نگار جناب آصف بھلی کی خدمات بھی حاصل رہیں۔ آصف بھلی ایک منفرد شخصیت کے حامل انسان کا نام ہے جو اپنی ذات کو پیچھے رکھتے ہوئے دوستوں کے لئے کردار ادا کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ مجھ تک ”جہاں گرد“ اُنہی کی معرفت پہنچی۔ شہر اقبال ہی سے تعلق رکھنے والے کالم نویس جناب امجد چوہدری سے کتاب کا تذکرہ ہوا تو وہ پہلے ہی سے دوسرے ایڈیشن کی تیاری اورشجرطہرانی کی شاعری کے حوالے سے واقف تھے۔ کیوں نہ ہوتے کہ وہ شہر اقبال میں ورکنگ جرنلسٹ رہے ہیں اور یوں اپنے شہر کی ”ایچی بیچی“ سے واقف ہیں۔ حکیم شجر طہرانی کی شاعری زندگی کے ہر ہر پہلو کو چھوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ وہ حمدیہ اور نعتیہ قطعات میں کمال قدرت رکھتے تھے۔” جہاں گرد“ کو مرتبین نے اخلاقیات‘ نفسیات‘ تجلیات‘ اعمال ‘ وطنیت اور مختلف شخصیات کے حوالے سے گوشوں میں تقسیم کیا ہے۔ جس سے ”جہاں گرد“ کا حسن دو چند ہوگیاہے۔ قائدِاعظم کے حوالے سے ان کے دو قطعات اپنے قارئین کے لئے اس وقت کے حالات سے متعلق بدرجہ اتم بتائے دکھائی دیتے ہیں کہ قائد کے بعد پاکستان کا سیاسی منظر نامہ جس طرح سے تقسیم ہوا اُس کی نشاندہی کی گئی ہے۔
قائدِاعظم (قطعہ)
کوئی مرنا نہیں ضروری تھا
بلکہ جینا کہیں ضروری تھا
جا کے اب بھی کہیں تو رہتے ہو
چندے رہنا یہیں ضروری تھا۔
اے قائدِ محترم (قطعہ)
تم کو رہنا تھا ہم میں چندے اور
تھے چکانے کے کتنے دھندے اور
یا تو ملت کو دے کے جانا تھا
اپنے ڈھب ہی کے چار بندے اور

گویا قائد کی رحلت کے بعد ہی سے اُس وقت کے باشعور اور فکر و تدبر رکھنے والی شخصیات کو اس امر کا ادراک ہو چکا تھا کہ پاکستان اب غیر محفوظ ہوتا چلا جائے گا۔ پھر رہی سہی کسر قائدِ ملت لیاقت علی خان کی رحلت سے نکل گئی۔ جناب شجر طہرانی اس حوالے سے بہت گرویدہ ہوئے اور انہوں نے اس پر یوں قلم کشائی کی۔
قائدِ ملت (قطعہ)
تم کو سمجھے تھے قائدِ ملت
اور بھروسے کی بات جانی تھی
اپنی کچھ اور ہی امیدیں تھیں
پر قضانے کچھ اور ٹھانی تھی

شجر طہرانی نے پاکستان کو بنتے ہوئے دیکھا تھا۔وہ مسلمانوں کی قربانیوں سے واقف تھے اسی لئے پاکستان کے بگڑتے ہوئے حالات پر دل گرفتہ بھی تھے۔ بہر کیف ”جہاں گرد“ ایک ایسی تخلیق ہے جس کا مصنف بلا کا محبِ وطن اور جہاندیدہ شخص تھا۔ آج وطن کے کرب کو محسوس کرنے والے کتنے شجر طہرانی ہمارے پاس ہیں شائد ان کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ ایسے میں جناب ارشد طہرانی اور حکیم اسلم ثمر طہرانی کی اس کاوش کو سراہا جانا ازحد ضروری ہے۔ کتاب کی قیمت تین سو روپے ہے۔ کتاب ،بزمِ افکار سیالکوٹ چوک امام صاحب سمیت مختلف دیگر بک سٹالز پر دستیاب ہے۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 560 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Yousaf Alamgirian

Read More Articles by Yousaf Alamgirian: 51 Articles with 52413 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: