میاں نوازشریف صاحب کی بطور
وزیراعظم 1990 اور 1997 کی دونوں باریوں میں اس وقت کے آمروں نے 5 سال پورے
نہ کرنے دئے ۔
دونوں مرتبہ 2 ,2 سال بعد بالترتیب, صدر غلام اسحاق خاں اور آرمی چیف پرویز
مشرف نے منتخب حکومت کو اپنی انا کی بھینٹ چڑھا دیا۔ میاں صاحب نےالیکشن کا
رزلٹ آنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ارشاد فرمایا ہے کہ "اب وہ تعمیر
پاکستان کا اپنا نا مکمل ایجنڈا پائیہ تکمیل تک پہنچائیں گے"۔
PPP کے سربراہ اور انکے حواری 5 سال تک پاکستان کی ترقی اور جمہورئیت کی
بالادستی کا راگ الاپتے رہے لیکن عام آدمی اپنے مسائل کے حل کی راہ تکتا
رہا , جو روبروز بڑھتے چلے گئے۔ جسکا بھرپور انتقام عوام نے موجودہ الیکشن
میں PPP کو عبرتناک شکست سے دوچار کر کے لے لیا ۔
اب امید ہے کہ میاں صاحب PPP کے بھیانک انجام سے سبق حاصل کرتے ہؤے عام
آدمی کے مسائل کے حل کے لئے ابھی سے کام شروع کر دیں گے , ورنہ عمران خان
جیسا مضبوط اپوزیشن لیڈر مدمقابل ہے ,( اگرآپ برا نہ مانیں تو عرض کروں کہ)
وہ آپ کو زرداری بنانے میں کسی تکلف سے کام نہ لے گا۔
میری میاں صاحب سے عرض ہے کہ عوام کے دیرینہ مسائل فوری طور پر حل کرنے کے
لئے لوکل گورنمنٹ کا نظام ( کم از کم پنجاب کی حد تک), فوری بحال کرنے کا
اعلان کریں اور پھر 90 دن میں انتخابات کرا دیں ۔ تھانہ/ پٹواری کا نظام
کرپشن سے پاک جدید بنیادوں پر اس طرح استوار کریں جیسے موٹر وے پولیس میں
کوشش کی گئ ہے , اور اوپر سے نچلی سطح تک مکمل عدالتی نظام جدید بنیادوں پر
برطانیہ اور دیگر مغربی ملکوں کی مثال پر رائج کریں ۔
اب ایک مسئلہ یہ ہو سکتا ہے کہ اس طرح کام کرنے کے لئے بھاری رقم درکار ہو
گی , وہ کہاں سے لائیں۔ ہمارے ملک میں مخیر حضرات کی کمی نہیں ہے , ابھی آپ
کی حکومت کا "ہنی مون" پیرئڈ ہوگا۔ آپ اپنے درج بالا انقلابی اقدامات کے
لئے عوام کو اعتماد میں لیں گے تو اس اجتماعی بھلائی کے کام کے لئے فنڈنگ
کرنے والے انشاالله بہت لوگ مل جائیں گے۔ |