حفیظ تائب.... ستارے بانٹتا ہوا اِک شخص

(Yousaf Alamgirian, Rawalpindi)
ممتاز نعت گو شاعر جناب حفیظ تائب13 جون2004ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے تو یوں محسوس ہوا جیسے دنیا ایک سچے عاشق رسول سے محروم ہوگئی۔ حفیظ تائب کسی ایک شخص کا نام نہیں بلکہ رقت و محبت میں ڈوبی ہوئی ایک کیفیت کا نام تھا کہ جو لاکھوں کروڑوں کے ہجوم میں سے کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے نفاست اور سادگی کا مرقع روشن چہرے اور تابناک جذبوں کے حامل جناب حفیظ تائب ان چند خوش نصیبوں میں سے تھے جنہیں موت بھی اپنی آغوش میں لیتے ہوئے عشق کی سرمستیوں میں ڈوبتی چلی گئی ہوگی ۔

میں خود کو اس حوالے سے خوش قسمت گردانتا ہوں کہ میں بھی ان سینکڑوں انسانوں میں سے ایک ہوں جنہیں اپنی زندگی کے بعض لمحات ،جو اب یادگار اور قیمتی ترین لمحات میں تبدیل ہوچکے ہیں ان کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا۔ عاجزی اور انکساری ان کے مزاج میں رچ بس چکی تھی۔ وہ اپنے سے چھوٹی عمر کے لوگوں سے بھی اتنی عزت سے ملتے تھے جتنا وہ اپنے سے بڑوں کی عزت کرتے تھے۔ حفیظ تائب عشق رسول میں اتنا دور جا چکے تھے کہ عشق مصطفیٰ ان کی نس نس میں سرایت کرچکا تھا اس کی جھلک ان کے نعتیہ کلام میں نمایاں نظر آتی ہے۔

قدموں میں شہنشاہ دو عالم کے پڑا ہوں
میں ذرہ نا چیز ہوں یا بخت رسا ہوں
اب کون سی نعمت کی طلب حق سے کروں
دہلیز پر سلطان مدینہ کے کھڑا ہوں

اعلیٰ پائے کی غزل کہنے والے حفیظ تائب جب ”تائب“ ہوئے تو ایسی ایسی نعت کہی کہ اس نعت گو کو بڑے سے بڑا عاشق رسول بھی ٹھہر کر ملتا تھا کہ نعت کو نعت کا سلیقہ اور وقار عطا کرنے کی جو ذمہ دار اللہ تعالیٰ نے جناب حفیظ تائب کو بخشی تھی اسے انہوں نے مرتے دم تک نبھایا۔ شروع شروع میں غزل بھی کہتے رہے لیکن ان کی غزل میں بھی ایک چاشنی اور مقصدیت کا عنصر نمایاں تھا ان کی ایک غزل کا شعر بھی ملاحظہ فرمائیے۔

اک نیا کرب مرے دل میں جنم لیتا ہے
قافلہ درد کا کچھ دیر جو دم لیتا ہے
جس کو ہو دولت احساس میسر تائب
چین وہ کارگہ زیست میں کم لیتا ہے

حفیظ تائب دوسرے غزل گو شعراء سے اسی لیے ممتاز و منفرد نکلے کہ انہیں احساس کی دولت ہاتھ لگ گئی تھی اور پھر پوری زندگی ان کے سینے میں عشق رسول ایک ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح مؤجزن رہا۔ مجھے بہت سی ایسی محافل میں شرکت کا موقع ملا جن میں جناب حفیظ تائب بھی شریک ہوا کرتے تھے میں نے دیکھا کہ بڑے بڑے سینئر ادیب، شاعر بھی ان کی موجودگی میں پھکڑ پن یا اخلاق سے گری ہوئی کوئی بات کرنے سے ہچکچاتے تھے کہ سچے عشق میں ڈوبی ہوئی کسی شخصیت کے سامنے کوئی ایسی جرات کیونکر کرسکتا تھا میں نے ہمیشہ انہیں جھک کر سلام کیا اور جواباً ان کی شفقت کا حقدار ٹھہرا۔ لاہور کے شیزان ہوٹل میں کسی شاعر کے نعتیہ مجموعہ کی تقریب رونمائی تھی جس کی صدارت جناب حفیظ تائب کررے تھے مذکورہ تقریب میں مجھے بھی مضمون پڑھنے کا موقع ملا میں نے اپنے مضمون میں ہلکے پھلکے انداز میں اور اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے بعض جملے اور واقعات ”کوٹ“ کیے تو تقریب کے بعد جناب حفیظ تائب نے زیر لب مسکراتے ہوئے میرے شانے پر ہاتھ رکھا اور کہا”عالمگیرین آپ سنجیدہ سے سنجیدہ تقریب میں بھی کوئی نہ کوئی گنجائش نکال لیتے ہیں“۔

گویا ان کی کم گوئی اور متانت زندگی کے لطیف پیراﺅں کو محسوس کرنے میں کبھی رکاوٹ نہیں رہی وہ آخری عمر میں کمزور اور نخیف دکھائی دینے لگے تھے لیکن ایک طاقت جس کے بل بوتے پر انہوں نے کینسر جیسی موذی مرض کا سترہ برس مردانہ وار مقابلہ کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسول کے ساتھ سچ اور گہرا عشق تھا ۔ موت برحق ہے جو آکر رہتی ہے، لیکن جس آن اور وقار سے کوئی موت کا سامنا کرتا ہے وہی اس کا امتیاز ٹھہرتا ہے۔

ریڈیو پاکستان لاہور کے سینئر پروڈیوسر اور ہمارے دیرینہ دوست آفتاب اقبال اس واقعہ کے راوی ہیں کہ جناب حفیظ تائب کو کینسر کا مرض لاحق ہوا تو وہ مختلف ڈاکٹروں سے علاج کراتے رہے پھر ڈاکٹروں نے انہیں کہا کہ فوری طور پر امریکہ جائیں اور وہاں سے آپریشن کروائیں۔ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے انہوں نے جو جمع پونجی ان کے ساتھ تھی اکٹھی کی اور تقریباً چھ لاکھ روپے لے کر امریکہ روانہ ہوگئے وہاں ڈاکٹروں نے ان کا مکمل معائنہ کیا اور بتایا کہ آپ کے آپریشن کی کامیابی اور ناکامی دونوں کے چانسز ہیں گویا آپریشن کے بعد آپ ٹھیک بھی ہوسکتے ہیں اور خدانخواستہ آپ کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ جناب حفیظ تائب نے آفتاب اقبال کو بتایا کہ انہوں نے یہ سوچا کہ جتنی زندگی ہے وہ تو انشاءاللہ ضرور پوری کروں گا پھر میں جو جمع پونجی بچوں کی تعلیم و تربیت پر خرچ کرسکتا ہوں اسے ایک ”بے مقصد آپریشن“ پر کیوں ضائع کردوں۔ انہوں نے آپریشن نہ کروانے کا فیصلہ کیا اور امریکہ سے سیدھے عمرے کے لیے سعودی عرب چلے گئے جہاں نمازوں کی پنجگانہ ادائیگی کے ساتھ ساتھ روضہء رسول کے پاس بیٹھ کر روتے رہنا ان کا معمول بن گیا۔ مسلسل دو تین دن کے عمل کے بعد ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا میں کئی روز سے آپ کو روضہء رسول کے پاس بیٹھے اور روتے ہوئے دیکھ رہا ہوں آپ رونے کے بجائے اپنا مدعا کیوں بیان نہیں کرتے۔ حفیظ تائب نے رونا بند کردیا اور اپنے پیارے رسول سے ”باتیں“ کرتے ہوئے اپنا مدعا بالکل ایسے انداز میں بیان کیا جیسے کسی انتہائی قریبی اور ہمدرد شخص کے سامنے بیان کیا جاتا ہے وہ باتیں کرتے ہوئے ایک اجنبی کیفیت میں کھو گئے اور جب انہیں ہوش آیا تو ان کے جسم اور کپڑے پسینے سے شرابور تھے اور وہ خود کو انتہائی تروتازہ محسوس کررہے تھے۔ وہ اٹھے اور اپنی رہائش گاہ چلے گئے اور اگلے روز کی فلائٹ سے وطن واپس پہنچ گئے یہاں انہوں نے اپنے ڈاکٹروں سے دوبارہ چیک اپ کروایا جنہوں نے تشخیص کی کہ آپ کے مرض میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے بلکہ اب صرف ایک نشان سا دکھائی دیتا ہے پھر ہم نے اور سب نے دیکھا کہ حفیظ تائب اس موذی مرض کے ساتھ بھی زندہ رہے اور خوشبوئے رسول نے ان کے دامن کو معطر کیے رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نعت گوئی نے نہ صرف ان کے ہم عصر بلکہ معروف اور ممتاز ادیبوں کو بھی متاثر کیا۔ جناب احمد ندیم قاسمی نے ایک جگہ لکھا کہ ”جدید اردو نعت گوئی میں حفیظ تائب کی آواز سب سے منفرد، نہایت بھرپور اور انتہائی شیریں ہے ان کی نعت میں عشق، سلیقہ مندی کا پہرہ ہے ساتھ ہی حفیظ تائب کی نعت ممکنہ فنی محاسن سے آراستہ ہے اور ایک کڑی حد ادب قائم رکھ کر اس اعلیٰ معیار کی نعت کہنا جو اس دور میں سند کا درجہ رکھتی ہے صرف حفیظ تائب کا اعزاز ہے“۔

انہوں نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں نعت کہی اور خود کو ہمیشہ کے لیے امر کرلیا ان کی ایک پنجابی نعت کا شعر ملاحظہ کیجیے۔

پانی لالا پھاوے ہوئے
روح دے رُکھ نہ ساوے ہوئے

جناب حفیظ تائب اردو اور پنجابی زبان میں نعت کی متعدد تصانیف کے خالق ہونے کے علاوہ تحقیق، تدوین اور تنقید کے حوالے سے بھی درجنوں کتابوں کے مصنف تھے۔ لیکن ان کی زندگی کا ایک پہلو جو ان کے ہر کام اور ہر جہت پر حاوی ہوگیا وہ نبی آخرالزمان حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سچی اور بھرپور لگن تھی بلاشبہ اسی لگن کی بدولت رہتی دنیا تک اس عاشق رسول کا نام زندہ رے گا بقول بابا بھلے شاہ

بھلے شاہ اساں مرنا ناہیں گورپیا کوئی ہور۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1758 Print Article Print
About the Author: Yousaf Alamgirian

Read More Articles by Yousaf Alamgirian: 51 Articles with 48824 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

ALLAH HAMYAIN B APP[S.A.W.]KI TAIEEMAT PR CHALNY KI TOFEEQ ATTA FARMYE .
By: AYESHA, IBD on Aug, 12 2009
Reply Reply
0 Like
Language: