فضائے بدر پیدا کر

شام میں عوامی انقلاب کا آغازہوئے دوسال آٹھ ماہ سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔۔۔ کئی دہائیوں سے آمریت اورظلم و جبرمیں جکڑے ہمارے عرب بالخصوص شامی مسلمان غلامی سے بڑھ کرخاموشی اورخوف کی زنجیروں کو توڑ چکے ہیں۔۔۔ شام کے مسلمانوں کی قربانیاں لازوال و بے مثال ہیں۔۔۔ غلامی کے دلدل میں دھنسے ہمارے اذہان اس بات کا تعین کرنے میں ناکام ہیں کہ کوئی آخر اس حد تک کیسے قربانیاں دے سکتا ہے۔۔۔ معصوم بچوں کو انتہائی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارنا ،پاک دامن مسلم خواتین کی عصمت دری ، آبادیوں پر زہریلی گیس سے لیس بموں کی برسات، کلمہ پڑھتے نوجوانوں کو زندہ درگور کرنے کے روح پرور مناظر، یکے بعد دوسرےنماز جنازہ اور احتجاجی مظاہروں پر اندھا دھند فائرنگ۔۔۔ یہ سب اور بہت کچھ ۔۔۔ بلاد الشام میں جاری انتہائی کشیدہ صورتحال کی منصفانہ منظرکشی کرتے ہیں۔۔۔

مگر بہت کچھ ایسا ہے جو آج تک بیان نہیں کیا گیا۔۔۔ وہ روحانی کیفیت ، وہ غیبی مدد۔۔۔جو شامی انقلابیوں کو انکے کیریئر، عیش و آرام، انکے بیوی بچوں ، یہاں تک کہ انکی جانوں سے زیادہ مقدم ہے۔۔۔ وہ دن کی روشنی میں دین کی خاطرلڑتے جبکہ رات کی تاریکی میں اِس دین کی گہرائیوں کو سمجھنے میں صَرف کرتے ہیں۔۔۔ شام میں ہرایک انقلابی کی جان کی اہمیت جابر بشار کی جانب سے ان کے سر کی قیمت یعنی دو لاکھ سے پانچ لاکھ شامی لرا سے کئی گناہ بڑھ کر ہے ۔۔۔ یہی وہ کیفیت تھی جس کے باعث دنیا بھر کے مسلمان شام کی مقدس سرزمین پہنچتے رہے۔۔۔ایران، مصر،سعودی عرب ،اردن، پاکستان اوروسطی ایشیائی مسلم ممالک کے حکمرانوں کی ہٹ دھرمی ،خاموشی اور مسلسل غداری کو دیکھ کر یہاں کے عوام یہاں تک کہ امریکا، آسٹریلیا ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے مسلمانوں نے بھی اپنے شامی بھائیوں کی پکار پر لبیک کہا۔۔ آسٹریلیا سے آئے ہوئے محمد ابن البراء نے جو اب ادلیب شہر میں رہائش پذیر ہیں ایسے ذاتی مشاہدات و تجربات کا تذکرہ کیا ہے جو معجزات سے کم نہیں ، جنہیں سنتے ہی رونگھٹے کھڑے ہوجائیں ۔۔۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے 9ماہ کے عرصے میں عقل کو دنگ اور دلوں کو دہلادینے والی چیزیں دیکھی ہیں ۔۔۔

محمد ابن البراء نے جنگ زدہ ملک میں اپنے ابتدائی دن سلمیٰ نامی قصبے میں گزارے جوہر روز تقریباً 15دھماکوں سے گونج اٹھتا۔۔ انکے مطابق اگر اس علاقے میں صرف دھماکوں کی تعداد کا اندازہ لگایا جائے تو یہ خیال کرنا قطعاً غلط نہ ہوگا کہ یہاں جاندار باقی نہ رہیں مگر اسکے باوجود سلمیٰ میں آج بھی ہزار وں لوگ بستے ہیں ۔۔۔البراء کہتے ہیں کہ جب وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ جائے وقوع کا دورہ کرتے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے وہاں کچھ ہوا ہی نہ ہو، جانی و مالی نقصان کے آثار ملنا تو دور کی بات ہے۔۔۔ اللہ پاک کسی کو آزمائش میں ڈالے اور اس پر ثابت قدم رکھے تو صرف دعائیں ہی نہیں خواہشات بھی پوری کرتا ہے، البراء کو گاڑی کی ضرورت پڑی جس کے بغیر انکے لیے شہریوں کی مدد کرنا انتہائی دشوارتھا، رقم کی عدم دستیابی کے باعث انہوں نے انتہائی ناامیدی کی حالت میں آسٹریلیا میں رہائش پذیر اپنے بوڑھے والدین سے رابطہ کیا اگر وہ کچھ مدد کرسکیں ۔۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں بالکل امید نا تھی کہ انکے والدین اس مقصد کیلیے کچھ کرسکیں گے۔۔ بہرحال اپنا حال بیان کرکے دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ سے مدد کی دعا کی ۔۔ محض 48گھنٹے ہی گذرے تھے کہ انکے والدین نے فون کیا اور بتایا بیٹا !رقم کا بندوبست ہوگیا ہے، تم مقصد کی جانب بڑھتے رہو۔۔۔

شام کے ساحلی شہراذقیہ(لتاکیہ)کے ہر گاؤں میں صاف پانی کے متعدد چشمے یہاں باشندوں کو ہنگامی بنیادوں پر پانی فراہم کرنے کا ذریعہ تھے البتہ یہ چشمے عام طور پر شدیدگرمی میں خشک اور سردیوں میں برفانی شکل اختیار کرلیتے ۔۔ اللہ پاک کی قدرت ہے حکومت نے جس دن سے یہاں کے رہائشیوں کیلیے پانی بند کیا یہ چشمے معجزانہ طور پر اس دن سے چاہے گرمی ہو یا سردی رہائشیوں کو بلاتعطل صاف پانی فراہم کررہے ہیں۔۔۔ سورة انفال میں میدان عمل میں سرگرم مسلمانوں کی غیبی امداد پرایک واقعہ یوں بیان ہوا کہ جب دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں تو وہ (شیطان )الٹیں پاؤں بھاگا۔۔ اور کہا کہ میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں ، میں ان چیزوں کو دیکھ رہا ہوں ، جو تم کو نظر نہیں آتیں(مراد فرشتے)۔۔۔ حکومتی جنگی طیارے اور ٹینک کئی عرصے سے غیرانسانی و غیرمادی قوتوں کے خلاف نبرآزما ہیں۔ ۔۔ کتنی ہی بار بشاراور اسکی اتحادی فوج کو یہ موقع ہاتھ لگا کہ وہ اندرونی شہر میں پیش قدمی کریں ۔۔۔عینی شاہد گواہ ہیں کہ بشار کے سپاہی بغیر کسی ظاہری مزاحمت کے دسیوں بار اہم چوکیوں تک پہنچنے کے بعد وہاں سے اپنا ساز و سامان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔۔ کیا یہ ممکن ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی والے جنگی جہازآسان ترین اہداف یعنی مساجد اوربلند و بالاعمارات کو نشانہ نہ بناسکیں ۔۔۔باغیوں کے ذاتی مشاہدہ کے مطابق جنگی جہازوں نے کئی بار ویران صحرا ،جنگلات اور پہاڑوں پربم برسائے جو انکی سمجھ سے بالاتر ہے۔۔۔ تو کیا شامی افواج اُن کے خلاف برسرپیکار ہیں جو ہمیں دکھائی نہیں دیتے یا انکے پائلٹ جہاز اڑانے کے ہی اہل نہیں؟

اللہ نے جس کی قسمت میں رسوائی لکھی ہو اسے دردناک موت دیتا ہے اورجنکی قسمت میں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی لکھ دے انہیں پرسکون موت نصیب فرماتا ہے۔۔ محمد ابنالبراء سمیت کئی لوگ گواہ ہیں کہ شہید انقلابیوں کی لاشیں نہ سڑتی ہیں اور نہ ہی انکا خون جمتا ہے ، ان کے چہروں پر خوشی کے آثار نمایاں ، انکے جسم سکون کی روشنی سے چمکتے دمکتے نظرآتے ہیں۔۔۔ مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرنے کی کشمکش میں سخت پیاس کی حالت میں نڈھال زخمی انقلابیوں کے ہاتھوں سے چشمہ کا پھوٹنا، بعض متقی انقلابیوں کو شہادت سے کچھ دیر قبل خواب میں جنت دکھائی دینا عام انسانی حواس سے بالاتر چیز ہے۔۔۔
ہمارے ایک دوست منیب الباکستانی کی عربی میں لکھی گئی نظم کا عملی پہلو شامی مسلمانوں کی زندگیوں میں صاف عیاں ہے۔۔۔
اے مسلمانوں! اے سیّد الامم!
اے رسول ﷺ کی امت! تمہیں کیا ہوا ہے؟
کفار نے تم پر غلبہ پالیا ہے
تم میں سے کچھ قید ہیں ،کچھ مقتول
تم کمزور نہ پڑو، کفار کے خلاف ڈٹے رہو
دیواریں جو تم پر بنادی گئیں انہیں توڑ ڈالو
اپنے غالب اور قوی رب سے مدد طلب کرو
اور فرقے فرقے نہ بنو، چھوڑ دوتفریق کو
تمہاری کوششوں کا نتیجہ خسارہ نہ ہوگا
آگے بڑھو، گوکہ تمہیں مشکلیں پیش آئیں
ہر مشکل کے بعد آسانی ضرور ہے
خوب شوق کے ساتھ کوشش کرو۔۔۔

‘‘اگر تم صبر و تقویٰ کرو اور کافر اسی دم تم پر آپڑیں تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا’’۔۔۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قرآن کریم کی یہ آیت شامی مسلمانوں کیلیےہی نازل کی گئی ہو۔۔۔ نبی کریم ﷺ کی ہر ایک خبر حق اور ہر ایک بشارت ضرور پوری ہوگی۔۔۔ آپﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ ‘‘پس جب فتنے رونما ہوں تو ایمان شام میں ہوگا ۔۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا، ‘‘میں اللہ کے فرشتوں کو دیکھتا ہوں کہ انہوں نے شام کے اوپر اپنے پَر پھیلائے ہوئے ہیں۔’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبردار کیا کہ جب اہل شام میں فساد پھیل جائے تو تم میں کوئی خیر نہ رہے گی۔۔۔ شام ہی وہ مقدس سرزمین ہے جہاں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اتریں گے، رسول ﷺ نے فرمایا، “عیسیٰ دمشق میں مشرق کی طرف سفید مینار پر اتریں گے”

شام حق و باطل کے درمیان جنگ میں مسلمانوں کا فیلڈ ہیڈ کواٹرہے ، شامی سرزمین پر اس وقت خونی معرکہ جاری ہے ۔۔۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد مسلمانوں کا قتل عام کوئی عام بات نہیں، کچھ نہ کرنے سے بہت بہتر کچھ کرنا ہے ۔۔۔ شام کے مسلمان اِس فانی زندگی کے مقابلے میں اُس ابدی زندگی کو گلے لگانا پسند کرتے ہیں جہاں انہیں ہمیشہ رہنا ہے ۔۔۔ وہ اللہ کی راہ میں اپنا مال ، اپنی جان اور سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں ۔۔۔ یہ شعر شام کے مسلمانوں کے سوا بھلا اور کس کیلیے ہوسکتا ہے؟
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی۔۔۔۔
Syed Hassam Ahmed
About the Author: Syed Hassam Ahmed Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.