کموڈور (ر) محمدیونس(مرحوم)

(Yousuf Alamgirian, Rawalpindi)
لوگ پیدا ہوتے ہیں‘ جیسی تیسی زندگی گزارتے ہیں اور دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زندہ ہوں بھی ہوں تو زندہ نہیں ہوتے۔ ان کی زندگی ’’زندہ درگوری‘‘ سے مختلف نہیں ہوتی ایسی ہی کسی کیفیت کا اظہار شاعر انجم یوسفی مرحوم نے اپنے ایک شعر میں کیا۔
؂ مجھ سے پوچھتے کیا ہو زندگی کے بارے میں
اجنبی بتائے کیا اجنبی کے بارے میں

لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایک بھرپو رزندگی گزارتے ہیں۔وہ زندگی کو یہ موقع کبھی نہیں دیتے کہ زندگی اُنہیں گزار دے۔ زندگی وہی گزارسکتا ہے جس کو زندہ رہنا آتا ہو۔ زندہ رہنے کے ہُنر سے آشنا ایک شخص کموڈور (ر) محمدیونس بھی تھے۔ اُن کا خیال آتے ہی ایک طویل قامت‘ سوٹڈ بوٹڈ‘ تازہ شیو کی ہوئی‘ سلیقے سے کٹے ہوئے ناخن اور نپی تلی گفتگو کرنے والے شخص کی تصویر ذہن میں ابھرتی ہے۔ وہ 11اگست1941 کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق موضع سینسہ میرپور آزاد کشمیر سے تھا۔ اُن کے والد کیپٹن نتھا خان کا شمار علاقے کے معتبرافراد میں ہوتا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ملٹری کالج جہلم ‘ سرائے عالم گیر سے حاصل کی۔ اس حوالے سے وہ بھی ’’عالمگیرین‘‘ تھے۔ ان کا کالج نمبر2032 تھا ۔اُن کے بھائی یعقوب کالج نمبر 2022 بھی ’’عالمگیرین‘‘ تھے اور دونوں بھائی ایک ہی دور میں ملٹری کالج میں زیرِ تعلیم رہے۔کموڈور یونس نے 1959 میں وہاں سے ایف ایس سی کی۔ وہ کالج کے اُس فرسٹ بیچ کا حصہ تھے جنہوں نے اعزاز کے ساتھ ایف ایس سی کی اور پھر پاکستان نیوی میں کمیشن حاصل کیا۔ نیوی میں اُن کی پہچان ایک بہترین پروفیشنل نیول آفیسر کی تھی۔ انہوں نے کموڈور کے رینک تک ترقی پائی اور پھر نومبر1996میں ریٹائر منٹ کے بعد جہلم میں بحریہ فاؤنڈیشن کالج کی ایک برانچ کی داغ بیل ڈالی۔ 2004 میں آپ بحریہ فاؤنڈیشن کالج ویسٹریج کیمپس کے پرنسپل ہو کر راولپنڈی منتقل ہوگئے۔

کسی بھی تعلیمی ادارے کی خوش بختی ہوتی ہے کہ انہیں کوئی ایسا سربراہ میسر آجائے جوطلباء کی گرومنگ‘ کریکٹر بلڈنگ اور شخصیت کو نکھارنے کے اُن اصولوں پر زوردے جو آگے چل کر بچوں کی شخصیت کے مضبوط پہلو کے طور پر اُن کی شناخت بنے رہیں۔ اُنہیں ملٹری کالج میں دورانِ تعلیم پروفیسر ایف ایچ حیدری‘ پروفیسر عین الدین علوی اور پروفیسر سعید راشد جسے اساتذہ کرام سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا ۔ یوں اُن کی شخصیت ایسی تھی کہ وہ طلباء کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُن کی لیڈر شپ کوالیٹز انہیں اور بھی ممتاز کرتی دکھائی دیتیں کہ وہ طلباء میں پبلک سپیکنگ اورCreativity کو بہت پروموٹ کرتے۔ ہم نصابی سرگرمیاں ویسے بھی سٹوڈنٹس کی شخصیت میں نکھار پیداکرتی ہیں۔ بچوں کا انعام جیتنا اہم نہیں ہوتا اُن کیParticipation اہم ہوتی ہے تاکہ وہ عملی زندگی میں بھی ملکی ترقی اور دیگر معاملات میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کریں اور یہی ان کا مطمع نظر تھا۔ وہ چونکہ خود ڈریس اپ رہتے تھے‘ اچھی ٹائی‘ اچھا بلیزر اورCombination کے ساتھ عمدہ پتلون ان کے ڈریس کا حصہ ہوتی تھی۔ تھری پیس سوٹ بھی اُن پر بہت جچتا تھا۔ میری اُن سے تین حوالوں سے ملاقاتیں رہیں۔میرے لئے سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ وہ میرے بچوں کے سکول کے پرنسپل تھے‘ پھر میری مسز بھی اُسی سکول کی ایک برانچ کی کوآرڈی نیٹرہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اور میں دونوں ملٹری کالج میں زیرِ تعلیم رہے گو میں اُن کے بہت بعد میں ملٹری کالج میں زیرِ تعلیم رہا لیکن ان کا ’’عالمگیرین‘‘ ہونا مجھے اچھالگتا ہے۔
جب کبھی اُن سے ملاقات ہوتی تو ملٹری کالج کی باتیں کرتے ہوئے کموڈور (ر) یونس کی آنکھوں میں ایک خاص قسم کی چمک اور چہرے پر سرشاری ہوتی۔ ’’عالمگیرین‘‘ ہونے کے باوجود میں انہیں بہت کم Botherکیا کرتا تھا۔ میں اکثر اپنے بچوں کو سکول چھوڑنے یا لینے جاتا تو اُن کے آفس نہیں جاتا تھا۔ صرف Parents Teachersمیٹنگ یا کسی فنکشن کے موقع پر اُن سے ملتا۔ یا شاید کبھی ایک آدھ بار ویسے اُن کے آفس میں چلاگیا ہوں۔ لیکن جب بھی گیا انہیں پوری شدو مد کے ساتھ کام کرتے ہوئے دیکھا۔ کبھی ٹیچرز کے رجسٹرز ان کے سامنے ہوتے تو کبھی بچوں کے رزلٹ کارڈز۔ انہیں دیکھ کر خوشی ہوتی کہ وہ اس عمر میں اور دل کی بیماری لاحق ہونے کے باوجود بھی اتنی محنت کرتے کہ ٹھیک ’’دل‘‘ والے بھی شاید اتنا دل لگا کر کام نہیں کرسکتے۔ اُن کا بائی پاس ہو چکا تھا۔ کبھی کبھی اُن کی آفس میں بھی طبیعت بگڑ جاتی تو انہیں ہسپتال جانا پڑتا لیکن وہ ہسپتال سے سیدھا سکول واپس آتے اور کام میں جُت جاتے۔

وہ ماشاء اﷲ ’’ویل آف‘‘ تھے‘ جاب اُن کی ضرورت نہیں تھی۔ اُن کا ایک بیٹا امریکہ میں جبکہ بیٹی کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ کچھ ماہ قبل انہیں اپنے ساتھ لے گئے لیکن ان کی طبیعت ذرا سنبھلی تو انہوں نے پاکستان واپس آنے کی ضد شروع کردی۔ امریکہ میں مقیم بیٹے نے ڈاکٹرز کی ہدایت کے مطابق میڈیسن دینے پر اصرار کیا تو اس پہ بھی وہ بہت راضی نہیں تھے۔ یوں ان کی بیٹی اور بیٹے نے اپنے والد کموڈور یونس کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے انہیں ان کی خواہش پر پاکستان بھجوادیا۔میں ان کی واپسی پر انہیں ملا تو خوشی سے بتا رہے تھے کہ یہاں تو اٹھنا بیٹھنا مشکل ہو رہا تھا۔ دیکھیں ڈاکٹروں نے کیسے ایک دم ٹھیک کرکے واپس بھیج دیا ہے۔

جب سے وہ واپس آئے تھے کسی کو ذرا سا شائبہ بھی نہیں تھا کہ وہ یوں اچانک سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ملکِ عدم روانہ ہو جائیں گے۔ لیکن تقریباً 73 برس کی عمر میں13مئی 2014 کی صبح جب وہ کافی دیر تک اپنے کمرے سے باہر نہ نکلے تو تشویش ہوئی۔ ان کے خانسامے نے پڑوسیوں کو بتایا جنہوں نے دوازے کا تالا توڑ کر دیکھا تو اُن کی رحلت ہو چکی تھی۔ ساتھ ہی کمرے میں نیک ٹائی‘ پینٹ‘ کوٹ‘ شوز اور موزے انتہائی سلیقے سے رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے اُس روز تازہ شیو کررکھی تھی اور ڈریس تبدیل کرکے سیدھا کالج پہنچنا تھا لیکن زندگی ساتھ چھوڑ گئی۔ زندگی ہارگئی۔ کموڈور یونس جیت گئے کہ وہ آخر دم تک ڈٹے رہے اور کام کرتے رہے۔ وہ قائدِاعظم کے قول کام‘ کام اور بس کام کی عملی تصویر تھے۔ وہ اس جہان سے رخصت ہوگئے ہیں لیکن جب تک اُن کا ایک بھی سٹوڈنٹ اُن کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق وطن اور قوم کی خدمت کرتا رہے گاکموڈور یونس زندہ رہیں گے‘ وہ یاد آتے رہیں گے اور اُن کی یاد یں دلوں کو مسحور کرتی رہیں گی۔ اﷲ ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین!!
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 380 Print Article Print
About the Author: Yousaf Alamgirian

Read More Articles by Yousaf Alamgirian: 51 Articles with 50187 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: