جوانی سنوارنے کے بیس بہترین اصول

(Sana Rehman, Lahore)
زندگی ایک ہی بار ملتی ہے اور ہم اس زندگی کے ساتھ بالکل سوتیلی اولاد والا سلوک کرتے ہیں۔
بچپن میں آپ کو ہوش نہیں
جوانی میں جوش میں ہوش نہیں

بڑھاپے میں آکے جوش و ہوش دونوں ہی نہیں

انسان اپنی جوانی سنوار لے تو یہ ممکن بھی ہے کہ بہرحال اس وقت زندگی میں ذمہ دایاں کم اور انتخاب کی آزادی اکثریت کو میسر ہی ہوتی ہے۔

۱۔ سب سے پہلے تو پنی زندگی میں یہ طے کرلیں کہ پڑھنا کیا ہے اور کیوں ہے ۔ کیوں کے پیچھے وجہ یہ ہر گز نہیں ہونی چاہئے کہ ماں باپ نے پڑھنے کو کہا یا فلاں دوست نے پڑھنے کو کہا۔ مقصدیت اور سنجیدگی کے سساتھ سوچنا کہ کیا پڑھنا ہے۔ آگے آنے والی بہت سی کامیابیوں کی ضمانت بن جاتا ہے۔

۲۔ شوق کس چیز کا ہے؟ ہر ایک انسان کے اندر ایک شوق ضرور بسا ہوتا ہے۔ کچھ کو گانا گانے کا، کچھ کو گڈی اڑانے کا، کچھ کو تقریر کرنے کا، کچھ کو ایکٹنگ کرنے کا ۔۔۔۔ مگر یہ طے ہے کہ اگر ہر شخص ہی دیہان دے تو اسکو اندر سے کسی نہ کسی کام کا شوق ضرور ہوتا ہے۔

اہم بات یہی ہے کہ اس شوق کو ایک حد تک پورا کرنے کا ہر روز کے چوبیس گھنٹوں میں سے انتظام ضرور کیا جائے
چوبیس گھنٹے شوق کو نہیں دینے
صرف آدھا یا ایک گھنٹہ بھی شوق کو دیا جانا کافی ہے

۳ پھر شوق اور ذوق کے مطابق کسی کلب، سوسائٹی، گروپ کا حصہ بننا بھی ضروری ہے کیونکہ جب انسان کا شوق مثبت طرح پورا ہونے لگتا ہے تو انسان کی نشوونما ہونے لگتی ہے اور نشوونما کا یہی عمل انسان کو اندرونی اور بیرونی ترقیوں کی سیڑھی پہ آہستہ آہستہ لے جانے لگتا ہے۔

۴۔ ذمہ داری اٹھانا ایام جوانی اور خاص طور پر اگر انسان نے ابھی ابھی ہی ٹین ایج کی حد پھلانگی ہو تو بہت عجیب اور ناقابل ہضم سی بات لگتی ہے جبکہ ذمہ داری اٹھنا آپکے اندر کے بے ترتیب انسان کو ایک نظم اور احساس سے روشناس کراتا ہے جوکہ آپکو شروع میں تھوڑا مشکل لگتا ہے مگر ایک لمبی عمر کے لئے تیار ہونے میں مدد دیتا ہے۔ ذمہ داری بچہ پارٹی کو باقاعدگی سے سکول لے جانے اور لانے سے لے کر بزرگوں تک کو مسجد لے جانے تک سے کسی بھی کام کی ہوسکتی ہے۔ اور للڑکیاں تو برتن کی دھلائی اور فرش کی رگڑائی سے آگاہ ہیں ہی۔

۵۔ ہر دن منصوبہ بنا کر چلنا بہت اہم ہے پچھلی رات کو سونے سے پہلے اگلے دن کے لئے منصوبہ بندی کرنا ایک ایک دن کی اہمیت کا احساس آہستہ آہستہ جگانا شروع کر دیتا ہے اور انسان کو زندگی کا ہر دن پیارا اور انوکھا لگنے لگتا ہے کیونکہ جو ایک دن گزر گیا اس کو واپس لاپانا سو فیصد ناممکن ہے۔ اسی لئے ہر دن کو ملنے سے پہلے ایک کرنسی نوٹ کی طرح خرچ کرنا ہی عقلمندی ہے۔

۶۔ ہر دن میں کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جن کو کیا جائے تو فرق پڑتا ہے جن کو نہ کیا جائے تو فرق بھی نہیں پڑتا ہر انسان کی زندگی میں ان کاموں کی ترجیح مختلف ہوتی ہے سو بہتر یہی ہے کہ کیا ان کاموں کو ہی جائے جو کہ کرنے سے فرق بھی پڑے اور زندگی میں اثر بھی ہو جن کاموں کو کرنے سے صرف منٹ ہی گزر رہے ہیں اور فرق نہیں پڑ رہا انکو تو چھوڑ دینا ہی سب سے اچھا طریقہ ہے۔ ہزار کے نوٹ میں سے پانچ سو بے خیالی میں گرا دینا سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔

۷۔ صحت کو اگر سنجیدگی سے لیا جائے تو انسان کبھی بھی ٹھنڈی بوتلیں نہ پئے اور دودھ کا گلاس ایک ختم کرکے دوسرا ضرور پئے۔ اس مہنگائی میں بھی بہت سی فالتو چیزیں چھوڑ کر انسان صحتمندانہ خوراک اگر روز نہ بھی سہی ماہانہ کھانے کا انتظام کر ہی سکتا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔اگر صحت کے لئے سنجیدہ ہو تو۔ ہر انسان کی صحت جوانی میں جیسی ہوتی ہے اسکا اثر بڑھاپے میں ضرور ہڑتا ہے۔

۸۔ خواہ آپ لڑکا ہوں یا لڑکی یہ سوچنا ضروری ہے کہ اگر آپکو پیسہ کمانا پڑے تو آپ کس طرح اسکا انتظا م کریں گے آیا آپکے پاس ڈگری ایسی ہے یا کوئی ہنر ایسا ہے کہ آُپ اسکے بل پر کمانے کا انتظام کر سکیں۔ ہنر کو سیکھنا آُپکو اپنی ذات میں ایک اعتماد تو دیتا ہی ہے ساتھ میں زندگی کے نشیب و فراز سے لڑنے کے لئے ایک تلوار کا کام دیتا ہے۔ ہنرمند بننے کے لئے ضرورت من سے ذیادہ خواہش مند ہونا اہم ہے۔

۹۔ تفریح کرنا گھومنے پھرنے کے لئئے باہر نکلنا ہر انسان کا حق بھی ہے اور صحت مند رکھنے کے لئے اکسیر بھی ہے جس حد تک اور جتنی تفریح کی جاسکے ایک خاص دورانئے کے بعد کرنی ضرور چاہئے ورنہ آپکو جوانی میں ہی بڑھاپالاحق ہونے کا مکان ہے۔

۱۰۔ تعلقات بنانا اور انکو ساتھ لے کر چل پانا ہی انسان کی شان اور جانوروں سے الگ پہچان ہے۔ اگر آُ گھر سے باہر لوگوں سے ملنے اور بات کرنے سے جھجھکتے ہیں تو ملنا شروع کر دیں ایک وقت آجائے گا کہ جھجھک لفظ بھی یاد نہیں رہے گا۔ کیونکہ اچھے تعلقات بنانے کے لئے یہ جوانی کی عمر بہترین ہے کیونکہ آغے آغے زنگی میں مزید لوگ ملتے رہتے ہیں اور پریکٹس ہونے کی وجہ سے پائیدار لوگ ملتے رہتے ہیں۔
۱۱۔ سمجھدار، سنجیدہ، فکر کرنے والے اور ایک سوچ رکھنے والے لوگوں کو جاننا اور انکی بیٹھکوں میں شریک ہونا آپکو بھی ایک سمجھداریا ور عمر سے پہلے بہت سی چیزوں کے بارے میں رہنمائی کرنے میں مدد دیتا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ انسان ذِادہ سیکھتا اور ترقی کرتا بڑی عمر کے لوگوں سے ملنے سے ہی ہے۔

آجکل شہر کے مختلف حصوں میں آڈیٹوریمز میں اس طرح کی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا ہے یا اور اسکے بارے میں باقاعد طور پر تشہیر بھی کی جاتی ہے اگر ان نشستوں کو اٹینڈ نہ بھی کیا جاسکے تو بہت سی اسی طرح کی نشستیں اور پروگرام ریکارڈ کر کے انٹرنیٹ پر ڈال دی جاتی ہیں ان سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔

۱۲۔ من پسند کام کرنا جو کہ خود کو ریلیکس کرنے کے لئے کیا جائے ،،وہ بھی اتنا پی ضروری ہے جتنا ضروری یہ ہے کہ آپ سنجیدہ اور مفکر افراد سے ملیں۔ گانے سننا، فلم دیکھنا، ناول پڑھنا، واک پر جانا
ان سب میں سے کوئی بھی کام جو پسند کا ہو کرنا آپکی زندگی کو یاد گار اور دلچسپ بناتا ہے۔ سب سے بڑھ کر دماغ کو سنجیدہ اور غیر سنجیدہ دونوں طرح کے کاموں کے لئے قابل بناتا ہے اور اچھی زندگی کے لئے دونوں طرح کے کام کر سکنا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

۱۳۔ شخصیت کا بناؤ سنگھا کرنا آج کے دور کی تو خاص طور پر اہم ضرورت ہے کینکہ آپ گھر دفتر سکول یونیورسٹی کسی بھی جگہ ہوں آپکے ادب و آداب ہی آپکو دوسروں سے ممتاز بناتے ہیں-

باڈی لینگوئج اور زبانی لینگوئج کے لئے بھی انٹرنیٹ پر آج اتنی رہنمائی موجود ہے کہ آرام سے اپنے مسئلے کی نشاندہی کی جاسکتی ہے اور اسکے تدارک کے لئے بھی حل ڈھونڈا جا سکتا ہے ۔ کینکہ مختلف اقسام کے پسنالٹی سے متعلق ٹیسٹس بھی آپکو ملتے رہتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر انکو حل کرکے اپنے بارے میں خوبی اور خامی جاننا اور بھی آسان ہے۔ جوانی میں کوئی عادت ڈالنا بھی ذیادہ آسان ہوتا ہے۔

یاد رکھئے گا عمر کے کسی بھی حصے میں شخصیت سب سے اہم ہے باقی مسائل ثانوی حیثیت رکھتے ہیں اگر آُپکی شخصیت میں وقار اور میچورٹی ہو۔

۱۴۔ گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا یقینی طور پر آض کے دور کا وہ کام ہے جو کہ کرنا فالتو ترین سمجھا جاتا ہے کینکہ انسان کو لگتا ہے گھر والے ابھی موجود ہیں ذرا سوشل شائٹس یا گھر کی آؤٹ سائڈ موجود لوگوں کو ذیادہ اور ہر وقت کی توجہ دی جائے یہ حرکت ٹھیک ٹھاک مضر زندگی ہے کیونکہ ریسرچ بتاتی ہے کہ ہر بستر مرگ پر پڑے انسان کی سب سے اہم خواہش یہی تھی کہ کاش اس نے گھر والوں کے ساتھ ذیادہ وقت گزارا ہوتا۔ سو جاب لگنے یا تیس کے ہو کر گھر والوں کو وقت دینے کا انتظار کرنے کی بجائے وقت جب ہاتھ میں ہو اس وقت اس ہی اچھا گزار لیا جائے۔

۱۵۔ توازن زندگی میں اہم ترین خوبیوں میں سے ایک خوبی ہے توازن وقت تفریح میں گزارنے کے لئے بھی اور توازن وقت کو من پسند مشاغل کے لئے توازن وقت کو دوستوں گھر والوں کے ساتھ توزن وقت کو کام کرتے ہوئے بھی توازن سے استعمال کرنا ہی اصل کام ہے۔ کیونکہ ایک دن میں بہت سے کام کئے جاسکتے ہیں۔

مگر ہر کام کو ایک خاص تناسب سے وقت دے کر صرف منصوبے میں موجود کاموں کو کرکے۔

۱۶۔ اب جبکہ زندگی میں توازن اور ذات میں بھی بہتری اور توازن آگیا ہے تو شریک حیات کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے اور اس کے انتخاب کے لئے جانے سے پہلے صرف یہ سوچنا کہ 'مجھ جیسا انسان سامنے والے کی پسند ہوگا'
آُپکو بہتری، حقیقت پسندی اور تلاش میں آسانی فراہم کردے گا۔

۱۷۔ ہر سالگرہ پر غور کرنا کہ زندگی اب پچھلے سال کے مقابلے میں کتنی بہترین ہوگئی ہے اور کیا کھویا اور کیا پاایا کا حساب کتاب جاتے سالوں کو بہت کچھ دے کر جانے کے قابل بنا دیتا ہے۔

۱۸۔ خدا کی عبادت وہ کام ہے جس کو لوگ آخری عمر کے لئے اٹھا رکھتے ہیں جبکہ آخری عمر کا کیا بھروسہ ملے نہ ملے اسی لئے جونی میں ہی وقت نکالنا اور دل لگا کر عبادت کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کو بھی بے حد پسند ہے-

۱۹۔ اللہ کے ہاں ہم اس بات کے لئے بھی جواب دہ ہیں کہ وقت اور خاص طور پر جونی کہاں اور کس کام میں لگائی سو اسلئے اس جواز دہی کے احساس سے ساتھ زندگی گزارنا آپکو بلندی کی اعلی ترین سطح پر لے جاتا ہے۔

۲۰۔ اوپر بیان کئے گئے سب اصول ہی آزمودہ اور خاصی ریسرچ کے بعد اکٹھے کئے گئے ہیں سو اسی وجہ سے ان پر عمل کرنا اور انکے مطابق زندگی گزارنا زندگی کو بہتری کی طرف یقینی طور پر لے جائے گا کیونکہ ان پر عمل کرنا ایک پڑھنے والے کے اپنے اختیار میں ہے ماں باہ بہن بھائی یا کسی حکومتی کارندے کے ہاتھ میں شاید نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو عمل کا بیج بوئے گا وہی نتیجے کا پھل پائے گا -
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 6873 Print Article Print
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 227 Articles with 149580 views »
A soft skills trainer and enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniqu.. View More

Reviews & Comments

NICE AND OBSERVE PIONT OF VIEW ABOUT LIFE
By: robin, LAHORE on Nov, 04 2019
Reply Reply
0 Like
Very Well
By: Ghulam Mustafa Awan, GUJRANWALA on Nov, 03 2019
Reply Reply
1 Like
thanx sana u give me again nice idea
By: Ghufran ul Haque, Karachi on Jan, 08 2015
Reply Reply
1 Like
thanku
By: sana, Lahore on Jan, 20 2015
1 Like
thank you sana for this good article. I give you an other topic " guftugu ke adaab" is ke bhi kum uz kum 20 points likhein.
By: Muhammad saleem, Rawalpindi on Jan, 03 2015
Reply Reply
1 Like
Nice topic suggestion. Thanks for liking this one and i will write about 'guftgu' but in broader term 'communication' which is mine actual field. Thanks for idea
By: sana, Lahore on Jan, 06 2015
1 Like
Masalllah you focused lot of daily routine things in ur column which we ignored. if a person change his/her life by reading this i think the purpose of article may be completed.
i have learnt lots of things from this article.

i m also social person.

keeping writing stay bless

Mehrooz Khan
Lahore
By: Mehrooz, Lahore on Dec, 30 2014
Reply Reply
0 Like
thanks for appreciation
By: sana, Lahore on Jan, 06 2015
0 Like
Aoa hi madam I like the column of jawani sawarny kay k usool .. MASHALLAH nice vision can I know how your write this your studies purpose life its my id so please if express your vision and mission for the ummah and our nation I am sure I will be learn more things from your teachings and experience Waslam 26/12/14
By: Faizan, dubai on Dec, 26 2014
Reply Reply
0 Like
sana its very motivational thinking i realisied if i follow the these rules so inshallah i cane make my self good and i m realy thanks full for your points. and keep it up dear and i m satisfied with your points.
By: saeed khan, karachi on Dec, 24 2014
Reply Reply
0 Like
thanku so much
By: sana, Lahore on Jan, 06 2015
0 Like
thank you very much. to me this article is very helpfull for youth and it is also short so it is easy to read and understand.
By: naveed, mansehra on Dec, 23 2014
Reply Reply
0 Like
informative article..... keep it up Sana.........
By: Hammad khan, karachi on Dec, 04 2014
Reply Reply
0 Like
No Need of thnx.... u r going very well.... May Allah bless u.... i also like social work but i am not able to do...
By: Hammad khan , karachi on Dec, 19 2014
1 Like
Thank u so much for liking
By: sana, Lahore on Dec, 05 2014
2 Like
Ms Sana, It is very motivational and beneficial article. I advice that whenever u write please mention heading wise your points so it can create interest for viewer.
By: Naeem Uddin, Karachi on Dec, 03 2014
Reply Reply
0 Like
Thank u for giving a useful tip
By: sana, Lahore on Dec, 05 2014
1 Like
very good learning, I hope you will share more n more
By: Muhammad Irfan , Karachi on Nov, 28 2014
Reply Reply
0 Like
informative and motivatinal article
By: robina shaheen, Lahore on Nov, 22 2014
Reply Reply
0 Like
Robina thank u so very much.......m glad u got exact point which is "motivation"
By: sana, Lahore on Nov, 24 2014
0 Like
very well but some thing wrong because we are Muslims every Muslim can guess what is the wrong
By: Muhammad Asif Malik, Damam on Nov, 22 2014
Reply Reply
2 Like
what' wrong? Mention in detail
By: sana, Lahore on Nov, 24 2014
0 Like
boht khoob sana g jeeti raho..
By: ZEESHAN KHAN, Karachi on Nov, 15 2014
Reply Reply
2 Like
Gee han New shadi shuda couple ki mohabbat o ulfat boht se logon ko ek aankh nahi bhati.....is me aksar maa baap bi shamil hotay hain.....or esay mard ko zan e mureed ka tana dia jata hay.....or bahu ko khadima samjha jata hay.....ager is per ap kuch likh sakti hain to plz go ahead
By: ZEESHAN KHAN, Karachi on Dec, 19 2014
0 Like
zeeshan sahab thank u so very much. Do u have any other topic u can tell here
By: sana, Lahore on Nov, 24 2014
0 Like
One of the best article on this website.
By: Anees, Haripur on Nov, 05 2014
Reply Reply
1 Like
Shukriya Anees sahib............
By: sana, Lahore on Nov, 24 2014
0 Like
woww..such an information article..hats off to you sana. Keep writing and updating
By: sana, lhr on Oct, 28 2014
Reply Reply
3 Like
thank u so much sana :) if u have any other topic u can share with me i will work upon that
By: sana, Lahore on Nov, 24 2014
2 Like
Language: