دل کو لاحق ہونے والی بیماریاں کےچند اسباب

(Abdul Rehman, Doha Qatar)
کوئی بھی مرض اچانک حملہ آور نہیں ہوا کرتا بلکہ مختلف قسم کے اشاروں اور علامتوں کے ذریعے سے وہ پہلے ہمیں باخبر کرتا ہے ۔سانس پھولنا،سینے میں درد کا شدت سے احساس ہونا، بازوئوں میں درد کا آنا، دل کی دھڑکن کا معمول سے تیز ہونا،سر چکرانا یا بے ہوشی طاری ہونا،سوزش بالخصوص پائوں پر ورم کا مسلسل رہنا جیسی علامات اگر گاہے بگاہے نمودار ہونے لگیں تو اپنے معالج سے فوری رجوع کریں تاکہ بر وقت مرض سے بچائو کی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔ دل کا دورہ :۔دل کا دورہ پڑنے کا سب سے بڑا سبب شریانوں کی تنگی،اور دورانِ خون میں رکاوٹ پیدا ہونا ہے۔دل کو اپنی سرگرمیاں اور کار کردگی جاری رکھنے کے لیے ایندھن کی مسلسل ضرورت ہوتی ہے۔ دل اپنی یہ غذائی ضرورت آکسیجن اورہماری کھائے جانے والی خوراک سے شریانوں کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔دل کو خون کی شکل میں غذا فراہم کرنے والی شریانیں ہماری غذائی بد احتیاطی سے فاسد اور چربیلے مادے جم جانے سے تنگ ہوجاتی ہیں۔شریانوں میں تنگی واقع ہوجانے سے بتدریج رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ جب دل کو مطلوبہ خون کی مقدار باہم نہیں پہنچ پاتی تو وہ کئی طریقوں سے اس کا اظہار کرتا ہے۔یوں دل کے جس پٹھے کو خون کی رسد رک جاتی ہے وہ مردہ ہوکر دل کے دورہ پڑ نے کا سبب بن جاتا ہے۔ شریانوں کی تنگی کی سب سے بڑی وجہ ہائی بلڈ پریشر بنتاہے۔ خوردنی نمک کی زیادہ مقدار ،سیر شدہ چکنائیوں کا غیر ضروری استعمال،سگریٹ و چائے اور شراب نوشی،ورزش کا نہ کرنا ، بسیارگوشت خوری ،میٹابولزم کی خرابی ، افسردگی و غم،ذہنی تنائو و اعصابی دبائو اچانک صدمہ، کولیسٹرول کی زیادتی، ٹرائیگلائسرائیڈز اورکاہل وتن آسان زندگی بھی دل کا دورہ پڑنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ وجع القلب یا دل کا درد :دل کا دردافعالِ قلب کی احتجاجی کیفیت کا نام ہے۔جب دل کے پٹھوں کی کمزوری ہو،دل کو اپنی بساط سے زیادہ کام کرنا پڑے یا پھراضافی چربیوں سے شریانیں تنگ ہو چکی ہوںتوانجائنا کی علامات سر اٹھانے لگتی ہیں۔ جب ہم ورزش یا کوئی محنت طلب کام کرتے ہیں تو ایسے میں ہمارے جسم کو معمول سے زیادہ آکسیجن و غذائیت درکار ہوتی ہے۔ طلب میں اضافہ ہونے سے دل کو رسد بھی بڑھانی پڑتی ہے۔یوں دل کو اضافی کار کردگی کرنی پڑجاتی ہے جو شریانوں کی تنگی،پٹھوں کی کمزوری کی وجہ سے دل کے درد کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ دل کا درد چھاتی کی درمیانی ہڈی کے اوپری حصے میں محسوس ہوتا ہے اور چھاتی کے ارد گرد پھیل جاتا ہے۔شدت کی صورت میں یہ گردن،جبڑوں ،کندھوں اور بازوئوں کو بھی اپنی گرفت میںلے لیتا ہے۔ دل کا درد ٹیس کی بجائے شدید دکھن کا احساس لیے ہوتا ہے۔مریض اسے لگاتار کچلنے والا،تکلیف دہ اور سخت کہتا ہے۔انجائنا میں سردی کا احساس،پسینہ چھوٹنے اور دم کشی کی سی کیفیت ہوتی ہے۔دل کے درد کی وجہ سگریٹ نوشی، بد ہضمی،دائمی قبض،مے نوشی، بلند فشار الدم،جوش وغصہ، رنج و الم،مستقل بے خوابی، شوگر،پٹھوں کے اکڑائو اور آتشک کے اثراتِ بد بن سکتے ہیں۔ خفقانِ قلب:خون کی مقدار اور دبائو میں عدم توازن ہونے سے دل کی دھڑکن کی معتدل رفتار میں تبدیلی واقع ہوجایا کرتی ہے۔ طب میں اسے خفقانِ قلب یا بے قاعدہ دل کی دھڑکن کہا جاتا ہے۔دل کی دھڑکن کو باقاعدہ رکھنے کے لیے اس کی رفتار میں توازن ہونا لازمی خیال کیا جاتا ہے۔ جب دل کے خانوں میں سست روی کی وجہ سے خون صحیح طرح سے نہیں بھر پاتا اور وہ سکڑ کر خون خارج کرنے لگتے ہیں تو دل کے پھیلائو اور سکڑائو کی کیفیات میں عدم توازن دل کی دھڑکنوں میں بے ترتیبی پیدا کر کے خفقانِ قلب کا مرض ظاہر کرنے لگتا ہے۔اس مرض میں دل اسقدر بآوازِ بلند دھڑکتا ہے کہ مریض کو خود بھی ہتھوڑا نما آوازیں سنائی دینے لگتی ہیں۔دل زور زور سے دھڑکتا ہے اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگتا ہے۔گھبراہٹ اور بے چینی کا غلبہ ہو کر مریض پر بے ہوشی طاری ہوجاتی ہے۔یہ عارضہ کمئی خون،شراب،چرس،چائے اور سگریٹ نوشی وغیرہ سے لاحق ہوا کرتا ہے۔ بعض افراد کو ذہنی دبائو اور اعصابی تنائو کے متواتر رہنے سے بھی خفقانِ قلب کا مرض اپنی گرفت میں لے لیا کرتا ہے۔ اختلاج القلب:۔ اس مرض میں دل کی دھڑکن طبعی حالت سے زیادہ ہو کر پھڑکن کا روپ دھار لیتی ہے۔دل دھڑکنے کی رفتار زیادہ ہوکر دل پھڑ پھڑانے لگتا ہے۔سر گھومتا دکھائی دیتا ہے۔دل میں درد،سانس میں تنگی اور کانوں میں بھنبھناہٹ کی سی کیفیت ہونے لگتی ہے۔اس مرض میںموت واقع ہونے کے امکانات کافی حد تک کم ہوا کرتے ہیں۔ اس مرض کے لاحق ہونے کی وجوہات میں اعصابی کمزوری،منشیات کا بے دریغ استعمال اچانک غم یا خوشی سے پالا پڑنا،چائے کی زیادتی اور کثرتِ محنت کے کام کرنا وغیرہ ہو سکتی ہیں۔ شریانوں کی سختی:دل کے بائیں حصے میں ورم کی کیفیت پیدا ہوکر شریانوں کی دیواروں کو موٹا کرنے کا باعث بن جا تی ہے۔ اس مرض میں دل فیل ہو کر موت واقع ہونے کا کافی خطرہ موجود ہوتا ہے۔شریانوں میں سختی پیدا ہونے کی وجہ ہائی بلڈ پریشر،گوشت کی کثرت،شراب ،چائے اور سگریٹ نوشی کی عادات اورڈھلتی عمر کے اثرات شامل ہیں۔ دل کے پٹھے کی خرابی: اس عارضے میں دل کے پٹھے میں ورم پیدا ہوجاتا ہے، جو کہ دل کی کارکردگی کو با لواسطہ طور پر متاثر کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔یہ عارضہ بھی زندگی کے لیے خطرناک مانا جاتا ہے۔ علاج معالجے میں ہمیشہ احتیاط کرنی چاہیے، گھریلو ٹوٹکوں اور نیم حکیموں کے چکر میں پڑ کر زندگی دائو پر نہیں لگا دینی چاہیے۔اس مرض میں دل کے مقام پر درد اور بھاری پن کا احساس ہوتا ہے۔طبیعت میں ایک عجیب سی بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔دل کے افعال میں ظاہری طور پر نقص واقع ہوکرعلامات نمو دار ہونے لگتی ہیں۔ جب اس بیماری میں شدت پید اہوتی ہے تو مریض کی حالت میں ہذیان کی کیفیت طاری ہو کر بخار ہو جاتا ہے۔ دل کے والوز کی خرابی: دل کی جھلی میں سوزش پیدا ہونے سے دل کے چیمبروں یا والوز کی کاردگی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہا کرتی۔جدید طب اسے انفیکشن کے نام سے موسوم کرتی ہے۔ دل کی جھلی کی سوزش نقصان دہ بیکٹیریا ز کے اجتماع سے ہوتی ہے۔اس مرض کی تشخیص جتنی جلدی ممکن ہوسکے ہو جانی چا ہیے ورنہ تاخیر کی صورت میں سرجری کے بے غیر کوئی چارئہ کار نہیں رہ جاتا۔سرجری کے ذریعے سے دل کا متاثر حصہ تبدیل کردیا جاتا ہے۔اگر بر وقت اقدام نہ کیا جائے تو مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔والوز کی خرابی میں ہائی بلڈ پریشر،مستقل کھانسی دل کی دھڑکنوں میں بے تر تیبی،تنگئی سانس اوربیہوشی وغیرہ کی علامات سامنے آتی ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Rehman

Read More Articles by Abdul Rehman: 216 Articles with 194424 views »
I like to focus my energy on collecting experiences as opposed to 'things

The friend in my adversity I shall always cherish most. I can better trus
.. View More
13 Jan, 2015 Views: 2594

Comments

آپ کی رائے
kch is ka ilaj bhi batate.
By: Muhammad saleem, Rawalpindi on Jan, 17 2015
Reply Reply
0 Like