تارکین وطن، پی آئی اے اور پاکستانی سفارت خانے

خارجہ پالیسی کے متعلق کچھ بھی کہتے سنتے لکھتے بہت تکلیف ہوتی ہے ۔ خدا کرے کبھی پاکستان کی وزارت خارجہ کو پاکستان کے خارجی مسائل اور درپیش چیلنجز پر توجہ دینے کا موقع ملے ۔منصوبہ بندی ہو سکے ترجیحات متعین کی جا سکیں اور ان پر عمل درآمد کا آغاز ہو سکے۔ خارجہ پالیسی میں کچھ امور تو پیچیدہ نوعیت کے بھی ہیں جن پر ظاہر ہے مشکلات بھی اُسی تناسب سے ہو سکتی ہیں لیکن کچھ محاذ تو ایسے ہیں جن پر توجہ دینے کے لیے زیادہ بڑے ماہرین کے بغیر بھی کام کا آغاز کیا جا سکتا ہے ۔ پاکستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے بیرونی دنیا میں بیٹھے ہوئے لوگ دوطرح کے ہیں۔ ایک وہ جو محنت مزدوری کے لیے مشرق وسطیٰ خلیجی ریاستوں اور دیگر کچھ ممالک میں عارضی طور پر مقیم ہیں۔ دوسرا طبقہ مغربی ممالک اور شمالی امریکہ میں دوسری شہریت کے حامل افراد اور خاندانوں کا ہے ۔اگر مزید مشکلات میں جائے بغیر بھی صرف انہی دو طبقات کو سامنے رکھ کر پالیسی ترتیب پائے اور ہر ممالک کے حالات اور قوانین کو سامنے رکھ کر پاکستانی سفارت خانے اور پی آئی اے اور متعلقہ ملک کی وزارت داخلہ/خارجہ کا تال میل پیدا کر لیا جائے تو معاملات بہت جلد بہتر ہو سکتے ہیں۔

اس ساری پالیسی کو وضع کرنے کے لیے چند اصولوں کی موجودگی ضروری ہے ۔ ایک یہ کہ اصولی طور پر اس طبقے کو ملک کا ایک عظیم سرمایہ سمجھا جائے ۔اسے سفارت خانوں کے ذریعے اپنا ئیت کا احساس دلایا جائے ۔ انہیں کسی بھی دور میں جماعتوں، حکومتوں، صوبوں، فرقوں اور قبیلوں کے بجائے پاکستان کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے ۔ ہر شخص کو یہ احساس ہو کہ بطورپاکستانی سفارت خانہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرنا چاہتا ہے ۔ دوسرا یہ کہ بعض بہت معمولی مسائل کو لمبی چوڑی کانفرنسوں کی نذر کرنے کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر حل کیا جائے ۔ لیبراتاشی موقع پر جائیں اور ان کی داد رسی کریں۔ افرادی قوت اور زر مبادلہ کی بنیاد پر سفارتی عملے میں لیبراتاشی مقرر کیے جائیں اور رابطے کا پروگرام بنایا جائے ۔ ہفتہ واریا پندرہ روزہ پروگرام میں تمام درخواست گزاروں کی سفیر اور قونصل جنرل سے ملاقات کروائی جائے ۔ ہر دو چار ماہ کے بعد یا ہر ممالک میں موجود کاروباری موثر افراد سے ملاقاتیں/دعوتیں پروگرام میں شامل کی جائیں۔ جن کمپنیوں میں پاکستانی افرادی قوت موجود ہو ان کے انتظامیہ سے روابط رکھے جائیں اور وزارت خارجہ ہر ملک میں کارکردگی کی بنیاد پر عملے کی ACRsاور اضافی مراعات کا اہتمام کرے۔

بعض عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری سے کمی آرہی ہے اُس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ سفارت خانوں کو ہر ملک میں افرادی قوت بڑھانے اور تجارت میں اضافے کے اہداف کا پابند بنایا جائے ۔ درآمدی اور برآمدی مراکز وزارت تجارت داخلہ اور خارجہ کے چند افراد پر مشتمل ایک مستقل کمیٹی موجود ہو جو طویل خط و کتابت کے بجائے Skypeجیسے میسینجرا ور ویڈیو کانفرنسز کے ذریعے ماہانہ بنیادوں پر پالیسی کے موثر اور سود مند ہونے کا جائزہ لے کر بہت مختصر عرصے میں ہر ملک کے ساتھ معاملات کو بہتری اور پاکستان کے لیے بلکہ دونوں اطراف کے لیے نفع بخش بنایا جا سکتا ہے ۔ عرب ممالک بلکہ ہر ملک کے سفارت خانہ میں چند آفیسران کو اس ملک کی زبان ،روایات اور تاریخ سے ضروری شناسائی کو لازمی قرار دیا جائے ۔

پی آئی اے کاروباری ادارہ ہے ۔ سیاسی بھرتیوں اور تقرریوں نے اس ادارے کو سنگین آزمائش سے دو چار کر دیا ہے ۔ کچھ بنیادی اصلاحات وقت کا اہم تقاضا ہیں تا ہم پی آئی اے کی پرواز میں کمی کا رحجان رو ک کر اسے پرانی حالت میں واپس لے جانا ضروری ہے ۔ پی آئی اے کے چیئرمین کی حیثیت سے جنرل رحیم خان نے دوسرے کئی دوستوں کے ساتھ ساتھ سردار عبدالقیوم خان سے بھی پی آئی اے کو ترقی دینے کے لیے جب تجاویز مانگیں تو سردار عبدالقیوم نے جواب میں لکھا کہ قومی ائیر لائن کو آگے لے جانے کے بجائے چند سال پیچھے اُس مقام پر لے جائیں جہاں ائیر مارشل نورخان نے اُسے پہنچایا تھا۔ ائیر مارشل نورخان کے زمانے میں PIAدنیا کی چند اچھی ائیر لائنز میں سے ایک تھی۔

جن ممالک سے PIAکو سو فیصد مسافر دستیاب ہیں وہاں پروازیں بند کی جا رہی ہیں جو ایک منظم سازش ہے جس کی تفصیل بہت تکلیف دہ ہے ۔ جو پروازیں چل بھی رہی ہیں اُس پر چند اچھے لوگوں کو چھوڑ کر باقی عملہ اتنا تھکا ہارا ہوتا ہے کہ ان کے رویے سے دوبارہ اس ائیر لائن پر سفر کی خواہش ہی باقی نہیں رہتی ۔ رویے اور بد اخلاقی کے علاوہ بعض مردو زن قائم علی شاہ صاحب کے ہم عمر لگتے ہیں جنہیں دیکھ کر گذشتہ صدی کی ابتدائی تاریخ سامنے آنے لگتی ہے ۔

حال ہی میں دبئی اور کئی دوسرے ممالک سے PIAنے فیصلہ کیا ہے کہ ہفتے میں صرف ایک میت پاکستان لائی جائے گی اور ماضی کی طرح روزانہ کوئی میت قبول نہیں کی جائے گی ۔ کئی ارب ڈالر کمانے والے پاکستانی /کشمیری اپنی میتیں بھی سہولت سے واپس نہیں لا سکتے تو اس ائیر لائن نے ملک کی کیا خدمت کرنی ہے ۔ چاہیے تو یہ کہ افرادی قوت کے تناسب سے پروازوں کی تعداد ہواور ہر پرواز میں اپنے لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولتوں کا پیکچ تیار کیا جائے۔ خوش اخلاقی اور مروّت کے تقاضے جس حد تک ممکن ہے پورے کیے جائیں۔ علامہ نے تو اگرچہ بہت آگے کی بات کی ہے کہ :
مروّت حسنِ عالم گیر ہے مردان غازی کا
مسلمانوں کے لہو میں ہے سلیقہ دلنوازی کا

اگر اُس حد تک ممکن نہیں تو اپنی کاروباری ضروریات کو تو پورا کیا جائے ۔ پی آئی اے کو اگر چلانا ہے تو پاکستانی میتوں کے لیے روزانہ کی اس پابندی کو بلا تاخیر ختم کیا جائے ۔ PIAمیں فیملی پیکچ متعارف کروائے جائیں اور PIAکو مسافروں کے لیے پر کشش بنانے کے لیے فوری اقدامات کرتے ہوئے جان چھڑاؤ پالیسی کو ختم کیا جائے ۔ PIAکی پاکستانی مسافروں سے بدسلوکی ناقابل معافی مجرمانہ فعل ہے ۔ جس پر جلد از جلد نظر ثانی کی جائے اور PIAکی انتظامیہ سے سیاسی /سفارشی آفیسران کو ہیڈکوارٹرمیں بٹھا کر بیرون ملک اعلیٰ صلاحیت اور کردار کے موجودلوگوں کو موقع دیا جائے ۔ دوبئی/متحدہ عرب امارات یا کسی بھی دوسرے ملک میں رہنے والے پاکستانیوں کو کسی ایک سفارشی ایجنٹ یا ایجنسی کے رحم و کرم پر چھوڑنا کتنا افسوسناک ہے ۔ ہمیں اپنی ماضی کی ناکامیوں ،بدنامیوں اور اڑوس پڑوس کے ممالک کے تجربات سے کچھ تو سبق سیکھنا چاہیے ۔
ان شاء اﷲ باقی آئندہ جمعہ
 
Sardar Attique Ahmed Khan
About the Author: Sardar Attique Ahmed Khan Read More Articles by Sardar Attique Ahmed Khan: 23 Articles with 37644 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.