تارکین وطن ،پی آئی اے اور پاکستانی سفارتخانے

(Sardar Attique Ahmed Khan, Azad Kashmir)
گوشتہ کالم میں عنوان بالا کی مناسبت سے کچھ امور پر گفتگو ہو چکی ہے ۔ میرے نزدیک بے جا تنقید اور اعتراض کرنا دانشمندی نہیں البتہ تنقید کا سننا، برداشت کرنا اور اُسے اصلاحِ احوال کے لیے استعمال کرنا نہایت احسن ہے ۔ پاکستان کی معیشت ہو یا اندرون و بیرون ملک وطن عزیز کا تاثر (Image)بہتر کرنے کے لیے منظم کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ کچھ اقدام ایسے ہیں کہ کسی آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں کسی کل جماعتی کانفرنس کی احتیاج نہیں۔ ملک کے اندر یا باہر کسی کی ناراضگی مول نہیں لینی۔ بس اگر کچھ کرنا ہے تو صرف اور صرف معاملات کو نیک نیتی سے بہتر راستے پر ڈالنے کی کوشش ہے ۔ ترجیحات کا تعین ہے اور تمام اقدامات کا مقصد ملک و ملت کی بہتری اور پاکستان کے مفادکو بنانا ہے ۔

پاکستانی سیاست کی طرح سفارت خانے بھی عام لوگوں کی دسترس سے باہر ہیں۔ ذمہ دار آفیسران کا تو عام پاکستانی کے لیے دیدار بھی محال ہے ۔ چند استثنا ء ا ٰٔت کے سوا اکثر سفارت خانوں میں اپنے ذاتی اور کاروباری حلقوں کی بنیاد پر معاملات ہوتے ہیں۔ اربوں ڈالر زرِ مبادلہ کمانے والے غریب مزدور حکومتوں کی تحسین کے مستحق ہیں کہ اپنی ذاتی کاوشوں سے اپنے اہل و عیال کی اور اپنے وطن کی خدمت میں مصروف ہیں۔

پاکستانی سفارت خانوں کے آفیسران کے رابطوں اور میل ملاقات سے ان کے مسائل اگر زیادہ نہ بھی حل ہوں تو کم از کم دوسرے ممالک کے محنت کشوں کی نظر میں ان کی عزت میں تو اضافہ ہو سکتا ہے اوران کا اعتماد بڑھ سکتا ہے ۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو بعض مراعات یافتہ طبقات کو ہر مرحلے پر آسانیاں اور سہولتیں دستیاب ہیں جبکہ زرِ مبادلہ کمانے والے ہمارے مزدور بھائیوں کو اپنے ہاں کی امیگریشن اور ائیر پورٹ سے لے کر سفارت خانوں اور پی آئی اے کے دفاتر اور جہازوں تک ہر مرحلے پر عدم تعاون ، بے گانگی، عدم دلچسپی اور ایک خیراتی قسم کے سلوک سے رابطہ رہتا ہے ۔آخرایسا کیوں ہے؟

بعض ممالک میں ہماری افرادی قوت بلاشبہ لاکھوں میں ہے ۔ اس لیے اگر رابطوں کا مثالی ماحول نہ بھی بن سکتا ہو تو چند ہفتوں میں ایک بار ایک کمپنی کے کسی کیمپ کا بروقت اطلاع کے بعد لیبر اتاشی کا دورہ بہت سود مند ہو سکتا ہے ۔

پی آئی کے کے عملے کو بھی بزنس فراہم کرنے والوں کو اپنا اہم کسٹمر سمجھ کر معاملہ کرنا چاہیے نہ کہ مسافروں سے سلوک کا معیار ان کا لباس اور ظاہری وضع قطع کو بنایا جائے ۔ ایسا ماحول کیوں نہ موجود ہو کہ لوگ پی آئی اے پر سفر کے منتظر رہیں اور یہ قومی ائیر لائن خسارے کے بجائے ایک نفع بخش ادارے میں تبدیل ہو سکے۔

بیرونی دنیا میں سفارت خانوں کی دلچسپی سے پاکستانی کاروباری طبقے کے ذریعے ملک میں سرمایہ کاری میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے ۔ غالباً کہیں پہلے بھی ذکر ہوا ہو کہ جنرل ضیاء الحق کے دورہ تھائی لینڈ کے دوران سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک میٹنگ میں میرے علم میں حیران کن اضافہ ہوا۔

پاکستانی سفیر کی رہائش گاہ پر ایک مختصر سی میٹنگ میں جنرل ضیاء الحق نے متعلقہ تھائی حکام سے پوچھا کہ "One Window Operation"کا آپ لوگوں کے ہاں کیا مطلب ہے ۔ جواب میں تھائی آفیسر نے کہا کہ ’’صدر محترم میں آپ کو درجنوں باتیں اور ان کی تفصیلات بتا سکتا ہوں لیکن مختصراً یہ کہتا ہوں کہ ہمارا ایک ادارہ بیرونی سرمایہ کاری کو ڈیل کرتا ہے ۔ جب بھی کسی سرمایہ کاری کاخواہشمند کوئی بزنس مین /صنعتکار اُس ادارے سے رابطہ کرتا ہے تو اُس کے بعد تمام متعلقہ امور ہم اپنے ذمے لے لیتے ہیں۔ بنیادی معلومات سے لے کر عملدرآمد تک ہر مرحلے سے گزرناور پھر ضرورت کا پورا کرنا ہمارے قومی فرائض میں شامل ہو جاتا ہے ۔ ہماری حتی المقدور کوشش ہوتی ہے کہ ہمارے سرمایہ کاری کا خواہشمند کوئی شخص سرمایہ کاری کے بغیر واپس نہ جائے بلکہ اُسے ایسا باوقار اور حوصلہ افزاء ماحول ملے کہ وہ باقی سرمایہ کاروں کے لیے ہمارے غیر اعلانیہ سفیر کا فریضہ سر انجام دیــ‘‘۔

جنرل ضیاء الحق کے ساتھ ملاقات میں میزبان پاکستانی سفیرکے علاوہ جنرل رفاقت حسین ، بریگیڈئیر نجیب شہید ، بریگیڈئیر صدیق سالک شہید ، میاں شہباز شریف ، فاروق سومار اور راقم کے علاوہ دیگر ایک دو حضرات بھی موجود تھے۔ ایک کم تجربہ کار اور Back bencherجواں سال سیاسی کارکن کی حیثیت سے اس طرح کی گفتگو کم از کم میرے لیے بالکل نئی تھی۔ ہمارے ہاں درخواست جمع کروانے سے لے کر باعزت طریقے سے جان چھڑوا کر واپس بھاگنے تک ہر مرحلہ ایک مشکل مرحلہ ہے جسے آسان کیوں نہیں بنایا جا سکتا۔

یہ بات میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے عمل میں موجود رکاوٹوں میں بھی کوئی امریکی سازش اور غیر ملکی ہاتھ شامل ہے یا محض ہماری نا اہلی اور نالائقی کا مظاہرہ ہے اور ان امور کے لیے راہنمائی کیوں موجود نہیں۔ دیکھ بھال کیوں نہیں ۔بازپُرس کرنے والا کوئی کیوں موجود نہیں۔ کوئی ادارہ یا نظام کیوں نہیں ۔ ان باتوں کو درست کیوں نہیں کیا جا سکتا ۔

تھوڑی سی بہتر منصوبہ بندی حکمت عملی میں تبدیلی اور ایک نئے جوش اور جذبے کے ساتھ ہمارے عارضی تارکین وطن ہوں یا بیرونی دنیا میں دوہری شہریت کے حامل خواتین و حضرات ان کے علم تجربے اور سرمایے سے پاکستان کی معیشت، ترقی، استحکام اور سرمایے میں بہت آسانی قابل قدر اضافہ کیا جا سکتاہے۔ پالیسی ساز اداروں کو چاہیے کہ قومی ائیر لائن پی آئی اے کو اُونے پونے داموں فروخت کرنے سے بچا کر اسے ایک نفع بخش ائیر لائن بنانے کے لیے منصوبہ بندی کریں ، بیرونی دنیا میں موجود پاکستانی محنت کشوں اور زرمبادلہ کمانے والوں سے متعلق موجود پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور بیرونی دنیا میں موجود پاکستانی سفارت خانوں کو قطر کی طرح صرف اور صرف حکمرانوں اور اُن کے عزیز و اقارب کے کاروباری مفادات کے تحفظ کے بجائے پاکستان کے مفادات پر پہرے داری ، پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری ، تجارت میں اضافے ، پاکستانی افرادی قوت کے لیے مزید بہتر مواقع تلاش کرنے اور دنیا میں پاکستان کے Imageکو بہتر بنانے کے لیے رہنمائی فراہم کریں۔
باقی ان شاء اﷲ آئندہ جمعہ
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 855 Print Article Print
About the Author: Sardar Attique Ahmed Khan

Read More Articles by Sardar Attique Ahmed Khan: 23 Articles with 21933 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: