بجٹ اجلاس کی گھن گرج اوربدعنوانی کے کالے بادل

بجٹ اجلاس کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں ۔ ماہرین اقتصادیات قیاس آرائیوں میں مصروف ہیں ۔عوام پھر ایکبار ’’اچھے دنوں ‘‘ کے سپنے سجانے میں لگ گئے ہیں اور حزب اختلاف محاذ آرائی کے خطوط کار طے کرنے میں جٹ گیاہے ۔ اس موقع پر این ڈی اے میں شامل دیگر جماعتوں نےبی جے پی کے خلاف محاذ کھول کر ساری دنیا کو چونکادیا ہے ۔ ایسی صورتحال میں ایوان پارلیمان کے اندر کیا کچھ ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ۔ شور و ہنگامہ کے بیچ وزیرخزانہ اپنا تحریر شدہ بجٹ کسی طرح پڑھ کر سنائیں گے ۔ حزب اقتدار بنا سنے اس کی تائیدو حمایت کرے گا اور حزب اختلاف بنا سمجھے اس کی مخالفت کرے گا۔ بالآخر بجٹ منظور ہوجائیگا اور اسی کے ساتھ سرمایہ داروں اور سیاستدانوں کے وارے نیارے ہوجائیں گے نیز غریب عوام ہاتھ ملتے رہ جائیں گے ۔

وزیراعظم کے آسام میں دئیے جانے والے بیان سےکانگریس فی الحال بہت ناراض ہے جس میں انہوں نے کہا تھاکہ ’’ایک مخصوص خاندان ملک میں منفی رحجانات کو فروغ دے رہا ہے‘‘ ۔ اس بیان کی ضرب چونکہ براہ راست سونیا گاندھی اور راہل گاندھی پر پڑتی ہے اس لئے کانگریس کی پریشانی بجا ہے۔ کانگریسی میزانِ عمل میں اگر سارے قومی مفادات ترازو کے ایک پلڑے میں ہوں اور گاندھی نہرو خاندان کا تقدس دوسرے میں تو وہ لازماً دوسری جانب جھکے گا۔ کانگریسی ترجمان وی تھامس کے مطابق وزیراعظم اس طرح کا لب ولہجہ اختیار کرنے کے بعد اپوزیشن سے تعاون کی توقع نہیں کرسکتے ۔ ویسے ایک گمان یہ بھی ہے کہ بی جے پی خود آرایس ایس کی مخالفت کے سبب جی ایس ٹی بل کی منظوری نہیں چاہتی مگر اس کیلئے کانگریس کو موردِ الزام ٹھہرانا چاہتی ہے۔

کانگریس کے پاس ہنگامہ آرائی کیلئے بی جے پی نے اور بھی بہت ساری سہولیات مہیا کررکھی ہیں مثلاً روہت رومیلا کی خودکشی پر حکومت کی سرد مہری ، اروناچل پردیش میں صدر راج کا نفاذ ، ہیما مالنی اور آنندی بین مہتا پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ۔ متھرا سےبی جے پی کی رکن پارلیمان ہیما مالنی کے ٹرسٹ کو ممبئی میں ۲ہزار مربع گز زمین صرف ۷۰ ہزار میں دے دی گئی جبکہ اس کی قیمت کروڈوں میں ہے۔ ہیمامالنی نے خود تسلیم کیا ہےکہ وہ پچھلے ۲۰ سالوں سے اس کیلئے جدوجہد کررہی ہیں لیکن کوئی نہ کوئی قانونی اڑچن آجاتی تھی۔ سوال یہ ہے کہ بی جے پی کے مرکز اور صوبے کے اندر اقتدار میں آتے ہی ساری رکاوٹیں کیوں کر کافور ہو گئیں ۔ ایک طرف سی بی آئی کانگریس کے سابق وزیراعلیٰ اور رکن پارلیمان اشوک چوہان کو آدرش بدعنوانی کے معاملے میں گھیرنے کی کوشش کررہی اور دوسری جانب ہیمامالنی پر زمین لٹا رہی ہے ۔ بی جے پی رہنماوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ آج جو حالت چوہان کی ہے کل وہی درگت ہیمامالنی کی ہوسکتی ہے اس لئے اقتدار کی دیوی ہمیشہ کسی پر مہربان نہیں رہتی۔

چوہان یا ہیما کا معاملہ تو ایک قطعہ زمین تک محدود ہے لیکن آنندی بین کی کہانی بڑی طول طویل ہے۔ مودی جی جب گجرات سے نکل کر دہلی کیلئے روانہ ہوئے تو لوگوں کی سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر انہوں نےآنندی بین کو اپنا جانشین کیوں بنایا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب تک مودی گجرات میں تھے اس وقت تک لوگوں نے ان کے علاوہ صرف شاہ جی کا نام سنا تھاجب کہ انہیں گجرات سے تڑی پار کردیا گیا ۔ آنندی بین کو کوئی نہیں جانتا تھا لیکن اب ان کا کچا چٹھا ّ باہر آرہا ہے۔ آنندی بین اور مودی جی میں ایک قدرِ مشترک یہ ہے کہ جس طرح مودی جی نے اپنی اہلیہ سے کنارہ کشی اختیار کرلی اسی طرح آنندی بین بھی۳۰ سال کی ازدواجی زندگی کے بعد اپنے شوہر مفت لال پٹیل سے الگ ہوگئیں۔

۷۸ سالہ گاندھی وادی مفت لال نے اٹل جی اور اڈوانی جی کو خط لکھ کر شکایت کرچکےہیں کہ نریندر مودی نے اپنے رسوخ کا استعمال کرکے ان کی اہلیہ کو ان سے دور کردیا ہے۔ انہوں نے آنندی بین کے خلاف انتخابی مہم میں بھی حصہ لیا تھا اور دوسال قبل وہ کیجریوال کی عام آدمی پارٹی میں شامل ہوگئے ۔ معروف دانشوروں کےساتھ عآپ میں شمولیت کے موقع پر انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ انتخاب تو نہیں لڑیں گے مگر مودی سرکار کی بدعنوانی کا پردہ فاش کریں گے ۔ مودی جی کی ریاستی حکومت میں جہاں قتل و غارتگری کے الزامات وزیراداخلہ امیت شاہ پر لگتے تھے وہیں بدعنوانی کا الزام وزیرا محصول آنندی بین پر لگایا جاتا تھا ۔ مودی سرکار میں اڈانی ، امبانی اور ٹاٹا کو کوڑیوں کے بھاؤ میں سرکاری زمین بانٹنے کا سہرہ دراصل مودی جی کے آشیرواد سے آنندی بین ہی کے سر بندھتا ہے۔ سرمایہ داروں کے ذریعہ مودی جی کی کھلے عام تعریف و توصیف اور پسِ پردہ پشت پناہی کے پیچھے یہی احسانات کارفرما تھے۔

کانگریس کے زمانے میں جب اس طرح کے الزامات لگائے جاتے تھے تو اسے سیاسی رقابت پر مہمول کیا جاتا تھا لیکن بی جے پی کی مرکزی حکومت کے قیام کے ایک ماہ بعد ۲۳ جون ؁۲۰۱۴ میں سپریم کورٹ نے ایک عوامی دلچسپی کے مقدمہ(پی آئی ایل) میں گجرات کی متوقع وزیراعلیٰ آنندی بین کی سرزنش کردی ۔ معاملہ انڈی گولڈ ریفائنری کو سرکاری زمین دینے سے متعلق تھا جو ۳ سال کے اندر تعمیر کا کام شروع کرنے میں ناکام رہی تھی۔ قانون کے مطابق ایسی صورت میں سرکار کو چاہئے تھا کہ وہ مذکورہ قطعۂ زمین واپس اپنے قبضے میں لیتی اور اس کی پھر سے نیلامی کرواتی لیکن آنندی بین نے وزیرمحصول کی حیثیت سے انڈی گولڈ کو زمین فروخت کرنے کا اجازت نامہ دے دیا ۔

عدالت عالیہ نے وزیر موصوف کے اس فیصلے کو قانون کی نظر میں خراب اورظالمانہ من مانی قرار دیا ۔ اس لئے کہ وزارت محصول کے سکریٹری اور چیف سکریٹری انڈی گولڈ کو ایسا کرنے سے منع کرچکے تھے ۔ ان دونوں نےیہ صاف کردیا تھا کہ اب اس زمین پر انڈی گولڈ کا کوئی حق نہیں وہ سرکاری زمین ہے اس لئے اسے فروخت نہ کیا جائے ۔ آنندی بین کے آشیرواد کا فائدہ اٹھا کرانڈی گولڈ ریفائنری نے وہ زمین المیونا ریفائنری نامی نجی کمپنی کو۲ء۱کروڈ میں فروخت کردی ۔ جب المیونا ریفائنری نے اس زمین پر اپنی سرمایہ کاری کا دکھڑا سنایا تو سپریم کورٹ نے المیونا ریفائنری کے مالکان کو حکم دیا کہ وہ اگر اس زمین کو اپنے تصرف میں لینا چاہتے ہیں تو حکومت کے خزانے میں مزید ۱۵ء۳ کروڈ روپئے جمع کرائیں ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ رقم سرکاری خزانے کے بجائے آنندی بین کی ذاتی تجوری میں چلی گئی تھی ۔ مودی جی اگر ملک سے بدعنوانی کو ختم کرنے میں سنجیدہ ہوتے تو اس شرمناک واقعہ کے بعد آنندی بین کو گجرات کا وزیراعلیٰ نہیں بناتے لیکن سیاست میں ہاتھی کے دانت دکھانےکے اور ہوتے ہیں، کھانے کےاور ۔

آنندی بین جب تک وزیر ِ محصول تھیں اس وقت تک تو مودی جی کے اشارے پر سرمایہ داروں کا بھلا کرکے اپنی تجوری بھرتی رہیں لیکن وزیراعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے خود اپنے بچوں کی جانب توجہ فرمائی اور دیکھتے دیکھتے ان کے بیٹے شیوانتک اور بیٹی انار کے اچھے دن لوٹ آئے ۔ان کی کمپنی انار انڈسٹری لمیٹڈکی شیئر کی قیمت اچانک ۶۳ء۷ روپئے سے بڑھکر گزشتہ سال جولائی میں ۴۵ء۶۰ روپئے پر پہنچ گئی اور اب بھی مندی کے باوجود ۸۵ء۴۴ پر ہے ۔ یہ کمپنی ؁۱۹۹۲ میں قائم کی گئی تھی اور ۲۳ سالوں میں اس نے کبھی منافع نہیں دکھایاجبکہ پچھلے ۵ سالوں میں خسارہ مسلسل بڑھتا رہا لیکن آنندی بین وزیراعلیٰ کیا بنیں کہ سارے دلدّر دور ہوگئے ۔

؁۲۰۱۵ میں اس نے ۷۰ لاکھ کا خسارہ کیاا س کے پہلے سال گھاٹا۱۸ لاکھ تھا اس کے باوجودکیا یہ حیرت انگیز بات نہیں ہے کہ لوگ اس میں سے سرمایہ نکالنے کے بجائے سرمایہ کاری کرتےرہے ؟ انار کے ساتھ مسابقت کرنے والی کامیاب کمپنیوں کا اس دوران یہ حال تھا ان کا گراف نیچے ہی نیچے جارہا تھا۔ سیٹ انڈسٹری کے شیئرس کا بھاوگزشتہ ۳ سالوں میں ۱۱ فیصد گرا۔ ایم پاور کو بڑی مشکل سے ۳ فیصد کا فائدہ ہوا۔ نوکیتن اور سن شائن کے حصص اپنے سرمایہ کاروں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے مگر انار بغیر کسی قابلِ ذکر پروجکٹ کے اپنے بیماروں کے وارے نیارے کرتی رہی ۔یہ ایسا ہی تھا جیسے اڈانی کے شیئرانتخاب سے قبل کئی گنا بڑھ گئے تھے۔

انار انڈسٹری کے شیئر کیوں بڑھ رہے تھے اس کا راز بھی آخر کار افشاء ہو ہی گیا ۔ دراصل آنندی بین نے اپنی بیٹی انار پٹیل کے شراکت دار دکشیش شاہ کی وائلڈ ووڈ نامی کمپنی کو گیر کے جنگلات کی ۲۵۰ ایکڑ زمین صرف ڈیڑھ کروڈ میں دان کردی تاکہ وہاں پر تفریح گاہ تعمیر کی جائے۔اس زمین میں ۱۷۲ ایکڑ زراعت کیلئے مختص تھی اس لئے اس پر تعمیر کی اجازت مرحمت فرمانے کا کارنامہ بھی گجرات سرکار نے انجام دیا۔ بازار بھاؤ کے لحاظ سے اس زمین کی قیمت ۱۲۵ کروڈ بنتی ہے ۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہےکہ سرکاری خزانے پر سیندھ لگانے کا فیصلہ مودی جی کے دہلی جانے بعد نہیں کیا گیا بلکہ اس وقت ہوا جبکہ وہ گجرات کے وزیراعلیٰ تھے ۔ یہ عجیب و غریب صورتحال ہے کہ ایک طرف تو بی جے پی کے تحت راجستھان پولس رابرٹ وادرہ کو بدعنوانی کے الزام سے بری کرتے ہوئے انہیں بدعنوانی کا شکار قرار دیتی ہے اورتحقیق و تفتیش کے بعداس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ وادرہ کو دھوکہ دے کر سرکاری زمین فروخت کی گئی تھی دوسری جانب آنندی بین کے بیٹی سے بدعنوانی کا الزام آسیب کی مانندلپٹ جاتا ہے۔

’’بدعنوانی سے پاک بھارت‘‘ کا نعرہ لگانے والی بی جے پی پر مسلسل بدعنوانی کے سنگین الزامات لگ رہے ہیں ۔پہلے تو ویاپم کی گھن گرج نے شیوراج سنگھ چوہان کی چولیں ڈھیلی کیں اس کے بعدمیں للت مودی نے وجئے راجے سندھیا کے ساتھ سشما سوراج کو بھی کٹہرے میں کھڑا کردیا لیکن یہ سارے لوگ نریندرمودی کے مخالفین شمار کئے جاتے تھے اس لئے اس کا مودی کی ساکھ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا بلکہ کچھ تجزیہ نگاروں نے اسے مودی کی چال قرار دے دیا ۔اب کی بار جو بدعنوانی کے الزامات لگ رہے ہیں اس میں مودی جی کی منظورِ نظر منجدھار میں پھنسی ہوئی ہیں ۔ آنندی بین پر لگنے والے الزامات چونکہ نریندر مودی کے زیر نگرانی کئے گئے ہیں اس لئے ان کی آنچ براہِ راست وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر آتی ہے۔آنندی بین کی بدولت بجٹ اجلاس میںاس بار مودی جی کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی اس لئے ان کی بھلائی اسی میں ہے کہ کسی غیر ملکی دورے پر نکل جائیں۔

مودی جی جب تک گجرات کے اندھے کنویں میں بند تھے اس وقت انہیں مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیں تھی لیکن اب قومی سطح پر ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ مسلمان رائے دہندگان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمانوں کو رجھانے کیلئے بات داعش سے شروع کی گئی۔ بے قصور نوجوانوں کو گرفتار کرکے ایک مصنوعی ماحول تیار کیا گیا اور اب کچھ علماء کو جمع کرکے ان کے ذریعہ امت میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن بی جے پی نہیں جانتی کہ مسلمانوں کو بے وقوف بنانا ایسا آسان بھی نہیں ہے ۔ مودی جی امت میں اس قدر بدنام ہیں کہ جو کوئی بھی ان کے ساتھ جائیگا وہ ملت کے اندر بے نام و نشان ہوجائیگا۔ ایسے میں مودی جی کوچاہئے کہ وہ دوسروں کا گھر جلانے کے بجائے خود اپنے گھر کی آگ پر قابو پانے کی کوشش کریں ۔
قومی سطح پر مودی جی امیت شاہ کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں اس لئے تمام تر ناکامیوں کے باوجود انہیں دوبارہ صدر منتخب کیا گیا ۔ گجرات کے اندر مودی صرف آنندی بین پٹیل پر اعتماد کرتے ہیں اس لئے پاٹیدار آندولن کے مقابلے میں ناکامی کے باوجود انہیں اقتدار سے بے دخل نہیں کیا گیا مگر حقیقت یہ ہے کہ پٹیل اور شاہ ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں ۔ برسوں سے ان کے درمیان بات چیت بند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ کے اشارے پر آئندہ سال انتخاب سے قبل بدعنوانی کی یہ فائلیں باہر آرہی ہیں تاکہ آنندی کا آنند چھین لیا جائے ۔ شاہ تو ویسے بھی انہیں وزیراعلیٰ بنانے کے خلاف تھے لیکن مودی جی صدارت کا گاجر دکھلا کر ان کو خاموش کردیا۔

حال میں جب شاہ جی دوبارہ صدارت کیلئے منتخب ہوئے تو آنندی بین نے بیماری کا بہانہ بنا کر ان کی تاجپوشی کی تقریب سے معذرت چاہ لی ۔ مودی جی کو انہیں فون کرکے حاضر رہنے کی تاکیدکرنی پڑی لیکن پٹیل اور شاہ کی مہابھارت اب بھی جاری ہے۔ بظاہر وہ دونوں ایک دوسرے کی جڑ کاٹ رہے ہیں لیکن اس جنگ میں مودی جی کی پگڑی سلامت رہے اس کا امکان کم ہے۔ کسی نے درست کہا ہے جولوگ دوسروں کیلئے گڑھا کھودتے ہیں وہ خود ان میں منہ بل گرجاتے ہیں ۔ بظاہر اس کے آثار نمایاںہیں آگے بجٹ اجلاس میں یہ لڑائی کیا گل کھلاتی اس کی جانب ساری نظریں لگی ہوئی ہیں۔

بجٹ کے اجلاس میں حزب اختلاف کے تیور تو صاف ہیں مگر اس سے لوہا لینے کیلئے امیت شاہ نے جب اپنے حلیفوں کا اجلاس بلایا تو ان کے ہاتھ سے طوطے اڑ گئے۔ اس اجلاس میں شریک چندرا بابو نائیڈو نے بی جے پی کو نصیحت کی کہ وہ اپنی حلیف جماعتوں کو مضبوط بنانے کی جانب توجہ کرے ۔ شیوسینا کے سنجے راو ت نے شکایت کی کہ گزشتہ ۲۰ ماہ کے دوران بی جے پی نے اپنے حلیفوں کو نظر انداز کیا ہے ۔ اس موقع سب سے زیادہ خطرناک تیور اکالی دل کے سکھبیر سنگھ بادل نے دکھلائے۔ انہوں نے کہا بی جے پی ہمیں مجبور نہ سمجھے اور ہمارے ساتھ وہی رویہ اختیارکرے جو اٹل جی کا تھا۔ بادل نے کہا گزشتہ چند ماہ سے بی جے پی کے مقامی رہنما اتحاد کو توڑنے کی بات کررہے ہیں ۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت اپنا موقف صاف کرے۔ انہوں نے دھمکی آمیز انداز میں سوال کیاکہ بی جے پی عیسائیوں اور مسلمانوں کو تو برگشتہ کرہی چکی ہے اب کیا وہ سکھوں کو اپنے سے دور کرنا چاہتی ہے؟بجٹ اجلاس میں مطلع صاف ہوجائیگا کہ آیا یہ بادل صرف گرجتے ہی ہیں یا برستے بھی ہیں ۔
 
Salim
About the Author: Salim Read More Articles by Salim: 1700 Articles with 847425 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.