میں عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوں۔۔۔!!!

جب بھی کسی کو سزا سنائی جاتی ہے تو اکثر بہت سے عوامل کو دیکھ کر ہی سزا دی جاتی ہے۔ہم میں سے بہت سے لوگ دوسروں کی سوچ کے تابع ہو کر عمل کرنا شروع کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو وہ کہتے ہیں وہی درست ہوگا اور یہی بات ہمیں لے ڈوبتی ہے۔
جب ایک نیک عمل کر لیا گیا ہے تو پھر رحم کی اپیل کیسی؟ پھر گستاخ رسول کو قتل کرنے پر ملنے والی سزا پر شوروغل کیسا؟ یہ تو ایک ایسا عمل ہے جس پر فخر کرنا چاہیے مگر کچھ لوگ اس کو بھی متنازعہ بنا رہے ہیں۔ کچھ لوگ اس پر مختلف باتیں بنا کر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں جو سارے معاملے کو ہی مشکوک بناتا ہے۔جناب! اگر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو پھر انکی شہادت کو بنا کسی پر طنز کے تیر برسائے، کوئی تنقید کئے بنا آپ شہادت کے رتبے پر فائز ہونے والے کے لئے دعائیں کیجئے ، اور سچے عاشق رسول بنیں اور ثابت کریں کہ میں سچا عاشق رسول ہوں اور جناب پھر اُسی رسول کی تعلیمات پر عمل بھی کیجئے کہ یہ بھی ضروری ہے محض کہنے سے آپ عاشق نہیں بنتے ہیں محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی کی خاطر اسلام کی تعلیمات پر پوری طرح اتریں بھی تاکہ روزمحشر آپ کی شفاعت بھی ہوسکے۔

میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ گستاخ رسول کو قتل کرنے والے کو سزا نہیں دینی چاہیے مگر جب کسی کو سزا دی جا رہی ہو تو پھر ہمیں اعتراض نہیں کرنا چاہیے کہ جب بھی کسی کو سزا سنائی جاتی ہے تو اکثر بہت سے عوامل کو دیکھ کر ہی سزا دی جاتی ہے۔ہم میں سے بہت سے لوگ دوسروں کی سوچ کے تابع ہو کر عمل کرنا شروع کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو وہ کہتے ہیں وہی درست ہوگا اور یہی بات ہمیں لے ڈوبتی ہے۔ اسی وجہ سے ہم مسلمان پستی کا شکار ہیں کہ ہم نے اسلام کے اصل اصولوں کو بھلایا ہوا ہے اور اپن دکانداری چمکانے میں مصروف عمل ہیں خود تو نماز نہیں پڑھتے ہیں مگر دوسروں پر تنقید ضرور کرتے ہیں کہ تنقید کرنا بہت آسان عمل ہے تبھی ہماری بات میں دم ہوگا جب ہم خود تحقیق کر کے ہر بات جانیں گے کہ سچائی کیا ہے ؟

ممتاز قادری کے حوالے سے بہت سے لوگ بہت سی رائے رکھتے ہیں اور ابھی حالت یہ ہے کہ جس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی ہم سے برداشت نہیں ہوتی ہے اسی رسول کی امت کے لوگ محض اس بات پر کہ پھانسی کیوں دی گئی؟ رہائی کیوں نہیں دی گئی ہے پر جس طرح سے دوسرے اپنے مسلمانوں کے لئے سڑکوں کو بند کر کے ،ٹائرز جلا کر، نعرہ بازی کرکے اور کچھ توڑ پھوڑ کر کے کیا پیغام دنیا کو دنیا چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کا دین ایسا ہے۔

اسلام تو امن و سلامتی کا دین ہے کیا ہم ایسا نہ کر کے اپنی بات کو دوسروں کو نہیں سمجھا سکتے ہیں؟ کیا ہم اگر غلط بھی فیصلہ ہوا ہے تو بھی کیا اس کے تعین کے لئے روز محشر کے دن تک انتظار نہیں کر سکتے ہیں جب ہر بات کھل کر سامنے آجائے گی۔ لیکن ایسا کر کے ہم تو مسائل ہی کھڑے کرتے ہیں اور محض مفادات کی جنگ لڑتے ہیں۔ آپ میرے علم کے مطابق بہت سے علما کو کیا خارج از اسلام قرار دیں گے جو دوران مقدمہ اُن کی طرف داری کے لئے عدالت میں ہی پیش نہیں ہوئے ہیں؟ کیا توہین رسالت کرنے والوں کو سزا محض چند ہی فقہ کے لوگوں کی وجہ سے دینی چاہیے اگر ایسا ہے تو پھر مجھے کہنے دیجئے کہ ایسا ہونا بہت سنگین ترین عمل ہے اور میں اس کے خلاف جنگ کر سکتا ہوں کہ میرے لئے اپنے نبی ہی سب کچھ ہیں اور سب کچھ داو پر لگا سکتا ہوں مگر مجھے ایسے کسی عمل کا بھی حصہ نہیں بننا ہے جو انکی سنت کے خلاف ہو۔

احتجاج کرنا حق ہے مگر اس کی وجہ سے دوسرے کلمہ گو کے لئے تکلیف پیدا کرنا بھی درست طرزعمل نہیں ہے ۔ہمیں اپنے اعمال میں بہتری لانی ہوگی ہمیں اپنے قول فعل کے تضاد کے فرق کو ختم کرکے سچا اور پکا مسلمان بننا ہوگا۔یہ اس لئے بھی کہہ رہا ہوں کہ آج بہت سے لوگوں کو تکلیف میں اپنے ضروری کام التوا میں کرنے پڑے ہیں یا وہ دفتروں کے لئے ہی نہیں پہنچ سکے ہیں یہ صورت حال کس قدر افسوس ناک ہیں کیا ہم اب بھی سچے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ذرا سوچئے گاکہ میں کتنا سچا عاشق رسول ہوں اور کتنی باتوں پر عمل درآمد کر رہاہوں، جب آپ اپنی ذات کا احتساب کر لیں تو پھر دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کیجئے گا۔ تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں دونوں رخ دیکھ کر ہی فیصلہ کرنے کی عادت ڈالیں اور اسلام کی اصل روح کے مطابق سچے عاشق رسول بنیں تب ہی آپ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں گے۔
Zulfiqar Ali Bukhari
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 396 Articles with 547687 views I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More