سائنسدان مسلمان ہوگیا، لیکن ہماری بے عملی کب دور ہوگی

(Owais Sherazi, Lahore)
مریضوں کی ایک سٹیج ایسی بھی ہوتی ہے جب ان پر کوئی دوائی ہی اثر نہیں کرتی۔ لہٰذا پہلے غالب مسئلے کا علاج کر کے ہی پھر دوسرے مسائل کو دیکھا جاتا ہے۔ جیسے ایک مریض کا معدہ ہی خراب ہے تو اس کے معدے کا علاج ضروری ہے ورنہ کھانے، دوائی کا کچھ اثر نہ ہوگا اور اگر مریض کے جسم کے تمام یا اکثر اعضاء میں خرابی ہو چکی ہو اور مریض ابھی زندہ ہو تو ڈاکٹر اس کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر ایسی حالت میں مریض تعاون نہ کرے، زندہ ہی نہ رہنا چاہے تو پھر ڈاکٹروں کیلئے مریض کو بچانا بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی عوام بھی ایک ایسا ہی مریض ہے جو سر سے لے کر پاؤں تک طرح طرح کے امراض(مسائل) میں مبتلا ہے لیکن یہ علاج کیلئے تیار ہی نہیں۔ اس مریض کو ابھی بھی کوئی فکر نہیں۔ زندگی اور موت کے درمیان لٹکتی عوام نہ تو اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہی ہے اور نہ ہی اپنی بھیانک موت کا ادراک کر رہی ہے۔(صرف چند لوگوں کے علاوہ)۔ اس مریض(عوام) کے تمام جسم پر زخم(مسائل) ہیں، اور زخمی کی یہ حالت دیکھ کر اس ملک کے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے سیاست کے نام پر اس کے جسم پر یلغار کر رکھی ہے۔ نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں لیکن اسے کوئی پروا نہیں، یہ درد سے روتا اور چیختا ضرور ہے لیکن اپنے آپ کو انڈین فلموں، کرکٹ اور فٹبال کے میچ، دیکھنے میں مصروف کر لیتا ہے۔ ٹی وی سکرین پر خوبصورت چہروں اور ڈراموں سے دل بہلاتا ہے۔ سیاستدانوں کو ووٹ ڈالتا ہے اور سیاستدانوں کے خلاف جلوس بھی نکالتا ہے۔ نہ جیتا ہے نہ مرتا ہے لیکن ایسے ہی چلتا جا رہا ہے۔ اس کو آخر کب تک ایسے ہے چلتے جانا ہے، بغور سوچنے، سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔

کیا ہمارا حال مذکورہ بالا سطور سے مختلف ہے۔ بالکل بھی نہیں بلکہ اس سے بہت زیادہ خراب۔ اگر کسی مریض کو ڈاکٹر نہ ملے، دوائی نہ ملے تو اور بات۔ لیکن ہمارے پاس تو اسلام نام کا ڈاکٹر ہے، اسلام نام کی دوائی ہے، ہر مرض سے یقینی شفا اسلام کے نام سے موجود ہے۔ ہر مسئلے کا حل، ہر مشکل سے نجات کا فوری حل اسلام، اسلام، اسلام موجود ہے۔ کبھی ہم نے اس پر غور کیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں بیرونی سازشوں کے تحت، اسلام سے بیگانے نظام تعلیم کی وجہ سے، انڈین فلموں کے سیلاب نے ایسے لوگ یقیناً پیدا کر دئیے ہیں، جو اسلام کے نام پر اسلام دشمن نظریات کے پیروکار بن چکے ہیں۔ لیکن ہم آخر ان کے ساتھ ان کے پیچہے کیوں چلے جا رہے ہیں۔ کیا ہمیں کوئی مجبوری ہے۔ اگر کوئی اسلامی حلیہ اپنا کر، داڑھی رکھ کر غلط افعال میں ملوث ہے، اگر ایسوں کا پورا گروہ ہے۔ تو دین اسلام ان کی ہم سے زیادہ اور ہم سے پہلے سخت مذمت کرتا ہے۔ ان کی حرکتوں کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں کہ اسلامی تعلیمات میں کوئی کمی ہے اور ہمیں ان کو چہوڑ کر دوسروں کے طریقے اپنا لینے چاہئیں- جانثاران مصطفٰے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دو نہیں کئی سال اسلامی طریقوں پر عمل کر کے دنیا پر حکمرانی کی ہے۔ معاشیات ہو یا سیاسیات، گھریلو زندگی ہو یا کاروبار، اندرورن مسائل ہوں یا دشمنوں کی سازشیں، دہشت گردیاں اور قحط، زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی و کامرانی حاصل کر کے دکھائی ہے۔ تاریخ کہیں بھاگی تو نہیں۔ ہم نے اسلام سے عملی طور پر منہ موڑا تو ہماری بداعمالی، عیاشی اور غداری ہمارے زوال کی وجہ بن گئیں اور آج ہم سب کچھ کرنے کو تیار ہیں، اپنی اپنی حیثیت میں رہ کر کرتے بھی ہیں لیکن اسلام سے عملی پرہیز کے ساتھ۔ کیا ہم اپنی زندگیوں میں، اپنے جسموں پر، اپنے خیالات پر، اپنی حرکتوں پر اسلام نافذ نہیں کر سکتے۔

سوچئے غور کیجئے، مسئلہ کیا ہے۔ غیروں کی تقلید میں بسنت مناتے ہیں، اپریل فول مناتے ہیں، ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں۔ ذرا اپنے دن رات اسلام کے مطابق بھی منا کر دیکھ لیں۔ رکاوٹ کیا ہے، ذرا سوچیں کہ آخر وجہ کیا ہے۔ اسلام تو رہے گا، ہم نہیں رہیں گے۔ زندہ ہو کر بھی مردہ رہیں گے۔ پاکستان ایک تحفہ ہے۔ عوام و خواص، نیک وبد، امام و مقتدی، امیر غریب، داڑھی والے اور بغیر داڑھی والے کیسے ایک ہو گئے تہے۔ دعائیں مانگی تھیں۔ ہر سازش کا مقابلہ کیا تھا۔ اُس وقت بھی تو کچھ داڑھیوں والوں، اپنے آپ کو مسلمان کہلانے والوں، نمازیں پڑھنے، پڑھانے والے ملاؤں نے کانگرس کا ساتھ دیا تھا۔ گاندھی کو اپنا لیڈر مانا تھا۔ لیکن ہر سازش کو ناکام بنا دیا۔ پاکستان بن گیا۔ اب کیا ہو گیا۔ اپنے خلاف ہونے والی سازشیں سمجھ ہی نہیں آتیں یا سمجھنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔ مہربانی فرمائیں اور اپنی زندگیوں میں اسلام نافذ کر لیں۔ نیت کرنا بھی فوری آغاز کے مترادف ہے۔ کر لیں۔ سب کچھ تو کرتے ہیں، یہ بھی کر لیں۔ نحوستوں سے نکل کر برکتوں میں آ جائیں۔ فرض کریں پاکستان میں کل 100 لوگ رہتے ہیں۔ اگر 70 لوگ اپنے زندگیاں اسلام کے مطابق ڈھال لیں۔ پوری نہیں صرف 50 فیصد ہی ڈھال لیں۔ تو کیا ہوگا۔ اسلام عرب میں طلوع ہوا تھا، برکتیں ساری دنیا تک پہنچ گئی تھیں۔ تو اب بھی ایسے ہی ہوگا،نہ صرف 70 لوگوں کے، بلکہ باقی 30 لوگوں کے دکھ درد ختم ہونے جیسے ہی ہو جائیں گے۔ جرائم نہ ہونے کے برابر ہو جائیں گے۔ سب خوشحال جیسے ہی ہو جائیں گے۔ غریبوں کی عزت محفوظ ہو جائے گی۔ ملک میں امن کا نظام چلے گا۔ تو ڈھلیں فوراً اسلام میں، آخر غیر اسلامی نظام میں بھی 100 فیصد تو ڈھلے ہی ہیں اور کتنا تجربہ باقی ہے، اسلام سے بغاوت کر کے اور کتنی ذلت اٹھانی باقی ہے۔ اسلام پر عمل کرنے والوں نے دنیا سنبھال رکھی تھی، ہم سے اپنا آپ نہیں سنبھالا جا رہا، قربانیاں دے کر ملک حاصل کیا، لکین پھر اتنے کمزور ہو گئے کہ آدھا حصہ ہی گنوا دیا، سنبھالا ہی نہیں گیا۔ کبھی سوچا ہے کہ یہ ملک اسلامی نظریہ کی طاقت سے حاصل کیا تھا۔ نظریہ سے پھر گئے، طاقت گئی اور آدھا ملک بھی۔ اسلام ہی مکمل طاقت ہے، اسے اختیار کریں، طاقتور بن جائیں، اگر نہیں اختیار کرنا تو پھر اب کیا کرنا ہے۔

اگر کسی کو یہ سب پڑھ کر ہنسی آ رہی ہے تو اس کو عرض ہے کہ کاش آپ کو اسلامی اصولوں سے اور ان پر عمل کے سبب نازل ہونے والی رحمتوں کا کچھ تو شعور ہوتا۔ زیادہ نہیں تو اسلامی تاریخ کا کچھ تو مطالعہ کیا ہوتا، یہ میڈیا غیروں کا غلام ہے اور انھیں ھر وقت سپر پاور کے طور پر پیش کرنا اس میڈیا کا فرض اولین ہے۔ لیکن کاش آپ نے سچ کا شعور حاصل کرنے کی کچھ کوشش کی ہوتی۔ سچ کبھی چھپا نہیں رہتا۔ ابھی چند مہینے پہلے لندن کے سائنس میوزیم میں ہونے والی نمائش ہی دیکھی ہوتی۔ اس نمائش کی خبریں وائس آف امریکہ سے بھی نشر ہوئیں۔ عنوان تھا ایک ہزار ایک ایجادات اور مسلم ثقافت۔ آج کی ایجادات کی دنیا کی بنیاد تو مسلمانوں نے رکھ چھوڑی تھی اور بنیاد ہی تو مشکل ہوتی ہے۔ آج کی سائنسی دنیا مسلمانوں کے کئے گئے کاموں کی ہی مرہون منت ہے۔ یونیورسٹیاں، طبی ایجادات،ہائی جین پمپس، واٹر وہیلز اس دنیا کو کس نے عطا کئے، جناب مسلمانوں نے۔ یہ سب نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔ لندن کے سائنسی میوزیم میں ہونے والی نمائش بھی یہی اعلان کر رہی تھی۔ اگر ہم نے اپنے ہاتھوں اپنی تباہی نہ کی ہوتی تو آج ہمارے حالات کچھ اور ہی ہوتے۔ ایلیفنٹ کلاک ایک مسلم موجد، ریاضی داں اور انجینیر ال جزاری نے 13ویں صدی میں بنایا تھا۔ ریاضی اور الجبرا ہی کو لے دیکھ لیجئے اگر یہ ہندسے نہ ہوتے، یہ صفر اور ایک اور باقی ہندسے نہ ہوتے تو آج کی دنیا کیسی ہوتی، ٹیکنالوجی کے کیا حالات ہوتے۔ مسلمانوں کی بیمثال کوششیں تھیں۔ الظہروی، ابن خلدون،ابن ال نفیس،جلال الرین رومی, ناصر الدیں الطوسی، ابن البیطر،ابن رشد،الادریسی،ابو مروان ابن ظہر، ابو حمید الغزالی، عمر الخیام، ابو ریحان البیرونی،ابوالحسن الموردی،ابو علی حسن الحیطم، ابوالوفا محمد البزجانی، ابوالحسن علی، ابوالنصر الفارابی، محمد ابن زکریا الرازی، الفرغانی،ابو عبداللہ الباطانی، علی ابن ربان التاباری، تحابت ابن قرا، یعقوب ابن اسحق الکندی، محمد ابن موسی الخوارزمی، جابر ابن حیان ۔۔۔۔۔۔۔ چند نام لکھے ہیں، ان کے علاوہ اور کتنے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کی بدولت کیمسٹری، ارتہمیٹک، فزکس، میڈیکل سائنس، کیلیگرافی،جیو میڑی،فلاسفی، سوشیالوجی، ھسڑیوگرافی، جیوگرافی،ارتھ سائنس، سرجری، میڈیسن، آپتھمولوجی، ڈینٹل سائنس،ٹرگنومیٹری، آپٹکس، میٹریا میڈیکا،سیاسایات، عمرانیات، سائیکالوجی، اناٹمی ، گائیناکالوجی، بچوں کے امراض کا علم، علم معاشیات، جیالوجی، ریاضی، الجبرا، نیوپلاٹنک فلاسفی، میڑیکنل پلانٹس، باٹنی، آپتہمولوجی اور دوسرے بہت سے علوم کی بنیاد، تحقیق، تجربات کا ایک نظام بن گیا تھا۔ نئی نئی دریافتیں کی گئیں، آنے والوں کیلئے بہت کچھ چھوڑ دیا گیا، اور کچھ نہیں تو حضرت کمال الدین دمیری اور حضرت امام قزوینی کی کئی سو سال پہلے لکھی بس دو کتابیں حیاۃالحیوان اور عجائب المخلوقات ہی دیکھ لی ہوتیں، عقل دنگ رہ جاتی۔ سائنس اور جدید علوم میں، نت نئی تحقیق میں، پوشیدہ رازوں کو آشکار کرنے میں مسلمانوں کا اپنے پچھلوں کا مقام پتہ چلتا، اسلام کے سانچے میں ڈھلے لوگ کیسے جدید علوم کی بنیاد رکھ کر بڑھے چلے جا رہے تھے اور آنے والوں کیلئے کیسی راہنمائی تیار کر رہے تھے، آپ بھی جان جاتے۔ یہ سب اسلام کی بدولت تھا، اس تمام کا ماخذ اور وجہ اسلام بنا تھا , اسلام ترقی اور عروج کا دروازہ اور اس دروازے کو استعمال کرنے والوں کیلئے ترقی اور عروج کا ایک محفوظ راستہ اور اس راستے کی منزل بھی ہے۔ اسلام سائنس کا رہنما ہے۔ جو ذہن اپنے آپ کو مسلمان سوچتے اور کہتے ہیں لیکن ان کی پرورش اسلام کے عملی پرہیز میں ہوئی ہوتی ہے، وہ جن کو عورتوں کے چھوٹے ہوتے کپڑوں میں عورتوں کی ترقی نظر آتی ہے، جب وہ یہ کہتے ہیں تو میرے جیسے پوچھتے ہیں کہ کتنی ترقی کر لی کیا عورتیں چاند پر پہنچ گئی ہیں تو وہ ہنستے ہیں۔ یہ ہنستے تو ہیں لیکن یہ ہمارے اپنے ہی ہیں۔ ایسوں میں کچھ یقیناً ایسے بھی ہیں جو سوچیں گے اسلام اور سائنس؟ اور ان کو سمجھ نہیں آئے گی، قانون ہے کہ جس کو سمجھنا ہو تو سمجھ کیلئے علم بھی چاہئے ہوتا ہے، اور اسلام اور اسلامی علوم، اسلامی تاریخ سے جن کو پرہیز کروایا گیا وہ بھلا کیسے سمجھیں گے۔ ان کو کنفیوژن ضرور ہو گی۔ ان کی مدد کیلئے ایک مثال پیش کیا دیتا ہوں۔ عالمی شہرت یافتہ پروفیسر تیجاتات تجاسن چیانگ مائی یونیورسٹی آف تھائی لینڈ کے شعبہ اناٹمی کا چئیرمین اور اسی یونیورسٹی کا فیکلٹی آف میڈیسن کا سابقہ ڈین ایک میڈیکل کانفرس میں پہنچا۔ تو اسے ایمبریالوجی کے مشہور سائنسدان پروفیسر کیتھ مور کے لکھے لیکچر کو سننے کا موقع ملا۔ اس لیکچر کا موضوع تھا کہ قرآن اور سنت میں جدید ایمبریولوجی کے بارے میں راھنمائی۔ پروفیسر کیتھ مور دنیا کے جدید ایمبریولوجی کے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں میں سے ایک تھا(قرآن و سنت سے راہنمائی حاصل کرتا تھا) پروفیسر تیجاتات تجاسن جو کہ خود ایک سائنسدان تھا، قرآن و سنت سے پہلی دفعہ واقف ہوا تھا ان ناموں سے، قرآن و سنت اور سائنس پر اس کو عجیب حیرت ہو رہی تھی۔ دیکھنے والے یہ نہیں جانتے تہے کہ یہ حیرت خوشی کی ہے اور یہ خوشی یہ حیرت پروفیسر تیجاتات تجاسن کو کیا عطا کرنے والی ہے۔ ڈرماٹولوجی پروفیسر تیجاتات تجاسن کی اپنی فیلڈ تھی ۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن نے قرآن و سنت کا نام تو سن لیا تھا، اب وہ واقفیت حاصل کر رہا تھا۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن اپنی فیلڈ کا بادشاہ تھا، وہ یہاں آنے سے پہلے اپنی تحقیق کر چکا تھا۔ اس کی تحقیق تھی کہ انسان کو درد کا احساس جلد میں موجود ریسیپٹرز کی وجہ سے ہوتا ہے اگر کسی طرح سے جلد کو مکمل جلا دیا جائے تو درد کا احساس ختم ہو جائے گا۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن اپنی اس تحقیق پر داد وصول کر چکا تھا۔ عالمی شہرت پا چکا تھا۔ سائنسی کانفرسوں میں رونق کی ایک وجہ وہ بھی ہوتا تھا۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن قرآن و سنت کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا رہا، مسلمانوں سے قرآن و سنت کے بارے میں علم حاصل کرتا رہا۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن قرآن پاک کی سورۃ النساء کی آیت 56 کے حضور جا پہنچا۔
ترجمہ آیت نمبر56۔ جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا عنقریب ہم ان کو آگ میں داخل کریں گے جب کبھی ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں انھیں بدل دیں گے کہ عذاب کا مزہ لیں بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے۔۔

پروفیسر تیجاتات تجاسن اس آیت کے ترجمے پر حیران رہ گیا۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن نے قرآن پاک کا جو ترجمہ پڑھا تھا،اس ترجمے کو بھی مرما ڈیوک پکتھل، جارج ایلن نے مل کر لکھا تھا اور یہ ترجمہ پانچواں ایڈیشن تھا۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن نے تسلیم کیا کہ 1400 سال پہلے یہ آیات/پیغام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی انسان کی طرف سے بتانا یا پہنچانا ممکن نہ تھا۔ لیکن یہ بات، آیات/پیغام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو 1400 سال پہلے کس نے بتائیں۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن کو بتایا گیا کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ یہ علم/ پیغام 1400 سال پہلے اللہ(جلّ جلالہ) کی طرف سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا گیا ہے۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن حیران رہ گیا۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن نے بے اختیار ہو کر پوچھا یہ اللہ کون ہے ؟ پروفیسر تیجاتات تجاسن کو بتایا گیا کہ اللہ وہ ہے جو تمام موجودات کا خالق ہے۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن کہ بتایا گیا کہ عقل کی بھی یہی گواہی ہے کہ یہ کلام/علم اس(جلّ جلالہ) کی طرف سے ہے جو سب کچھ جانتا ہے۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن کو بتایا گیا کہ اگر وہ کائنات پر غور کرے تو اسے پتہ چلے گا کہ یہ کائنات اس نے (جلّ جلالہ) بنائی ہے جو ایک ہے، سب کچھ جانتا ہے۔ ان تخلیقات پر غور کرے تو اسے محسوس ہو گا کہ یہ کسے ایک کی تخلیقات ہیں، جو سب کچھ جانتا ہے۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن نے یہ سب تسلیم کیا اور اس کے بعد پروفیسر تیجاتات تجاسن اپنے ملک واپس چلا گیا اور اس نے اپنے نئے علم اور دریافت ( قرآن اور سنت) کے بارے میں لیکچر دینے شروع کر دئے۔ اس کے لیکچر سن کر کئی لوگ مسلمان ہو گئے۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن اگلی بار میڈیکل کانفرس میں پھر شریک ہوا اور اس دفعہ یہ عالمی شہرت یافتہ اور انعام یافتہ سائنسدان ہر مسلم اور غیر مسلم سے قرآن اور سنت کے بارے میں ہی گفتگو کرتا رہا۔ چار دن بعد پروفیسر تیجاتات تجاسن کھڑا ہو کر سب لوگوں سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا کہ میں اپنے مشاھدات اور مطالعہ سے ایک نتیجے پر پہنچا ہوں، مجھے یقین ہے کہ 1400 سال پہلے قرآن پاک میں جو کچھ بھی بتایا گیا ہے، سب سچ ہے،اور جو کچھ بھی بتایا گیا ہے ہم اس کو تحقیق سے ثابت کر سکتے ہیں۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن بولتا ہی جا رہا تھا۔ پروفیسر تیجاتات تجاسن نے لوگوں کو بتایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ظاہری طور پر پڑہے لکھے نہیں تھے، وہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سچے پیغمبر ہیں جنہوں (صلی اللہ علیہ وسلم) نے وہ سب سچ ہم تک پہنچایا جو اس(جلّ جلالہ) کی طرف سے ان (صلی اللہ علیہ وسلم) کو عطا کیا گیا تھا، جو سب کا پیدا کرنے والا ہے اور سب کو پیدا کرنے والا اللہ (جلّ جلالہ) ہے، پروفیسر تیجاتات تجاسن نے سب کو گواہ بنایا، پھر پروفیسر تیجاتات تجاسن نے بلند آواز سے کلمہ پڑھا اور سب کو بتایا کہ اس کیلئے زندگی میں سب سے ہم یہ ہے کہ اس نے کلمہ پڑھ لیا ہے اور وہ اب مسلمان ہے۔

تاریخ تو واقعات اور مثالوں سے بھری ہے لیکن یہ ایک منتخب واقعہ بھی ہم پر یہ حقیقت واضح کر رہا ہے کہ اسلام امام ہے سب کا اور ہر علم کا۔ جو اسلام سے وابستہ ہو جاتا ہے، اپنی ذات پر اسلام کی حکومت قرآن و حدیث کے مطابق قائم کرتا ہے، دنیا میں اس کو عظمت ملتی ہے۔، اس کی حکومت چلتی ہے۔ کم و بیش 1000 سال مسلمانوں نے دنیا پر حکومت کی، دنیاوی علوم کی ترقی اور تحقیق کے حوالے سے بیمثال کام کر دکھایا، یہ سب اسلام سے وابستگی کی برکتیں نہیں تو اور کیا ہے۔ اور اگر یوں کہا جائے کہ جس نے اسلام کو جتنے شوق اور محبت سے اپنے پر طاری کیا، جدید سائنسی علوم بھی اتنے ہی اس پر آشکار ہو گئے۔ اس پر کائنات کے اسرار کھلتے ہی گئے، تو مناسب ہوگا۔ حیاۃالحیوان اور عجائب المخلوقات بھی اس کی زندہ مثالیں ہیں، یہ تقریباً 700 ہجری میں لکھی گئیں، آج 1431ہجری ہے۔ 731 ہجری کی کتابیں اور ایسی اور بہت سی تحقیقات دیکھیائیں اور اس دور کے وسائل کو دیکھیں تو یہی یاد آتا ہے کہ "مومن اللہ" کے نور سے دیکھتا ہے۔" اسلام کو جتنا اپنائیں گے اتنا ہی آگے جائیں گے۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر اسلام سے والہانہ محبت رکھتے ہیں۔ اسلام کی مایہ ناز ہستیوں کے حالات کے بارے میں لکھی گئی کتاب "تذکرۃالاولیا" ان کی پسندیدہ کتاب ہے۔ ایٹم بم بنا کر ہی دم لیا۔ پڑھے لکھے مسلمان تو دنیا میں اور بھی بہت تھے لیکن اسلام سے محبت بھی تو ایک شرط ہے۔ "تذکرۃالاولیا" پڑھنے والا آج خود بھی عظیم ہے۔ اس کی عظمت کو پاکستانی تو کیا دوسرے بھی تسلیم کرتے ہیں۔ میرے سامنے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کے لیٹر پیڈ پر لکھی ڈاکٹر صاحب کی دستخط شدہ ایک تحریر ہے، جو ایک مہربان نے مطالعہ کیلئے دی ہے۔ یہ تحریر ڈاکٹر صاحب نے "ادارہ تحقیقات امام احمد رضا انٹرنیشنل "کو عطا فرمائی تھی۔ یہ تحریر امام احمد رضا فاضل بریلوی کے بارے میں ہے۔ اس تحریر کا کچھ حصہ یہ ہے کہ امام احمد رضا فاضل بریلوی نے مسلمانوں کو دینی شعائر پر قائم رہنے کی تلقین کی اور اس کے ساتھ ساتھ ملسمانوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے کی طرف بھی راغب کیا اور ایسے تمام علوم کو سیکھنے پر زور دیا جو فکری اعتبار سے دین اسلام سے متصادم نہیں ہیں۔ مسلمانوں میں دینی اور دنیاوی علوم کے فروغ کیلئے امام احمد رضا فاضل بریلوی کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ یہی نکتہ تو ہمارا بھی موضوع ہے کہ اسلام سے محبت کرو، اسی دین پر قائم رہ کر دینی اور دنیاوی علوم حاصل کرو۔ دین اسلام سے محبت اور وابستگی جدید دنیاوی علوم کے راز جاننے کا ذریعہ بن جائے گی۔ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر نے امام احمد رضا فاضل بریلوی کے بارے میں سچ ہی کہا ہے۔

امام احمد رضا فاضل بریلوی ایک سچے عاشق رسول( صلی اللہ علیہ وسلم) اور اسلام کے پکے شیدائی تھے اور اسلام ہی کی برکت سے ان کو ہر فن پر، دنیاوی علوم پر دسترس حاصل تھی۔ علم توقیت میں اسقدر کمال حاصل تھا کہ دن کو سورج دیکھ کر اور رات کو ستارے دیکھ کر گھڑی ملا لیتے۔ وقت بالکل صحیح ہوتا، کبھی ایک منٹ کا بھی فرق نہ ہوا۔ علم ریاضی میں آپ یگانہ روزگار تھے، چنانچہ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ضیاالدین جو ریاضی میں غیر ملکی ڈگریاں اور تمغہ جات حاصل کئے ہوئے تھے۔ آپ کی خدمت میں ریاضی کا ایک مسئلہ پوچھنے آئے۔ ارشاد ہوا فرمائیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا مسئلہ نہیں کہ اتنی آسانی سے عرض کر دوں۔ امام احمد رضا فاضل بریلوی نے فرمایا، کچھ تو فرمائیے۔ وائس چانسلر صاحب نے یہ سوال پیش کیا تو امام احمد رضا فاضل بریلوی نے اسی وقت اس مسئلے پر تشفی بخش جواب دے دیا۔ وہ حیران ہو کر کہنے لگے کہ میں اس مسئلے کیلئے جرمنی جانا چاہتا تھا۔ یہ ریاضی کے ماہر ان سے اتنے متاثر ہوئے کہ داڑھی رکھ لی اور صوم وصلٰوۃ کے پابند ہو گئے۔ امام احمد رضا فاضل بریلوی جو اعلیٰ حضرت کے لقب سے بھی جانے جاتے ہیں، علم تکسیر، علم ہئیت، علم جفر میں بھی ماہر تھے۔ جدید الجبرا کے ایک اہم مضمون ٹایالوجی پر امام احمد رضا فاضل بریلوی کو عبور حاصل تھا اور ہزار سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ حاشیہ اصول طبعی، حاشیہ علم الہیت، حاشیہ شمس بازغہ، حاشیہ حدائق النجوم، حاشیہ برہندی وغیرہ وہ حواشی ہیں جو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی نے دوسروں کی تصانیف پر لکھے۔ البرٹ۔ایف۔ پورٹا امریکہ کا مشہور میٹرولوجسٹ تھا، اس نے یہ پیشین گوئی کی کہ 17دسمبر 1919ء کو سیاروں کے اجتماع اور کشش کے سبب دنیا میں زلزلے اور طوفان پرپا ہوں گے۔ دنیا ایک قیامت صغریٰ سے دوچار ہو جائے گی، دنیا کے بعض علاقے نیست ونابود ہو جائیں گے۔ پورٹا کی اس پیشین گوئی سے امریکہ میں خوف پھیل گیا اور اس خوف نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ لیکن اسلام جن کا اوڑھنا بچھونا ہو اور جنہوں نے سائنس اور جدید علوم کو اسلام کی نظر سے جانا ہو، ان کی نظر حقیقت پر ہوتی ہے۔ امام احمد رضا فاضل بریلوی نے ایک رسالہ " معین مبین بہر دور شمس و سکون زمین" 1338ہجری مطابق 1919 عیسوی میں لکھ کر فلکیاتی علم ہی سے پورٹا کی پیشین گوئی کو غلط ثابت کر دیا۔ دنیا نے دیکھا کہ اسلام کے ماننے والے کا علم سچا ثابت ہوا۔ ان کی خصوصیت پر غور کیجئے، خصوصیت ہے قرآن و سنت کے سچے پیروکار اور ان کی سائنس پر گرفت دیکھئے۔ قرآن کی گواہی کے ساتھ گردش زمین کے نظریہ کو سائنسی علوم کے دلائل کیساتھ غلط ثابت کیا ہے، ثابت کیا ہے کہ زمین ساکن ہے اور امام احمد رضا کو یہ علم قرآن و سنت کے ذریعے ملا ہے۔ کبھی سائنس کو بھی یہاں پہنچنا ہی ہے۔ اسلام کے متوالے اور شیدائی امام احمد رضا فاضل بریلوی نے "فوز مبین" میں باقائدہ نام لے کر آئزک نیوٹن، کوہر نیکس،کپلر،ہرشل،طوسی،بطلیموس کے نظریات کا رد اور ان کا علمی تعاقب کیا ہے،ابو ریحان البیرونی اور ارشمیدس کی تائید کی ہے۔ گلیلیو کے جمود اور کشش ثقل کے نظریات اور آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کا انہیں کے دلائل کی روشنی میں سائنسی رد کیا ہے اور تائید و حمایت حاصل کی ہے۔ امام احمد رضا فاضل بریلوی نے اسلام کو دل و جان سے اپنایا تھا اور یہ سب کچھ انہیں اسلام ہی کی بدولت ملا تھا۔ اس مضمون سے یہی سمجھنا سمجھانا مقصود ہے۔ ان علوم کو ان تحقیقات کو آگے بڑھانے کیلئے بھی اسلامی نظر، اسلامی سوچ اور اسلامی کردار کی ضرورت ہے، جو آج کے مسلمانوں نے کھو دیا ہے۔ اسلام کو اپنائیں لیکن دل و جان سے، اور دونوں جہانوں کی بھلائیاں اپنے دامن میں سمیٹتے جائیں اور یہ اسلام نام ہے قرآن و سنت کا۔

اسلام گھر سے لے کر حکومت تک ہر مسئلے کا حل ہے، انسان سے لے کر جانوروں اور پرندوں تک کیلئے رحمت ہے، نگہبان ہے، زندگی کے ہر موجودہ اور قیامت تک آنے والے ہر مسئلے کے بارے میں کامل راھنمائی کرتا ہے، یہ حل ہے ہر مسئلے کا، بھوک اور غربت کا، بدامنی کا اور یہ اسلام عمل کرنے والوں کیلئے آسان ہی آسان ہے۔ کچھ لوگوں کی یہ بات بڑی عجیب ہے، کہ اب اسلام پر عمل کرنا بڑا مشکل ہے۔ واہ، سب کچھ کرتے پھرتے ہیں لکین اسلام پر عمل نہیں ہو سکتا۔

جناب، عمل کیوں نہیں ہو سکتا، کرنے والے اب بھی عمل پر قائم ہیں۔ تاریخ گواہ ہے عمل بھی ہوا ہے اور کئی سو سال ہوا ہے، وہ بھی انسان ہی تھے، ہم بھی انسان ہیں، بس وہ اسلام سے محبت کرتے تھے اور آج ہماری زبان پر اسلام، جبکہ ہماری ذہنی اور عملی محبت غیر اسلام سے وابستہ ہے۔ ہمت کیجئے، آج سے کوشش شروع کیجئے، اسلام کو اپنے پر نافذ کیجئے۔ آپ کا گھر اور معاشرہ خود بخود اسلامی ماحول میں ڈھلتے جائیں گے۔ یقین کیجئے آپ پر اور ہم تمام پر برکتوں کا نزول ہوگا۔ جیسے ہمارے اسلاف پر ہوا تھا۔

اسلامی اصولوں پر عمل رب کریم، مالکِ ذُوالجلال، پیارے اللہ کریم جلّ جلالہ کی رضا کیلئے کیجئے، ابھی سے کوشش کیجئے۔ ہمارے پیارے پیارے آقا کریم، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو سیکھئے، ان پر عمل کیجئے، اسلام پر عمل ہوتا جائے گا۔ برکتوں اور رحمتوں کا نزول شروع ہو جائے گا۔ نحوستوں سے جان چھوٹنا شروع ہو جائے گی۔

ہمارے پیارے پیارے آقا کریم، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں،زندگی گزارنے کے اسلامی قوانین میں بےشمار حکمتیں اور برکتیں ہیں۔

برکتوں سے بھرپور کچھ حکمتوں کی ایک جھلک آپ کیلئے۔ لیکن یہ ذہن میں رکھ کر پڑھئے کہ ہمارے عمل کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہمیں اللہ کریم جلّ جلالہ کی رضا کیلئے پیارے محبوب، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنا ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ دین، دین اسلام کے اصولوں کو اپنانا ہے۔ اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ ہیں کہ اگر ہم ان صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی جان، مال، ماں باپ ،اولاد، بلکہ ہر شے سے زیادہ محبت نہ رکھیں تو ہم مسلمان نہیں ہو سکتے۔ سنتوں کی حکمتوں کے بارے میں جدید تحقیق ہو یا نہ ہو، ہم اس کے محتاج نہیں، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیں تو ہر صورت شوق اور خوشی کے ساتھ عمل کرنا ہی ہے، بالکل سیدھا راستہ ہے۔ آپ دیکھیں کہ جو عمل سنت کے،اسلام کے خلاف ہے، اس میں ہمارے لئے نقصان ہی نقصان ہے۔ آج ماڈرن سائنس بھی اپنی حیثیت، مقام اور علم کے مطابق تحقیق کے بعد خلاف سنت اعمال،غیر اسلامی افعال کے نقصانات اور سنت پر عمل کرنے کے فائدے ہمارے سامنے لا رہی ہے اور یہ ہوتا ہی رہے گا۔

مسکرانا ہمارے پیارے پیارے آقا کریم، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے
اور واشنگٹن کے ماہرین آج کی تحقیق پڑھئے۔
(یہ خبرانٹرنیٹ پر آن لائن پڑھنے کیلئے اس لنک کو استعمال کریں۔) //www.onlineurdu.com/?p=11142
ریسرچ۔واشنگٹن : بھرپور مسکراہٹ طویل عمری کا راز ہے۔ مسکراہٹ اور ہنسی ناصرف صحت مند زندگی کا باعث ہوتی ہے بلکہ طویل العمری کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔ تفصیل کے مطابق امریکی ریاست مشی گن کے ماہرین نے ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ کُھل کر مُسکرانا زندگی کے سالوں میں اضافہ کردیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دانت نکال کر ہنسنے سے آنکھوں کے گِرد پڑنے والی جھائیاں مثبت زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو لمبی عمر تک بہتر صحت کی ترجمانی ہے۔ 230 بیس بال کھلاڑیوں کی تصاویر، ان کی عمر، قد، وزن اور ازدواجی زندگی سے مرتب کیے گئے نتائج کے تحت خوشگواراور مسکراہٹوں سے بھرپور زندگی گزارنے والے کھلاڑیوں کی زندگی میں عام کھلاڑیوں کی نسبت سات سال کا اضافہ دیکھا گیا۔اس تحقیق کے ذریعے ماہرین نے ثابت کیا کہ مسکراہٹ ناصرف صحتمند زندگی کا باعث ہوتی ہے بلکہ طویل العمری کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔

حدیث شریف::: '' اللہ تعالیٰ جلّ جلالہ نے لعنت فرمائی ہے شراب پر، اس کے پینے والے پر،اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے بیچنے والے پر،اس کے خریدنے والے پر،اس کے پلانے والے پر،اس کے اٹھانے والے پر اور اس شخص پر جس کے لئے اٹھا کر لے جائی گئی۔''

بدقسمتی سے شراپ پینا ہمارے معاشرے کا عام اور بہت سارے نام نہاد لوگوں کا پسندیدہ عمل ہے۔ پروفیسر ھرش نے شراب کے نقصانات پر ایک پوری کتاب لکھی ہے۔ اے ایف پی کی ماسکو سے 5جولائی 1958 کی خبر کے مطابق روس کے صدر خروشیف نے لینن گرڈ کے کارخانہ کروف میں مزدوروں کی مخاطب کرتے ہوئے کہا ، شراب ہماری مجلسی زندگی میں تباہ کن اثرات پیدا کر رہی ہے۔اس نے مزدوروں کی صحت کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔عائلی زندگی برباد کر دی ہے۔ جرائم کر رفتار تیز کر کے اقتصادی پیداوار کو خطرناک نقصان پہنچایا ہے۔ ہم اس کے خلاف جنگ لڑیں گے۔

حدیث شریف : '' جو نظروں کی حفاظت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو ایسا ایمان عطا فرمائے گا جس کی حلاوت وہ دل میں محسوس کرے گا۔""

آج ہمارے معاشرے میں ہم غیر محرم عورتوں کو چاہے وہ ٹی وی پر ہوں یا ہمارے سامنے، ہم آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے ہیں اور پھر کسی کی بہن اور بیٹی پر اپنے دوستوں میں بیٹھ کر تبصرے کرتے ہیں اور ہمیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ ہم کوئی جرم کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر نکلسن ڈیوڈ ایک پروفیسر ہے۔ اس نے اپنے تجربات بتائے ہیں، کہتا ہے کہ نگاہیں جس جگہ جاتی ہیں وہی جمتی ہیں پھر ان کا اچھا اور برا اثر اعصاب، دماغ،اور ہارمونز پر پڑتا ہے۔ بیوی، بہن اور ماں کے علاوہ کسی عورت کو دیکھنے سے ہارمونری سسٹم کے اندر خرابی میں نے دیکھی ہے۔ کیونکہ ان نگاہوں کا اثر زہریلی رطوبت کا باعث بن جاتا ہے اور ہارمونری گلینڈز ایسی تیز، زہریلی رطوبتیں خارج کرتے ہیں جس سے تمام جسم درہم برہم ہو جاتا ہے۔

کھاتے پینے وقت بیٹھ جانا سنت ہے۔ لیکن ہم بدقسمتی سے شادیوں وغیرہ پر کھڑے ہو کر کھاتے پیتے ہیں۔
ڈاکٹر بلین کیور اٹلی کا ڈاکٹر ہے اور یہ ماہر اغزیہ ہے اس کا کہنا ہے کہ کھڑے ہو کر غذا نہ کھاؤ۔ ایسا کرنے سے تم دل اور تلی کے مرض میں پھنس جاؤ گے۔ اس کا کہنا ہے کہ بیٹھ کر کھاؤ اور کم کھاؤ کیونکہ کھڑے ہو کر کھانا نفسیاتی امراض پیدا کرتا ہے۔

کھانے کے بعد پلیٹ صاف کرنا سنت ہے۔
جدید سائنس کہتی ہے کہ کھانے کی پلیٹ یا برتن کے پیندے میں وٹامنز اور خاص طور پر کھانے میں موجود وٹامن بی کمپلیکس اور ایسے غزائی اجزا ہوتے ہیں، جو تمام کھانے میں کم اور اس پیندے میں
زیادہ ہوتے ہیں۔ اغزیہ میں موجود معدنی نمکیات تو صرف پیندے ہی میں ہوتے ہیں۔

پانی دیکھ کر، بیٹھ کر، تین سانس میں پینا، کھلے برتن میں پینا سنت ہے اور احادیث میں پیالے( پینے کے برتن) میں سانس لینے سے منع فرمایا گیا ہے۔

اگر پانی کھڑے ہو کر پیا جائے تو ماڈرن سائنس کہتی ہے کہ معدہ اور جگر کی بیماریاں پھیلتی ہیں اور پاؤں پر ورم کا خطرہ رہتا ہے اور اگر پاؤں پر ورم شروع ہو جائے تو جسم کے باقی حصوں پر بھی ورم کا خطرہ ہوتا ہے۔ کھڑے ہو کر پانی پینے سے استسقاء کے مرض کا خطرہ ہے۔

اگر پانی تین سانسوں میں نہ پیا جائے اور ایک ہی گھونٹ میں پینے کی غلطی کی جائے تو معدے میں فوراً زیادہ مقدار میں پانی جانے سے اس کی کی سطحی اندرونی کیفیت میں انبساط یعنی پھیلاؤ ہوتا ہے۔ اگر یہ پھیلاؤ اوپر کی سطح پر ہو تو دل اور پھیپھڑوں کو نقصان کا خطرہ رہتا ہے۔ اگر یہ دائیں طرف ہو تو جگر کو نقصان پہتچاتا ہے اور اگر یہ بائیں طرف ہو تو تلی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر یہ نیچے ہو تو آنتوں پر دباؤ پڑتا ہے۔

اگر پانی پیتے وقت پانی ہی میں سانس لینے کی غلطی کی جائے تو خطرہ ہے کہ پانی ناک کی نالیوں میں چلا جائے اور ورم کا باعث بنے یا سانس کی نالی میں جا کر گھٹن کا باعث بنے اور اس کے علاوہ یہ کہ انسان سانس لیتے وقت آکسیجن لیتا ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے، اندر سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ میں بےشمار جراثیم ہوتے ہیں۔ پانی میں سانس لینے سے یہ جراثیم بھی پانی میں شامل ہو جائیں گے۔

ہمارے پیارے پیارے آقا کریم، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب رو بقبلہ ہو کر آرام فرماتے تھے۔

جدید میڈیکل ریسرچ کے مطابق اس سنت پر عمل نہ کرنے سے بھی انسان کو کئی قسم کے نقصانات کا خطرہ ہے۔ کیونکہ دل بائیں جانب ہوتا ہے اور اگر ہم بائیں یعنی الٹی جانب لیٹیں گے تو کیونکہ ہمارا دل الٹی جانب ہوتا ہے لہٰذا معدہ اور آنتوں کا بوجھ دل پر پڑتا ہے جس کی وجہ سے دوران خون میں کمی پیدا ہو جاتی ہے اور انسان کے دل اور معدے کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

نوٹ : جب سو کر اٹھیں تو اس وقت بھی سیدھی کروٹ لے کر اٹھنا انسانی جسم کو نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔

اسلام میں عصر کے وقت کے بعد سے عشا تک سونے سے منع کیا گیا ہے۔

جدید تحقیق بتا رہی ہے کہ عصر کے بعد زمین کی گردش محوری اور گردش طولانی کے کم ہونے سے ایک خاص قسم کی گیس نکلتی ہے جس سے آدمی کے دل و دماغ پر ایک بوجھ اور وزن پڑتا ہے اگر یہی آدمی عصر سے عشا کے اوقات کے دوران سو جائے تو اس گیس کا مقابلہ نہیں کر سکتا جس کی وجہ سے یہ طرح طرح کے امراض میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی سمجھنا چاہے تو اتنا بھی کافی ہے۔

ارشاد قرآن سورہ الاحزاب۔آیت 21
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنتہ ۔۔۔ بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔

آئیے خرابیوں کو چھوڑ کر بہتری کی طرف چلتے ہیں۔ مسلمان کی نیت کو اس کے عمل سے بہتر فرمایا گیا ہے۔ نیت ہوگی تو تبھی باقی معاملات چلیں گے۔ آپ ابھی فوراً نیت کر لیجئے کہ آج ابھی سے اللہ تعالیٰ جلَّ جلالہ کی رضا کیلئے، پیارے آقا کریم، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا اور اپنی تعلیم، اپنا روزگار، اپنے تمام معاملات اسلام کے تابع کروں گا۔ انشاءاللہ جلّ جلالہ۔

میری طرف سے ایسی پیاری نیت کرنے پر، ہمت کرنے پر، بہتریوں کے آغاز پر مبارکباد قبول کریں۔ اللہ کریم جلّ جلالہ آپ کو اور مجہے استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 32460 Print Article Print
About the Author: Mohammad Owais Sherazi

Read More Articles by Mohammad Owais Sherazi: 52 Articles with 84186 views »
My Pain is My Pen and Pen works with the ink of Facts......It's me.... View More

Reviews & Comments

what a mess.
By: Anees, Haripur on Oct, 16 2016
Reply Reply
1 Like
mashAllah Allah ap k ielam min izafa frmay ameen
By: abdul washab, karachi on Oct, 01 2016
Reply Reply
1 Like
ALLAH AP KO JAZA DY AWR MAZEED ACHA LIKHNY KI TOFEEQ ATA KARY. BEST WISHES, UBAID
By: Ubaidullah, Sialkot on Jul, 20 2012
Reply Reply
1 Like
very nice mjay bhut acha laga ye parh k to iman taza hogaya
By: faizan, karachi on Jul, 11 2012
Reply Reply
1 Like
Masha Allah great research & good writing skills, JazakAllah khair.
Best Wishes
By: Muhammd Yousuf Iqbal, Seoul korea on Jul, 10 2012
Reply Reply
1 Like
me qurban jaon apne aaqa do jahan pe.....!
By: asad, kamonky on Jul, 08 2012
Reply Reply
1 Like
Masha ALLAHA BohaT acha artical likha ha mujhy bohat acha lag ALLAHA PAK AP K ALIM MAIN OR AZAFA FARMAIY, AUR AUR HUM SUB KO AMAL KIRNY KI TOFEEQ DY AMEEN NASIRA
By: nasira, kasur on Jun, 28 2012
Reply Reply
1 Like
ماشاءاللہ کمال کر دیا آپ نے۔
اللہ آپ کی تحقیق کا خاص اجر عطا فرمائے۔

اگر ممکن ہو تو اس کی ایک کاپی مجھے ای میل کر دیں۔ شکریہ
athar.rizvi@yahoo.com
By: Muhammad Athar Rizvi, Lahore on Jun, 27 2012
Reply Reply
1 Like
subhan ALLAH.boht achay tarekay se matching ki gai,jzak ALLAH
By: shahnila, faisalabad on Jun, 27 2012
Reply Reply
1 Like
Appriciated
By: Farrukh, Sharjah on Jun, 27 2012
Reply Reply
1 Like
JAZAKALLAH BEAUTIFUL ARTICLE WITH FULL OF KNOWLEDGE. GOD GIVES US COURAGE TO FOLLOW. (AMEEN)
By: AH SHAIKH, Karachi Pakistan on Jun, 19 2012
Reply Reply
1 Like
thanks sir ALLAH AP K ILM MA ESAFA FARMAY
By: sarfraz, RWP on May, 14 2012
Reply Reply
0 Like
zaberdust article jazakALLAH khair
By: noor fatima, damam on Apr, 21 2012
Reply Reply
1 Like
WWWWWOOOOOOOWWWWW grat good job awesome article
By: ch mehran ali, faisalabad on Mar, 14 2012
Reply Reply
1 Like
tremendous work!!! SUBHANALLAH !! JazakAllah Khaira !!!
By: ahmed raza, karachi on Feb, 13 2012
Reply Reply
1 Like
ALLAH AUR RASOOL (PBUH) KI MUHABBAT UNKI TALEEMAT PER AMAL KERNEY KA NAAM HA . ALLAH G HUM SAB KO AMAL KERNEY KI TOFEEQ ATA FERMAEY
By: Rashid, Keqiao, China on Feb, 10 2012
Reply Reply
1 Like
subhan AllAh.so great article;
By: arhar, karachi on Jan, 18 2012
Reply Reply
1 Like
سبحان الله، ماشاالله-

اویس شیرازی صاحب آپکی تحریر و معلومات کا بہت شکریہ کہ جسکے ذریعے کچھ حقائق پڑھنے کو ملے-

میری ایک درخواست ہے کہ پرانی احادیث پاک کی کتب میں سے مومن کے قلب سے متعلق ایسی تمام احادیث پاک کی مکمل تفصیلات و ریفرنسز کہ “رب تعالٰی کا عرش مومن کا قلب ہوتا ہے،،،،،،،،،،،،،،،، رب کہیں نہیں سما سکتا لیکن مومن کے قلب میں سما جاتا ہے،،،،،،،،،،،،،،،، سے متعلق تمام احادیث پاک کی کتب میں سے مکمل تفصیلات درکار ہیں، آپکی عنایت کا ہمیشہ مشکور اور دعا گو رہوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
By: Azeem, RWP on Jan, 13 2012
Reply Reply
1 Like
subhanAllah
By: AHMAR, shahdadpur on Dec, 30 2011
Reply Reply
1 Like
boht acha artical hay........
Allah hum sub ko sedhi rah pr chalny ke tofiq ata frmay.....(Ameen)
By: ALI RAZA, SHORKOT CITY on Dec, 27 2011
Reply Reply
0 Like
subhan allah very nice,, stunning, superb YAAAAAAAAAAAAAAAAAR
By: sheeraz Gul, Wazirabad on Oct, 17 2011
Reply Reply
0 Like
BOHOT HI ZABAR DAST LIKHA AAP NE!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
THANKS!!
By: abdulrehman, lahore on Oct, 10 2011
Reply Reply
0 Like
jazakAllah
By: Nadia Tariq, Lahore on Oct, 10 2011
Reply Reply
0 Like
Great!
By: finer, R on Oct, 04 2011
Reply Reply
0 Like
SUBHANALLAH
By: talib_e_ilm, Hyderabad on Oct, 03 2011
Reply Reply
0 Like
ہمارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی سنتیں رہتی دنیا تک کیلئے ہیں۔
By: ashiq, RHL on May, 24 2011
Reply Reply
0 Like
great article...really nice article
By: Mujahid , Karachi on May, 12 2011
Reply Reply
0 Like
سنتِ موکدہ کے ترک کو عادت بنا لینا گناہ ہے۔
By: ashiq, RHL on Apr, 13 2011
Reply Reply
0 Like
Sorry, something got missed.
By: kamal, *** on Apr, 13 2011
Reply Reply
0 Like
excellent article.
By: ahmed, alain on Apr, 13 2011
Reply Reply
0 Like
WHAT A GREAT INFORMATION HAS BEEN SHARED ABOUT ALAHAZRAT... ALAHAZRAT IS THE GREAT IMAM OF MUSLIMS...I LOVE ALAHAZRAT. THANKS TO THE PEOPLES .FOR SHARING REMARKS ON THIS COLUMN AND TO THE WRITER...AND HOPE YOU PEOPLE WILL CONTINUE WRITING FOR THE READERS...
By: farina, - on Apr, 13 2011
Reply Reply
0 Like
Allah taala app ko sonateen phelanee ki aor tofeeq dee aameen
By: Muhammad Asghar, PALAZZOLO SULL OGLIO italy on Apr, 12 2011
Reply Reply
0 Like
excellent article.
By: ahmad, lhr on Apr, 03 2011
Reply Reply
0 Like
WHAT A GREAT INFORMATION HAS BEEN SHARED ABOUT ALAHAZRAT... ALAHAZRAT IS THE GREAT IMAM OF MUSLIMS...I LOVE ALAHAZRAT. THANKS TO THE PEOPLES .FOR SHARING REMARKS ON THIS COLUMN AND TO THE WRITER...AND HOPE YOU PEOPLE WILL CONTINUE WRITING FOR THE READERS...
By: farina, far on Apr, 03 2011
Reply Reply
0 Like
GOOD
By: good, good on Apr, 03 2011
Reply Reply
0 Like
being muslim this is what we know.but very sorry to say we do not read or study holy Quran as it is required.
By: sajid Mushtaq, Multan on Mar, 25 2011
Reply Reply
0 Like
SUBHALLAH merey bhai kya article hai.........Allah mujhe Apko or hum sub ko is per amal karne ki tofeeq ata farmai...AMMEEEEEEN,,,Suma AmeeeeNN....!
By: ()wA!$ @Li, Karachi on Mar, 16 2011
Reply Reply
0 Like
جزاک الله۔
By: AbdusSalam.Qureshi, Karachi on Mar, 13 2011
Reply Reply
0 Like
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کئی ایسے واقعات ہیں کہ صرف ادائے مصطفٰے کو ادا کرنے کو کام کئے۔ یہاں تک آتا ہے ان کے بارے میں کہ جب حج کو جاتے تو بالکل انھیں جگہوں پر جہاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نمازیں ادا کیں وہاں ادا فرماتے جاتے۔ فتح مکہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے
By: ami, ... on Mar, 12 2011
Reply Reply
0 Like
A very awarnace article about pakistani Muslims .
By: imran abbas , Hafizabad on Mar, 11 2011
Reply Reply
0 Like
slam , aap ka maqala parha , jo bohot hi dilchaps or qabile amal hay aap ki is kawish ko sarahtay hain k aap jese log is dunya main hain jo ehyae deene islam ka kam karrhay hain .aap ki is jaddo jehad ka bohot bohot shuria or aap ki traf se maziid ka intizar hay thanks.
By: abdulrehman, lahore pakistan on Mar, 05 2011
Reply Reply
0 Like
OH FARMAN YOU ARE RIGHT...
By: Mujahid , Karachi on Mar, 05 2011
Reply Reply
0 Like
very pretty and informatic article this has been and if we apply quran and sunah in our daily life than we will get our lost wealth in this world ..
By: Mfarman khan, Karachi on Feb, 28 2011
Reply Reply
0 Like
AAMEEN
By: Akbar Ali, Karachi on Feb, 28 2011
Reply Reply
0 Like
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کئی ایسے واقعات ہیں کہ صرف ادائے مصطفٰے صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو ادا کرنے کو کام کئے۔ یہاں تک آتا ہے ان کے بارے میں کہ جب حج کو جاتے تو بالکل انھیں جگہوں پر جہاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نمازیں ادا کیں وہاں ادا فرماتے جاتے۔ فتح مکہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے۔
By: ami, ............. on Feb, 25 2011
Reply Reply
0 Like
ہمارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی سنتیں رہتی دنیا تک کیلئے ہیں۔
By: ashiq, RHL on Feb, 25 2011
Reply Reply
0 Like
سنتِ موکدہ کے ترک کو عادت بنا لینا گناہ ہے۔

By: ashiq, RHL on Feb, 25 2011
Reply Reply
0 Like
الله آپکے علم میں اضافہ فرمائے آمین۔
By: Awais Raza, Faisalabad on Feb, 25 2011
Reply Reply
0 Like
More than twenty five Universities throughout the world are actively researching the works of the great Islamic Scholar and Saint, A'la Hazrat .

By: kamal , - on Feb, 25 2011
Reply Reply
0 Like
excellent article.


By: ahmed, ALAIN on Feb, 25 2011
Reply Reply
0 Like
WHAT A GREAT INFORMATION HAS BEEN SHARED ABOUT ALAHAZRAT... ALAHAZRAT IS THE GREAT IMAM OF MUSLIMS...I LOVE ALAHAZRAT. THANKS TO THE PEOPLES .FOR SHARING REMARKS ON THIS COLUMN AND TO THE WRITER...AND HOPE YOU PEOPLE WILL CONTINUE WRITING FOR THE READERS...

By: Farina, Karachi on Feb, 25 2011
Reply Reply
0 Like
excellent article.
By: ahmad, LHR on Feb, 22 2011
Reply Reply
0 Like
WHAT A GREAT INFORMATION HAS BEEN SHARED ABOUT ALAHAZRAT... ALAHAZRAT IS THE GREAT IMAM OF MUSLIMS...I LOVE ALAHAZRAT. THANKS TO THE PEOPLES .FOR SHARING REMARKS ON THIS COLUMN AND TO THE WRITER...AND HOPE YOU PEOPLE WILL CONTINUE WRITING FOR THE READERS...
By: farina, far on Feb, 22 2011
Reply Reply
0 Like
In Mauritius A'la Hazrat's Kanzul Iman has been translated into the Creole language, thanks to the combined effort of Maulana Mansoor and Maulana Najeeb of Mauritius. This historic translation of the Holy Quran was first published on 17-01-96 under the guidance and patronage of the Khatib of the Jaame Masjid Mauritius, Hazrat Allama Shameem Ashraf Azhari. Many Ulema and politicians also partook in this great service. The translation was greatly welcomed and accepted by all.
By: ali, R on Feb, 22 2011
Reply Reply
0 Like
GOOD
By: GOOD , GOOD on Feb, 12 2011
Reply Reply
0 Like
Alahazrat Ahmed Raza Khan, an eminent jurist, also known as Alahazrat completed the Holy Quran at the age of four and became astonishingly well-versed in more than fifty branches of learning, pertaining to Ancient Sciences, Current Sciences and Oriental Learnings and left contributions in all these academic disciplines.
By: naeem, aa on Feb, 08 2011
Reply Reply
0 Like
GOOD ARTICLE....
By: abdul, Lahore on Feb, 08 2011
Reply Reply
0 Like
سنت میں حکمت ہے، سنت میں برکت ہے۔
By: barak, k on Feb, 06 2011
Reply Reply
0 Like
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کئی ایسے واقعات ہیں کہ صرف ادائے مصطفٰے کو ادا کرنے کو کام کئے۔ یہاں تک آتا ہے ان کے بارے میں کہ جب حج کو جاتے تو بالکل انھیں جگہوں پر جہاں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے نمازیں ادا کیں وہاں ادا فرماتے جاتے۔ فتح مکہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے۔
By: ami, ............. on Feb, 06 2011
Reply Reply
0 Like
ہمارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی سنتیں رہتی دنیا تک کیلئے ہیں۔
By: ashiq, RHL on Feb, 06 2011
Reply Reply
0 Like
سنتِ موکدہ کے ترک کو عادت بنا لینا گناہ ہے۔
By: ashiq, RHL on Feb, 06 2011
Reply Reply
0 Like
الله آپکے علم میں اضافہ فرمائے آمین۔
By: Awais Raza, Faisalabad on Feb, 05 2011
Reply Reply
0 Like
At Makkah Mu'azzama and Madina Munawwara, he was visited by many scholars who received diplomas and fatawas from him. Due to his distinction in this field, the Islamic world acknowledged him as a great Jurist. The renowned poet of the East, Dr. Allama Iqbal, remarked, "Such a genius and intelligent Jurist did not emerge." Despite being well-versed in scores of branches of knowledge, he restricted his interest to the following branches:
1. To support and defend the Holy Prophet (sallal laahu alaihi wasallam).
2. To uproot the innovations prevalent in the Muslim society.
3. To issue fatawa according to the Hanafi School of Jurisprudence.
By: ali, ¬ on Feb, 04 2011
Reply Reply
0 Like
More than twenty five Universities throughout the world are actively researching the works of the great Islamic Scholar and Saint, A'la Hazrat .
By: kamal, - on Feb, 04 2011
Reply Reply
0 Like
"Kanzul Imaan", the internationally renowned Urdu translation of the Holy Quran by A'la Hazrat, Imam Ahmed Raza Khan Al-Qaderi (radi Allahu anhu) has been translated into the English language by many Islamic scholars.

This momentous task was first undertaken by Professor Fatimi, a highly acclaimed academic of the University of Kuwait. He had it published in Karachi, Pakistan. The second translation was undertaken by Professor Shah Fareedul Haq of Pakistan and was published in India and Pakistan. The commentary notes on "Kanzul Imaan" by Sadrul Faadhil, Maulana Na'eemuddeen Muradabadi (rahmatullah alaihi) has been translated into the English language by Dr. Professor Majeedullah of Lahore, Pakistan.
By: fida, i on Feb, 03 2011
Reply Reply
0 Like
It is a must in every Muslim home.
By: wane, www on Feb, 03 2011
Reply Reply
0 Like
The Urdu translation of the Quran, "Kanzul Imaan" by A'la Hazrat, Imam Ahmed Raza Khan (radi Allahu anhu) has been translated into the Sindhi language by Mufti Muhammad Raheem Sikandari.
By: sindho, # on Feb, 03 2011
Reply Reply
0 Like
excellent article.
By: ahmed, ALAIN on Feb, 01 2011
Reply Reply
0 Like
WHAT A GREAT INFORMATION HAS BEEN SHARED ABOUT ALAHAZRAT... ALAHAZRAT IS THE GREAT IMAM OF MUSLIMS...I LOVE ALAHAZRAT. THANKS TO THE PEOPLES .FOR SHARING REMARKS ON THIS COLUMN AND TO THE WRITER...AND HOPE YOU PEOPLE WILL CONTINUE WRITING FOR THE READERS...
By: Farina, Karachi on Feb, 01 2011
Reply Reply
0 Like
In Mauritius A'la Hazrat's Kanzul Iman has been translated into the Creole language, thanks to the combined effort of Maulana Mansoor and Maulana Najeeb of Mauritius. This historic translation of the Holy Quran was first published on 17-01-96 under the guidance and patronage of the Khatib of the Jaame Masjid Mauritius, Hazrat Allama Shameem Ashraf Azhari. Many Ulema and politicians also partook in this great service. The translation was greatly welcomed and accepted by all.
By: ali, ]]]]]]]]]]] on Jan, 31 2011
Reply Reply
0 Like
Three new research thesis on A'la Hazrat (radi Allahu anhu) by Professor Dr. Muhammad Mas'ood Ahmad was published in Pakistan. Two of his books, viz. "Fundamental Faith of Islam" and "Imam Ahmad Raza - The Reformer of the Muslim World", are in English and one in Arabic. Whilst numerous books and research on A'la Hazrat (radi Allahu anhu) has been published in Urdu, only a limited material is available in English and Arabic. This move is, therefore, greatly encouraged. (Ashrafia Monthly Mubarakpur)
By: ali, ]]]]]]]]]]]]]]] on Jan, 31 2011
Reply Reply
0 Like
Twenty-one (21) Scholars in Pakistan have completed their research works on A'la Hadrat (radi Allahu anhu) and have received their Doctrate. Amongst them were:
1. Professor Dr Hafiz Abdul Baari Siddiqi
2. Professor Dr Majeedullah Qaaderi, who is also doing a indepth research on the works of A'la Hadrat (radi Allahu anhu).
By: ali, ]]]]]]]]]]]] on Jan, 31 2011
Reply Reply
0 Like
The Islamic book publications section of the Punjab University is to launch a new Urdu Encyclopedia of Islam. In the 10th volume, pages 278 to 287, incorporates a brief history of the life and works of A'la Hazrat, Imam-e-Ahle Sunnat, Imam Ahmed Raza Khan (radi Allahu anhu). This brief history was prepared by Professor Dr Muhammad Ma'sud Ahmed, M.A. Phd., on the request of Dr.Sayed Abdullah.
By: ali, ]]]]]]]]]]]]] on Jan, 31 2011
Reply Reply
0 Like
Scientists from the Allama Iqbal Open University in Islamabad have taken a keen interest in researching A'la Hazrat's (radi Allahu anhu) "Fauz-e-Mobeen" which deals with the movement of the sun and planets around the earth. At present, research is about to commence on the subject.
By: kalo, India on Jan, 30 2011
Reply Reply
0 Like
cool
By: abdulazeem, s on Jan, 30 2011
Reply Reply
0 Like
In 1974, Dr. Hannif Faatimi of London University brought the Professor of Kuwait an English translation of "Kanzul Imaan" (A'la Hazrat's translation of the Holy Quran) for printing. Prof. Faatimi at that time had met a Christian scholar who had revealed that he was interested in reading more about Islam. Prof. Faatimi was two-minded about giving him an English copy of Kanzul Imaan. Eventually, he gave him a copy to read. The Christian scholar, after reading this translation, accepted Islam.
By: star, Lahore on Jan, 30 2011
Reply Reply
0 Like
At Makkah Mu'azzama and Madina Munawwara, he was visited by many scholars who received diplomas and fatawas from him. Due to his distinction in this field, the Islamic world acknowledged him as a great Jurist. The renowned poet of the East, Dr. Allama Iqbal, remarked, "Such a genius and intelligent Jurist did not emerge." Despite being well-versed in scores of branches of knowledge, he restricted his interest to the following branches:

1. To support and defend the Holy Prophet (sallal laahu alaihi wasallam).

2. To uproot the innovations prevalent in the Muslim society.

3. To issue fatawa according to the Hanafi School of Jurisprudence.

By: choto, near on Jan, 30 2011
Reply Reply
0 Like
GREAT BREAKTHROUGH AT THE AL AHZAR UNIVERSITY: The famous Al Azhar University in Cairo, Egypt has granted permission for a graduate to research on the topic of A'la Hazrat, Imam Ahmed Raza (radi Allahu anhu) and his services for Hanafi Fiqah. This research is towards the M.Phil. Degree and Mustaq Ahmed Shah of Pakistan is doing this research.

IMAM AHMED RAZA AND MEDICINE (TIBB): Hakeem Mohammed Saeed Dehlwi, the founder of Madinatul Hikmat University, Karachi (Research Centre for Unani Medicine) and owner of Hamdard Dawa Khana did research and compiled A'la Hazrat's (radi Allahu anhu) theory about medicine. The book is titled, "Imam Ahmed Raza aur Fann Tibb," and is printed and published in Pakistan.

IMAM AHMED RAZA FOUNDATION: The IARF was recently established in the Kerala State India to research and propagate the teachings of Imam Ahmed Raza (radi Allahu anhu).

NEW TRANSLATIONS OF IMAM AHMED RAZA PUBLISHED: The "Islamic Times" of the U.K. has recently published two articles by A'la Hazrat (radi Allahu anhu). These are: (1) "A Commentary upon Paper Currency Notes," which was researched and translated by Dr. Muhammad A. Junejo and (2) "Imam Ahmed Raza and Topology," by Dr. Abdul Naim Azizi of Jasoli, Bareilly Shareef.

HISTORIC A'LA HAZRAT MAZAAR STAMP PRINTED BY GOVERNMENT OF INDIA: The Postal Services Department of the Indian government have acknowledged the Islamic and Academic services of the great Mujaddid (Reviver) of Islam, A'la Hazrat, Imam Ahmed Raza Khan Al-Qaderi (radi Allahu anhu). They have printed a new Indian stamp portraying the Mazaar Shareef of A'la Hazrat (radi Allahu anhu) in full colour. The words "A'la Hazrat Barelvi" have been printed along the side of the stamp in English and Hindi. This stamp is currently being sold at all Post Offices in India. This is India's way of saluting a great genius and Islamic scholar of his time, A'la Hazrat (radi Allahu anhu).

RESEARCH WORK ON IMAM AHMED RAZA KHAN: Hazrat Maulana Ahmed Raza Khan, an eminent jurist, also known as A'la Hazrat (radi Allahu anhu) was born at Bareilly, India in 1856. He completed the Holy Quran at the age of four and became astonishingly well-versed in more than fifty branches of learning, pertaining to Ancient Sciences, Current Sciences and Oriental Learnings and left contributions in all these academic disciplines.

By: waqar, UP on Jan, 30 2011
Reply Reply
0 Like
He needs no Introduction. Today his personality and works are overspread on the whole world, on Islamic world, on the world of learning and knowledge. Today besides the religious group, the scholarly society and modern universities are attended to him .Till now about 15 scholars performing research works on his personality and various religious, scholarly and poetic works from different universities of India, Pakistan and America have attained PhD. degrees. Among these scholars one is Dr. Mrs. Usha Sanyal of Columbia University, America. The research work on AalaHazrat is still continuing and about 20 scholars are performing research work from different universities of India and abroad.

By: akram, p on Jan, 30 2011
Reply Reply
0 Like
He has also refused The Theory of Earth's Motion and condemning Newton, Gallileo and Kepler etc, has proved that Earth is Static. In 1912 A.D he laid out a four points' programme by which the Muslim community could serve as an Island in a wider colonial setti
By: amir, wala on Jan, 30 2011
Reply Reply
0 Like
His Urdu translation of the Holy Quran entitled with "Kanzul Iman" is of course a treasure of belief. Its eloquence and literary granduer are admirable. Till now not only in Urdu, but in any language such translation could not be seen. His collectedodes (Diwan) "Hadaique Bakhshish" is in fact a flower of the garden of success which imparts the Iman a freshness and fragrance. Such an encomium writer ie the poet of Naat could not be found in 600 years History of Urdu poetry. He driven every attack on Islam whether by the side of Madhab or Politics or by any view point. He was in fact a bold Momin and Alahazrat.
By: razavi, Hindi on Jan, 30 2011
Reply Reply
0 Like
If we study the World History of about four Centuries, we wouldn't find such a Noble Man and Scholarly Personality like Alahazrat Imam Ahmad Raza and no doubt he is the greatest personality of 20th Century and indeed the "Man of the Century". He has written about 1200 books and Pamphlets on more than 60 branches of Rational and Irrational knowledge. His work Fatawa Radhvia consisting of 12 Volumes, is a treasure of Fatawa and Religious problems and even the modern subjects like Physics, Chemistry, Geology, Algebra, Trigonometry, Spherical Trigonometry, Economics, Sociology and Commerce etc.

By: kk, ri on Jan, 30 2011
Reply Reply
0 Like

مسکرانا ہمارے پیارے پیارے آقا کریم، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے
اور واشنگٹن کے ماہرین آج کی تحقیق پڑھئے۔
(یہ خبرانٹرنیٹ پر آن لائن پڑھنے کیلئے اس لنک کو استعمال کریں۔) http://www.onlineurdu.com/?p=11142
ریسرچ۔واشنگٹن : بھرپور مسکراہٹ طویل عمری کا راز ہے۔ مسکراہٹ اور ہنسی ناصرف صحت مند زندگی کا باعث ہوتی ہے بلکہ طویل العمری کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔ تفصیل کے مطابق امریکی ریاست مشی گن کے ماہرین نے ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ کُھل کر مُسکرانا زندگی کے سالوں میں اضافہ کردیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دانت نکال کر ہنسنے سے آنکھوں کے گِرد پڑنے والی جھائیاں مثبت زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو لمبی عمر تک بہتر صحت کی ترجمانی ہے۔ 230 بیس بال کھلاڑیوں کی تصاویر، ان کی عمر، قد، وزن اور ازدواجی زندگی سے مرتب کیے گئے نتائج کے تحت خوشگواراور مسکراہٹوں سے بھرپور زندگی گزارنے والے کھلاڑیوں کی زندگی میں عام کھلاڑیوں کی نسبت سات سال کا اضافہ دیکھا گیا۔اس تحقیق کے ذریعے ماہرین نے ثابت کیا کہ مسکراہٹ ناصرف صحتمند زندگی کا باعث ہوتی ہے بلکہ طویل العمری کا راز بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔

By: karanch, K on Jan, 30 2011
Reply Reply
0 Like
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں. مجھے ہے حکمِ اذاں، لا الہ الا اللہ
By: kami, h on Jan, 30 2011
Reply Reply
0 Like
اب فرنگی تہذیب کے دلداداؤں کو دیکھ کر افسوس ہے کہ یہ اس ملت کے فرد ہیں جسے قدرت نے "خیر الامم" فرمایا ہے ۔ اس غارت گر متاعِ حیات کو کون بتائے کہ پچھلی رات تک رقص گاہوں اور سینماؤں میں داد عیش دینے والے! تُو کب لَوٹے گا، تیرا گھر تو لُٹ گیا، تیری ناموس تو خاک
By: waqas, yt on Jan, 30 2011
Reply Reply
0 Like
Though difficult to get up but not for the veterans. Look how the columnist is having a go at that. The attitude is a huge mistake and costly. There are important reasons to make the effort.
By: Mohammad Omer Qadiri, lhr on Jan, 18 2011
Reply Reply
0 Like
عمر صاحب آپ نے صحیح لکھا۔۔۔ ھمارے نصاب میں اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کے مطابق پڑھایا جانا چاھئے۔ لیکن ھماری بدقسمتی سے ھمارے نصاب میں اکثر غیر مسلموں کے تذکرے پڑھائے جاتے ھیں اور غیر مسلم لوگوں کے کردار کشمیر ، بوسنیا، عراق فلسطین میں ھمارے سامنے ھی ھے۔ مجھے آپ سے اتفاق ھے۔ لیکن کیا ایسا ھو سکے گا۔ ھمارا تو سلیبس ھی بڑا عجیب ھے۔ کاش اس سلیبس کو تبدیل کر کے اسلام سے ھم آھنگ کیا جائے۔
By: Farina, Karachi on Jan, 16 2011
Reply Reply
0 Like