رمضان اور مہنگائی کا جن

(Sheheryar Ahmed, Rawalpindi)
رمضان کی برکات اور مہنگائی میں نفس سے جنگ
پوری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی رمضان المبارک شروع ہو چکا ہے اور اس کیساتھ ساتھ مہنگائی کا جن بھی بوتل سے باہر آچکا ہے ۔ پاکستان کی زیادہ تر آبادی غریب طبقے پر مشتمل ہے جو عام دنوں میں بھی مشکل سے گزارا کرتے ہیں ان کیلئیے یہ مہنگائی کسی بڑی مصیبت سے کم نہیں ۔

دنیا میں عام طور پر جب کوئی تہوار آتا ہے تو حکومت کی طرف سے قیمیتیں کم کر دی جاتی ہیں اور پھر کم کی گئی قیمیتوں پر عمل درآمد بھی کیا جاتا ہے ۔ مگر بات کی جائے پاکستان کی تو حکومت کی جانب سے قیمیتیں کم کر نے کے باوجود ان پر مکمل عمل درآمد نہیں کرایا جاتا جو حکومت کی اہلیت پر سوالیہ نشان ہے ۔

یہ مہینہ تو برکتیں سمیٹنے اور اپنے اندر پائے جانے والے نفس کی ڈور کو لگام ڈالنے کا ہے ۔ ایسے میں بات تو انفرادی عمل کی ہے مگر افسوس پورے سال کی طرح اس ماہ مبارک میں بھی انسان اپنے نفس سے شکست کھاتا ہے ۔

روزہ تو ہمیں نفس پے قابو ،ایمان کی بلندی اور دوسروں کا خیال رکھنے کا درس دیتا ہے ۔ ہمیں اس ماہ مبارک میں اپنے غریب بہن بھائیوں کو کسی صورت نطرانداز نہیں کرنا چاہیے ۔افسوس افسوس ہم صبح سے شام تک روزے کی حالت میں رہنے کے باوجود غریب کی اس حالت کا اندازہ نہیں لگا سکے جو وہ سال کے اکثر ایام میں محسوس کرتا ہے ۔

یہ جملہ ہم اپنے ایوانوں میں تو اکثر سنتے ہیں کہ ’’ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے ‘‘ مگر اس کا اطلاق زخیرہ اندوزوں،کم تولنے والوں،صاحب اختیار اور ان لوگوں پر ہوتا ہے جو تمام آسائشیں ہونے کے باوجود اپنے غریب بہن بھائیوں کو یاد نہیں رکھتے ۔

روزہ ہم جس پاک ہستی کی خوشنودی کیلیئے رکھتے ہیں وہ تو خود اپنی مخلوق سے حسن سلوک کا درس دیتا ہے اور وہ عمل اللہ کے نزدیک بہت مرتبے والا ہے جس میں اس کی مخلوق کی بہتری ہو،اسلام میں انسانوں کے حقوق پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور یقینا وہ انسان اللہ کے قریب ہے جو اللہ کی مخلوق کا خیال رکھتا ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایسی کمیٹیاں تشکیل دے جو حقیقی معینوں میں حکومت کی جانب سے قائم کردہ قیمتوں کو رائج کرا سکے اور اگر ہم اپنے نفس کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں تو امیر و غریب بلا تفریق روزے کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں ۔
 
Comments Print Article Print
NEXT 
About the Author: Sheheryar Ahmed
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jun, 2016 Views: 623

Comments

آپ کی رائے
آپ کا لکھا پڑھا ... دل کی آواز لگی ... مگر حکومتی کمیٹیاں کیوں؟؟؟
ہم کب تک اچھے اور نیک کام کے لئے کسی اور کا انتظار کرتے رہیں گے
ہم کو خود ہی کوئی قدم اٹھانا چاہیئے ... ہم سے مراد پورا معاشرہ ہے ، وہ خاموش
اکثریت ہے جو اپنی خاموشی کے سبب ظالم کا سہارے بنی ہوئی ہے
ہم نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے نفاذ کے لئے دوسروں کے منتظر
ہیں ... مسائل ہمارے ہیں ... کوئی دوسرا تھوڑی آ کر ہمارے مسائل حل کرے گا
ہم کو خود ہی کچھ کرنا پڑے گا
جیسے آپ نے کہا کہ
ہم اپنے نفس کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں تو امیر و غریب بلا تفریق روزے کی سعادت حاصل کر سکتے ہیں
اور یہ کرنا بہت ضروری ہوچکا ہے

اللہ آباد و بے مثال رکھے آپ کو ... آمین صد آمین
لکھتے رہیں اور کامیابیاں حاصل کرتے رہیں ... آمین
By: Seen Noon Makhmoor (س ن مخمور), Karachi on Oct, 24 2016
Reply Reply
1 Like