شرارت کی سزا

(MIAN MUHAMMAD HUZAIFA ASHRAF, Lahore)
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک لڑکا رہتا تھا۔ وہ بہت شرارتی لڑکا تھا ۔وہ ہر کسی کے ساتھ شرارتیں کرتا تھا ۔اُسے جانوروں کوتنگ کرنے میں بہت مزہ آتاتھا۔وہ کبھی کبھی مرغی کے بچوں کو لے کراُن کے ساتھ کھیلا کرتا تھا ۔اور جب اُن کے ساتھ کھیلتے کھیلتے اس کا جی بھر جاتا تھا ۔تو اُن کو مارنا شروع کر دیتا تھا جاتا تھا اور اُن کو زخمی کر دیتا۔علی اپنی شرارتوں اوراپنے کارناموں کی وجہ سے مشہور تھا۔ اور سب اس کی شرارتوں سے تنگ تھے کیونکہ وہ ہر کسی کو تنگ کرتا تھا۔ایک مرتبہ علی اپنے سکول جانے کے لیے گھر سے نکلا تو راستے میں اس نے سکول جاتے ہوئے بچوں کو تنگ کرنے کا سوچا تو اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ایک لڑکے کو دھکا دے دیا۔تو وہ نیچے گر گیا۔اور بہت بری طرح زخمی ہو گیا۔اور دوسرے لڑکے کے بستے کو علی نے دور اُٹھا پھینکا۔سب علی کی پریشانیوں سے بہت تنگ تھے۔آئے دن علی کے گھر والوں کو علی کی شرارتیں سننا پڑتی تھی۔مگر علی کی شرارتیں دن بدن بڑھتی ہی چلی جا رہی تھیں۔علی کے والد نے علی کوخوب ڈانٹا کہ تمہاری شرارتیں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں۔مجھے روز تمہاری شکایتیں سننا پڑتیں ہیں۔پھر علی کے والد نے علی کو بہت ہی پیار کے ساتھ سمجھایا کہ دیکھو بیٹا کسی کو پریشان کرنا بہت بُری بات ہے۔تم آج کسی کے ساتھ بُرا کرو گے کل کو تمھارے ساتھ کچھ بُرا ہو سکتا ہے۔مگر علی نے اپنے والد کی بات ایک کان سے سنی اور دوسرے کان سے نکال دی۔اور اسی طرح وہ اپنی شرارتوں پر قابو نہ پا سکا۔ایک دن اُس نے درخت کے اوپر دیکھا کیا دیکھتا ہے کہ درخت کے اوپر موجود شاخ پر چڑیوں کا ایک گھونسلہ موجود ہے۔اور اس میں چڑیا کے چھوٹے چھوٹے بچے موجود ہیں۔تو علی کو ایک شرارت سوجی علی نے جونہی درخت پر موجود چڑیوں کے گھونسلے تک پہنچنے کی کوشش کی تو وہ درخت سے نیچے گر گیا۔اور اُس کی ٹانگ بہت برڑی طرح سے زخمی ہو چکی تھی۔علی بہت رویا اس کو ہسپتال لے جایا گیا۔جب اُس کا علاج ہو گیا تو علی کی والدہ نے اُسے کہا کہ بیٹا تم دوسروں کو پریشان کرتے تھے اسی لیے تمہیں یہ سزا ملی ہے۔یہ سن کر علی پھر سے رو دیا اور توبہ کر لی کہ آئندہ کسی کو بھی پریشان نہیں کروں گا۔دیکھا بچو: علی کو اپنے کیے کی کیسے سزا ملی گئی۔آپ بھی اپنے سے بڑوں کا ادب کیا کریں اور چھوٹوں پر شفقت اور سب سے ضروری جانوروں کو پیار کیا کریں کیونکہ وہ بھی اﷲ کی ایک خاص مخلوق ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Huzaifa Ashraf

Read More Articles by Huzaifa Ashraf: 26 Articles with 18897 views »
صاحبزادہ حزیفہ اشرف کا تعلق لاہور کے ایک علمی وروحانی حاندان سے ہے۔ حزیفہ اشرف14اکتوبر1999کو پیدا ہوئے۔حزیفہ اشرف کے والد قانون دان میاں محمد اشرف عاص.. View More
21 Jul, 2016 Views: 4043

Comments

آپ کی رائے