ڈُپلی کیٹ

(Shahid Shakeel, Germany)
دنیا بھر میں جڑواں بچوں کی پیدائش کوئی نئی بات نہیں کیونکہ پیدائش و اموات ایک حقیقت ہے اور ہر ذی روح کو دنیا میں آنکھیں کھولنے کے بعد موت تک کا سفر کرنا ہوتا ہے یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ دنیا میں چندمنٹوں کیلئے اور کئی افراد سالہا سال یعنی طویل زندگی بسر کرتے ہیں،اﷲ تعالیٰ کی اس انمول کائنات میں ہر وہ شے موجود ہے جس سے ہر ذی روح مستفید ہو سکتا ہے لیکن اگر ایک طرف قدرت نے زمین کے چپے چپے پر انسانوں کیلئے آسائشیں اور سہولیات کے در کھول رکھے ہیں تو دوسری طرف سائنس بھی اپنے کمالات دکھا کر انسانوں کو حیران کر رہی ہے یہاں اس کا مطلب ہر گز نہیں کہ انسان خدائی کا دعوہ کر بیٹھا ہے اگر دیکھا جائے تو انسان کا دماغ قدرت کی دین ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا جس سے انسانیت کی بھلائی ہو کوئی برا عمل نہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک انسان کس حد تک اپنے دماغ کا استعمال کر سکتا ہے اور آیا وہ عمل دیگر انسانوں کے لئے فائدہ مند بھی ہے یا نقصان کے ساتھ ساتھ موت کا سبب بن سکتا ہے۔آج سے بیس برس قبل دنیا میں ایک سنسنی خیز نیوز نے ہلچل مچا دی تھی کہ سائنسدانوں نے مصنوعی جانور بنا لیا ہے یعنی دنیا میں ڈولی نامی بھیڑ کو کلون کیا گیا اور اس نے دنیا میں آنکھ کھولی،یہ کوئی آسان تحقیق نہیں تھی اس کامیابی کے باوجود سائنسدانوں کو مزید کلون کرنے میں مشکلات پیش آئیں لیکن سٹیم سیل کی تحقیقات کے بعد مزید پیش رفت ہوئی ،ڈولی کے بعد انسان کلون کرنے کی باری آئی اور یہاں مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہو گئے کہ آخر انسان کو کلون کرنے کا کیا فائدہ ،کیا کلون کیا ہوا یعنی مشینوں اور ہائی ٹیک کومپیوٹر سے ایجاد کیا ہوا ربڑ کا انسان ایک اصلی انسان کیلئے خطرناک ثابت تو نہیں ہو گا ؟۔گزشتہ صدی میں جب بھیڑ کی ڈپلی کیٹ ڈولی بنائی گئی تو دنیا بھر میں لوگوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ یہ کیسا کمال ہو گیا اب آگے کیا ہو گا ،کب تک ڈولی جئے گی ،کیا انسانوں کے ڈپلی کیٹ بھی بنائے جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ڈولی چند برس نہایت خجالت سے زندہ رہی کیونکہ جب وہ ایک قدرتی عمل سے دنیا میں نہیں آئی تو نتیجہ یہ ہی ہونا تھالیکن ماہرین کا خیال تھا کہ انسان کو دیگر مختلف سائنسی طریقوں سے کلون کرنے کے بعد زندہ رکھا جا سکتا ہے جس کیلئے مخصوص سیلز آئی پی ایس یعنی حوصلہ افزا پلیوری پوئنٹ سٹیم وغیرہ جسم کے خلیات میں منتقل کر دی جائیں اور اس قابل بنایا جائے کہ کلون ہوا انسان طویل عمر زندہ رہ سکے اس مثالی کارنامے کی کامیابی اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ سیلز کو تقسیم کرنے اور بار بار خلیات میں ممکنہ طور پر ٹرانسفر کیا جائے،اس تحقیق کو جب دنیا بھر میں روشناس کروایا گیا تو بھونچال آگیا میڈیا نے کلون کرنے ، انسان کی صحت اور دیگر عوامل پر شکوک و شبہات ظاہر کئے کہ ڈولی بھیڑ کو ایک خوبصورت نام دیا گیا اب انسانوں کے کون سے نام رکھے جائیں گے؟انیس سو چھیانوے میں ایڈنبرا یونیورسٹی کے روزلِن انسٹیٹیوٹ میں کلون ہوئی بھیڑ کو ڈولی کا نام دیا گیا تھا۔تحقیقات کے مطابق ڈولی چونکہ ایک مصنوعی جانور تھا اور مصنوعی شے کو طویل زندگی یا عمر نہیں دی جا سکتی تاہم ماہرین کا کہنا تھا ہم کامیاب ہو گئے ہیں لیکن ڈولی کی حالت دن بدن بگڑتی گئی اور معقول ادویہ نہ ہونے پر وہ مر گئی اور یہاں سے دوبارہ میڈیا نے سر ابھارہ کہ نئی زندگی یا سائنسی تحقیقات اپنی جگہ لیکن کلون کرنے کا کس کو فائدہ ہوگا ؟میڈیا نے خاص طور پر کلون کرنے والے سسٹم کے بانی و سائنسدان سکاٹ لینڈ کے پروفیسر ایان وِلمٹ اور انکی ساری ٹیم کو شکوک وشبہات سے دیکھتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ انسان اور حیوان کی تمیز کی جائے تبصروں اور کریٹیکل بیانات کے علاوہ تمام پروجیکٹ کو کھلے عام دنیا میں پھیلا دیا گیا کہ سائنسدان دنیا میں تباہی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں ہم اس تحقیق کے خلاف ہیں کیونکہ انسانی جانوں کو خطرہ ہے ڈولی کی مثال سب کے سامنے ہے وہ جسمانی طور پر مضبوط نہیں تھی اور نہ دنیا سے کوئی لگاؤ تھا حالانکہ اسے کئی دن دیگر بھیڑوں کے ریوڑ میں بھی رکھا گیا کہ شاید انہیں اپنا سمجھ سکے لیکن اصل اور نقل میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، جعلی بھیڑ کا دل اس اصل دنیا سے بہت جلد اچاٹ ہو گیا اور وہ ختم ہو گئی ہم چاہتے ہیں اس پروجیکٹ کو فوری بند کیا جائے اور انسانوں سے کھلواڑ نہ کیا جائے۔اس کے برعکس ایان وِلمٹ جو ماہر جنییات ہیں نے برطانوی جریدے نیو سائنٹسٹ میں حالیہ بیان دیا کہ وہ جین ٹارگٹنگ میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ جین ویری ایشن انسانوں کیلئے مفید ثابت ہو سکتی ہے اور علاج وتھیراپی کے علاوہ جدید ایجادات سے فائدہ اٹھایاجا سکتا ہے کیونکہ پروٹین کی سرکولیشن ،جرثومہ سیل وغیرہ انسانی جسم میں منتقل کی جا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انیس سو چھیانوے میں کئی سائنسدانوں نے سیل لائن یعنی پی پی ایل کے نام سے ایک تجربہ کیا تھا جس میں دو سو ستتر جینن میں سے انتیس نئے ایمبریوز تیار کئے جنہیں سرو گیٹ مدر کا نام دیا اور انہیں نئے ایمبریو یعنی مصنوعی بطن سے ڈولی کی پیدائش ہوئی تھی۔تاہم ولمٹ اور انکی ٹیم آج تک اس الجھن اور تجسس میں مبتلا ہیں کہ بیالوجی کو سمجھنا آسان نہیں اس سبجیکٹ کے عقب میں بہت کچھ پوشیدہ ہے یعنی مصنوعی گوشت پوست کا کلون ہوا انسان دنیا میں کیسے کامیاب ہو سکتا ہے اس کے جسم میں کیا کیا ٹرانسفر کیا جائے کہ کسی قسم کا خطرہ نہ ہو کسی زومبی یا ایلین کا روپ نہ دھار لے وغیرہ اور تیکنیکی انداز سے اسے ممکن گردانا جائے کہ سائنس درست سمت رواں ہے اور اصل انسانوں کے لئے کوئی خطرہ نہیں۔انسانوں کو کلون کرنے کے بارے میں دنیا بھرمیں لوگوں نے مختلف رائے اور بیانات دئے کہ کیا مارلن منرو یا البرٹ آئن سٹائن کو بنایا یا پیدا کیا جا سکتا ہے ظاہر بات ہے کہ یہ ناممکن ہے، ان سے مشابہت رکھتے ہوئے ہزاروں بلکہ لاکھوں کروڑوں ڈپلی کیٹ بنائے جاسکتے ہیں لیکن ان کے اندر ا صل شخصیات کا دماغ ڈالنا ناممکن ہے کلون کرنے والوں اور ان کے حق میں جھنڈے لے کر کھڑے ہونے والوں کو سوچنا چاہیے کہ ربڑ کی ڈمی بنائی جا سکتی ہے لیکن اس کے اندر شعور،اخلاق،تمیز،علم اور مثبت یا منفی سوچ منتقل نہیں کی جاسکتی اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ ربڑ کے کھلونے کسی انسان کو نقصان نہیں پہنچائیں گے،فائدہ اور نقصان کی بات ہے تو کوئی سائنسدان بتائے کہ اگر نقلی ،مصنوئی ربڑی انسان کو سر عام بازاروں میں چھوڑ دیا جائے جو صرف بظاہر چلتے پھرتے انسان ہیں لیکن کھوپڑی خالی ہے اور ایسے میں کسی سے الجھ پڑے تو کیا ہو گا اور دوسری بات مارلن منرو ،کسی خوبصورت ایکٹریس یا خواتین کو لاتعداد مقدار میں کلون کیا گیا تو دنیا وقت سے قبل ہی ختم ہو جائے گی کلون کی ہوئی ڈمی کا دماغ نہیں ہے لیکن ایک جیتا جاگتا اصلی انسان دل بھی رکھتا ہے اور دماغ بھی اور ممکن ہے کہ اس عمل سے دنیا بھر میں ایک طرف خوف اور جارحانہ رویئے میں اضافہ ہو گا اور دوسری طرف انسان ان کولونی کھلونوں کو تہس نہس بھی کر سکتا ہے ،مشینوں اور ہائی ٹیک کمپیوٹر کے ذریعے اگر ان میں چپ بھی فٹ کر دی جائے کہ وہ اپنا دفاع کر سکیں تب بھی افراتفری کا سماں ہو گا اس لئے کلون کی کالونی نہیں بنائی جائے فوری طور پر یہ خطرناک پروجیکٹ بند کیا جائے کیونکہ کسی مصنوعی ڈولی یا ڈولے کے لئے دنیا بھر میں انسانوں کی جنگ کروانا کوئی مثبت سائنس نہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Shakil

Read More Articles by Shahid Shakil: 250 Articles with 156406 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jul, 2016 Views: 367

Comments

آپ کی رائے