مولانا عنایت اﷲ انور کی رحلت

(Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)
دنیا فانی ہے ، اس کا حال اور رنگ بدلتا رہتا ہے ، اس کی کسی چیز میں دوام نہیں، آج اگر بہار اور رنگینی ہے تو کل خزاں ہے، یہ قانون ِفنا ہے اور قانونِ فنا کا یہی تقاضا ہوتا ہے کہ یہاں جو بھی آیا، جانے کے لیے آیا، مگر کچھ شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں ، جن کی موت صرف فردِ واحد کی موت نہیں بلکہ پورے عالم کی موت ہوتی ہے ’’موت العالِم موت العالَم‘‘․

خصوصاً اگر رخصت ہونے والے کا وجود دنیا کے لیے باعث رحمت ہو، اس کی ذات سے عالم اسلام کی خدمات وابستہ ہوں ، تو اس کا صدمہ ایک عالم کی بے کلی ، بے بسی، بے کسی ومحرومی کا موجب بن جاتا ہے۔

حضرت مولانا عنایت اﷲ انور بھی انہیں باکمال شخصیات میں سے تھے جن کی رحلت سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ محفل اُجڑ گئی، ایک بزم ویران ہو گئی ؂
یادیں تِرے خلوص کی ڈستی ہیں آج بھی
ملنے کی آرزو میں ترستی ہیں آج بھی
آنکھیں ہزار صبر کی کوشش کے باوجود
رُک رُک کے بار بار برستی ہیں آج بھی

خاندانی پس منظر
نام…… مولانا راجہ عنایت اﷲ انور بن راجہ محمد نواز بن راجہ عدالت خان۔ ولادت:31 دسمبر1967ء بمطابق1378 ھ بمقام کراچی۔

ابتدائی حالات: مولانا کے قرابت داروں کے مطابق مولانا راجہ عنایت اﷲانور کی ولادت جس زمانے میں ہوئی وہ زمانہ مذہبی تحریکوں کے عروج کا تھا بالخصوص تحریک ختم نبوت، جیسی عظیم الشان تحریک زوروں پر تھی اور علمائے کرام گلی گلی محلہ محلہ جا کر عوام کی رہنمائی فرما رہے تھے۔ جس کی وجہ سے عوام کا تعلق علماء کرام سے بہت گہرا ہو گیا تھا۔

مولانا راجہ عنایت اﷲ انور کے دادا راجہ عدالت خان جو کہ آرمی سے ریٹائرڈ اور اپنے گاؤں کے کونسلر بھی رہ چکے تھے۔ وہ بھی علمائے کرام کی محفلوں میں شریک ہونے کی وجہ سے ان سے بہت متاثر تھے۔ انہوں نے گاؤں میں تشریف لانے والے ایک بڑے مولانا صاحب کے سامنے اس امر کا ارادہ فرمایا کہ اگر اﷲ نے مجھے پوتے سے نوازا، تو میں اسے دین کی تعلیم دلواؤں گا۔ اس کے علاوہ مولانا صاحب کے والد صاحب کا دارالعلوم کراچی( کورنگی) آنا جانا تھا۔ ان دنوں حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اﷲ خان صاحب دارالعلوم کراچی میں تدریس سے وابستہ تھے۔ مولانا راجہ عنایت اﷲ انور کے والد صاحب کا اس وقت حضرت شیخ الحدیث صاحب سے تعلق قائم ہوا ۔ جو کہ الحمدﷲ آج تک قائم ہے۔ جس دن مولانا کی ولادت ہوئی اسی د ن تہیہ کیا کہ اپنے بچے کو عالم وحافظ بناؤں گا۔ ماشاء اﷲ ان کی یہ خواہش پوری ہوئی مولانا راجہ عنایت اﷲ انور حافظ قرآن وعالم دین بن گئے۔ جو اپنے خاندان کے پہلے حافظ قرآن وعالم دین تھے۔ ان کی تعلیم کے دوران تمام تعلیمی مراحل حضرت شیخ الحدیث صاحب کی مشاورت سے طے ہوئے اور پھر جب تکمیل تعلیم کے بعد ان کے نکاح کا موقع آیا تو حضرت نے ہی ان کا نکاح پڑھایا۔

تعلیم…… مولانا نے تعلیم کا آغاز چار سال کی عمر میں عالم اسلام کی مشہورو معروف درس گاہ جامعہ فاروقیہ کراچی سے کیا۔ انہوں نے شعبہ حفظ میں داخلہ لیا (مولانا کا شمار مدرسہ کے ان چند طلبا میں ہوتا ہے جن کی تعلیم کی ابتدا اور انتہا اسی ادارہ میں ہوئی اور یہیں مدرس مقرر ہوئے) البتہ تعلیم کے آغاز کے کچھ عرصے بعد ہی والد صاحب بسلسلہ ملازمت مع اہل خانہ کویت تشریف لے گئے جس کی وجہ سے تکمیل حفظ القرآن1978ء ( مدرسہ الصباحیہ) کویت سے ہوئی۔ وطن لوٹنے کے بعد مزید علمی پیاس بجھانے کے لیے 1981ء میں جامعہ فاروقیہ میں درس نظامی میں داخلہ لیا اور علوم نبوت سے اپنے سینے کو منور کرتے رہے ، دوران تعلیم اساتذہ کی خوب خدمت فرماتے رہے۔ جمعرات کو جب مدرسے سے گھر جاتے تو اساتذہ کے کپڑے وغیرہ دھونے اور استری کرنے کے لیے گھر لے جاتے تھے۔ حضرات اساتذہ کی خدمت کا یہ صلہ ملا کہ اﷲ رب العزت نے ان سے خوب دین کا کام لیا، دن دوگنی رات چوگنی ترقی نصیب ہوئی۔ دوران تعلیم ان کا مزاج نہایت خادمانہ اور مؤدبانہ تھا۔ان کا ایک خاص قسم کا تبسم آج بھی جب یادآتا ہے تو بخدا یوں لگتا ہے کہ بالکل سامنے کھڑے ہیں اور مسکرا رہے ہیں۔

اساتذہ کرام
حضرت مولانا کو اﷲ رب العزت نے وقت کے بہترین اساتذہ سے شرف تلمذ نصیب فرمایا جن میں چند درج ذیل ہیں۔ صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان حضرت مولانا سلیم اﷲ خان صاحب ، مولانا عنایت اﷲ خان شہید، شیخ الحدیث مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہید، مولانا حمید الرحمن شہید اور حضرت مولانا محمدیوسف کشمیری صاحب مدظلہ العالی، حضرت مولانا محمد انور صاحب،حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان صاحب، حضرت مولانا عبیداﷲ خالد صاحب، حضرت مولاناعبدالرزاق صاحب۔

علمی خدمات
1988ء میں دورہ حدیث سے فراغت کے بعد ہم کئی ساتھیوں نے سال کے لیے نام لکھوائے، کئی حضرات تو سال لگا کے آگئے اور راقم کو بے ریش ہونے کی وجہ سے واپس کر دیا گیا، چناں چہ میں اسی سال جامعہ سے منسلک ہو گیا اور مولوی صاحب ودیگر ساتھی آئندہ سال سے۔

مولانا کو عربی ادب سے خصوصی لگاؤ تھا اﷲ پاک نے عربی میں خاص مہارت عطا فرمائی تھی، یہی وجہ تھی کہ اہل جامعہ نے ان کا تقرر’’معہد اللغۃ العربیۃ والدراسات الإسلامیہ‘‘ میں کیا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں فیجی سے آئے ہوئے طلبہ کا نگران مقرر کیا گیا ان دنوں مولانا صاحب کا جو تعلق ان طلبہ سے قائم ہوا۔ وہ تاحیات قائم رہا آج وہ طلبہ فیجی کے بڑے بڑے علمائے کرام ومفتیانِ عظام شمار ہوتے ہیں۔مولانا، مدرسہ عائشہ گلستان جوہر میں بھی استاذ حدیث رہے علاوہ ازیں جامعہ خدیجۃ الکبریٰ محمد علی سوسائٹی میں بھی مختلف کتابیں پڑھاتے رہے۔

مولانا صرف مدارس ہی میں نہیں عمومی سطح پر بھی تعلیم دین کے لیے سرگرم رہے۔ مسجد کے امام ہونے کی حیثیت سے ایک بہترین مربّی تھے لوگوں سے میل جول بڑھا کر انہیں دین کی طرف راغب کرنا۔مسجد کے اعتبار سے روزانہ بعد نماز فجر درسِ قرآن بعد نمازِ عشاء درسِ حدیث دیا کرتے تھے اور جمعہ کے دن نماز جمعہ کے بعد دینی مسائل کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ اس کی ترتیب یہ تھی کہ کتاب الطہارۃ سے شروع کرکے وضو کے مسائل ، غسل کے مسائل اور اسی طرح ترتیب وار مسائل ذکر کرتے۔ اس ترتیب سے لوگوں کو بہت فائدہ ہوا اور دینی تعلیم حاصل کرنے کا شوق بھی پیدا ہوا۔

کینیڈا کا سفر
حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اﷲ خان صاحب اور مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان صاحب نے انہیں کینیڈا کے شہر وینکور بھیجنے کا ارادہ فرمایا تو آپ حضرت کے حکم پر فروری 1995ء میں وہاں تشریف لے گئے اوروہاں اصلاح ودعوت دین کا کام شروع کیا اور حضرات اساتذہ کرام کے اعتماد کا بھرپور حق ادا کر دیا۔ آپ آخر حیات تک وہیں امامت وتدریس کے ساتھ تبلیغ دین فرماتے رہے او رپھر وفات کے بعد وہیں تدفین ہوئی۔

اصلاحی وتبلیغی خدمات
مولانا نے کینیڈا میں رہتے ہوئے بہت سے اصلاحی کام سر انجام دیے رسومات باطلہ کو ختم کرنے اور علم دین کی ترویج کی طرف تو جہ دی، بہت سے نوجوانوں کو دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے مدارس بھیجا جو یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ، چند خواتین کو بھی وہیں انہوں نے مدرسۃ البنات میں تعلیم دی جوبعد میں مستقل مدرسہ بنانے کا سبب بن گئیں۔ خواتین میں دین کا کام کرنے اور ان میں اسلامی ثقافت کا شعور بیدار کرنے کے سلسلے میں مولانا کے دل میں بہت سے منصوبے تھے، اس کے علاوہ انہوں نے تبلیغی جماعت میں لوگوں کو بھیجنے کے لیے خوب کام کیا اور بہت سے نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے کر جماعت کے ساتھ گئے۔ اس کے علاوہ وینکور سے بہت سی جماعتیں بنا کر مختلف ممالک میں بھیجیں، سال گزشتہ ہمارا فیجی کا ایک سفر ہوا وہاں کے کچھ لوگ جو کینیڈا میں مقیم تھے مولانا کے بڑے معتقد تھے، بار بار ان کا تذکرہ کرتے تھے۔

عربی زبان کے لیے عظیم الشان خدمت
مولانا عنایت اﷲ انور صاحب نے کینیڈا کے بی سی مسلم اسکول میں تدریس کا عمل شروع کیا تو عربی سکھانے کا نصاب A.S.L (عربیک ایزاے سیکنڈ لینگویج) بنایا جو وہاں کی تعلیمی کمیٹی نے منظور کیا اور یہ بھی فیصلہ ہوا کہ اب اگر کسی اسکول میں عربی پڑھنے کے خواہش مند دس طلبہ بھی ہوں گے تو وہ عربی کو مضمون کے طور پر منتخب کرسکیں گے اور اسکول انہیں عربی استاد فراہم کرنے کا ذمہ دار ہو گا ، کینیڈا میں آپ نے ہر طبقے میں مختلف انداز سے دین کو عام کرنے کی محنت فرمائی مثلاً مختلف علاقوں میں ہفتہ وار درسِ قرآن اور درسِ حدیث برائے خواتین وحضرات کا اجراء فرمایا جس سے لوگوں کو دینی علم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ آپ نے اس شوق کو دیکھتے ہوئے تعلیم بالغاں کا سلسلہ بھی شروع کیا۔

رفاہ عامہ
مولانا شروع ہی سے رفاہِ عامہ کے کاموں میں بہت دل چسپی رکھتے تھے۔رفاہی کاموں کے حوالے سے مولانا کے دل میں بہت بڑا منصوبہ تھا جس میں تعلیم ، صحت اور معیشت کے شعبے میں خدمات انجام دینے کا ارادہ تھا اسی جذبے کے تحت انہوں نے سخی نواز انٹرنیشنل ٹرسٹ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جو اندرون سندھ سانگھڑ شہر میں بہت فعال انداز سے دینی مکاتب، محتاجوں کی خبرگیری، قیدیوں کی رہائی ، مساجد ومدارس کی تعمیر اور طلبہ کو تعلیم میں تعاون جیسے اہم شعبوں میں خدمات انجام دے رہا ہے نیز مولانا نے وفات سے کچھ عرصہ پہلے ہی سانگھڑ کے علاقے میں ایک مسجد او رمدرسے کے منصوبے کو حتمی شکل دی، مولانا کے برادرِ خورد مولوی کفایت اﷲ صاحب وہاں کے امور کے نگران ہیں ۔

اجتماعیت کے فروغ کا جذبہ
کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں مسلمان دو یا تین عیدیں مناتے تھے، وہاں مقیم عرب حضرات عرب ممالک کے ساتھ عید مناتے تھے اور ایشین اپنے اپنے ممالک کے ساتھ، مولانا نے کوششیں کیں کہ کسی طرح عام مسلمان ایک عید پر جمع ہو جائیں، انہوں نے حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اور دیگر علما سے مشاورت بھی کی اور کافی حد تک وہ اس میں کامیاب بھی ہو گئے۔

اس کے علاوہ اجتماعیت کے فروغ کے لیے مولانا صاحب اپنا دستر خوان خوب وسیع رکھتے تھے ایک وقت میں دسیوں افراد ان کے مہمان ہوتے تھے ان میں عرب ، فیجی ، ساؤتھ افریقہ، صومالیہ، غرض ہر جگہ کے لوگ ہوتے تھے، کینیڈا کی مصروف زندگی جہاں کسی کے لیے وقت نکالنا سب سے مشکل کام سمجھا جاتا ہے وہاں انہوں نے باہمی محبت اور مل بیٹھنے کی روایت قائم کی شروع میں جب بھی فون کرتے ، ہم ان سے وہاں کا وقت ضرور پوچھتے جو یہاں کے بالکل برعکس ہوتا، جب بھی پاکستان آتے، ہمیں اپنے حالات اور واقعات سناتے۔

علما کرام سے تعلق اور اعلیٰ اخلاقی خوبیاں
پاکستان اور دنیا بھر میں کہیں سے بھی کوئی عالم دین وینکور تشریف لے جاتے تو مولانا ہی ان کے میزبان بنتے اور ہر طرح سے ان کی خدمت فرماتے جن علما کرام کی میزبانی کا شرف مولانا کو حاصل ہوا انمیں چند درج ذیل ہیں۔ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ، حضرت مولانااسعد صاحب (تبلیغی جماعت)، أمیر الہند حضرت مولانا اسعد مدنی (انڈیا)، حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان صاحب ، مولانا فدالرحمن درخواستی، مولانا احمد لاٹ صاحب اور مولانا طارق جمیل صاحب وغیرہ ۔

دوران تدریس جہاں خدمت وایثار کا جذبہ تھا وہاں طلبہ کی مالی معاونت واخلاقی معاونت بھی فرماتے رہتے تھے۔ ایسے طلبہ جو مالی لحاظ سے مشکلات کا شکار ہو تے ان کے لیے اپنی طرف سے وظیفہ مقرر کرتے یا کوئی بیمار ہو جاتا تو اس کی بھر پور تیمارداری فرماتے، اگر مریض کی حالت زیادہ ابتر ہوتی تو اپنے گھر لے جاتے۔ بہت سے طلبہ مولانا کی زیر سرپرستی تعلیم حاصل کرتے رہے ان میں سے بہت سے طلبہ تکمیل کے بعد دین کے مختلف شعبوں میں مصروف عمل ہیں۔

رحلت
گزشتہ کچھ عرصے سے مولانا کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے، 6 ستمبر2006ء صبح چاشت کے وقت پاکستانی وقت کے مطابق شام تقریباً8 بجے تقربیاً40 سال کی عمر میں مولانا کا وصال ہوا۔ ﴿إنا ﷲ وإنا إلیہ راجعون﴾، ’’إن ِﷲ ما أخذ ولہ ما أعطی‘‘․

مولانا کے صاحبزادے اسامہ انور کے ختم قرآن کی تقریب کے موقعہ پر احقر اور حضرت مولانا ڈاکٹر محمدعادل خان صاحب کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا اور پھر مولانا کے ایصال ثواب کے لیے ان کے خاندان نے جو اجتماع بلایا تھا، مولانا کے بھائیوں اور شتہ داروں جب کہ پورے خاندان سے مولانا کی وجہ سے تعلقات کی بنا پر خطاب کے لیے بھی ہمارا ہی انتخاب ہوا۔ یہ ان کی ذرّہ نوازی ، اور اس عاجز سے محبت کی دلیل ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ راجہ صاحب جیسے رفیق درس، دوست، ساتھی بہت کم دیکھنے میں آئے،ہماری دعا ہے اﷲ تعالیٰ انہیں مغفرت کاملہ اور پسماند گان احباب کو صبر جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔
(الفاروق صفر ۱۴۲۸ھ
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 490611 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
25 Jul, 2016 Views: 1559

Comments

آپ کی رائے