رجب طیب اردغان اور فتح اﷲ گولن کے درمیان دشمنی بڑھانے کیلئے کوئی سازش تو نہیں

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
دونوں رہنماؤں کواسلام دشمن طاقتوں اور شدت پسند تنظیموں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت!
ترکی میں 15؍ جولائی کو مسلح افواج کے سینکڑوں افسروں اور سپاہیوں نے جمہوری حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے رجب طیب اردغان کی حکومت کو بے دخل کرنے کی کوشش کی لیکن عوامی تائید و حمایت نے رجب طیب اردغان کی حکومت کو برسراقتدار ہی نہیں رکھا بلکہ ساری دنیا کیلئے یہ پیغام بھی دیا کہ جمہوری حکومت کی بحالی اور فوجی بغاوت کے درمیان عوامی طاقت سب سے اہم حیثیت رکھتی ہے۔ ترکی کے عوام نے جس طرح فوجی بغاوت کو ناکام بناکر رجب طیب اردغان کو اقتدار پر فائز رہنے کا موقع فراہم کیا ہے اس سے یہ بات بخوبی سمجھ میں آتی ہے کہ رجب طیب اردغان نے اپنے ملک کی خوشحالی، ترقی کیلئے جو خدمات انجام دیئے ہیں وہ مسلمہ ہیں۔ ترکی میں اردغان نے اپنے وزارت عظمی کے دور میں جس طرح سیاحت کو فروغ دیا اور مختلف جہتوں سے ترکی کی ترقی کے لئے ملک میں کرپشن کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے انقلاب لایا اس سے انکے اندرون ملک و بیرونی دشمنوں میں کھلبلی مچ گئی۔ ترکی حکومت کا دعوی ہیکہ اس فوجی بغاوت کے پیچھے ترکی کے جلاوطن اسلامی رہنما و مشہور عالم دین صوفی مبلغ محمد فتح اﷲ گولن کا ہاتھ ہے جبکہ محمد فتح اﷲ گولن نے ترکی حکومت کی جانب سے ان پر لگائے جارہے الزام کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فوجی انقلاب کے پیچھے کارفرما نہیں ہے اور انہوں نے فوجی بغاوت کی سخت الفاظ میں مذمت بھی کی ہے انہوں نے بغاوت کو ’غداری‘ قرار دیتے ہوئے حکومت پر زور دیاہے کہ وہ ان کے ملوث ہونے کے ثبوت پیش کرے۔برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے فتح اﷲ گولن نے کہاکہ ان پر ترک بغاوت میں ملوث ہونے کے الزام عائد کیے جارہے ہیں حالانکہ اس میں کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔ بغاوت کے بعد حکومت ترکی نے ہزاروں فوجی افسروں و سپاہیوں، عدلیہ کے دو ہزار سے زائد ججس ، تعلیمی اداروں کے ہزاروں اساتذہ اور پولیس کے ہزاروں اہلکاروں بشمول فوجی جرنیل، ایڈمرل اور صدر کے اعلیٰ ترین فوجی معتمد کو برطرف کرتے ہوئے انہیں حراست میں لیا جاچکا ہے۔ خبروں کے مطابق 50ہزار سے زائد افراد اس وقت حراست میں لیئے جاچکے ہیں جبکہ مزید افراد کی گرفتاری کا اشارہ بھی نائب وزیراعظم ترکی دیا ہے۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان نے ملک میں تین ماہ کے لئے ایمر جنسی نافذ کردی ہے۔ رجب طیب اردغان نے سخت الفاظ میں اس بغاوت کو جڑ پیڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم مصمم کیا ہے انہوں نے ترکی میں سزائے موت پر واقع پابندی کو عوامی تائید و حمایت کے بعد ختم کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے تاکہ اس بغاوت کرنے والوں کو سزائے موت دی جاسکے۔ ادھر یوروپی یونین نے صدر ترکی کے اس بیان کے بعد واضح کیا کہ اگر ترکی میں سزائے موت کی عمل آوری کے لئے سزائے موت پر واقع پابندی کو برخواست کیا جاتا ہے تو ترکی کا یورپی یونین ممالک میں شمولیت کیلئے بات چیت کے مراحل ختم ہوجائیں گے۔ جرمنی نے بھی اس سلسلہ میں ترکی کو متنبہ کرتے ہوئے سزائے موت پر واقع پابندی کو برقرار رکھنے کے لئے زور دیا ہے۔ رجب طیب اردغان کا کہنا ہیکہ امریکہ ، روس ، چین اور دنیا کے کئی ممالک میں سزائے موت دی جاتی ہے سوائے یوروپی یونین کے ممالک میں سزائے موت پر پابندی عائد ہے۔ترکی نے 2004میں یورپی یونین کا رکن بننے کی کوششوں کے سلسلے میں ملک میں سزائے موت کا قانون ختم کردیا تھا اور اگر ترک عوام کے مطالبہ کے بعد پارلیمان اس قانون سازی کی منظوری دیتی ہے تو سزائے موت بحال ہوسکتی ہے۔ترکی صدر نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی ایک جمہوری ریاست ہے جہاں قانون کی بالادستی ہے۔ رجب طیب اردغان ایک بہترین قائد کی حیثیت سے ترکی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر شہرت پائے ہیں۔ان کی کامیاب پالیسیوں کی وجہ سے ترکی ترقی کررہا ہے ۔

ترکی میں فوجی گروپ کی جانب سے بغاوت کی کوششوں میں ناکامی کے بعد پاکستان میں حکمراں جماعت مسلم لیگ کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت کئی جماعتوں نے ترک صدر رجب طیب اردغان اور ترکی عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے انکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے سرخ بینرز لگائے اور ترکی کے قومی پرچم نما بینروں پر تحریر کیا کہ ترک عوام نے اسلام دشمن لبرل امریکی لابی کو شکست دے دی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی بقا کیلئے عوام کی اتنی بڑی قربانی شاید ہی کسی ملک نے دی ہے جو ترکی میں دی گئی ہے۔ترکی میں فوجی بغاوت کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اس سلسلہ میں رجب طیب اردغان اور دیگر وزراء کے بیان کے بعد امریکہ میں جلا وطن زندگی گزارنے والے اسلامی مبلغ فتح اﷲ گولن نے اس الزام کی سختی سے مخالفت کی ہے ۔ فتح اﷲ گولن سے متعلق مختصر سا تعارف یہاں پیش کیا جاتا ہے وہ ترکی کے شہر اناطولیہ میں ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جس کے اطراف میں اسلامی روح کی کرنیں پھیلی ہوئی تھیں۔آپ کے والد اور والدہ دونوں دین کی گہری بصیرت کے حامل تھے۔ آپ کے دادا ’’شامل آغا‘‘ عزت و وقار اور دینی مضبوطی کا نمونہ تھے جس کا اپنے پوتے کے ساتھ مضبوط روحانی اور قلبی تعلق بتایا جاتا ہے۔ آپ کے والد ’’رامز آفندی ‘‘ اس مشکل اور بے ثمر دور میں بھی علم و ادب ، دین داری اور ذہانت کے لحاظ سے معروف شخصیت تھے۔آپ کی نانی ’’خدیجہ خانم‘‘ پاشاہ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور وقار ، رحم دلی اور ادب و احترام کا پیکر تھیں۔ آپ کی والدہ ’’رفیعہ خانم‘‘ بستی کی عورتوں کو قرآن کریم پڑھایا کرتیں اور رحمدلی ، شفقت اور نیکی سے لگاؤ کی وجہ سے مشہور تھیں۔ شیخ محمد فتح اﷲ گولن نے ایسے عظیم گھرانے میں پرورش پائی یہی وجہ تھی کہ انہوں نے چار برس سے بھی کم عمر میں اپنی والدہ سے قرآن کریم سیکھنا شروع کیا اور صرف ایک ماہ میں قرآن کریم ختم کرلیا ۔آپ کی والدہ آدھی رات کو اٹھتیں اور آپ کو بیدار کرکے قرآن کریم سکھاتیں تھیں۔فتح اﷲ گولن کی عشق رسول ﷺ میں ڈوبی کتاب ’’محمد ﷺ نورِ سرمدی فخرِ انسانیت‘‘ میں بتایا گیا ہے کہ فتح اﷲ گولن کا طالب علمی کا دور بھی شاندار رہا ، تقدیر نے محمد فتح اﷲ گولن کی تمام باطنی صلاحیتوں کو اچھی طرح اجاگر کرنے کے لئے انہیں معتدل اور متوازن ماحول میں پروان چڑھایا۔ غرض کہ فتح اﷲ گولن علوم اسلامیہ میں ترقی کرتے گئے ۔ اگرچہ ان کی فطری صلاحیتیں، باطنی قوت، چاق و چوبند طبیعت ، جراتٔ و شجاعت ، عمدہ انتظامی لیاقت ، تاریخ پر گہری نظر اور ولولے سے لبریز دل کی صورت میں خوب اجاگر ہوچکی تھیں اور ان کی نشوو نما ایک محبت و شفقت کے پیکر اور اپنے خاندان اور رشتہ داروں میں گہری وابستگی کے حامل شخص کی صورت میں ہوئی۔تاہم ان کو اپنی انتہائی حساس طبیعت اور اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ گہری وابستگی کی وجہ سے قلبی طور پر بہت سی تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑا۔بتایا جاتا ہے کہ عمر میں پختگی ، دینی مدارس اور خانقاہوں سے اپنے حصے کے علوم و فیوض حاصل کرنے اور رسائل نور جو بذات ایک ہمہ گیر معاصر دینی مکتب فکر کی حیثیت رکھتے ہیں، سے آشنائی کی وجہ سے اس مبلغ اسلام کی تمام خدا داد صلاحیتیں اور قابلتیں نکھر کر سامنے آگئیں۔مزید برآں انہوں نے ان رسمی علوم کو پڑھنے اور سیکھنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا جو انہوں نے سرکاری درسگاہوں سے حاصل کئے تھے جس کے نتیجے میں انہیں ان علوم کے اصول و مبادی کے بارے میں ٹھوس معلومات حاصل ہوگئیں۔اس کے علاوہ انہوں نے البرٹ کاموس، سارتر اور مارکوس وغیرہ وجودی فلاسفہ کی تصنیفات کا بغور مطالعہ کیا، بلکہ مشرق و مغربی کے دیگر فلسفیانہ افکار کے اصل سرچشموں سے بھی واقفیت حاصل کی۔ الحاصل فتح اﷲ گولن کی شخصیت میں عوامل اور حالات نے کلیدی رول ادا کیا۔ابتداء میں 20سال کی عمر میں آپ نے جامع مسجد ’’اَچ شرفلی‘‘ میں امامت پر فائز ہوئے ۔ پھر جب عسکری خدمات کا وقت آیا تو ماماک اور اسکندرون کے مقام پر خدمات انجام دیں اور پھر ادرنہ اور ادرنہ سے ’’کرکلارألی‘‘ کی طرف لوٹ آئے ۔تاہم جب آپ نے ازمیر میں سکونت اختیار کی تو شیخ فتح اﷲ کے نام سے مشہور ہوگئے۔انہوں نے اپنے کام کا آغاز ازمیر کی جامع مسجد ’’کستانہ بازاری‘‘ سے ملحق مدرسہ تحفیظ ِ القرآن‘‘ سے کیا اور پھر ایک چلتے پھرتے واعظ کے طور پر کام کرنے لگے۔چنانچہ آپ نے مغربی اناطولیہ کے سارے گردو نواح کا دور کیا اور پھر1970کے آغاز میں تربیتی کیمپ لگانا شروع کئے۔ان کی تصنیف میں بتایا گیا کہ وہ لوگوں کی اطاعت و عبادت کے مطابق تربیت کرکے اپنے آپ کو اپنے پروردگار ، دین ، وطن اور انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کردیا تھا ، چنانچہ لوگوں کی ذہن ، دل اور پوشیدہ باطنی احساسات یہاں آکر معرفت کے گہرے معانی سے آشنا ہوتے، گویا لوگ موت کی مدہوشی سے بیدار ہورہے ہوں اور طویل ماضی کے بعد انہیں نئے سرے سے اٹھایا جارہا ہو۔بتایا جاتا ہیکہ آپ وہ شہسوار تھے جس کے کارناموں کی آپ کئی بار منظر کشی اور اس کے اعلیٰ اوصاف کا اپنے اشعار اور مقالات میں تذکرہ کرچکے تھے۔12؍ مارچ1971ء کو اس وقت کی حکومت پر فوجی دباؤ کے نتیجے میں آپ کو اس الزام میں گرفتار کرلیا گیا کہ آپ ایک خفیہ تنظیم کے ذریعہ لوگوں کے دینی جذبات کو غلط استعمال کرکے ملکی نظام کی اقتصادی ، سیاسی اور معاشرتی بنیادوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ چھ ماہ تک آپ جیل میں رہے اور اس دوران آپ پر مقدمہ چلتا رہا، تاہم چھ ماہ بعد عام معافی کے قانون کے تحت آپ رہا ہوگئے اور پھر سے اپنے فرائض منصبی ادا کرنے لگے۔1990ء سے شیخ فتح اﷲ گولن نے باہمی گفت و شنید، افہام و تفہیم اور تعصب سے پاک ایک قائدانہ تحریک کا آغاز کیا۔ آہستہ آہستہ اس تحریک کی بازگشت نہ صرف ترکی بلکہ ترکی سے باہر بھی سنی جانے لگی۔ سویت یونین کی شکست و ریخت اور وارشوپیکٹ کی ناکامی کے بعد عالمی طاقتوں نے اسلام اور مسلمانوں کو آسان ہدف سمجھ کر ان کے خلاف جنگ کو ناگزیر قرار دے دیا، جس کے نتیجے میں انتہاء پسندی اور دہشت گردی کا آغاز ہوا۔ یہ طاقتیں جہاد کو بغاوت ، جنگ کو سلامتی ، ظلم کو انصاف اور بغض کو محبت کا نام دیتی ہیں۔ مذکورہ بالا صورتِ حال کے پیش نظر شیخ فتح اﷲ نے ترک معاشرے میں گفت و شنید اور رواداری کی دعوت کا آغاز کیا۔ آپ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ گفت و شیند اور رواداری کی اس دعوت کو ترکی سے باہر بھی جہاں کہیں ممکن ہوسکا پھیلانے کی کوشش کی۔ غرض یہ کہ فتح اﷲ گولن نے ترکی اور ترکی سے باہر فلاحی، تعلیمی، طبی، اشاعتی اور ابلاغی اداروں کا جال بچھا دیا۔ برسہا برس سے امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والا یہ باعمل عالم و صوفی و مبلغ واقعی اگر ترکی میں فوجی بغاوت کا ذمہ دار ہے تو یہ انسانیت کے لئے لمحۂ فکریہ ہے کیونکہ جس شخص نے محسنِ انسانیت ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا رہ کر عوام کو عجز و انکساری ، ادب و اخلاق کا درس دیتا ہے وہ اپنے ہی ملک میں عام لوگوں کی زندگیوں سے نہیں کھیل سکتا کیونکہ حکومت کے خلاف فوجی بغاوت ملک کی ترقی و خوشحالی کا خاتمہ تصور کی جائیں گی اور شاید یہ محمد فتح اﷲ گولن کی تعلیمات میں شامل نہیں ہے۔ یہاں اس بات کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہیکہ اس عظیم عالمِ دین ومبلغ کی خدمات کو جو عالمی سطح پر نمایاں نظر آتی ہیں اسے ختم کرنے کی اسلام دشمن سازش بھی ہوسکتی ہے کیونکہ ترکی میں چند ہزار افراد کی جانب سے فوجی بغاوت سے ایک طرف محمد فتح اﷲ گولن کی اسلامی خدمات کو روکا جاسکتا ہے اور دوسری جانب ترکی کے ابھرتے ہوئے صدر رجب طیب اردغان کو فوجی بغاوت کے ذریعہ معزول کیا جاسکتا ہے۔اس طرح اسلام دشمن طاقتیں ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کرچکے ہیں جبکہ یہ بھی ہوسکتا ہیکہ ترکی نے مشرقِ وسطی میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے داعش و دیگر شدت پسند تنظیموں کے خاتمہ کے لئے کارروائیوں میں حصہ لے رہا ہے جس کی وجہ سے شدت پسند تنظیموں کی جانب سے بھی رجب طیب اردغان اور فتح اﷲ گولن جوعاشق رسولﷺ ہیں کو ایک ساتھ نشانہ بنانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔ان حالات میں ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کو بہت ہی احتیاط کے ساتھ اپنے دوست اور دشمن میں تمیز کرنے کی ضرروت ہے۔فتح اﷲ گولن اگر واقعی ترکی میں بغاوت کو ہوا دینا چاہتے ہیں تو وہ اس بغاوت کے خلاف مذمتی بیان جاری نہ کرتے بلکہ خاموشی اختیار کرلیتے۔خیر ترکی کا مستقبل ہی نہیں بلکہ مشرقِ وسطی کا مستقبل بھی اگلے چند برسوں میں خطرناک صورتحال کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے لئے عالمِ اسلام کے حکمرانوں اور علمائے اسلام کے درمیان تال میل ضروری ہے ۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ فتح اﷲ گولن ایک عالم دین صوفی رہنما ہیں اور شدت پسند تنظیمیں انہیں ناپسند کرتے ہیں اسی کے تحت ترکی میں فوجی بغاوت کے ذریعہ فتح اﷲ گولن کی خدمات کو ختم کرنے کی سازش ہو۔ ترکی میں فوجی بغاوت کے خلاف عالمی سطح پر رجب طیب اردغان کی تائید و حمایت اور عوام کی طاقت موضٰوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 255 Articles with 96135 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jul, 2016 Views: 428

Comments

آپ کی رائے