چہ شدت کہ از کرشمہ نظرے با نکری ؟

(Qadir Khan, Karachi)
انسان اپنے عقیدے کی وجہ سے جہاں کمزور ترین و بے ضرر مخلوق ہے وہیں شدت پسندی میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ان عقائد کا تعلق تعلیم سے نہیں بلکہ عقل سے بھی ماورا ہے۔ داعش جیسی شدت پسند تنظیم کا قیام جب امریکہ کی سرپرستیسے عمل میں لایا گیا تو اس کا مقصد سوائے مسلمانوں کی بربادی اور ان میں تفرقہ و انتشار پھیلانے کے کچھ اور نہیں تھا ۔ مسلمانوں کے مقدس مقامات پر اگر مسلم مسلکی عقیدے سے تعلق رکھنے والی شدت پسند تنظیمں حملہ آور ہوتیں تو مظاہروں ، احتجاج اور خانہ جنگی کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجاتا اور اس کی زد سے ایک بھی ملک نہیں بچ پاتا ، لیکن دولت اسلامیہ کی فرضی خلافت نے مسلمانوں کے اسلامی شعائر ، انبیا اکرام کے مزارات اور تایخی شہروں کو جس طرح مسمار کرنا شروع کیا تو مجھے افغانستان کا بت ’ بامیان ‘ یاد آگیا ، جب اس وقت کی افغان طالبان حکومت پر حد درجہ دباؤ بڑھایا گیا کہ وہ بامیان کے تاریخی بت کا انہدام نہ کریں ، لیکن ملا عمر مجاہد مرحوم نے اس بت کو کفر کا استعارہ سمجھ کر منہدم کردیا ۔بعد میں امریکہ اور برطانیہ میں وہی عمل صدام حسین کے مجسمے پر دوہرایا اور اسے مسمار کردیا ۔ صدام حسین عراق کی حکومت کا استعارہ تھا ، لیکن امریکہ نے دنیا کو بے وقوف بنا کر عراق میں خانہ جنگی کی بنیاد رکھی ، برطانیہ نے اب تو معافی بھی مانگ لی ہے کہ ہماری جانب سے عراق پر حملہ غلطی اور غلط خفیہ معلومات پر مبنی تھا ۔ لیکن کیا ان کی معافی سے عراق جیسے ملک میں جو تباہی پھیلی ہے ، ہزاروں انسان ہلاک اور لاکھوں دربدر ہوئے ہیں ، ان کا مدوا ممکن ہے ۔عراق کا پورا انفرا اسٹرکچر تباہ ہوگیا ۔ آپ کی ادا ٹھہری اور کسی کی جان گئی ۔مملکت شام میں بھی یہی کھیل کھیلا گیا اور جابر بشاری حکومت نے فرقے کے نام ہر اپنی عوام کے ساتھ وہ ظلم کئے کہ لوگ تاتاری مظالم کو بھول گئے ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ روس نے ایران کے ساتھ ملکر بشار الاسد کی حمایت کی اور بد ترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود شام میں نیٹو افواج کو نہیں بھیجا گیا ۔فرقوں کے نام ہر علاقوں کے محاصرے کرکے انھیں کتے ، بلیوں اور گھاس پھونس کھانے پر مجبور کیا گیا اور ہلاکتوں کی ان گنت تعداد نے بھی عالمی ضمیر کو نہیں جھنجوڑا۔ترکی میں بھی پہلے کردوں کے ساتھ لڑانے کی کوشش کی گئی ، لیکن ترکی نے فہم و فراست سے اس خانہ جنگی کو اپنے ملک کے اندر آنے سے روکے رکھا ۔جواب میں 28جون2016کو استنبول کے بین الاقوامی اتاترک ہوائی اڈے پر خودکش حملہ آور کے حملوں سے 42افراد ہلاک ہوگئے۔اس سے پہلے ترک کے دارالحکومت انقرہ میں دہماکے سے 34افراد کی جان گئی جبکہ 125افراد زخمی ہوئے ، 13مارچ 2016کے اس حملے کی ذمہ داری کردش فریڈم ہاکس نامی جنگجو گروہ نے قبول کی۔داعش نے سرزمین حجاز کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی ، اور اس کے ناپاک قدم نبی اکرم کی سرکار ﷺ تک پہنچنے والے تھے لیکن جرات مند سیکورٹی گارڈ نے اپنی جانوں کی قربانی دیکر دنیا کو قیامت صغری سے بچا لیا۔یورپ اب اپنے کئے کا پھل کھا رہا ہے اور اپنی بوئی فصل کاٹ رہا ہے ، فرانس میں جمعرات کو شہر نیش میں حملہ آور نے اپنے ٹرک تلے کچل کر 84افراد کو ہلاک کردیا۔ جبکہ 50سے زیادہ زخمی ہوئے۔13نومبر2015میں فرانس کے6مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان حملوں میں 130افراد ہلاک ہوئے ، جبکہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں تھی۔حملوں کی ذمے داری داعش نے قبول کی۔07جنوری کو دو بھائیوں نے چارلی ایبڈو کے دفتر میں گھس کر فائرنگ کردی جس میں12افراد ہلاک ہوئے۔24مئی2014کوبرسلز کے یہودی عجائب گھر میں کلاشنکوف سے مسلح شخص نے چار افراد مار ددئیے ، حملہ آور کا تعلق داعش سے تھا۔ یورپ میں شدت پسندی ابھی سے نہیں ہے بلکہ اس کی ایک مثال ناروے کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی تنظیم نے اوسلو نے ایک بم دھماکہ کیا ۔ جس میں77افراد ہلاک ہوئے۔گذشتہ دنوں جرمنی کے شہر میونخ میں ایک شاپنگ سنیٹر میں فائرنگ کے واقعے میں حملہ آور سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے۔ افغانستان میں داعش نے ہزارہ برادری کے احتجاجی مظاہرے میں دھماکہ کرکے 55سے زائد افراد کو ہلاک کردیا۔پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں امریکی تنظیم بلیک واٹر ، بھارت کی ایجنسی را اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی خاد کی سازشیں بھی آشکارہ ہوچکی ہیں ۔اب کچھ پوشیدہ نہیں رہا کہ کون کس کا دوست ہے اور کون کس کا دشمن ہے ۔بات سمجھنے کی یہ ہے کہ اب تو پاکستان میں جنوبی وزیر ستان و شمالی وزیرستان میں پاک فوج کی جانب سے سخت آپریشن عضب کیا جارہا ہے ۔ شدت پسند پہاڑوں میں جا چھپے ہیں ۔ان کو اپنی جان بچانا مشکل ہو رہی ہے ، لیکن اب یہ دنیا بھر میں شدت پسندی کیوں ہے۔اس کے پس پشت عناصر کون ہیں ْ۔ جو دنیا میں امن نہیں چاہتے ، کیا اب اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت ہے ۔ صرف پاکستان سے ہی کیوں ڈومور کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔امریکہ داعش کی سرپرستی کیوں کررہا ہے ، داعش ایران کے ساتھ ملکر مملکت شام میں بشار الاسد کی مدد کیوں کر رہے ہیں ۔ روس اسلام کے شدید مخالف مسلمانوں کی مدد کے نام پر فرقہ پرستی کو ہوا کیوں دے رہا ہے۔ عرب ممالک میں دہماکے کون کروا رہا ہے ، اسلامی استعاروں کو اسلام کے نام پر نشانہ کون بنا رہا ہے ؟۔ افغانستان میں قیام امن کی تمام تر کوششوں کو ناکام کون بنا رہا ہے ۔ امریکہ واپس کیوں نہیں جا رہا ؟۔ افغانستان کی حکومت پر دیمک کی طرح کیوں چمٹ گیا ہے ، اس کی جڑیں کھوکھلی کیوں کر رہا ہے ؟۔روہنگیایہ کے مسلمانوں کا ساتھ کیوں نہیں دیا جارہا ؟ نسل پرستی کی آڑ میں سیاہ فاموں کے ساتھ ، مسلمانوں کو بھی کیوں نشانہ بنا یا جا رہا ہے۔ان گنت سوالات ہیں ، جن کے جوابات ہمیں معلوم ہیں ، اس میں الجھنے کے بجائے ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح پاکستان کو افغانستان کی جنگ میں الجھا کر سمجھا گیا کہ روس کو شکست دیکر دنیا کو محفوظ بنا لیا گیا ہے ۔ تو اب اس غلط فہمی کو دور کرلینا چاہیے ، اسی صورتحال کا سامنا اب یورپ کو ہے ۔ پاکستان کو تباہ و برباد کرنے کے بعد اور اپنی ڈو مور کی پالسیوں میں الجھانے کے بعد یورپ بھی پرائے گھر کی آگ میں جھلسنے کیلئے خود کو تیار رکھے ، اس کا پالا ہوا کتا ، داعش اب پاگل ہوچکا ہے ، اسے اپنے ساتھ سلانے والے ، اب اس کے کاٹنے سے خوفزدہ ہیں ، پاکستان ، افغانستان کو تو جنگ کا میدان بنا دیا گیا ، اب بھی عالمی طاقتیں دنیا میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کیلئے اپنی منصوبہ بندیوں میں مصروف ہیں ، انھیں انسانیت سے کوئی پیار نہیں ، انھیں انسانوں سے کوئی ہمدردی نہیں ، انھیں امن سے کوئی دل چسپی نہیں ۔ان کا فائدہ صرف جنگ اور انسانوں کے قتل و غارت میں ہے ، غریب ممالک کو سود کی جنگ میں الجھانے میں ہے ، ہم ابھی تک خواب غفلت میں ہیں ۔ہمارا میڈیا ابھی تک قندیل بلوچ اور ایان علی کے سحر سے باہر نہیں نکل سکا ، اس کے نزدیک سب سے اہم خبر قندیل بلوچ اور ایان علی کی ہے ، صبح سویر کے پروگراموں میں فرضی شادیاں کرانے پر تمام توجہ مرکوز ہے۔انھیں امت مسلمہ کے مسائل سے دل چسپی نہیں ہے انھیں ریٹنگ کیلئے بے ہودہ پروگراموں و ڈراموں کی ضرورت ہے۔ہمارے عقائد بہت کمزور ہیں ۔ہم بشری کمزوری کا شکار ہیں ، لیکن ان تمام باتوں سے قطع نظر ہم نے قرآن کریم اور اﷲ کی رسی کو چھوڑ دیا ہے ۔ شدت پسندی کا زہر ہماری رگوں میں اتر گیا ہے ۔ سانپ کا زہر نکالنے کیلئے ضروری نہیں کہ سانپ سے دوبارہ ڈسوایا جائے ۔ مومن مسلمان ایک مرتبہ ہی دھوکے سے ڈسا جاتا ہے ۔اگر وہ مومن مسلمان ہو۔ ہمیں دنیا میں تبدیل ہوتی صورتحال کا ادارک کرنا چاہیے ۔ پاکستان میں ملک دشمن جماعتوں کے گرفتار ایجنٹوں کے مقدمات ترجیحی بنیادوں پر چلا کر انھیں عبرت کا نشانہ بنانا چاہیے ۔ ان کے سرپرست لیڈروں اور جماعتوں ہے، پر پابندی عائد کردی چاہیے ۔ عوام کو خواب غفلت سے بیدار ہوجانا چاہیے۔انھیں اب سمجھ لینا چاہیے کہ شدت پسندی کا زہر کس تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہا ہے۔ورنہ تاریخ میں ہمارا نشان تک نہیں ملے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 727 Articles with 296815 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2016 Views: 327

Comments

آپ کی رائے