ناکام بغاوت اور حکمرانوں کی خوشیاں

(Muhammad Saleem Tofani, )
ترکی میں ناکام فوجی بغاوت اس وقت پوری دنیا کی سب سے بڑی خبر بن چکی ہے۔پوری دنیا کا پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا اس وقت ترکی کی عوام کو خراجِ تحسین اور انکی جرأت و بہادری،عزم و استقلال اور ثابت قدمی کی داستانیں لکھنے اور بیان کرنے میں مصروف ہے۔بلا شبہ یہ دنیا کی تاریخ کا انتہائی یادگار اور مثالی دن تھا اور کئی صدیوں تک اسکی گونج سنائی دیتی رہے گی ،مؤرخین اسکا حوالہ دیتے رہیں گے اور آمریت کے پیروکاروں کے لیئے ہمیشہ ایک خوف کی علامت رہے گا۔حکومت، سیاست ، جمہوریت اور آمریت کی تاریخ میں وہ چند گھنٹے ایسے رقم ہوئے کہ جنکا نقش کبھی نہیں دھویا جا سکے گا۔ترک عوام نے اپنا نام زندہ قوموں کی فہرست میں ایسے شامل کیا کہ شاید کئی مردہ قوموں کو بھی جلا بخشنے کے لیئے کافی ہو۔290افرادجان سے گئے جبکہ زخمیوں کے بارے کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا،ابتک 1440افراد کے زخمی ہونیکی اطلاعات ہیں۔پوری دنیا کی سیاسی قیادت اور دیگر افراد ترک صدر اور قوم کو مبارکباد دینے میں مصروف ہیں اور بلا شبہ وہ اس چیز کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے چور دروازے سے اقتدار کی حسرت رکھنے والے آئین و قانون کے غداروں کا اپنی جانوں کے نذرانے دیکر ،راستہ روکا اور ساتھ ہی امریکہ اور اسرائیل کی اس مذموم کوشش کو ناکام بنا دیا۔

اس حوالے سے پاکستان اور ترکی کچھ اسطرح سے مماثلت پائی جاتی ہے کہ ترکی کے اقتدار پر چار دفعہ اقتدار کی حوس رکھنے والے جرنیلوں نے قبضہ کیا اور پاکستان میں بھی فوج اقتدار کا راستہ دیکھتی ناپتی رہی ہے۔لیکن پاکستان نہ تو اب تک کسی آمریت کا راستہ روک سکا ہے اور نہ ہی آئندہ کی کوئی امید رکھنی چاہئے۔عوام تو ایک طرف سیاسی جماعتوں کے لیڈران خود فوج کو دعوت دیتے دکھائی دیتے ہیں۔کبھی امپائر کی انگلی کا اشارہ دیا جاتا ہے اور کبھی سڑکوں پر کھلے عام بینرز لگا کر قانون توڑنے اور آئین سے غداری کی دعوت دی جاتی ہے۔پاکستان کی سیا سی جماعتوں نے بھی ترکی کی عوام کے اس عمل کو خوب سراہا ہے اور جمہوریت کی جیت کے راگ الاپے ہیں۔کئی لیڈر اسکو پاکستانی منظر نامے پر فٹ کرنیکی کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ ممکن نہیں ہے۔بر سر اقتدار پارٹی کے وزراء اور دیگر سربراہان تو شاید اس پر پھولے نہیں سما رہے اور وزیر اطلاعات پرویز رشیدصاحب کا بیان اسکا غماز ہے لیکن وہ کچھ حقیقتوں سے شاید آگاہ نہیں ہیں۔نہ تو پاکستانی قوم ترکوں جیسی ہے،کیونکہ یہاں کی نا اہل اور کرپٹ ترین سیاسی قیادتوں اور لیڈران نے قومی رویہ ہی بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔عوام اب حکمرانوں سے دو ہاتھ آگے ہی ہوگی پیچھے نہیں ۔ہم ایک ایسی قوم تخلیق کر چکے ہیں جو راتوں کو چھپ کر ،فوج کو اقتدار پہ قبضہ کی دعوت دیتی نظر آتی ہے،فوج کے آنے پر بھی مٹھائیاں بانٹتی ہے اورجانے پر بھی بھنگڑے ڈالتی ہے۔ ملک میں ایسی حکومت چاہتی ہے جس پر کبھی کرپشن کا کوئی کیس نہ بنا ہو،جس کے لیڈر منی لانڈرنگ میں ملوث نہ ہوں اور سوئس بینکوں میں انکی دولت بھی نہ ہو،لیکن اسکے با وجود جماعت اسلامی کو منتخب نہیں کرتی۔ملک کو جرائم سے پاک چاہتی ہے اور گلی کوچوں میں سکون چاہتی ہے لیکن اسکے باوجود دھڑلے سے ایم کیو ایم کو قومی و صوبائی اور پھر بلدیاتی انتخابات جتواتی ہے۔حکمرانوں سے نیک نیتی اور ایمانداری کی امید رکھتی ہے لیکن خود مرچوں میں اینٹیں اورادرک میں تیزاب ملاتی ہے۔خود دو بچوں میں بھی انصاف نہ کرنیوالی قوم عدالتوں سے انصاف نہ ملنے پر نالاں رہتی ہے۔لا قانونیت، اقرباء پروری، رشوت ، جھوٹ ،بے ایمانی ، ملاوٹ ،جرائم یہ سب کچھ اس قوم کی عادتیں بن گئی ہیں اور جناب وزیر اطلاعات یہ سب عادتیں حکمران طبقے سے لی گئی ہیں۔ آپ کی دیکھا دیکھی یہ قوم روز بروز اخلاقیات کی پستی کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔یہاں ایسی کوئی بھی برائی نہیں جسکا آغاز عام طبقے کے کسی شخص سے ہوا ہو،منی لانڈرنگ سے لے کر رشوت تک اور جھوٹے وعدوں سے بے ایمانی تک ہر کام کا آغاز کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے لیڈر اور چیلے سے ہوا ہے۔گہرائی میں جاؤنگا تو مجھے مہنگا بھی پڑ سکتا ہے لیکن افسوس چھوٹو گینگ سے لے کر لیاری وار کے سرغنہ عزیر بلوچ تک سب اسمبلیوں میں بیٹھے کسی ڈان کے ہی اشارے پر چلتے ہیں۔ایان علی کا استعمال مڈل کلاس کا کوئی انسان نہیں کر رہا ،آپ کے ہی رفقاء کے زیر سایہ پروان چڑھ رہی ہیں۔تو جب آپ نے قوم کو یہ سب کچھ دیا ہے، یہ اخلاقیات سکھا رہے ہیں ،یہ انکے سامنے مثالیں رکھ رہے ہیں تو پھر کسی سے یہ امید نا رکھیں کہ وہ آپ کے لئیے ٹینکوں کے آگے لیٹے گااور سینے پہ گولی کھائے گا یا کسی مزاحمت کو روکے گا، اپنا قبلہ درست کریں تا کہ کسی ایسی صورتحال کا سامنا ہی نہ کرنا پڑے۔

اور اگر آپ میاں نواز شریف صاحب کو طیب اردگان سمجھ رہے ہیں تو ایسا بھی کچھ نہیں ہے۔میاں صاحب اور طیب اردگان میں دور دورتک کوئی مماثلت نہیں پائی جاتی۔کہاں وہ ایسا لیڈر کہ مئیر کا انتخاب جیت کر، لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کی اور ملک کا تین بار صدر بنا اور کہاں میاں صاحب کہ تین دفعہ منتخب تو ہو گئے لیکن کوئی جیت بھی دھاندلی کے الزامات سے خالی نہیں۔آپکی سیاست کا تو آغاز ہی ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی مر ہون منت ہے،آپکا پہلا دور ہو ،دوسرا یا پھر تیسرا ،آپ دو تہائی اکثریت لیکر اسمبلی میں پہنچے ہوں یا پھر مشترکہ حکومت بنائی ہو،آپ کا تختہ الٹنے پر چڑیاں بھی باہر نہیں نکلتیں۔آپ قوم سے خطا ب کرنے آتے ہیں تو لگتا ہے کہ قوم کے سامنے رو رو کے التجاء کر رہے ہوں۔کیونکہ آپکو خود پہ بھروسہ نہیں،اور بھروسہ اسلئیے نہیں کیونکہ آپکے ہاتھ کالے ہیں۔آپکا دامن آپکے کپڑوں کی طرح صاف اور نکھرا ہوا نہیں۔طیب اردگان نے ترک قوم کو اس وقت سنبھالا جس وقت یورپ میں ترکی کو ایسے ہی سمجھا جاتا تھا جیسے انڈیا میں شودروں کو۔طیب اردگان نے بولڈ اور بے باک فیصلے کیئے،لیکن ان فیصلوں کے ثمرات ترکوں تک پہنچے۔تعلیمی بجٹ میں پانچ فیصد تک اضافہ کیا،سیاحت کو فروغ دیا اور ایسا بنا دیا کہ یورپی ملکوں کی عوام ترکی جانے کو ترستی نظر آتی ہے۔ملکی معیشت کو ایسا سنبھالا کہ قرضوں سے نجات حاصل کی اور ترکی کے اسٹاک ایکسچینج کو دنیا کی بڑی مارکیٹ بنا دیا اور بہت جلد ترکی یورپی یونین کا ممبر بننے جا رہا ہے۔وہ ترکی جو آئی ایم ایف کے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا ،آج خود آئی ایم ایف کو قرضے دیتا ہے۔ایسی فوج کھڑی کی کہ اسکے بغیر نیٹو کا وجود ہی ممکن نہیں۔اور جناب والا دوسری طرف آپ ہیں ،آپ کے بے باک اور بولڈ فیصلے میٹرو کے لیے زمینیں لینے، ایس ایچ اوز اور ڈی ایس پیز کو معطل کرنے سے شروع ہو کر نئی موٹر ویز بنانے اور کمیشن بنانے پر ختم ہو جاتے ہیں۔آپکا جتنابس چلتاہے اتنا تعلیمی بجٹ کم کر دیتے ہیں،قرضے اتنے لیئے کہ وہ بچے جنکے ابھی تک اس دنیا میں آنیکا کوئی امکان ہی نہیں ،انکا بھی بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے۔اسحاق ڈار صاحب کے اعداد و شمار کے مطابق ملکی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے، جبکہ غریب نے تین کے بجائے دو وقت کھانا کھانا شروع کر دیا ہے۔آپ کے وزراء فوج کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں اور مینیڈیٹ کا ناجا ئز فائدہ اٹھاتے ہوئے فوج پر انگلی اٹھاتے ہیں۔جناب اعلٰی زمین آسمان کا فرق ہے۔طیب اردگان نے ملک میں ریفرنڈم کروایا اور پھر آئین کے غدار جرنیلوں کو قرار واقعی سزائیں بھی دلوائیں۔آپ تو ایک مشرف کے کیس کی بھی ٹھیک سے پیروی نہیں کر سکے کیونکہ آپ ڈرپوک ہیں۔اور ڈرپوک اسلیئے ہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ یہ عوام آپکے ساتھ نہیں کھڑی ہوئی۔طیب اردگان کو جب اس سے پہلے فوج نے ہٹانا چاہا تو انہوں نے عام انتخابات کا اعلان کر دیا اور اقتدار سے الگ ہو گئے،عوام انہیں دوبارہ منتخب کر کے لے آئی،یہ ہوتی ہے جمہوریت ،کیا آپ اپنی زندگی میں ایسا کوئی فیصلہ لے سکتے ہیں، کبھی بھی نہیں۔آپ تو دو دن کے لیے وزارت عظمیٰ سے الگ نہیں ہو سکتے دوبارہ الیکشن تو بہت دور کی بات ہے۔کیا آپکو لگتا ہے کہ طیب اردگان کے ایک میسج کی طرح آپکا بھی کوئی ایک ویڈیو میسج عوام کے سمندر کو باہر لے آئیگا ـ؟ یقینا آپکے اندر سے یہی آواز آرہی ہوگی کہ نہیں ، کیونکہ آپ نے عوام کو ڈلیور ہی نہیں کیا۔عوام آپکے لیئے جانیں کیوں دے؟ آپ نے اداروں کو مضبوط ہی نہیں کیا۔کیونکہ آپ چور ہیں ،اگر نیب جیسا ادارہ خود مختار اور آزاد ہو جاتا ہے تو آپکی تو آدھی کابینہ اڈیالہ جیل میں ہو، اور ملک کے آدھے سے زیادہ سیاستدان اور افسران اپنے عہدوں سے فارغ ہو جائیں۔آپ تو گرتے ہوؤں کو دھکا دینے والوں میں سے ہیں،پی آئی اے کہ جو پہلے ہی آخری سانسیں لے رہی تھی آپ نے اسکو مزید چار کروڑ کا ٹیکہ لگا دیا ۔آپ توایسی مخلوق ہیں کہ سپریم کورٹ کے ڈانٹنے پر بلدیاتی انتخابات تو کروا بیٹھے ہیں لیکن اختیارات دینے کے لیئے تیار نہیں کیونکہ آپ سب کچھ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔طیب اردگان تو ایسا بہادر اور نڈر لیڈر ہے کہ ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں اسرائیلی صدر کے ساتھ بیٹھ کر اسے انگلی کے اشارے سے کہا تھا کہ تم مسلمانوں کے قاتل ہو،معصوم بچوں کے قاتل ہو اور دوسری طرف آپ ہیں کہ کبھی انڈیا کو بھی کھل کے کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہاں بھی آپکے مفادات ہیں۔یہ اردگان ہی تھے جنہوں نے علی الاعلان ایران پر پا بندیوں کی مخالفت کی تھی ،مصر میں اخوان المسلمین کے بہت بڑے حامی ہیں ۔نیٹو کا رکن ہو نیکے با وجود اردگان نے نیٹو کو افغانستان کے خلاف اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا تھا اور ساتھ ہی فوجی اڈے دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔عراق حملے کے وقت 2003میں بھی اردگان نے ایسا ہی کیا تھا اور فضائی و زمینی راستے دینے سے منع کر دیا تھا حالانکہ ترکی کو اسکے بدلے 10ارب ڈالر کی پیشکش ہوئی تھی۔یوں اردگان نے کھل کر دنیا کے ٹھیکیداروں کے منہ پر طمانچہ مارا تھا۔

آپ بنیادی طور پر اپنی چور بازاری کیوجہ سے ،کرپشن کیوجہ سے، الیکشن میں دھاندلیوں کی وجہ سے، اقرباء پروری کیوجہ سے انتہائی کمزور ہو چکے ہیں۔اپنی کمزوری کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ یہ قوم، بلاول بھٹو کہ جنہیں جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے ،انکے ساتھ یک زبان ہو کر نعرہ لگاتی ہے کہ میاں کے اقتدار کو ایک دھکا اور دو۔یاد رہے کہ بلاول اُس پارٹی کے سربراہ ہیں کہ کرپشن جنکا خاصہ ہے۔آپ کو عمران خان ہی سر نہیں اٹھانے دیتے کہ جنہیں یہ ہی نہیں پتہ ہوتا کہ مجھے کہنا کیا ہے اور میں کہہ کیا رہا ہوں۔آپ کتنے مضبوط ہیں اور عوام کے دلوں پر آپ کیسے راج کر رہے ہیں یہ دیکھنے کے لیئے کیا طاہرالقادری کافی نہیں کہ جو کینیڈا سے آکر آپکی بنیادیں ہلا کر،واپس چلے جاتے ہیں۔آپکے دونو ں بیٹوں اور بیٹی جو کہ آپکی غیر موجودگی میں ملک چلاتی رہیں کیونکہ آپ اپنی پوری زندگی میں اپنی پارٹی میں ایک بھی ایسا بندہ بنانے میں ناکام رہے ہیں جو ملک چلا سکے یا اگر سچ کہوں تو ، کہ جس پر آپ اعتبار کر سکیں،اِن تینوں کا نام پانامہ لیکس میں شامل ہے لیکن آپ اس معاملے کولٹکانے میں مصروف ہیں اور آپ میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں کہ خود کو اقتدار سے الگ کر لیتے کیونکے آپکی اولاد غیر اخلاقی کام میں ملوث نکلی تھی۔

فوج کو اقتدار پر قبضہ کرنیکی ضرورت نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں فوج کی عزت اور وقار اسی میں ہے کہ وہ ملک کا دفاع کریں ۔

لیڈروں کی طرح اس عوام میں بھی غیرت نہیں ،کرپٹ اور بد عنوان لیڈر اور سیاسی قیادت اس غیور قوم کی اخلا قیات اور غیرت کا بھی جنازہ نکال چکے ہیں۔ جب آپ منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں ،طاہرالقادری عوام اکھٹی کر کے ڈی چوک پردھرنا دیتے ہیں ،لوگ بلاول کے ساتھ ہاتھ کھڑے کر کے نعرے لگاتے ہیں ، ضمنی الیکشن میں جب ایم کیو ایم کا امیدواردوبارہ جیت جاتا ہے اور جب عوام عمران خان کے سول نا فرمانی اور اپنی شادی کے اعلان پرخوشی سے جھوم اٹھتے ہیں اور لبیک کہتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس پر چڑھ دوڑتے ہیں ، کیا آپکو اُس وقت بھی اِس قوم کے معیار اور ذہنی غلامی کا اندازہ نہیں ہوتا ؟ اگر ہاں توپھر نہ اِن کو ترک قوم سمجھیں اور نہ ہی میاں صاحب کو طیب اردگان جیسا لیڈر۔

آپ نے کہا کہ مارشل لاء کی باتیں کرنیوالے ترک بغاوت سے سبق سیکھیں ،سبق آپ سیکھیں محترم اور ڈریں اس وقت سے جب ایک دن آپکا احتسا ب ہو گا اور سیاسی اشرا فیہ سڑکوں پر روندی جائیگی۔ زرداری صاحب پہلے ہی ملک سے فرار ہیں ،ایم کیو ایم کو بھی چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی،تبدیلی کے بھی کئی وزراء اور اراکین جعلی ڈگریوں پر فارغ ہو چکے ،اور پھر میاں صاحب جدہ اور آپ بھی کہیں ترکی یا چین میں سیاسی پناہ کی درخواست لیئے گھوم رہے ہونگے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saleem Tufani

Read More Articles by Saleem Tufani: 6 Articles with 3233 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Jul, 2016 Views: 451

Comments

آپ کی رائے