ایمل خان اور ایمن(لغات واصطلاحات)

(Dr shaikh wali khan almuzaffar, Karachi)
شیخ جاوید بیٹا ایمل خان اور بیٹی ایمن
سوال:محترم ڈاکٹر صاحب ہمارے نو مولود بیٹے کا نام ایمل تجویز کیاگیا ہے، برائے کرم اس نام کے معانی تحریر فرمائے،نیزایمن کی تحقیق بھی مطلوب ہے اور دعاؤں کی درخواست ہے۔(جاوید الرحمن،کراچی)۔

جواب:جاوید بھائی بیٹاجی مبارک ہو، اللہ تعالی آپ جیسا نیک ،باعمل اورصالح بنائے،والدین اور بڑوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے،باقی رہی بات معانی کی،تو اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:(ایمِل):میم کے کسرے کے ساتھ،اصل میں (عامل) ہے،انگریزی میں لکھتے ہوئے یہ ایمل بن گیاہے،گویا کام کرنے والا،عمل کرنے والااور(ایمَل)میم کے فتحے کے ساتھ شاید اصل میں (عمل،ج:أعمال ) سے لیا گیاہوگا،یہ مجرد میں بابِ سمِعَ سے آتاہے،تعامل ،معاملہ،استعمال ،مستعمل،إعمال اورأعمال وغیرہ بھی اسی مادّے سے ہیں،عمیل ،ج ،عُملاء:ایجنٹ کو کہاجا تاہے،انگریزی میں اگر کسی کانام (amal) ہو،تو عربی میں اسے عامل ہی لکھا جائے گا،عامل ،ج:عُمال مزدور کو بھی کہتے ہیں،اسلامی فقہی اصطلاح میں حکمران اور گورنر کو بھی عامل کہاجاتا ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ(ایمل)نام عربی کے لفظ (آمال بمعنی امیدوں) سے مأخوذ ہو، یا (آمل بمعنی امیدوار)یا پھر (أمل بمعنی ارمان، آرزو، امید وتمنا)سے مشتق ہو،اس کی ضد اور عکس (یَأس ٌ،بمعنی نا امیدی) ہے۔چونکہ یہ جدید قسم کا نام ہے،زیادہ شہرت اس نے امریکن سی آئی اے ہیڈکوارٹر میں فائرنگ کرکے کچھ آفیسرز کو مارنے اور اس کے پاداش میں موت کی سزا پانے والےایک پختون نوجوان ایمل کانسی کی وجہ سے پائی،یہ بیشتر طور پر انگریزی میں استعمال ہوا،جہاں یہ انگریزی ادائیگی کی بنا پر ایمل بن گیا،بلوچستان سے پاک آرمی کے ایک باصلاحیت نوجوان کانام بھی ایمل خان موسیٰ زئی ہے،نیز اے این پی کے قائد اور مشہور سیاسی رہنما جناب خان عبدالولی خان مرحوم کاایک قابل ترین صاحب زادہ بھی اسی ایمل خان کے نام سے مسمّیٰ ہے۔یہاں لفظِ(کانسی ) کی مناسبت سے یہ بھی عرض کرتا چلوں،کہ یہ لفظ اصل میں (کاسی )ہے،کانسی نہیں ہے،یہ بلوچستان میں ایک متموّل عراقی عرب قبیلہ ہے،جیسے (برکی)ہے،یہ بھی عراقی عرب قبیلہ ہے،کاسی اور برکی پاکستان میں سب سے زیادہ مالدار برادریاں ہیں،بہر کیف یہ مجرد میں بابِ نصَر وضرَب دونوں سے آتا ہے،جس کاترجمہ ہے،امید باندھنا،امید رکھنا،راغب ہونا،انتظار کرنا،توقع رکھنا۔بابِ تفعُّل (تأمل)سے بھی یہی معنی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ اس وقت سوچنے فکر کرنے اور غور کرنے کے معنی بھی آتاہے،جبکہ بابِ تفعیل( تأمیل) سے اس کا معنی ہے:امید دلانا۔خلاصہ یہ کہ نام اچھا ہےنیا بھی ہے اور اُن امیدوں پر مشتمل بھی ہے،جو عام طور پر نونہال بچوں سے وابستہ ہوتی ہیں۔
 
(ایَمن):یہ یُمن بمعنی برکت سے مأخوذ ہے:برکت والا،دائیں جانب والا،یُمنیٰ اس کی مؤنث ہے،اگر اسے( اَیِمن) میم کے کسرے کے ساتھ پڑھا جائے، تو پھر مؤنث ومذکر دونوں کے لئے مستعمل ہوسکتاہے،نیز اَیمن (یُمن بمعنی برکت) کی جمع بھی ہے،اس طرح اس کا معنی ہوگا:برکتیں اوررحمتیں ،بہر حال بہترین نام ہے۔ یَمن،یمین،یمان،اَیمان،تیامن،میمون،تیمُّن،یمانیہ،یامِن ،میمن ،میمنہ ،میمونہ یہ سارے نام بھی (ی م ن ) کے اسی مادّےسے بنے ہیں،اس کی ضد یسار اور شمال ہے،جس کا معنی ہے بائیں جانب،ہاں شمالی ہواؤں کو بھی شمال کہاجاتاہے،یمن عربوں کے ایک مشہور ومعروف ملک کا نام ہے،جس کا دارالحکومت صنعاء اور ساحلی شہر عدن ہیں۔میمن ایک تاجر وکاروباری قوم وبرادری کا نام ہے،بقول ڈاکٹر عبد القدیر خان میمن کا مأخذ (من الیمن ہے) یعنی یمن سے آئے ہوئے،ہوسکتاہے کہ یہ برادری تُبَّع بادشاہ کے ساتھ اُن کے ہندوستان کے سفر میں یہاں وارد ہوئی ہواور یہیں رچ بس گئی ہو۔ (ی م ن )کا مادّہ جب بابِ سمِع سے ہو تو اس میں دائیں جانب کا معنی ملحوظ ہوتاہے اور جب باب کرُم سے ہو،تو اس میں خیروبرکت کا معنی زیادہ پایاجاتاہے۔یمین :قسم ج،اَیمان۔باب تفعیل سے اس کا معنی :دائیں جانب جانااور لے جانا،یمن جانا،قرآن ِ کریم میں اصحاب الیمین داہنے جانب والوں کے فضائل بکثرت موجود ہیں۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr shaikh wali khan almuzaffar

Read More Articles by Dr shaikh wali khan almuzaffar: 450 Articles with 489093 views »
نُحب :_ الشعب العربي لأن رسول الله(ص)منهم،واللسان العربي لأن كلام الله نزل به، والعالم العربي لأن بيت الله فيه
.. View More
28 Jul, 2016 Views: 1834

Comments

آپ کی رائے