پاکستان کو ایک بہترین اور ترقی یافتہ ملک کیسے بنایا جاسکتا ہے؟

(ABDUL SAMI KHAN SAMI, Swabi)
پاکستان کو ایک بہترین اور ترقی یافتہ ملک کیسے بنایا جاسکتا ہے؟
چین نے 50سال کے قلیل عرصے میں ‘ایک نیم ترقی یافتہ ملک سے‘ اعلیٰ درجے کی ترقی یافتہ طاقت بننے کا سفر طے کیا ہے۔ اب وہ اس منزل پر آ گیا ہے کہ اپنی وافر دولت کا استعمال کرتے ہوئے‘ مستقبل کو محفوظ اور ترقی یافتہ بنانے کے لئے اپنی دولت کو دانشمندی سے استعمال کرے۔ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ چینی قوم ‘ منصوبہ بندی اور ترقی کے راستے پر عقل و دانش اور خردمندی سے آگے بڑھنے کی جو صلاحیتیں رکھتی ہے‘ وہ کرۂ ارض کی کسی دوسری قوم کو نصیب نہیں۔ چینی قوم نے ہزاروں سال استحصالی قوتوں کے ظلم و ستم کا شکار رہ کر‘ انتہائی تباہی و بربادی کے زمانے دیکھے۔ چینی قوم کے خلاف ایسی ایسی سازشیں کی گئیں‘ جن کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ باقاعدہ منصوبے کے تحت چینی عوام کو افیون کا عادی بنا کر تعمیروترقی کی صلاحیتوں سے محروم کیا گیا۔ چینیوں کی مفلوک الحالی کی حالت یہ تھی کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران‘ شنگھائی کے بازاروں میں انسان کا گوشت فروخت ہوا کرتا تھا۔ یہ تھے وہ حالات‘ جن پر علامہ اقبالؒ نے لکھا تھا ؎
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے

شاعر مشرق کی یہ پیش گوئی آج حقیقت میں بدل چکی ہے اور وہ ہمالہ‘ جس کی بلندیوں کو سر کرنے کے لئے کوئی ترقی یافتہ قوم بھی راستہ نہیں ڈھونڈ پائی تھی‘ وہاں تبت کی بلندیوں تک چین والے ریلوے لائن لے گئے ہیں‘ جو آج دنیا کی بلندترین ریلوے لائن ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی ترقی کی روایات کے مطابق‘ چین میں کچھ علاقے زیادہ خوشحال اور سرمایہ دار ہو گئے اور کچھ پسماندہ رہ گئے۔ ان میں سب سے زیادہ پسماندگی جنوبی چین کے حصے میں آئی‘ جو پاکستان سے ملحق ہے۔ اس غریبی اور پسماندگی نے چین کے لئے بہت سے مسائل پیدا کئے۔ جنوبی چین کے اس پسماندہ ترین علاقے میں مسلمانوں کی آبادی کافی زیادہ ہے۔ امریکہ نے‘ افغانستان کی جنگ چھیڑ کر اسلام کے نام پر جو دہشت گرد طبقہ پیدا کیا‘ چین بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکا۔اپنی پسماندگی اور غریبی سے بیزار چینی مسلمانوں کو ‘ امریکی ایجنسیوں نے فریب دے کر ‘ دہشت گردی کی تربیت کا انتظام کیا‘ جس کے مراکز چین کے انتہائی قریبی دوست ‘پاکستان کے علاقوں میں بنائے گئے اور اسلام آباد کے عاقبت نااندیش حکمران‘ امریکی آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے‘ اپنے محسن چین میں عدم استحکام پیدا کرنے کا ذریعہ بن گئے۔ دوستی کے پردے میں دشمنی کے باوجود‘ چین نے پاکستان کے ساتھ رشتوں کو برقرار رکھا اور دوستانہ گلے شکوے سے زیادہ کچھ نہ کہا۔2012ء میں جب چین دنیا کی طاقتور ترین مالیاتی طاقت بن گیا‘ تو اس نے چینی تجارت کو دنیا بھر میں پھیلانے کا ایک ٹھوس منصوبہ تیار کیا۔ یہ منصوبہ 2010ء میں بننا شروع ہوا اور 2012ء میں پورے نقشے کے ساتھ اس کی تفصیل منظر عام پر آ گئی۔ میں نے اس منصوبے کی تفصیل 2012ء میں پڑھی تھی اور اس کا پورا خاکہ اپنے کالم میں لکھ دیا تھا۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ بری اور بحری تجارتی کاریڈور‘ کہاں کہاں سے گزرنا تھا!

نقشے کے مطابق اس عالمی تجارتی سڑک کو‘ ایک طرف پاکستان سے شروع ہو کر‘ مغرب کی طرف جانا تھا اور پورے یورپ کا احاطہ کرتے ہوئے‘ یونان میں داخل ہونا تھا۔ دوسری طرف یہی سڑک‘ بلوچستان‘ خیبرپختونخوا اور جنوبی چین سے گزرتی ہوئی‘ بحرالکاہل تک پہنچنا تھی اور اس کی ایک شاخ نیپال‘ بھارت‘ برما اور سری لنکا تک جا رہی تھی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ بڑی قومیں‘ دورحاضر کے سیاسی تعلقات پر انحصار نہیں کرتیں۔ ان کے سامنے ایک طویل مستقبل کا خاکہ ہوتا ہے اور وہ اس کی روشنی میں اپنی پالیسیوں کو ایسے رخ پر ڈالتی ہیں کہ مستقبل بعید میں‘ ان کی علاقائی دشمنیاں‘ باہمی تجارت اور تعلقات کے زور پر تعاون میں بدل جائیں۔ چینیوں کی یہی سوچ خود اپنے ملک کے بارے میں بھی ہے۔ ان کے ملک کا ایک حصہ زیادہ ترقی یافتہ اور دوسرا پسماندہ رہ گیا‘ وہاں کے حکمران طبقوں نے منصوبہ تیار کیا کہ اپنے ملک کے پسماندہ علاقوں کو بھی ترقی کے راستے پر ڈالتے ہوئے‘ خوشحال علاقوں میں شامل کریں۔ بری و بحری عالمی سلک روڈ کا منصوبہ اسی مقصد کے لئے بنایا گیا تھا۔ اس میں قابل غور بات ہے کہ یہ منصوبہ چین کے پسماندہ علاقوں کو ترقی دینے کے لئے تیار کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان کے پسماندہ علاقے بھی شامل کر لئے گئے۔ گویا چینی قیادت کی بنیادی سوچ میں محض اپنے ملک کے پسماندہ علاقے نہیں‘ پاکستان کے پسماندہ علاقے بھی شامل ہیں۔ چین کو تجربہ ہے کہ جنوبی چین میں جو دہشت گردی پنپ رہی ہے‘ وہ ہمارے دو صوبوں بلوچستان اور خیبرپختونخواکی پسماندگی کا نتیجہ ہے۔ لہٰذا چین نے صرف اپنے پسماندہ جنوبی علاقوں کے لئے ترقی کا منصوبہ نہیں بنایا بلکہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں کو بھی ان میں شامل کر لیا۔ ایک دانشمند قوم کی حیثیت سے‘ اس کے مدبر حکمرانوں نے‘ بجاطور پر سوچا کہ جب تک پاکستان کے پسماندہ علاقے ترقی کی راہ پر نہیں چلتے‘ جنوبی چین کی پسماندگی بھی‘ اس کے لئے مسئلہ بنی رہے گی۔ اسلام آباد میں ہمارے ''لوٹو اور بھاگو‘‘ والے عاقبت نااندیش حکمران‘ اجتماعی قومی ترقی کے اس تصور سے ہی ناآشنا ہیں‘ جس کے تحت چینی قوم‘ دنیا کا نقشہ بدلنے کے لئے پرعزم ہے۔

ہماری بدنصیبی ہے کہ جب چین نے ہمارے پسماندہ علاقوں کی ترقی کو ‘ اپنے پسماندہ علاقوں کی ترقی سے منسلک کر کے‘ ہمارے حکمرانوں کو اعتماد میں لے کرسوچا کہ وہ اپنے دوست ملک پاکستان کی خوشحالی اور استحکام کی بنیادیں رکھیں گے‘ ہمارے عاقبت نااندیش حکمران‘ اس میں بھی اپنی اپنی لوٹ مار کی راہیں ڈھونڈنے لگے۔ انہوں نے ابھی تک بلوچستان اور خیبرپختونخوا کو نظرانداز کر کے‘ پسماندگی کی تاریکیوں میں دھکیلے رکھا۔ وہ بیچارے اپنے حقوق مانگتے رہے اور اسلام آباد کا استحصالی ٹولہ اپنی لوٹ مار میں مصروف رہا۔ 60سال تک اسلام آباد کے حکمرانوں کے ظلم و جبر کا نشانہ رہنے کے بعد‘ قدرت نے ان کی مدد شروع کی اور چین کے اجتماعی ترقی کے منصوبے میں ہمارے یہ دو علاقے بھی شامل ہو گئے۔ چین نے بھاری سرمایہ وقف کر کے‘ ہمارے دو پسماندہ صوبوں کے غریب عوام کی زندگی بدلنے کی کوشش شروع کی‘ عین وقت پر اسلام آباد کے ظالم حکمران‘ اپنے غریب بھائیوں کے حالات بدلنے کے لئے تیار کئے گئے منصوبے پر‘ قبضہ کر کے بیٹھ گئے۔ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں ‘ چین کے اصل منصوبے میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی تعمیروترقی کو‘ جنوبی چین کی ترقی سے منسلک کیا گیا تھا۔ لیکن اس منصوبے پر اسلام آباد کے اجارہ دار قبضہ کر کے بیٹھ گئے۔ وہ اپنی مرضی سے بنیادی نقشے میں تبدیلیاں کر کے‘ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو ماضی کی طرح پسماندگی کے اندھیروں میں رکھنا چاہتے ہیں اور چین جو کثیر سرمایہ‘ ان دو صوبوں کی ترقی کے لئے دے رہا ہے‘ اس کا غالب حصہ خودکھا پی کر ہضم کر جانا چاہتے ہیں۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے لیڈروں نے ‘ اپنے علاقوں کے لئے مخصوص رقوم کو اسلام آباد کے لٹیروں سے بچانے کے لئے جو کوشش شروع کی ہے‘ مجھے ڈر ہے کہ ان دونوں صوبوں کی حقیقی لیڈرشپ نے ہمیشہ اپنے عوام کے مفادات کو تحفظ دینے کی کوشش کی لیکن اسلام آباد کی سرپرستی میں پروان چڑھائے گئے لیڈر‘ سودے کر کے اپنی جیبیں بھرتے رہے اور ان کے مظلوم عوام اپنے حقوق لینے کے لئے گولیوں کا نشانہ بنتے رہے۔دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ وہ ثابت قدم رہتے ہیں یا پھر ڈیزل اور افغانستان کے ساتھ‘ ناجائزتجارت کے ثمرات پر ہی قناعت کرتے ہیں-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ABDUL SAMI KHAN SAMI

Read More Articles by ABDUL SAMI KHAN SAMI: 99 Articles with 76623 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jul, 2016 Views: 397

Comments

آپ کی رائے